ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ نور احمد المشہور حسین بنور قادری قدس سرہ

  آپ سیّد عبدالکریم بہاون شاہ قدس سرہ کے خلیفہ خاص تھے صاحبِ جذب و استغراق جذب و مستی تھے، خوارق و کرامت ظاہر ہوتیں، حالتِ جذب میں بتیس سال تک ایک جگہ قیام رہا، کھانا پینا ترک کردیا، ذکر نفی و اثبات کرتے تھے، در و دیوار شجر و حجر آپ کے ذکر میں شامل ہوتے۔ ایک دفعہ سرحد کے زمینداروں کے دو خاندانوں میں زمین کے معاملہ میں تنازعہ ہوگیا، دوسرا فریق زور آور بھی تھا اور سرکش بھی، چنانچہ انہوں نے چار سو کھاتے زبردستی اپنے قبضہ میں کرلیے اور حاکم وقت کے حکم سے برجیاں بطور نشان قائم کرلیں، مظولم فریق حضرت کے خدام میں سے تھے، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور صورت حال بیان کی، آپ نے فرمایا: تمہاری زمین کا حق تمہیں دے رہا ہوں اور برجیوں کو اکھاڑ رہا ہوں، اور جہاں انصاف سے حق بنتا ہے وہاں نصب کر رہا ہوں چنانچہ دوسرے ہی دن غائب سے یہ برجیاں خود بخود اپنی جگہ پر نصب ہوگئیں، مخالفین نے پھر سرکشی کی زبر۔۔۔

مزید

مفتی رحیم اللہ بن مفتی رحمت اللہ قریشی قدس سرہ

  آپ جامع اوراق (مولف خزینۃ الاصفیاء فارسی) کے جد امجد تھے آپ بڑے خدا پرست اور متبرک انسان تھے، رحیم و کریم اور عابد و زاہد تھے، طبیعت میں مسکینی اور مزاج میں انکساری پائی جاتی تھی، دنیاوی جاہ و جلال اور ظاہری شان  و شوکت سے اجتناب کرتے تھے اپنی ہاتھ کی کمائی سے حلال کی روزی کماتے تھے اور محنت مزدوری  کر کے روزی کمانے میں عار محسوس نہ کرتے تھے اپنی محنت کا چوتھا حصہ علیحدہ کرکے غرباء میں تقسیم کردیا کرتے تھے باقی تین حصے اہل و عیال میں خرچ کردیا کرتے ان کا یہ معمول تھا کہ آج کی کمائی کو کل کے لیے نہ رکھتے تھے، حافظ محمد آپ کے سگے بھائی تھے، بڑے مالدار اور خوشحال تھے، آپ کو اپنے پاس بلاتے اور کہتے کہ تم نے ہمارے خاندان کی عزت کو برباد کردیا ہے جو لوگ کل تک ہمارے محکوم تھے تم ان کے سامنے محنت مزدوری کرتے ہو اگر تم یہ کام چھوڑ دو، تو میں تمہارے سارے خاندان کے اخراجات  بردا۔۔۔

مزید

سیّد عبدالکریم المشہور بہ بہاول شاہ بن سیّد شاہ بلاق لاہوری قدس سرہ

  آپ بارہ ظرخانی سادات میں سے تھے آپ کے مشائخ برگزیدہ روزگار تھے وہ خود متاخرین میں سے نہایت واجب الاحترام تھے، آپ بڑے عابد، زاہد، متقی اور خدا پرست تھے، اور صاحب جذب و استغراق تھے، ہر سلسلۂ تصوف سے حصۂ فقر حاصل کیا تھا آپ سلسلہ اعظمیہ قادریہ میں چند واسطوں سے نسبت روحانی رکتے تھے، حضرت میاں میر قادری لاہوری کی نسبت سے سیدنا پیران پیر دستگیر غوث الاعظم محی الدین عبدالقادر جیلانی تک سلسلہ روحانیت پہنچتا ہے۔ ’’سید بھاون شاہ مرید شاہ بلاق (اپنے والد) جن کا مزار چبارہ چھجو کے پاس ہے) کے تھے وہ شاہ عبدالرشید لاہوری، وہ شیخ محسن شاہ، وہ شیخ محمد ملا شاہ وہ میاں محمد میر بالا پیر لاہوری اور وہ حضرت خضر ستیانی اور وہ سید احمد اور وہ شیخ عابد کبیر اور وہ شاہ ابوالقاسم اور وہ حضرت موسیٰ حلبی اور وہ شاہ ابوبکر اور وہ شاہ داود اور وہ شاہ سلیمان اور وہ مرید، شیخ زید اور وہ شیخ قرشی، او۔۔۔

مزید

سیّد شاہ حسین بن سیّد عبدالقادر بن سیّد حمید گیلانی لاہوری قدس سرہ

  آپ سادات گیلانیہ میں سے تھے، مظہر خوارق و کرامات تھے، زاہد، متقی، عالم، عامل اور پیر کامل تھے، آپ دعا فرماتے تو قبولیت دوڑ کر آئی دنیا و عقبیٰ کے حاجت مند حاضر خدمت ہوتے اور مستفیض ہوتے۔ بادشاۂِ شاہ زمان کے لشکر کے حملے کے وقت حضرت نے اعلان کیا کہ ہمارا محلہ لشکر کی لوٹ مار سے محفوظ رہے گا اس لیے ہمارے محلہ کا ایک فرد بھی کسی قسم کا خوف و ہراس نہ کرے امر واقعہ یہ ہے کہ شاہ زمان کے لشکر نے سارے علاقے کو لوٹ مار کا نشانہ بنایا مگر حضرت کے محلہ کی طرف ایک سپاہی بھی نہیں آیا، اگر کوئی محلے میں داخل ہوا بھی اخلاص و عقیدت کے ساتھ حاضر ہوا اور گردن جھکاکر واپس چلا گیا۔ حضرت کا معمول تھا کہ آپ نے اپنے دروازے کے باہر لکڑی کا اک تختہ نصب کردیا تھا لوگ علی الصباح آتے اور پانی کے پیالے اس تختے پر رکھ دیتے  آپ نماز سے فارغ ہو کر اپنے وظائف اور دیگر معمولات سے اٹھ کر باہر نکلتے اور پانی دم ک۔۔۔

مزید

مولانا رستم علی بن علی اصغر قنوحی قدس سرہ

  آپ ہندوستان کے جیّد علماء کرام میں سے مانے جاتے ہیں علوم فقہ حدیث اور تفسیر میں بڑی دسترس حاصل تھی۔ ہندوستان کے علماء اور ایران و خراساں کے علماء میں سے آپ کی رائے پر تمام اتفاق کرتے تھے۔ اتنے علم و فضل کے باوجود انکساری کا یہ عالم تھا کہ اپنے آپ کو کمترین از دردیشان شمار کرتے تھے۔ دن رات تعلیم و تدریس میں رہتے اور مخلوق خدا کی ہدایت میں مصروف ہوتے ہزروں طلبا آپ کے درس سے فیض یاب ہوئے تفسیر جامع صغیر آپ کی تالیف ہے۔ یہ تفسیر قرآن پاک کے معانی سمجھنے میں تفسیر جلالین سے بھی عمدہ مانی گئی ہے آپ کی وفات ۱۱۷۸ھ میں ہوئی۔ از جہاں رفت چوں بخلد بریں گفت سرور بسال رحلت او نیز کن عاشق بہشت نظم ۱۱۷۸ھ   میر رستم علی ولی والی میر گل رستم علی و نبی ۱۱۷۸ھ سالِ ترحیل آں تقی و نقی (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

خواجہ ایوب قریشی قدس سرہ

  صاحب تصرف اور صاحب کشف کرامات تھے۔ زہدو ورع تقویٰ میں جامع الکمالات تھے۔ شریعت میں عالم دین تھے۔ حقیقت میں کاشف اسرار تھے۔ مخزن امور ہمہ دانی۔ اور عالمِ علوم ربانی تھے افضل العلماء اور اکرام الفقہا تھے۔ صاحب تصنیف تھے۔ آپ کی مشہور کتابیں مخزن عشق شرح مثنوی مولانا روم شرح ایوب سے مشہور تھے۔ مقبول عوام و خواص ہوئی طریقہ عالیہ سہروردیہ میں حضرت مفتی حافظ محمد تقی لاہوری قدس سرہ کے مرید اور شاگرد تھے۔ آپ مولانا نقی خلف الرشید مفتی محمد تقی کے داماد تھے آپ کو سلسلہ قادریہ اعظمیہ سے کمال حاصل تھا۔ اور کاملان وقت تھے۔ یاد رہے کہ حافظ محمد تقی قدس سرہ خواجہ ایوب قریشی کے پیر و استاد تھے اور خواجہ ایوب راقم السطور (مفتی غلام سرور لاہوری قدس سرہ) کے جَدّ پنجم تھے۔ ہمارا سلسلہ آبائی حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین ذکریا ملتانی﷫ سے یوں جا ملتا ہے۔ احقر غلام سرور بن مفتی غلام محمد قریشی بن مفتی حق آگ۔۔۔

مزید

پیر محمد اسماعیل کبروی کشمیری قدس سرہ

  عنفوان جوانی میں اللہ کی محبت دامن گیر ہوئی۔ آپ حضرت مولانا محمد شریف کبرویہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوگئے تکمیل کے بعد پشاور آئے اور ایک عرصہ تک پشاور میں ہی مقیم رہے۔ مگر کشمیر میں جاکر مستقل قیام فرمایا اور تادمِ آخر ہدایت خلق میں مصروف رہے۔ آخر کار ۱۱۵۳ھ میں فوت ہوئے آپ کا وصال ۸۵ سال کی عمر میں ہوا۔ چونکہ اسماعیل پیر با وقار سالِ اوست عالی مرتبت ۱۱۵۳ھ   گشت راہی زیحہیاں سوئے جنان نیز فضل آل اسماعیل والی ۱۱۵۳ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ فتح شاہ شطاری قدس سرہ

  آپ شاہ لطیف برہانی پوری قدس سرہ کے خلفاء میں سے تھے۔ آپ کی نسبت روحانیت حضرت شاہ سید محمد غوث گوالیاری سے جاملتی ہے آپ برہان سرالٰہی کے مرید  تھے۔ وہ شیخ عیٰسی زندہ دل کے اور وہ وجہیہ الدین گجراتی کے اور وہ سید محمد غوث گیلانی گوالیاری قدس سرہ ہم کے مرید تھے آپ ستر (۷۰) سال کی عمر میں پہنچے تو آپ کے والد کو حضرت شیخ برہان کی خدمت میں حاضر ہوئے  اور ارادت سے مشرف فرمایا شاہ برہان آپ کی ظاہری و باطنی تربیت شیخ عبداللطیف کے سُپرد کردی۔ حضرت شاہ عبداللطیف نے آپ کی ظاہری باطنی تربیت کی اور نہایت جذب و مستی میں فتح شاہ سرمست کے خطاب سے مشہور ہوئے حضرت مرشد نے تربیت کے بعد آپ کو لاہور کی ولایت پر مامور فرمایا۔ ایک بار دریائے راوی میں طغیانی آگئی۔ اُس کی موجیں قلعہ لاہور سے ٹکرانے لگیں حاکم لاہور بڑا گبھرایا۔ حضرت فتح شاہ سرمست کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور دعا کی استدعا کی آپ نے حاکم۔۔۔

مزید

مولانا اصغر علی قنوجی قدس سرہ

  آپ برصغیر ہندوستان کے اجل عالم اور فقہیہ تھے علم حدیث تفسیر فقہ صرف و نحو منطق معانی میں امام تھے۔ اپنے عہد کا کوئی عالم دین ان علموں میں آپ کا ہم پلہ نہ تھا۔ آپ کی تفسیر ثوابت التزیل، ادبی نکتہ نظر سے کشاف سے بھی بلند پایہ ہے اور علوم شریعیہ میں تفسیر بیضادی سے فوقیت رکھتی ہے۔ آپ ہی کی تالیف ہے۔ آپ کی وفات ۱۱۴۰ھ میں ہوئی بعض تذکرہ نگاروں نے آپ کا  سال وصال اس مصرع سے لیا ہے [۱]۔ [۱۔تذکرہ علماء ہند (مولوی رحمن علی) مولوی علی اصغر بن عبدالصمد قنوج کے اکابرین میں سے تھے ۱۰۵۱/۱۶۴۱ میں پیدا ہوئے ملا محمد قنوجی اور اسد عصمت اللہ سے ابتدائی تعلیم پائی ملا محمد زمان کا کوری نے تکمیل کی۔ شاہ پیر محمد لکھنوی کے مرید ہوئے ساٹھ سال تک تدریس کی علماء فضلاء نے آپ سے تربیت پاکر  فضیلت حاصل کی آپ کی یہ تصانیف مشہور عالم ہوئیں الایٔعہ العلیہ۔ تبصرۃ المدارج سلوک۔ النفایٔس العلیہ۔ تفسیر ثوا۔۔۔

مزید

میر محمد ہاشم قادر گیلانی قدس سرہ

  آپ حسنی سادات میں سے تھے آپ کی آبائی نسبت حضرت غوث الاعظم سے ملتی ہے۔ میر محمد ہاشم بن سید محمد عیلان بن سید عبداللہ۔ بن سید احمد بن سید عمر بن سید ابراہیم بن سید حسین بن سید  محمد صرمونی بن سید یوسف بن سید عبدالرزاق بن سیّد میمون بن سید مسعود بن سید محمد بن میر حسن بن حیات میر بن محمد صالح بن حضرت غوث الاعظم قطب العالم محی الدین سید عبدالقادر جیلانی﷜ آپ اعتقادی طور پر کوہ راسح اور عبادت میں بحربے کراں تھے۔ ہدایت میں صاحب المکارم و  المکاقب تھے ۱۱۳۳ھ میں کشمیر کے خطۂ بے نظیر میں وارد ہوئے۔ دن رات تلاوت قرآن میں مشغول رہتے عام لوگوں کی صحبت سے پرہیز کرتے تھے نماز فجر سے لے کر اشراق تک ذکر جہر میں مشغول رہتے تھے۔ ثمرات الاشجار اور تواریخ اعظمیٰ نے آپ کی کرامات درج کی ہیں۔ آپ ہفتم شوال ۱۱۳۵ھ کو فوت ہوئے۔ رفت از دنیا چو میر ہاشمی گفت تاریخ وصال اوخرد   روح اوشد و۔۔۔

مزید