بن حارث بن جبلہ بن حجر بن شرجیل بن حارث بن عدی بن ربیعہ بن معاویۃ الاکرمین الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہشام بن کلبی نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عدی بن معاویہ بن جبلہ: حجر بن عدی الکندی کے بھائی تھے ہم ان کا نسب ان کے بھائی کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں دونوں بھائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ابن اکلبی نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عمرو ابو شریح الخزاعی: ان کے نام میں اختلاف ہے سلیمان نے انہیں ان لوگوں میں ذکر کیا ہے جن کا نام ہانی ہے ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن فراس الاشجعی: بیعت رضوان میں موجود تھے کوفے میں سکونت اختیار کی تو بیمار ہوگئے چنانچہ دونوں گھٹنوں کے نیچے تکیے استعمال کرتے تھے تینوں نے ان کا مختصر سا تذکرہ کیا ہے مگر بعض نے انہیں اسلمی تحریر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔۔
مزید
ابو مالک الکندی خالد بن یزید بن مالک کے دادا تھے اس میں شبہ ہے کہ آیا انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی تھی۔ یہ امام بخاری کا قول ہے انہیں شامیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یحییٰ بن محمود نے اجازۃً با سنادہ ابن ابی عاصم سے انہوں نے محمد بن ادریس سے انہوں نے سلیمان بن عبد الرحمٰن سے انہوں نے خالد بن یزیدین ابی مالک سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے داد ہائی سے سنا کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یمن سے حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے قبول کرلی اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضور صلی اللہ علیہ وسل نے ان کے لیے دعائے برکت فرمائی اور انہیں یزید بن ابی سفیان کے پاس ٹھہرایا۔ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے شام پر چڑھائی کے لیے لشکر کو تیاری کا حکم دیا تو جناب ہانی بھی یزید بن سفیان کے لشکر میں شامل تھے لشکر تو لوٹ آیا مگر ی۔۔۔
مزید
المخزومی: علی بن حرب الطائی نے ابو ایوب یعلی بن عمران الجبلی سے(جو جریر کی اولاد سے تھے) انہوں نے مخزوم بن ہانی الطائی سے انہوں نے اپنے والد سے(جن کی عمر اس وقت ڈیڑھ سو برس تھی سنا کہ جس رات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی ایوان کسری میں زلزلہ آگیا اور اس کے چودہ کنگرے گر گئے ساوہ کی جھیل خشک ہوگئی وادی سمادہ میں سیلاب آگیا اور فارس کے آتش کدے کی آگ جو گذشتہ ہزار برس سے نہیں بجھی تھی بُجھ گئی نیز موبدوں نے خواب میں ایک سرکش اونٹ کو دیکھا جو عربی نسل کے گھوڑوں کی رونمائی کر رہا تھا، انہوں نے دجلہ کو عبور کیا اور تمام ایران میں پھیل گئے۔ جناب ہانی نے یہ حدیث تفصیل سے بیان کی ابن دباغ نے اسے ابن السکن سے بیان کیا ہے اس حدیث میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے راوی کی صحبت ثابت ہو۔ واللہ اعلم۔۔۔
مزید
بن نیار بن عمرو بن عبید بن کلاب بن وہمان بن غنم بن زیبان بن ہمیم بن کاہل بن ذہل بن بلی ابو بردہ بلوی جو انصار کے حلیف تھے یہ ابن اسحاق کا قول ہے وہ اپنی کنیت سے زہادہ مشہور تھے اور براء بن عازب کے ماموں تھے نیز وہ بیعت عقبہ میں موجود تھے اسی طرح تمام غزوات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمر کاب رہے۔ ابو جعفر عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابن اسحاق سے بل سلسلۂ شرکائے بیعت عقبہ بیان کیا، کہ ابو بردہ کا نام ہانی بن نیار بن عمرو بن عبید بن عمرو بن کلاب بن و ہمان بن غنم بن ذبیان بن ہمیم بن کاہل بن ذہل بن ہنی بن بلی ہے اور اسی اسناد سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر، ابن اسحاق نے جو بنو حارث بن خزرج کا حلیف ہے بیان کیا کہ ابو بردہ بن نیار کا نام ہانی تھا اور وہ لاولد تھے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور ان سے براء بن عازب نے اور تابعین کی ایک جماعت نے روای۔۔۔
مزید
بن یزید بن نہیک بن درید بن سفیان بن ضباب(ان کا نام سلمہ بن حارث بن ربیعہ بن حارث بن کعب الحارثی تھا) ایک روایت میں ہانی بن یزید بن کعب المذحجی حارثی آیا ہے یہ ابو وغیرہ کا قول ہے ابن مندہ نے انہیں النخعی لکھا ہے لیکن اول الذکر روایت زیادہ درست ہے اگرچہ نخع بھی بنو مذ حج کی ایک شاخ ہے لیکن ہانی کا تعلق بنو نخع سے نہیں ہے بلکہ وہ حارث بن کعب کی اولاد سے ہیں جو بنو مذحج سے ہیں ان کی کنیت بڑے بیٹے کی وجہ سے ابو شریح تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے ان کی کنیت ابو الحکم تھی عبد الوہاب بن علی نے باسنادہ ابو داؤد بن اشعث سے انہوں نے ربیع بن نافع سے انہوں نے یزید بن مقدام بن شریح سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا شریح سے انہوں نے اپنے والد ہانی سے سنا کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔
مزید
ہن اسود بن مطلب بن اسد بن عبد العزی بن قصی القرشی: ان کی والدہ کا نام فاختہ دختر عامر بن قرظہ قشیر یہ تھا اور ان کے دو اخیانی بھائی ہبیرہ اور حزن تھے اور ان کے والد کا نام ابو دہب مخزومی تھا جنابِ حزن مشہور تابعی سعید بن مسیب کے دادا تھے اور انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسّر آئی۔ یہ ہبار وہی آدمی ہے جس نے ایک اور بدقماش کے ساتھ حضرت زینب دختر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت تعاقب کیا تھا جب ان کے شوہر ابو العاص نے انہیں مدینے روانہ کیا تھا اس دوران میں ہباران پر لپکا ان کے کجادے پر حملہ کیا اور اونٹنی کو دو چار ڈنڈے لگائے چونکہ جناب زینب حاملہ تھیں زمین پر گرنے سے ان کا حمل ساقط ہوگیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس زیادتی کا علم ہوا تو فرمایا اگر ہبار تمہارے ہتھے چڑھ جائے تو اسے آگ میں ڈال دینا فرمایا نہیں اللہ کے بغیر اور کوئی ایسی سزا دینے کا مجاز نہیں ہے اس لیے ۔۔۔
مزید