ابواروی،دوسی،حجازی،یہ صحابی ذوالحلیفہ میں قیام کرتے ،ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابو واقد صالح بن محمد بن زائدہ مدنی نے اور سلیمان بن حرب نے وہیب سے،انہوں نے ابوواقد صالح بن محمد سے،انہوں نے ابواروی سے روایت کی،کہ میں نمازعصر حضورِاکرم کے ساتھ پڑھکرغروب آفتاب سے پہلے شجرہ پہنچ جایا کرتا تھا۔ احمد بن عثمان بن ابوعلی نے ابورشید عبدالکریم بن احمد بن منصور بن محمد بن سعیدسے،انہوں نے ابومسعود سلیمان بن ابراہیم بن محمد بن سلیمان سے،انہوں نے ابوبکر محمد بن علی بن موسیٰ بن مردویہ سے،انہوں نے ابراہیم بن محمد بن ابراہیم دبیلی سے،اور دعلج بن احمد سے،انہوں نے محمد بن علی بن زید سے،انہوں نے بشر بن عیسیٰ بن مرحوم العطارسے،انہوں نے نضر بن عربی سے،انہوں نے عاصم بن سہیل سے،انہوں نے محمدبن ابراہیم سے،انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نےابواروی سے روایت کی،کہ میں حضورِ اکرم کے پاس بیٹھاہواتھاکہ ۔۔۔
مزید
ابوالعشراءالدارمی،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،کسی نے اسامہ بن مالک بن قہطم، کسی نے بلز،کسی نے مالک بن اسامہ اورکسی نے عطاردبن برز لکھاہے،بعض نے انہیں صحابہ میں شمارکیا ہے،مگریہ غلط ہے،درج ذیل حدیث کے راوی ان کے والد ہیں،"لوطعنت فی فخدھا لاجزاء عنک"اگرتم جانورکی ران میں نیزہ چبھودو،تویہ جائزہوگا،ہم اسامہ کے ترجمے میں اس کاذکرکر آئے ہیں،اورصحبت ان کے والدکوملی اورمالک بن قہطم کے ترجمے میں اس کا ذکرکرآئے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
ابوالاشعث،ابن الدباغ اندلسی لکھتے ہیں،کہ بزار نے الملقین میں انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے،محمد بن اشعث نے اپنے والد سے،انہوں نے داداسے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،کہ تیل کی مالش سے سر کی خشکی دُور ہو جاتی ہے،لباس سے اقتصادی حالت کا اظہارہوتا ہے،اور خادم کے ساتھ حسنِ سلوک دشمن ذلیل ہوتا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابواسماءشامی،حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوئے،ان کی حدیث ان کی اولاد نے والد سے یوں بیان کی ہے کہ وہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوئے،بیعت کی،اور آپ سے مصافحہ کیا،اس پر انہوں نے دل میں ٹھان لی،کہ وہ اس ہاتھ سے کسی دوسرے سے مصافحہ نہیں کریں گے،چنانچہ وہ کسی سے ہاتھ نہیں ملاتے تھے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالاسود النہدی رضی اللہ عنہ،یونس بن بکیر نے عنبسہ بن ازہرسے،انہوں نے ابوالاسود نہدی سے،انہوں نے اپنے والد سے،جنہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کوپایا،روایت کی،کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لنگڑاکرچل رہے تھے،اورایک غارکی طرف جارہے تھےچنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی انگلی زخمی ہوگئی،اس پر آپ نے فرمایا۔ ماانت الااصبح ومیت وفی سبیل اللہ مالقیت (ترجمہ)توایک انگلی ہی توہے،جوزخمی ہوگئی ہے،اوریہ تکلیف تجھے اللہ کی راہ میں پیش آئی ہے۔ اوراسی واقعہ کوشعبہ،ثوری،زہیراورابوعوانہ وغیرہ نے اسود بن قیس سے،انہوں نے جندب سے روایت کیا،ابن مندہ اورابونعیم نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالاسود بن سندرالجذامی،ایک روایت میں ان کانام سندریا عبداللہ بن سندر ہے،یہ درست نہیں ، ان کا نام ابوالاسودابن سندرہے،ان کی حدیث دربارۂ بنواسلم،غفار تجیب مصر میں معروف ہے،انہیں صحبت میسر آئی،ان سے یزید بن ابی حبیب نے بہ سند ابوالخیر روایت کی،ہم ان کا ذکرِ مفصل عبداللہ بن سندر کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالاسود تمیمی،جعفرنے ان کا ذکرکیا ہے،ان سے رزاق نے،انہوں نے معمر سے،انہوں نے بنوتمیمی کے ایک شیخ سے،انہوں نے اپنے ایک شیخ سے،جس کا نام ابوالاسود تھا،سنا،کہ انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا،آپ نے فرمایا،جھوٹی قسم کھانے سے عورتیں بانجھ ہو جاتی ہیں،ابوموسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعطیتہ البکری از بنوبکر بن وائل،ان سے مروی ہے،کہ ان کے اہل خاندان انہیں(جب وہ ابھی لڑکے تھے)لے کر حضورِاکرم کی خدمت میں لائے،ان سے مسکین بن عبداللہ ابوفاطمہ ازدی نے روایت بیان کی کہ مجھے لے کر حضوراکرم کی خدمت میں لائے،اورمیں ابھی نوجوان لڑکاتھا، میں نے ابوعطیہ کو اس وقت دیکھا جب وہ سجستان کے لوگوں کو مدینے میں جمع کررہے تھےاوروہ شہرسے میل بھر دُورفروکش تھے،میں نے ابوعطیہ کو اس وقت دیکھا،ان کی ڈاڑھی اور سرکے بال سفید ہوچکے تھے،اورسرپر سفید پگڑی باندھ رکھی تھی،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعطیتہ المزنی،ان کی حدیث بکر بن سوادہ نے عبدالرحمٰن بن عطیہ سے ،انہوں نے والدسے، انہوں نے داداسے روایت کی،مصری شمارہوتے ہیں،یہ سعید بن یونس کا قول ہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعطیتہ الوداعی،شامی صحابہ میں شمارہوتے ہیں،ان کی صحبت میں اختلاف ہے،طبرانی اورمطین نے انہیں صحابہ میں شمارکیاہے۔ ابوموسیٰ نے اجازۃً ابوغالب کوشیدی سے،انہوں نے ابوبکربن ریدہ سے،انہوں نے ابوالقاسم طبرانی سے،انہوں نے ابراہیم بن محمد بن عوف الحمصی سے،انہوں نے محمد بن مصفی سے،انہوں نے بقیہ سے،انہوں نے بجیر بن سعدسے،انہوں نے خالد بن معدان سےروایت کی کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک مرنے والے کا ذکر ہورہاتھا،آپ نے دریافت فرمایا،آیاتم سے کسی نے اسے کوئی نیک کام کرتے دیکھاہے،ایک آدمی نے گزارش کی ،یارسول اللہ !میں اور وہ ایک رات، اللہ کی راہ میں بغرض چوکیداری جاگتے رہے تھے،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ مجلس کے ساتھ اُٹھے اور آپ نے اس کی نمازجنازہ پڑھائی،اورجب اسے قبرمیں اتاراگیا،توآپ نے اس پر مٹی ڈالتے ہوئے فرمایا،تمہارے ساتھیوں کا گمان ہے،کہ تم دوزخی ہو،لیکن میں اس امرکی ۔۔۔
مزید