جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا ہدم رضی اللہ عنہ

بن مسعود: ابن ماکولا نے ان کا نام ہدم نہ کسرۂ اول و سکون دوم لکھا ہے اور ان کا نسب ہدم بن مسعود بن عدی بن بجاد بن مالک بن غالب بن قطیعہ بن عبس العبسی ہے یہ ان نو آدمیوں میں شامل تھے جو ان کے قبیلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے یہ ابن کلبی کا قول ہے ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہدہ رضی اللہ عنہ

جعفر کہتے ہیں یہ ابو الربد نبوی کا نام ہے انہیں حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی انہوں نے ابو العباس محمد بن عبد الرحمٰن الدغولی سے روایت کی ابو موسیٰ نے مختصراً ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہدیل رضی اللہ عنہ

ابن ابی الدنیا نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد ذکر کیا ہے کہ دو معذور میاں بیوی کا ایک لڑکا تھا وہ مرگیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا اگر کسی دوسرے آدمی کی وجہ سے چھوڑ دیا جاتا تو اس لڑکے کو معذور والدین کی خاطر چھوڑ دیا جاتا اس کے بعد ابن ابی الدنیا نے کہا کہ یعقوب بن عبید نے قبیصہ سے انہوں نے ابو السوداء سے انہوں نے ابن سابط سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کو کسی ضرورت کے پیشِ نظر یا کسی کی مفلسی کی خاطر چھوڑ دیا جاتا تو ہدیل کو اس کے والدین کی خاطر زندہ رہنے دیا جاتا۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہُدَیَم رضی اللہ عنہ

التغلبی: ایک روایت میں اویم مذکور ہے ان سے ضبی بن معبد نے روایت کی ہے اویم کے ترجمے میں ہم پہلے ان کا ذکر کرچکے ہیں مگر ہدیم زیادہ مشہور ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہُذیم رضی اللہ عنہ

بن عبد اللہ بن علقمہ بن مطلب بن عبد مناف یہ اور ان کے بھائی جنادہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی صحبت مذکور نہیں ابن اثیر کہتے ہیں بلاشبہ انہیں یہ شرف حاصل ہوا کیونکہ ابو عمر نے ان کے بھائی جنادہ کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ انہیں جنگ یمامہ میں شہادت نصیب ہوئی ابو موسیٰ اور ابو عمر دونوں نے ان کے والد عبد اللہ کا ذکر کیا ہے ان کی کنیت ابو نیقہ تھی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ نے انہیں خیبر میں جاگیر عطا کی تھی۔ اس سے ان کے اسلام اور شرفِ صحبت کا علم ہوتا ہے نیز فتح مکہ کے بعد قریش میں کوئی ایسا آدمی نہیں رہ گیا تھا جو مسلمان نہ ہوگیا ہو علاوہ ازیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور جنگ یمامہ کے درمیان زیادہ عرصہ نہیں تاکہ کہا جاسکے کہ جناب ہذیم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام لائے ہوں گے۔ واللہ اعلم ابو عمر نے ان کا نام ہریم لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہرماس رضی اللہ عنہ

بن زیاد بن مالک بن عمرو بن عامر ثعلبہ بن غنم بن قیتبہ الباہلی جو قیس عیلان ہیں ان کی کنیت ابو جدید تھی ایک روایت میں انکا نام شریح مذکور ہے ان سے عکرمہ بن عمار نے روایت کی ہے ابن ماکولا نے انہیں یمامہ تحریر کیا ہے اور یمامہ کے رہنے والے سب بنو حنیفہ سے ہیں۔ ابو الفرج عیسیٰ بن محمود نے سحامی سے انہوں نے ابو سعد جر رودی سے انہوں نے ابو عمرو بن ہمدان سے انہوں نے ابو لعیلی موصلی سے انہوں نے عبد اللہ بن بکار سے انہوں نے عکرمہ بن عمار سے انہوں نے ہرماس بن زیاد سے روایت کی کہ انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقعہ پر اونٹ کی پیٹھ سے لوگوں کو خطاب کرتے دیکھا۔ یعیش بن صدقہ بن علی نے باسنادہ احمد بن شعیب سے انہوں نے عبد الرحمان بن محمد بن سلام سے انہوں نے عمر بن یونس سے انہوں نے عکرمہ بن عمار سے انہوں نے ہرماس ن زیاد سے روایت کی کہ میں ابھی لڑکا ہی تھا کہ میں اپنے ہاتھ حضور ۔۔۔

مزید

سیّدنا ہرمرز رضی اللہ عنہ

ایک روایت کے رو سے ان کا نام کیسان تھا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے عطاء بن سائب سے مروی ہے کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام کلثوم کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے فرمایا کہ مجھے ہرمز یا کیسان نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم صدقات کا مال نہیں کھاتے ایک روایت میں ان کا نام مہران یا میمون بھی بیان ہوا ہے۔ ابو احمد عسکری نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام کیسان، ہرمز ہی تھے ابن ابی خیشمہ وغیرہ نے ان کا ترجمہ اسی طرح بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ کیسان آل ابی طالب کے آزاد کردہ غلام تھے اور غزوۂ بدر میں موجود تھے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہرمز رضی اللہ عنہ

بن ماہان فارسی، محمد بن عمر بن ابو سعدانہ نے والد سے انہوں نے دادا سے انہوں نے ہرمز بن ماہان سے جو ایرانی تھے سنا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خالد بن ولید کے لشکر میں شامل فرمادیا وہ پھر حاضر خدمت ہوکر ملتجی ہوئے کہ انہیں صدقہ سے کچھ رقم عطا فرمائی جائے فرمایا صدقہ نہ تو میرے لیے حلال ہے اور نہ میرے اہل بیعت کے لیے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار عطا فرمایا ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں ابن مندہ نے اس سے پہلے ترجمے میں بیان کیا ہے کہ ہرمز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے ابن موسیٰ نے اسی ترجمے کو بیان کیا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان دونوں کے خیال میں یہ دو آدمی ہیں لیکن ابن اثیر کی رائے یہ ہے کہ دونوں ایک ہیں ہر مز ایرانی نام ہے اور حدیث کا مضمون بھی ایک ہی ہے ۔۔۔

مزید

سیّدنا ہرمی رضی اللہ عنہ

بن عبد اللہ بن رفاعہ بن نجدہ بن مجدعہ بن عامر بن کعب بن واقف ان کا نام مالک بن امرؤ القیس بن مالک بن اوس انصاری اوسی واقفی ہے جناب ہرمی قدیم الاسلام ہیں اور ان لوگوں میں شامل تھے جو غزوۂ تبوک کے موقعہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے لیے حاضر ہوئے تھے اور جب خواہش پوری نہیں ہوئی تھی تو روتے واپس ہوئے تھے یہ ابو عمر کلبی ابو نعیم کا قول ہے ہاں اتنا فرق ضرور ہے کہ ابو عمر کے نزدیک ان کا نام ہرم انصاری ہے اور بنو عمر بن عوف سے ہیں کیونکہ بنو واقف ابن کے حلیف تھے اس لیے جنابِ ہرم کو بھی بنو عمرو بن عوف سے سمجھ لیا گیا۔ ابن مندہ لکھتے ہیں کہ ہرمی بن عبد اللہ واقفی کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے لیکن بغیر ثبوت کے اور انہوں نے ابن اسحاق سے انہوں نے ثمامہ بن قیس سے انہوں نے ہرمی بن عبد اللہ سے روایت کی جو حضو اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے اور انہیں صحابہ کی صحبت میسر آئی۔۔۔

مزید

سیّدنا نظیر رضی اللہ عنہ

المذنی یا المدنی ابن شہاب نے اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت کی کہ انہیں نظیر المزنی نے بتایا کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ جب کسی آدمی کو یہ آیت ’’لَم یکن الذین کفروا من اھل الکتاب‘‘ پڑھتے سنتا ہے تو فرماتا ہے، ’’میرے بندے، تجھے بشارت ہو کہ میں تجھے کسی حالت میں بھی دنیا اور آخرت میں فرموش نہیں کروں گا اور میں تجھے جنت میں اتنی نعمتیں عطا کروں گا کہ تو راضی ہوجائے گا‘‘۔ ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید