دبرہ بن تحبس بھی ایک روایت میں آیا ہے مگر یہی بہتر ہے اور درست ہے۔ رسول اکرم نے انہیں یمن میں الابناء کی طرف بھیجا تھا۔ ابو عمر نے ان کا اختصاراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابن ابی عاصم نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ امام بخاری ان کی صحبت کے قائل ہیں۔ ابو حاتم کہتے ہیں۔ انہیں صحبت میّسر نہیں ہوئی۔ ہمیں یحییٰ بن محمود نے کتابتہً با سنادہ ابن ابی عاصم سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں ہمیں یعقوب بن حمید نے انہیں ابن عیینہ نے، انہیں عمر بن دینار نے، انہیں حسن بن محمد نے انہیں مخلدالغفاری نے بتایا کہ بنو غفار کے تین غلام، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں اُنہیں ہر سال تین ہزار درہم دیا کرتے تھے۔ عمر و بن دینار لکھتے ہیں کہ انہوں نے مخلد الغفاری کو دیکھا تھا۔۔۔ ابو نعیم، ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ایک روایت میں حکیم بن معاویہ ہے۔ علاء بن حارث نے حزام بن حکیم سے، انہوں نے اپنے چچا مخمر سے روایت کی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مائع کے بارے میں جو پیشاب کے بعد بعض اوقات نکلتا ہے دریافت کیا۔ فرمایا یہ مذی ہے، جب تمہیں ایسی حالت پیش آئے تو آلۂ تناسل کو دھو کرنماز کے لیے وضو کرلو۔ اسی طرح مخمر سے منقول ہے، لیکن صحیح نام حکیم بن معاویہ ہے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ہاں ابو عمر نے ان کا نام مخمر بن معاویہ البہزی تحریر کیا ہے۔ انہوں نے حضور اکرم سے سُنا کہ نحوست کوئی چیز نہیں۔ ابو احمد عسکری نے اس کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ مخمر بن معاویہ حیدۃ القشیری نے روایت کی کہ اُنہیں باسنادہ سلیمان بن سلیم الکنانی نے حکیم بن معاویہ سے اُنہوں نے اپنے چچا مخمر بن حیدہ سے بیان کیا۔ کہ اُنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ نحوست کوئی چیز نہیں۔ البتہ کبھ۔۔۔
مزید
بصری تھے اور ان کی بیٹی سبینہ نے ان سے روایت کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا۔صلہ رحمی کر، تیری عمر زیادہ ہوگی۔ بھلے کام کر، اس سے تیرے گھر میں بھلائی آئے گی۔ اللہ کو ہر پتھر اور ڈھیلے کے سامنے یاد کر، وہ قیامت میں تیرے حق میں شہادت دیں گے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حارث بن عوف بن ثعلبہ بن عامر بن ذہل بن مازن بن ذبیان بن ثعلبہ بن دؤل بن سعد مناہ بن غامد الازوی الغامدی: انہیں صحبت میّسر آئی۔ ان سے ابور ملہ نے روایت کی۔ ان کا نام عامر تھا۔ ان کا شمار کوفیوں میں ہوتا ہے۔ اور کوفے میں بنو ازد کے نقیب تھے۔ ایک روایت میں وہ بصری تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مخنف کو اصفہان کا حاکم مقرر کیا۔ وہ جنگِ صفین میں بھی شریک تھےا ور بنوازد کا علم ان کے پاس تھا اور وہ ان کی اولاد سے تھے۔ ابو مخنف لوط بن سعید بن مخنف بن سلیم مورخ اور سیرت نویس تھے۔ ہمیں ابراہیم بن محمّد وغیرہ نے اپنے اسناد سے ابو عیسیٰ سے بیان کیا، انہیں احمد بن منیع نے، انہیں روح بن عبادہ نے انہیں ابن عون نے، انہیں ابو رملہ نے مخنف بن سلیم غامدی سے بتایا کہ ہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا،۔۔۔
مزید
بن ابی یزید السلمی البہزی: ان سے ان کے بیٹے قاسم نے دو احادیث نقل کی ہیں، جن کا مدار محمد بن سلیمان بن شمول المکی پر ہے۔ ہمیں ابو الربیع سلیمان بن ابو البرکات محمد بن محمد بن خمیس نے اُنہیں ان کے والد نے۔ انہیں ابو نصر بن طوق نے انہیں ابن المرجی نے، انہیں ابو یعلی احمد بن علی نے۔ انہیں محمد بن عباد مکی نے، انہیں محمد بن سلیمان نے انہیں ابو البرکات قاسم بن مخول نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا، کہ انہوں نے ابواء کے مقام پر جال لگائے ان میں ایک ہرن پھنس گیا۔ جو بعد میں اِدھر اُدھر ہوگیا۔ مَیں اس کی تلاش میں نکلا۔ ایک آدمی کو دیکھا۔ جس نے اسے پکڑ رکھا تھا۔ مَیں اس سے جھگڑنے لگا اور اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ جو ابواء میں ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ ہم نے اپنا مقدمہ پیش کیا، تو آپ نے برابر دونوں حصوں میں بانٹ دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسل۔۔۔
مزید
ان سے ابو بلال مبین بن قطبہ بن ابی عمرہ نے روایت کی کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور دومتہ الجندل کا قصّہ بیان کیا۔ اور جب ختم کر چکا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے رزق میں وسعت کی دعا فرمائی۔ ابو علی غسانی نے ان کا ذکر کیا۔ ۔۔۔
مزید
ایک نسخے میں، ان کا نام محیس مذکور ہے، لیکن بظاہر درست وہی ہے، جو مَیں لکھ چُک ہوں۔ بشرطیکہ یہ صاحب قیس ابو غنیم نہ ہوں۔ کیونکہ جس کا ذکر ہم کر رہے ہیں۔ وہ غنیم بن قیس کے نام سے مشہور ہیں۔ جعفر نے ان کے باپ سے ان کا ذکر باب المیم میں کیا ہے۔ ابراہیم بن عرعرۃ الشامی نے سہیل بن یوسف الانماطی السلمی سے، انہوں نے صالح بن ابی الاخضر سے اُنہوں نے زہری سے انہوں نے مخیس بن غنم سے روایت کی کہ مَیں نے رات کے وقت بیلچوں کی آواز کو سنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دفن کیے جارہے تھے۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر ہے۔ ۔۔۔
مزید
الازدی الغامدی: انہیں صحبت میسر آئی۔ یہ شامی شمار ہوتے تھے۔ ان سے ولید بن عبد الرحمن الحرشی نے روایت کی۔ ہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازتاً با سنادہ ابن ابی عاصم سے، انہیں ہشام بن خالد نے ولید بن مسلم سے اس نے عبد الغفار بن اسماعیل بن عبید اللہ سے، انہوں نے ولید بن عبد الرحمٰن جرشی سے، انہوں نے مدرک بن حارث الغامدی سے روایت کی۔ کہ مَیں نے ایک سال اپنے والد کے ساتھ حج کیا۔ ایک دن ہم منی میں تھے کہ وہاں بہت سے لوگ ایک آدمی کے گرد جمع تھے مَیں نے والد سے اس ہجوم کے بارے میں پوچھا۔ کہا کہ یہ صابی ہے جس نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا ہے۔ پھر میرا والد اونٹنی پر سوار ان لوگوں کے پاس جا کھڑا ہوا مَیں بھی اپنی اونٹنی پر وہاں جا کھڑا ہوا۔ وہ لوگ باتیں کرنے کے بعد اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ میرا والد وہیں کھڑا رہا تاآنکہ وہ سب لوگ تھک گئے، دن گرم ہوگیا اور وہ سب رُخصت ہوگئے۔ اس اث۔۔۔
مزید
انہیں صحبت میسر آئی۔ ان کی قبر راویہ کے گاؤں میں ہے جو جحیر اور غوطہ دمشق کے درمیان واقع ہے۔ ابو عمیر عدی بن احمد بن عبد الباقی الادمی نے ابو عطیہ عبد الرحیم بن محرز بن عبد اللہ بن محرز بن سعید بن حبان بن مدرک بن زیاد الفزاری سے روایت کی کہ مدرک بن زیاد جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے مع ابو عبیدہ کے آئے اور دمشق کے گاؤں راویہ میں فوت ہوگئے اور یہ پہلے مسلمان ہیں جو وہاں دفن ہُوئے، حافظ ابو القاسم الدمشقی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ اور کسی وجہ کی بنا پر جنابِ مدرک کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ۔۔۔
مزید