جمعہ , 21 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 08 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا محمّد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ

بن عُتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس طبن عبد مناف قریشی ہاشمی: ان کی کنیت ابو القاسم تھی۔ حضور اکرم نے زمانے میں حبشہ مین پیدا ہوئے ان کی والدہ سہلہ بنت سہل بن عمرو العامریہ تھیں یہ صاحب معاویہ بن ابو سفیان کےماموں کے بیٹے تھے جب ان کے والد ابو حذیفہ قتل ہوگئے۔ تو حضرت عثمان نے محمّد کو اپنی کفالت میں لے لیا جب وہ جوان ہوئے تو مصر چلے گئے۔ سوئے اتّفاق سے یہ نوجوان حضرت عثمان کا بدترین معاند ثابت ہُوا۔ یہ شخص ان لوگوں میں پیش پیش تھا۔ جو محاصرے کے بعد خلیفہ کے محل میں داخل ہُوئے اور نہیں قتل کردیا۔ محمّد بھاگ کر خلیل کو چلا گیا، جو لبنان کا ایک پہاڑ ہے۔ وہاں پکڑا گیا اور قتل کردیا گیا۔ حاجی خلیفہ لکھتا ہے کہ محمّد کو حضرت علی نے حاکم مصر مقرر کیا تھا پھر اسے معزول کرکے قیس بن سعد بن عباد کو حکومت دی تھی پھر اسے بھی معزول کردیا گیا لیکن صحیح امر یہ ہے کہ جب حضرت عثما۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زائدہ( رضی اللہ عنہا)

زائدہ یا زیدہ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ کنیز تھیں،ابو موسیٰ نے اذناً ابوبکر محمد بن ابو نصراللہ سے،انہوں نے ابو حفص السمأ،انہوں نے ابوسعید نقاش سے،انہوں نے ابویعلی حسین بن محمد زبیری سے،انہوں نے ابوبکر محمد بن حمدان بن خالد سے ،انہوں نے فضل بن یزیدسے انہوں نے بشر بن بکر سے،انہوں نے اوزاعی سے،انہوں نے واصل سے،انہوں نے ام نجیح سے روایت کی،کہ حضرت عائشہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں،کہ حضرت عمر کی کنیز زائدہ حاضر ہوئیں،جو بڑی عبادت گزار تھیں اور حضور اکرم اس وجہ سے انہیں اچھا جانتے تھے انہوں نے سلام کے بعد بیان کیا،کہ وہ گھر میں آٹا گوندھنے کے بعد لکڑیاں جمع کرنے شہر سے دُور نکل گئیں،انہوں نے ایک آدمی کو صاف ستھرے لباس میں ایک ایسے گھوڑے پر سوار دیکھاجس کے پاؤں سفید تھے اور ماتھے پر بھی سفید نشان تھا،اس کا چہرہ چندے آفتاب چندے ماہتاب،اس۔۔۔

مزید

سیدنا بن حزم رضی اللہ عنہ

یہ انصاری تے، جنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ قیامت کے دن خدا کے سامنے ستّر امتیں پیش ہوں گی۔ ہم ان سب سے زیادہ معزّز اور باوقار ہوں گے ابو نعیم لکھتا ہے کہ ابو العباس ہروی نے اس صحابی کا ذکر ان لوگوں کے ذکر کے ساتھ کیا ہے جن کا نام محمّد تھا محمد بن حزم سے قتادہ نے جو تابعی ہیں روایت کی جس صحابی کا نام محمّد بن عمر بن حرم ہے۔ ان کا ذکر بعد میں آئے گا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب انصاریہ ،جو ابن مسعود انصاری کی زوجہ تھیں،علقمہ نے عبداللہ سے روایت کی،کہ زینب انصاریہ اور زینب ثقفیہ ہر دو حضور کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور اپنے شوہروں پر صرفِ مال کے بارے میں دریافت کیا،اور یہی حدیث اعمش نے ابو وائل سے انہوں نے عمروبن حارث بن مصطلق سے،انہوں نے اپنے بھتیجے سے روایت کی کہ زینب جو عبداللہ بن مسعود کی بیوی ہیں،انہوں نے زینب انصاریہ سے روایت کی کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،تو ان کی ہمنام ایک اور خاتون وہی بات پوچھنے حاضر ہوئی تھیں،جو بات میں پوچھنے گئی تھی، آپ نے فرمایا،تمہیں اس انفاق کے دو اجر ملیں گے،ایک اجر صدقے کا اور ایک قرابت کا،ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن خطاب رضی اللہ عنہ

بن حارث بن معمر حجمی: یہ صحابی بن حاطب کے عمزاد تھے ان کی پیدائش حبشہ میں ہوئی بقولِ ابو عمر وہ اپنے عمزاد سے عمر میں بڑے تھے اگر یہ درست ہے تو بلاشبہ وہ پہلے آدمی ہیں جن کا نام محمّد رکھا گیا، اور حبشہ سے لائے گئے تھے۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن حمید بن عبد الرحمٰن الغفاری رضی اللہ عنہ

علی بن سعید العسکری نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے ابن اسحاق نے محمّد بن یحییٰ بن حبان سے، اس نے اعراج سے، اس نے حمید بن عبد الرحمٰن الغفاری سے روایت کی کہ میں ایک سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا میں نے دل میں خیال کیا کہ میں حضور اکرم کی نماز بہ نظر غائر ملاحظہ کروں گا۔ چنانچہ آپ نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی حضور نے اونٹنی کا پالان زمین پر بچھایا اپنی بعض چھوٹی موٹی اشیاء اختیار سے باندھیں پھر رات کے چند گھنٹوں کے لیے سوگئے تھوڑی دیر بعد آپ جاگ اُٹھے انگڑائی لی اور آسمان کو دیکھ کر آلِ عمران کی(ان فی خلق السمٰوات) پانچ آیات تلاوت فرمائیں پھر مسواک لے کر دانت صاف کیے، وضو کیا اور چار رکعت نماز ادا کی۔ اس طریقے سے کہ رکوع سجود اور قیام کم و بیش برابر تھے۔ پھر بیٹھ گئے اور آسمان کو دیکھ کر پھر مذکورہ بالا آیات تین مرتبہ تلاوت فرمائیں پھر رکوع کیا اور ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب اسدیہ( رضی اللہ عنہا)

کتاب کی ترتیب کے اعتبار سے ان کا ذکرزینب کے ضمن میں سب سے پہلے ہے،لیکن یہاں حروف تہجی کے اعتبار سے درج کیا گیا ہے۔ زینب اسدیہ مکیہ،ابو زبیر نے مجاہد سے ،انہوں نے زینب سے روایت کی،کہ انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہوآلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کی،یا رسول اللہ میرا والد مرگیاہےاور اس کی لونڈی نے ایک لڑکا جنا ہے اور ہم اسے تہمت لگایا کرتے تھے،فرمایا،بچے کو میرے پاس لے آؤ،اسے دیکھنے کے بعد فرمایا،یہ تمہارے باپ کا وارث ہوگا، لیکن تو اس سے حجاب کر ے گی،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن حمید بن عبد الرحمٰن الغفاری رضی اللہ عنہ

علی بن سعید العسکری نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے ابن اسحاق نے محمّد بن یحییٰ بن حبان سے، اس نے اعراج سے، اس نے حمید بن عبد الرحمٰن الغفاری سے روایت کی کہ میں ایک سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا میں نے دل میں خیال کیا کہ میں حضور اکرم کی نماز بہ نظر غائر ملاحظہ کروں گا۔ چنانچہ آپ نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی حضور نے اونٹنی کا پالان زمین پر بچھایا اپنی بعض چھوٹی موٹی اشیاء اختیار سے باندھیں پھر رات کے چند گھنٹوں کے لیے سوگئے تھوڑی دیر بعد آپ جاگ اُٹھے انگڑائی لی اور آسمان کو دیکھ کر آلِ عمران کی(ان فی خلق السمٰوات) پانچ آیات تلاوت فرمائیں پھر مسواک لے کر دانت صاف کیے، وضو کیا اور چار رکعت نماز ادا کی۔ اس طریقے سے کہ رکوع سجود اور قیام کم و بیش برابر تھے۔ پھر بیٹھ گئے اور آسمان کو دیکھ کر پھر مذکورہ بالا آیات تین مرتبہ تلاوت فرمائیں پھر رکوع کیا اور ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر ابو سلمہ بن عبدالاسد قرشیہ مخزومیہ،رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیب تھیں،اور والدہ ام سلمہ حضور کی زوجہ تھیں،ان کا نام برہ تھا،آپ نے زینب بنادیا،ایسی ہی روایت جناب زینب دختر حجش کے بارے میں بھی مروی ہے،زینب حبشہ میں پیدا ہوئی تھیں اور جناب ام سلمہ واپسی پر انہیں ساتھ لے آئی تھیں۔ عمر بن محمد بن معمر نے ابوغالب احمدبن حسن بن احمد سے ،انہوں نے ابو محمد جوہر سے،انہوں نے احمد بن جعف بن حمدان سے،انہوں نے عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے ہشیم بن خارجہ سے ،انہوں نے عطاف بن خالد مخزومی سے،انہوں نے والدہ سے ،انہوں نے زینب دختر ابوسلمہ سے روایت کی، کہ جب رسولِ کریم ہمارے یہاں آتے تو غسل فرماتےاو ر والدہ کہتی کہ حضورِاکرم کے پاس جاؤ،میں جاتی،تو آپ پانی کی پھوار میرے منہ پر مارتے اور کہتے چلی جاؤ،عطاف کہتے ہیں،میری ماں نے مجھے بتایا،کہ انہوں نے زینب کو اس وقت دیکھا،جب وہ کافی بوڑھی ہو۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن خثیم ابو یزید المحاربی رضی اللہ عنہ

بقولِ امام بخاری حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے انھوں نے عمار بن یاسر سے روایت کی ان سے محمد بن کعب القرظی نے روایت کی۔ یونس بن بکیر نے، محمّد بن اسحاق سے، اس نے یزید بن محمّد بن خیثم سے اس نے محمّد بن کعب القرظی سے: اس نے محمّد بن خیثم بن یزید سے، اس نے عمار بن یاسر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں حدیث بیان کی اور اس کی محمد بن سلمہ و بکر الاسواری نے محمد بن اسحاق سے اُس نے محمد بن یزید بن خیثم سے روایت کی کہ محمد بن کعب نے اسے بتایا کہ تمھارے والد یزید بن خثیم نے یہ حدیث بیان کی ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید