ابن اسحاق نے ان کی ولدیت مرہ لکھی ہے ابوموسیٰ نے اسی طرح اس کی تخریج کی ہے اور جو لوگ ان کا نام مالک بن مرارہ بتاتے ہیں۔ ان سے اس نام کے پڑھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام الضحاک دختر مسعودیہ انصاریہ حارثیہ غزوۂ خیبر میں حضور ِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں، انہیں مالِ غنیمت سے مَردوں کے برابرحِصّہ ملا تھا،حزم بن محیصہ اورسہل بن ابوحثمہ ان کے راوی تھے۔ زہر ی حزام بن محیصہ سے انہوں نے ام ضحاک سے روایت کی،آپ نے فرمایا،کہ کوئی ہمسائی اپنی ہمسائی کو ذلیل نہ سمجھے،خواہ وہ اسے بکری کا کھر ہی بھیجے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن البدن بن عامر بن عوف بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدۃ الانصاری الخزرجی الساعدی: یہ صحابی ابواسید الساعدی کے چچا زاد بھائی تھے۔ بدر اور احد کے غزوات میں شامل رہے۔ اس پر سب کا اتفاق ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام الدحداح،ابوالدحداح کی زوجہ تھیں،ان کا ذکر ابوالدحداح کی اس حدیث میں آیا ہے،جس میں ایک ایسے احاطے کے(جس میں کھجورکے درخت تھے)صدقے کا ذکرآیا ہے،اور جس میں ابوالدحداح سے کہا تھا کہ اس احاطے سے نکل جاؤ،اشیری نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام ضمیرہ،حضورِ اکرم کی آزاد کردہ کنیز تھیں،ابنِ وہب نے ابنِ ابی ذئب سے ،انہوں نے حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے داداسے روایت کی،کہ حضورِ اکرم ضمیرہ کے پاس سے گزرے ،اور وہ رو رہی تھیں،آپ نے دریافت فرمایا،کیوں رورہی ہو،انہوں نے جواب دیا،یارسول اللہ! مجھے اپنی والدہ سے علیحدہ کردیا گیاہے،آپ نے فرمایا،والدہ اس کی اولاد میں تفریق نہ کی جائے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام الدرداء جو ابوالدرداء کی زوجہ تھیں،اور ان کا نام خیرہ دختر ابو حدرد اسلمی تھا،یہ امام احمد بن حنبل اور ابن معین کا قول ہے،ان کے مطابق ام الدرداء صغریٰ کا نام ہجمیہ و صابیہ تھا،ابونعیم کے مطابق ان کا نام خیرہ اور بروایتے ہجمیہ تھا،ان سے معاذ بن انس،طلحہ بن عبیداللہ اور میمون بن مہران نے روایت کی۔ ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے ابن نمیر سے،انہوں نے فضیل بن غزوان سے ،انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ بن کریز سے،انہوں نے ام الدرداء انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت کی کہ جو شخص اپنے بھائی کی غیر حاضری میں اس کے لئے دعامانگتا ہےوہ مقبول ہوجاتی ہے،اور جو شخص اپنے بھائی کے لئے دعائے خیر مانگتا ہے،فرشتہ کہتا ہے،خداکرے یہ بھلائی تجھے بھی عطا ہو۔ ام الدرداء فاضلہ اورعاقلہ اور زاہدہ خاتون تھیں اور ابوالدرداء سے دوسال ۔۔۔
مزید
بن اسد بن عبد مناہ بن عائذ بن ابن السعد العشیرۃ السعدی العائذی: بقولِ ابن الکلبی یہ صحابی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ۔۔۔
مزید
ام الفضل دخترعباس بن عبدالمطلب،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور مزید لکھا ہے کہ جعفر نے ابوالفضل دختر عباس اور زوجہ عباس میں اسی طرح فرق بیان کیا ہے۔ امام بخاری نے ان کا ذکر بنو ہاشم کی ان خواتین میں کیا ہےجنہوں نے حضورِ اکرم سے روایت حدیث کی۔ ۔۔۔
مزید
ام الفضل دخترحمزہ بن عبدالمطلب،ایک روایت میں ان کا نام فاطمہ تھا،اور بعض نے کچھ اور لکھاہے،یہ خاتون حضورِ اکرم کی عمزاد تھیں،ان سے عبداللہ بن شداد بن ہاد نے روایت کی کہ ہمارا ایک آزاد کردہ غلام مرگیا،اس کی ایک بیٹی تھی اور ایک بہن،وہ حضورِ اکرم کے پاس آئیں اور آپ نے اس کا ترکہ نصف نصف کرکے ان میں بانٹ دیا،یہ ابوعمر کی روایت ہے۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے عبداللہ بن شداد سے،انہوں نے ام الفضل دختر حمزہ سےروایت کی کہ ہمارا ایک آزاد کردہ غلام ایک لڑکی اور ایک بہن چھوڑکر مرا،حضورِ اکرم نے ان کیر میراث نصف نصف کرکے ان میں بانٹ دی،تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام الفضل دختر حارث جو عباس بن عبدالمطلب کی زوجہ تھیں اور ان کا نام لبابہ تھا،ان کا ذکر پہلے گزرچکاہے،انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے نماز مغرب میں سورۂ والمرسلات پڑھی،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید