غفیرہ دختر رباح،حضور اکرم کے مؤذن بلال کی ہمشیرہ تھیں،ان کے دوسرے بھائی کا نام خالد تھا بقول جعفر یہ خاندان دو بھائیوں اور ایک بہن پر مشتمل تھا،یہ امام بخاری کا قول بھی ہے،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
غمیصاء ،انصاریہ،ایک روایت میں رمیصاء ہے،یہ ام سلیم دخترملحان والدۂ انس بن مالک ہیں، ان کی کنیت نام سے ذیادہ مشہور ہے۔ ابویاسر عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے یحییٰ سے،انہوں نے حمید سے،انہوں نے انس سے ،انہوں نے رسولِ کریم سے روایت کی ہے،جس میں حضورِاکرم کے یہ الفاظ مذکور ہیں،حَتّٰی تَذُوقِی عَسیلَتَہٗ وَیَذُوقَ عَسِیلَتَک۔ ۔۔۔
مزید
غمیصاء ،انصاریہ،مطلقۂ عمرو بن حزم،ابوموسیٰ کا قول ہے کہ یہ خاتون نہ ام سلیم ہیں اور نہ ام حرام،ابو موسیٰ نے اذناً ابوعلی سے ،انہوں نے حماد بن سلمہ سے،انہوں نے ہشام بن عروہ سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ عمرو بن حزم نے اپنی بیوی غمیصاء کو طلاق دے دی،ان سے ایک اور آدمی نے نکاح کیا،لیکن مجامعت سے پہلے ہی انہیں طلاق دے دی،وہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور پوچھا،کہ کیا پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے،فرمایا نہیں،جب تک تم اس کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لے،اس حدیث کو ابن عباس نے بھی روایت کیاہے،اور ان کا نام عمیصاء یا رمیصاء تحریرکیاہے،لیکن شوہر کا نام نہیں لکھا،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہےابن اثیرلکھتے ہیں،کہ ابن مندہ نے اس حدیث کو ام سلیم غمیصاء کے ترجمے میں ان سے اس بناء پر منسوب کیاہے،کہ حضورِاکر۔۔۔
مزید
غزیلہ یا غزیہ دختر جابر بن حکیم دوسیہ ام شریک یہ وہی خاتون ہیں،جنہوں نے اپنا نفس ہبتہً پیش کیا تھا بقول ابو نعیم و ابوعمریہ صحابیہ بنونجار سے انصاریہ تھیں،ان سے جابر بن عبداللہ اور سعید بن مسیب وغیرہ نے روایت کی ہے۔ ابن لہیعہ نے ابوالزبیر سے انہوں نے جابر سے ،انہوں نے ام شریک سے روایت کی کہ انہوں نے رسولِ اکر م کو یہ فرماتے سنا،کہ لوگ دجال کے ڈر سے بھاگ کر پہاڑوں میں روپوش ہوجائیں گے، میں نے عرض کیا یارسول اللہ،عرب اس وقت کہاں ہوں گے،فرمایا،اس وقت ان کی تعداد تھوڑی ہوگی،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ابوعمر کے بقول یہ خاتون ام شریک عامریہ کے علاوہ اور خاتون ہیں،اور ان دونوں میں سے ایک نے اپنا نفس حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیاتھا،لیکن ان کی یہ بات مشکوک ہے،ہم ان کا ذکر پھر کنیتوں کے تحت لکھیں گے،حقیقت یہ ہے کہ جس خاتون نے اپنا نفس حضورِ اکرم کو بخشا تھا،اس کے با۔۔۔
مزید
ہالہ دختر خویلد بن اسد بن عبدالعزی قرشیہ اسدیہ ،جناب خدیجتہ الکبریٰ کی ہمشیرہ تھیں،جناب عائشہ کی حدیث میں ان کا ذکر آتا ہے۔ مسمار بن عبدالعزیز بن عویس اور ابوالفرح محمد بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے باسنادہم محمد بن اسماعیل سے،انہوں نے اسماعیل بن خلیل سے،انہوں نے علی بن مہر سے،انہوں نے ہشام بن عروہ سے،انہوں نےاپنے والد سے ،انہوں نے عائشہ سے روایت کی ،کہ ایک دفعہ ہالہ جناب خدیجہ کی ہمشیرہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئیں،ان کے آنے سے آپ کو خدیجہ یاد آگئیں،اور آپ پر خوشی اور مسرت طاری ہوگئی،اور فرمایا،اے اللہ تو ہالہ کو اپنی برکتوں سے نواز،جس سے وہ بیحد مسرور ہوئیں جناب عائشہ نے کہا،یارسول اللہ ،آپ قریش کی ایک بڑھیا کوجس کے گال سُرخ تھے اور جسے مرے زمانہ گزر چکا ہے،کیوں یاد فرماتے ہیں،حالانکہ اللہ نے آپ کو اس سے بہتر بیویاں عطا کیں ہیں،ابو مندہ اور ابو ن۔۔۔
مزید
حبیبہ دختر ابو امامہ اسعد بن زرارہ،ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں بیان ہوچکا ہے،یہ انصار کے قبیلے خزرج سے تھیں، ان کی شادی سہل بن حنیف سے ہوئی تھی اور ایک بیٹے کو جنم دیاتھا،جس کا نام حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسعد رکھاتھا، اور کنیت اس کے دادا کے نام پر ابو امامہ تجویز فرمائی تھی،اور ان کی بہن قارعہ نبیط بن جابر کی بیوی تھی جو بنو مالک بن نجار سے تھا۔ عبداللہ بن ادریس نے محمد بن عمارہ انصاری مدنی سے انہوں نے زینب دختر نبیط سے جو انس بن مالک کی زوجہ تھی،روایت کی کہ ابو امامہ نے میری والدہ اور خالہ کے بارے میں حضورِ اکرم سے درخواست کی کہ آپ ان کی وفات کے بعد انہیں اپنی تحویل میں لے لیں،نیز ابو امامہ حضورِ اکرم کے پاس سونے کا ایک زیور جسے رعات کہتے تھے،اور جس میں موتی جڑاؤ کئے ہوئے تھے،لائے، حضورِ اکرم نے اسی زیور سے میری والدہ اور خالہ کے لئے زیور۔۔۔
مزید
حبیبہ دختر ابو سفیان،یہ ابان بن صمعہ کا قول ہے،ان سے صرف محمد بن سیرین نے روایت کی کہ انہیں حبیبہ دختر ابو سفیان نے بتایا،کہ انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے " من مات لہ ثلاثہ من الولد" سنی، اور یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ابوسفیان کی کس بیٹی کا نام حبیبہ تھا،ابوعمر لکھتے ہیں کہ ان کے خیال کے مطابق حبیبہ ابوسفیان کی بیٹی ام حبیبہ کی بیٹی تھیں،چنانچہ ابن عینیہ نے اپنی حدیث میں زہری سے انہوں نے زینب دختر ام سلمہ سے،انہوں نے حبیبہ دختر ام حبیبہ سے،انہوں نے اپنی ماں سے،انہوں نے زینب دختر حجش سے روایت کی کہ ایک بار رسولِ کریم خواب سے بیدار ہوئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سُرخ تھا اور کلمہ توحید پڑھ رہے تھے،فرمایا،تباہی ہے عربوں کے لیے اس فتنے سے جو قریب آگیا ہے۔ اس حدیث کی راوی چار خواتین ہیں،جنھیں حضورِ اکرم صلیہ علیہ وسلم کی رویت نصیب ہوئی،زینب ا۔۔۔
مزید
حبیبہ دختر حجش،سب کا یہی خیال ہے،اور انہوں نے کنیت ام حبیب بتائی ہے،لیکن مشہور یہ ہے کہ ان کی کنیت ام حبیبہ تھی، اور وہ اپنی کنیت ہی سے مشہور تھیں،ہم کنیتوں کے تحت ان کا ذکر ذراتفصیل سے کریں گے،ابوعمر نے اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حبیبہ دختر سہل انصاریہ،اولاًحضور نے اس خاتون سے نکاح کرنا چاہا،لیکن پھر ارادہ بدل دیا،اور انہوں نے ثابت بن قیس بن شماس سے نکاح کرلیا،ہم پہلے لکھ آئے ہیں،اور ثابت بن قیس سے خلع کرنے والی عورت جمیلہ دخترابی بن سلول تھی عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے ، انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے عبدالقدوس سے،انہوں نے بکر بن حیش سے، انہوں نے حجاج سے،انہوں نے عمرو بن شعیب سے،انہوں نے والد سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے(ح) اور حجاج نے محمد بن سلیمان بن ابو حثمہ سے انہوں نے اپنے چچا سہل بن ابو حثمہ سے روایت کی،کہ حبیبہ دختر سہل ثابت بن قیس کی بیوی تھی،مگر اسے نا پسند کرتی تھیں،کیونکہ وہ بد صورت تھا،وہ حضورِ اکرم کی خدمت میں گئیں،اور گزارش کی یا رسول اللہ میں اپنے خاوند کا چہرہ دیکھ نہیں سکتی،اگر مجھے اللہ کا ڈر نہ ہو ،تو میں اس کے منہ پر ۔۔۔
مزید
حبیبہ دختر زید بن خارجہ بن ابو زہیر خزرجی،حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ تھیں،یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے، ابو عمر نے حبیبہ (اور بروایتے ملیکہ) دختر خارجہ بن زید بن ابو زہیر بن مالک بن امراؤ القیس بن مالک بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج لِکھا ہے، یہ وہی خاتون ہیں جن کے بارے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرض موت میں کہا تھا،میرا اندازہ ہے ،کہ میری حاملہ بیوی کے پیٹ میں لڑکی ہے،جب وہ بچی پیدا ہوئی تو حضرت عائشہ نے ام کلثوم نام رکھا،اور جوان ہوئیں،تو طلحہ بن عبیداللہ سے بیاہی گئیں،اور ان کے بطن سے زکریا اور عائشہ پیدا ہوئیں۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے،کہ جس دن حضورِ اکرم کو تھوڑا سا افاقہ تھا،تو حضرت ابو بکر آپ سے اجازت لے کر اپنی بیوی سے ملنے گئے تھے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،فرق یہ ہے کو ابو عمر نے ان کے نسب میں خارجہ کو زید پر مقدم کیا،اور ابن من۔۔۔
مزید