پیر , 07 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 22 June,2026

پسنديدہ شخصيات

ابنِ ناسخ حضری رضی اللہ عنہ

ابنِ ناسخ حضری رضی اللہ عنہ،جعفرمستغفری نے ان کانام لیاہے،اوروہ حدیث بیان کی ہے،جوہم ناسخ کے ترجمےمیں لکھ آئے ہیں،ابنِ موسیٰ نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابنِ نضلہ رضی اللہ عنہ

ابنِ نضلہ رضی اللہ عنہ،ابومنصور بن مکارم بن احمد مؤدب نے باسنادہ معانی بن عمران سے،انہوں نے اوزاعی سے،انہوں نے ابوعبید حاجب سلیمان بن عبدالملک سے،انہوں نے قاسم بن مخیمرہ سے، انہوں نے ابن نضلہ سےروایت کی،لوگوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی،یارسول اللہ قحط کے غلوں کانرخ مقرر فرمادیجئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاخدانے اس قحط کے بارے میں جوتم میں نمودارہواہے،نہیں بتایااوراس کے بارے میں مجھے کوئی ہدایت نہیں دی، اس لیے اللہ کے فضل کاسوال کرو،ابن مندہ اورابونعیم نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابنِ نعمان رضی اللہ عنہ

ابن ِنعمان رضی اللہ عنہ،انہیں صحبت نصیب ہوئی اوران سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے روایت کی، ابن مندہ اورابونعیم نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابنِ قسحم رضی اللہ عنہ

ابنِ قسحم رضی اللہ عنہ،مسعربن کدام نے ابوبکربن حفص سےروایت کی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدرکےدن یہ آیت تلاوت فرمائی،" وسارعواالٰی مغفرۃ من ربکم و جنتہ عرضھا السمٰوات والارض"، یہ سُن کرایک انصاری ابن قسحم نے پوچھا،یارسول اللہ میرے اور اس کےدرمیان کتنافاصلہ ہے،تاکہ میں اس میں داخل ہوجاؤں،فرمایا!کفارکےلشکرکامقابلہ کرو اورفرمان الٰہی کی تصدیق کرو،ان کے ہاتھ میں چندکھجوریں تھیں،جوانہوں نےپھینک دیں اورصفوں میں گھس گئے،تاآنکہ شہیدہوگئے،ابوموسیٰ نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابنِ قریظہ رضی اللہ عنہ

ابنِ قریظہ رضی اللہ عنہ،ان سے کثیربن سائب نے روایت کی،یہ دونوں بنوقریظہ سےجنگ کے دنوں میں حضورکےسامنے پیش کیے گئےتوجوان میں بالغ ہوچکےتھےیاان میں حالت انتشارپیداہو جاتی،وہ قتل کردیےجاتے،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابنِ ربعہ الخزاعی رضی اللہ عنہ

ابنِ ربعہ الخزاعی،بخاری نے انہیں صحابہ میں شمارکیاہے،ابراہیم بن سعدنے سلیمان بن کثیرسے، انہوں نے ابن ربعہ خزاعی سے(ان کی ماں کا نام سہمیہ تھااوریہ زمانہ جاہلیت کے تھے،انہیں حضور کازمانہ نصیب ہوا)روایت کی،کہ وہ مختار ثقفی کے زمانے میں کوفےمیں آئے،اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سےایک حدیث روایت کی،جس میں یہ فقرہ شامل تھا،" ماکنت لاکذب علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی جھوٹ منسوب نہیں کروں گا، ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابنِ سبرت رضی اللہ عنہ

ابنِ سبرۃ،جعفرنےصحابی لکھاہے،اورباسنادہ اوزاعی سے،انہوں نے قزعہ سےروایت کی کہ ایک دفعہ ابن سبرۃ جوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے مصاحب تھے،ان سے ملنے آئے،میں نے گذارش کی کہ ہمیں کوئی حدیث جوآپ نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو،سنائیے،انہوں نے کہا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سُنا،جوشخص صبح کی نمازاداکرتاہےوہ اللہ کے ذمہ اورپناہ میں آجاتاہے،پس تم ہوشیاررہوکہ وہ کوئی چیزتم سےمانگلے،ابوموسیٰ نے ان کاذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابنِ شیبہ رضی اللہ عنہ

ابنِ شیبہ رضی اللہ عنہ،جعفرنے باسنادہ تاحمادبن سلمہ،عبدالملک بن عمیرسے،انہوں نے ابن ابی شیبہ سے،انہوں نےرسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب تمہاری محفل میں کوئی شخص آئے،توچاہیےکہ اپنےبھائی کےلیےجگہ بناؤتاکہ وہ بیٹھ جائے،کیونکہ یہ عزت افزائی ہے،اللہ اس کی عزت افزائی کرے گااوراگرایسانہ ہوسکے تواسے چاہیئے کہ جہاں جگہ ملے،وہاں بیٹھ جائے،ابوموسیٰ نے ذکرکیاہے،مگراس کے اسناد میں اختلاف ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابنِ شیلان رضی اللہ عنہ

ابنِ شیلان رضی اللہ عنہ،کوفی شمارہوتےہیں،ان سے قیس بن ابی خازم نے روایت کی کہ یحییٰ بن محمود نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے ابوبکربن ابی شیبہ،انہوں نے محمدبن حسن سے، انہوں نے خالدسے،انہوں نے ببان سے،انہوں نے قیس بن ابی حازم سے،انہوں نے ابوسیلان سےروایت کی کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظریں آسمان کی طرف اٹھائی ہوئی تھیں فرمایا،سبحان اللہ اہل دنیاپرحوادث بارش کے قطروں کی طرح برس رہے ہیں،قیس سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے،انہوں نے کہا،کہ میں نے یہ حدیث اس شخص سے سنی ہے،جس نے حضورسےسنی ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابورویحہ الفرعی رضی اللہ عنہ

ابورویحہ الفرعی،بنوخثعم سے تھے،وہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور آپ صحابہ میں مواخات قائم فرمارہے تھے،ابوموسیٰ نے جعفرالمستغفری سے یہ قول نقل کیا ہے، ابوعمرکاقول ہے کہ آپ نے ابورویحہ خثعمی اور بلال بن رباح کے درمیان رشتۂ مواخات قائم کیا تھا، بلال بھی کہاکرتے کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھائی بھائی بنایاتھا۔ ابورویحہ سے مروی ہے کہ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوئے،توآپ نے میرے لئے ایک عَلم بنوایا،اورفرمایا،کہ اسے لے کر نکلو،اورمنادی کرو،کہ جو اس عَلم کے نیچے آجائے گا وہ محفوظ اور مامون ہوگا۔ ابورویحہ کا نام عبداللہ بن عبدالرحمٰن تھا،اور وہ شامی شمارہوتے تھے،یہ ابوعمر کاقول ہے اور ابوعمر اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر کہتے ہیں،ابوموسیٰ نے اس ترجمے کو پہلے ۔۔۔

مزید