پیر , 07 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 22 June,2026

پسنديدہ شخصيات

ابواسیدالساعدی رضی اللہ عنہ

ابواسید الساعدی،ان کا نام مالک بن ربیعہ یا بلال بن ربیعہ تھا،لیکن مالک زیادہ مشہور ہے،ہم مالک کے ترجمے میں ان کا نسب بیان کرآئے ہیں،یہ بنوساعدہ سے انصاری خزرجی ہیں،غزوۂ بدر میں شریک تھے،ابوجعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نےابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدراز بنوساعدہ مالک بن ربیعہ کا نام لیا ہے،وہ حجازی تھے،ان سے سعد بن سہل نے روایت کی،وہ کہنے لگے اگر میری آنکھیں بے نور نہ ہوجاتیں،تومیں آپ کو وہ گھاٹی دکھاتا،جہاں غزوۂ بدر میں ہماری امداد کو فرشتے نکلے تھےابواسید نے ۶۰ہجری یا ۶۵ہجری یا ۳۰ہجری میں وفات پائی،ابوعمر آخری روایت کو غلط قرار دیتے ہیں،کیونکہ انہوں نے شرکائے بدر میں سب سے زیادہ عمر پائی تھی، ان کا قد چھوٹا،بال گھنے اور داڑھی سیاہ تھی،ایک روایت کے مطابق مہندی لگاتے تھے،اور ان کی عمر ۸۷ برس تھی،ابونعیم ،ابوعمر اور ابوموسیٰ نے ان ۔۔۔

مزید

ابواسید بن علی بن مالک رضی اللہ عنہ

ابواسید بن علی بن مالک انصاری،محمد بن اسحاق سراج نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے،ان سے حسن بن ابوالحسن نے روایت کی،کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،جب مدینے کی آبادی سلع پہاڑی تک پہنچ جائے تو شام پر چڑھائی کردو،لیکن اگرایسانہ کرسکو توحکم مانو اور اطاعت کرو، ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابواسیدبن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ

ابواسید بن ثابت انصاری یا عبداللہ بن ثابت ،مدنی تھے،ان سے عطاء الشامی نے روایت کی،حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ زیتون کا تیل کھاؤ،اور سر پر لگاؤ،کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے حاصل ہوتا ہے،لیکن اس حدیث کا استاد درست نہیں،اسید میں ہمزے پر زیربھی پڑھی گئی ہے،اور پیش بھی،یہ ابوعمر کا قول ہے،عبداللہ بن ثابت کے ترجمے میں ان کا ذکر آچکاہے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابواذینہ عبدی یاصدفی رضی اللہ عنہ

ابواذینہ عبدی یا صدفی،آخر الذکر اصح ہے،ان سے علی بن ریاح نے روایت کی ،تمہاری عورتوں میں اچھی وہ ہیں،جوبچے پیداکریں،محبت کریں،باحیا اور خیرخواہ ہوں،انہوں نے اپنی حدیث مصر میں بیان کی،ابوعمر اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالوقاص رضی اللہ عنہ

ابوالوقاص،مَطَر نےحسن سے،انہوں نے ابووقاص سے جوحضورِاکرم کے مصاحب تھے،روایت کی کہ اللہ کے یہاں سے مؤذنوں کووہ اجرملے گا،جونمازیوں کو ملے گا،جب وہ راہِ خدامیں اپنے خون میں لَت پَت ہوتے ہیں،حضرت عمرکہاکرتے،اگرمیں مؤذن ہوتا،تومیرامقصدِحیات پوراہوجاتا، ابوموسیٰ نے بھی اسی طرح بیان کیاہے،لیکن حضورکا نامِ مبارک نہیں لیا۔ ۔۔۔

مزید

ابوالوصل رضی اللہ عنہ

ابوالوصل،حافظ ابوعبداللہ بن مندہ نے اپنی تاریخ میں ان کاذکرکیاہے،مگرمعرفتہ الصحابہ میں ذکرنہیں کیا،ان کی حدیث ان کی اولاد کے پاس ہے،انہوں نےآپ کے ساتھ جہادمیں شرکت کی،ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالیتقان رضی اللہ عنہ

ابوالیتقان رضی اللہ عنہ،بخاری نے انہیں صحابی لکھاہے،لیکن ان سے کوئی حدیث روایت نہیں کی،یہ ابنِ مندہ اورابونعیم کاقول ہے،ابوعمرکاقول ہے،ان کاذکر ان صحابہ میں آیاہےجومقیم مصرہوگئے تھے،ان سے ابوعشانہ نے روایت کی،انہوں نے ابوعشانہ سے کہا،اے ابوعشانہ! تمہیں مبارک ہو،کہ تم حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنااحترام کرتے ہو،حالانکہ تم نے انہیں نہیں دیکھااورتم اکثران لوگوں سے بدرجہابہترہو،جنہوں نے حضورکی زیارت کی،ابنِ ابی حاتم لکھتے ہیں، کہ ابوزرعہ نے مسند ابوالیتقان میں اس حدیث کاذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوظبیہ رضی اللہ عنہ

ابوظبیہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے رکھوالے تھے،عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے ابوسلام سے،انہوں نے ابوظیبہ سے روایت کی،رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بعض کلمات ایسے ہیں،جومیزان میں بڑے وزنی ہیں، سبحان اللہ،الحمداللہ،لاالٰہ الااللہ واللہ اکبراورلاحول ولاقوّ ۃ الاباللہ ایک مومن مرجاتاہے،اوراس کاصالح بیٹا اس کا جانشین بنتاہے،اس حدیث کے اسناد میں ابوسلام حبشی کے متعلق اختلا ف ہے،بعض کہتے ہیں، ابوسلام سے ،انہوں نے ابوظیبہ سے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناقہ کے رکھوالے تھے، روایت کی اور بعض ابوسلمیٰ کانام لیتے ہیں،جوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے تھے،تینوں نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوزمعہ البلوی رضی اللہ عنہ

ابوزمعہ البلوی،ان کا نام عبیدبن ارقم تھا،اور بیعتِ رضوان میں شریک تھے،مصرمیں سکونت اختیار کی،اور معاویہ بن خدیج کے زیرِ کمان،جہاد افریقہ میں شریک رہے اور وہیں وفات پائی، انہوں نے وصیت کی تھی کے بعدازتدفین ان کی قبر کو زمین کے ہموارکردی جائے،چنانچہ انہیں قیروان میں ایک مقام پر جسے البلویتہ الیوم کہاجاتاتھا،دفن کیاگیا۔ ابن لہیعہ میں عبیداللہ بن مغیرہ سے،انہوں نے ابوقیس مولیٰ بنوجمح سے روایت کی،کہ انہوں نے ابوزمعہ بلوی سے جو اصحاب شجرہ سے تھے،سنا،کہ انہیں عبداللہ بن عمرو بن عاص کے بارے میں بتایاگیا کہ اس نے بعض لوگوں پر سختی کی ہے،توابوزمعہ نے کہا،کہ لوگوں پر تشدد نہ کیا جائے، انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص نے ننانوے ۹۹قتل کئے،پھر وہ ایک راہب کے پاس گیا،اور دریافت کیا،آیااس کی توبہ قب۔۔۔

مزید

ابوزعنہ الشاعر رضی اللہ عنہ

ابوزعنہ الشاعر،طبری نے ان کا ذکر کیا ہے،جو غزوۂ احد میں شریک تھے،ان کا نام عامر بن کعب بن عمرو بن خدیج بن عامر بن جثم بن حارث بن خزرج انصاری خررجی تھا،ابنِ شہاب کا قول ہے کہ ابوزعنہ بن عبداللہ بن عمروبن عتبہ نے احد کے دن ذیل کے تین مصرعے کہے تھے۔ ؂ا اناابوزعنۃ یعدونی الھرم لم یمنع المخزاۃ الاباالالم یحمی الدیارالخرجی من جثم ابن ماکولا نے اس کا نام ز،ع اور ن سے لکھاہے لیکن ابوعمر نے اسے ز،ع اور ب سے زعبہ لکھاہے، لیکن اوّل الذکر قول اصح ہے۔ ؂ا میں ابوزعنہ ہوں،اور بڑھاپے نے مجھ پر زیادتی کی ہے،ذلّت اور رسوائی کو دُکھ آکر ٹالاجاتاہے، اورخزرجی علاقے کو دشمن (جثم) سے بچایا جاتاہے۔ ۔۔۔

مزید