بدھ , 26 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 13 May,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت ابوہمام شعبانی

ابوہمام شعبانی رضی اللہ عنہ ابوہمام شعبانی بنوخشعم کےایک آدمی سے،معاویہ بن سلام نےزیدبن سلام سےروایت کی کہ ان سےابوہمام شعبانی نے نقل کیا،کہ میں قزوین کے ایک سرحدی مورچہ میں مقیم تھااورہم میں بنو خشعم کاایک آدمی تھا،جوصحابی تھا،انہوں نے بیان کیاکہ ہم حضورِاکرم کے ساتھ تبوک کوروانہ ہوئے،ایک رات ایک مقام پرآپ نے تمام صحابہ کوجمع کرکے فرمایامجھےدوخزانےحکومت ایران اورروم کے دئیے گئے ہیں،اورمیری امداد کے لئے ملوک حمیرکومقرر فرمایاگیاہے،وہ آئیں گے اور اللہ کامال لے کراس کی راہ میں جہادکریں گے،دونوں نےذکرکیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید

حضرت بلال بن یاساف

بلال بن یاساف رضی اللہ عنہ بلال  بن یساف،بنوثقیف کےایک آدمی سے،انہوں نےبنوجہنیہ سے،انہوں نے عبدالوہاب بن ابو منصورالامین سے،باسنادہ ابوداؤد سے،انہوں نے مسدداورسعیدبن منصور سے،انہوں نے ابوعوانہ سے،انہوں نے منصورسے،انہوں نے ہلال بن یساف سے،انہوں نے بنوثقیف کے ایک آدمی سے، انہوں نے بنوجہنیہ کےایک آدمی سےروایت کی،رسولِ اکرم نےفرمایا،جلدی ہی ایک قوم سے تمہارامقابلہ ہوگااورتم ان پرغلبہ پالوگے،اوروہ تم سےاپنے آپ کومال ودولت کی وجہ سے بچا لیں گے،نہ کہ اپنی ذات یااولاد کی وجہ سے،سعیدبن منصور نےا پنی حدیث میں ذیل کےالفاظ کا اضافہ کیاہے،"اوروہ تم سے صلح کرلیں گے"،اس کے بعد مسدد اورسعیددونوں اس پرمتفق ہیں، کہ حضوراکرم نے فرمایا،"تم ان سےاس سے زیادہ کچھ نہ لینا،کہ وہ تمہارے لئے حلال نہ ہوگا،ابو مندہ اورابونعیم نے ذکرکیاہے۔ (اسد الغابۃ جلدنمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید

حضرت عطاء بن یسار

عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ عطاء بن یسار،بنوجہنیہ کےایک آدمی سےجوصحابی تھے،لیث بن سعدنےخالد بن یزید سے،انہوں نےسعیدبن ابوہلال بن اسامہ سے،انہوں نے عطاء بن یسارسے،انہوں نے جہنیہ کے ایک آدمی سے روایت کی کہ حضورِاکرم نے انہیں ایک جن کے پاس بھیجا،فرمایا،تین دن تک خوب تیزچلتے جاؤ،جب تجھے سورج نظرنہ آئے،تواُونٹ کوگھاس چراؤ،یاکسی کاپیٹ بھرو،یہاں تک کہ تمہارے پاس جنوں کی جوان لڑکیاں سینہ پھلائے آئیں گی،ان کے مردپرانے کپڑوں میں ہوں گے اور ان کی عورتیں سفیدرنگ کی ہوں گی، تم انہیں کہنااے مغروربنواسفع،ابن مندہ اورابونعیم نے ذکرکیا ہے،(واللہ اعلم)۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید

ابوخمیصہ رضی اللہ عنہ

ابوخمیصہ رضی اللہ عنہ ابوخمیصہ،ان کا نام معبد بن عباد تھااورکبارانصارسے تھے،غزوۂ بدر میں موجود تھے،ہم ان کا ذکر پیشترازیں باب حامیں زیادہ تفصیل سے لکھ آئے ہیں،ابوعمرلکھتے ہیں کہ ابومعشر نے ان کانام ابوعصیمہ لکھاہے،جودرست نہیں،ابوعمر نے اسی نام سے ان پر دو ترجمے لکھے ہیں،حالانکہ وہ ایک آدمی ہے،واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید

ابوحیوہ کندی رضی اللہ عنہ

ابوحیوہ کندی رضی اللہ عنہ ابوحیوہ کندی جو رجاء بن حیوہ کے دادا،اورکندہ کے مولیٰ تھے،لیکن ان کی صحبت اور رویت ثابت نہیں، لیث بن سعد نے خارجہ سے،انہوں نے رجاءبن حیوہ سے ،انہوں نے والد سے،انہوں نے دادا سے روایت کی کہ حنین کی ایک کنیز جو حاملہ تھی،آپ کے پاس سے گزری،آپ نے پوچھا،یہ کس کی ہے،حاضرین نے نام بتایا،تودریافت کیا،کیااس نے اس سے جماع کیا ہے،انہوں نے اثبات میں جواب دیا،آپ نے فرمایا،اس کے بیٹے کا کیا بنےگا،اور پھر اس کا بیٹابھی کوئی نہیں،ورنہ میری خواہش تھی کہ لعنت بھیج کر اس کی ماں کو اس کے ساتھ قبر میں دفن کردیتا،ابومندہ اور ابونعیم نے ان کاذکرکیا ہے۔۔۔۔

مزید

حضرت عبداللہ بن ابوملیکہ

حضرت عبداللہ بن ابوملیکہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن ابوملیکہ ایک انصاری سے،ابن جریح نے ابی ملیکہ سے،انہوں نےایک انصاری سےجومکے میں تھے،روایت کی کہ جب حضوراکرم کھاناتناول فرمانے لگتے توذیل کے دعائیہ کلمات ارشاد فرماتے،الھم بارک لنافیمارزقتناوعلیک خلفہدونوں نےذکرکیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید

حضرت ابوحازم التمارالبیاضی

حضرت ابوحازم التمارالبیاضی رضی اللہ عنہ ابوحازم التمارالبیاضی،اوربیاضہ انصارکاقبیلہ ہے،ان کانام عبداللہ بن جابربتایاگیاہے،مالک نے یحییٰ بن سعیدسے،انہوں نے محمد بن ابراہیم التیمی سے،انہوں نے ابوحازم التمارسے،انہوں نے بیاضی سے روایت کی،کہ ایک بارحضورِاکرم مسجد میں تشریف لائے،اورصحابہ نماز پڑھ رہے تھے اوران کی قراءت کی آوازسنائی دےرہی تھی،فرمایا،نمازگزاراللہ سے سرگوشی کررہاہوتاہےاس لئے تمہیں یہ امرپیشِ نظررکھناچاہیئے کہ وہ کس سے سرگوشی کررہاہے،اورشورنہیں کرناچاہئیے۔ اسی حدیث کویزیدبن ہاد اورولید بن کثیرنے محمد بن ابراہیم سے،انہوں نے ابوسلمہ سے،انہوں نے بیاضی سےاورلیث بن سعدنے ابن الہاد سے،انہوں نے محمدبن ابراہیم سے،انہوں نے عطاء سے، انہوں نے ایک آدمی سے،اس نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید

بنوساعدہ کے ایک شخص کےچچا

بنوساعدہ کے ایک شخص کےچچا رضی اللہ عنہ بنوساعدہ کے ایک شخص کےچچا،ابنِ مندہ کاقول ہے،بقولِ ابونعیم یہ آدمی بنوسعدسےتھا،خالد بن عبداللہ واسطی نے سعیدالجریری سے،انہوں نے ساعدی سے(ایک روایت میں السعدی ہے) انہوں نےوالدیاچچاسےروایت کی کہ انہوں نے رسولِ کریم کوسجدہ میں اتنی دیرپڑے دیکھا،جتنی دیرمیں آدمی سُبحَانَ ربی الاعلیٰ دہرالے۔ ابوموسیٰ نے ابن مندہ پراعتراض کیاہے اورعم السعدی ابوہ کہہ کرحدیث بیان کی ہے اورابن مندہ نے اسےترک نہیں کیا،تاکہ اس پراستدراک ہوسکے،بلکہ انہوں نے توابونعیم کے قول کوغلط قرار دیاہے،اورابوموسیٰ،ابن مندہ کی غلطی کی نشاندہی اسی وقت کرسکتے تھے،اگران سے یہ غلطی سرزد ہوئی ہوتی،اس بناء پراس کاذکربےسودہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید

حضرت جد الصلت بن زبید

حضرت جد الصلت بن زبید رضی اللہ عنہ جدالصلت بن زبید،ابواحمدعسکری کاقول ہےکہ بعض لوگوں نے انہیں بنومزینہ سے شمارکیاہے، اوریہ کہ یہ صاحب زبید بن صلت کندی نہیں ہیں، انہوں نے صلت بن زبیدالمزنی سے،انہوں نے والدسے،انہوں نے داداسےروایت کی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں حرص کاحاکم مقرر فرمایا۔ ابواحمد عسکری کے مطابق زبیدبن صلت کا اس معاملہ سے کوئی واسطہ نہیں،کیونکہ زبید اوران کا بھائی دونوں بنوکندہ کے ذیل قبیلے بنوکثیرسے تھے،اوربنوکثیر اوربنواشعث دونوں سانحہ ارتداد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لائےگئے تھے،اورآپ نے معاف فرمادیاتھا،ابن ماکولا وغیرہ نے صرف بنوکندہ کو مؤلفتہ القلوب میں شمارکیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید

حضرت جدابی امیہ

حضرت جدابی امیہ رضی اللہ عنہ جدابی امیہ رضی اللہ عنہ،بقول جعفرانہوں نے اپنےداداسے روایت کی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،مجھےجبریل نے کہا،کہ میں اپنی کمرمضبوط کرنے کے لیے ہریسہ کھایاکروں،ابوموسیٰ نے ان کاذکرکیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید