۔ان سے ان کی اولادنےروایت کی ہے کہ یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئےتھےاوراسلام لائے تھےاورآپ نے ان کاان کی قوم پر سردارمقررکیاتھااوران کے سر پر ہاتھ پھیراتھا۔انھوں نے سلمان نامی پہاڑ پر چرھ کر اپنی قوم کواسلام کی طرف بلایااوروہ سب مسلمان ہوگئے ان کے سرپرجس مقام میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پھیراتھاوہاں کے بال سفید نہ ہوئےتھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن عمروبن رفاعہ بن حارث بن سودہ بن غنم بن مالک بن نجار۔اوربعض لوگ ان کوقیس بن ابی ودیعہ کہتے ہیں۔حضرت سعد بن عبادہ کے ہاتھ پرمشرف بہ اسلام ہوئےتھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئےتھےاورخراسان میں حکم بن عمروکے ساتھ گئےتھے۔ اس کو حاکم ابوعبداللہ نے بیان کیاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ شامی۔بنی سلمہ بن لوی کے خاندان سے ہیں۔یہ ابوعمرکاقول ہے اور ابن مندہ نے ان کو سکمی بیان کیاہے یعنی قبیلۂ بنی سلیم سے عبدالقاہر سلمی کے دادا ہیں۔صحابی ہیں ان سے عطیہ نے روایت کی ہے اورکہاہے کہ بخاری نے ان کو کتاب وحدان میں صحابہ میں ذکرکیاہےمگران کی کوئی حدیث نہیں لکھی۔ان کاتذکرہ تینوں نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
کے داداہیں۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کاتذکرہ بعض حفاظ حدیث نے شیخ سعید بن ابی الرجأ سے روایت کیاہے۔اورابوہشام رفاعی سے روایت ہے وہ حفص سے وہ اشعث سے وہ ابوہریرہ وہ ان کے داداقیس سے راوی ہیں کہ وہ کہتےتھے میں سحری کھاکرمسجد نبوی میں گیااورحجرہ شریفہ سے تکیہ لگاکربیٹھ گیاپھرمجھے کھانسی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےپوچھاکہ کیاابویحییٰ ہیں میں نے عرض کیاکہ آج میراارادہ روزہ رکھنے کاہےفرمایامیں بھی روزہ کاارادہ رکھتاہوں (ابھی وقت سحری کھانے کاہے)ہمارے مؤذن آج فجرسے پہلے اذان دے دی ہے شاید اس کی آنکھ میں کچھ فرق آگیا ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورانھوں نے ایساہی بیان کیاہے مگرصحیح یہ ہے کہ ابوہریرہ کے داداشیبان تھے نہ قیس۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
عبدی وفد عبدالقیس کے ایک شخص یہ بھی ہیں۔ان سے ابوالقموص نے روایت کی ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئے تھے ہمیں عبدالوہاب بن علی امین نے اپنی سند کے ساتھ ابوداؤد تک خبردی وہ کہتےتھے ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد بن عوف سے انھوں نے ابوالقموص یعنی زید بن علی سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےمجھ سے وفدعبدالقیس کے ایک شخص نے جن کا نام شاید قیس بن نعمان تھابیان کیاکہ نقیر اورمزفت اوروبااورحنتم میں نبیض نہ پیو بلکہ چمڑے کر ظرف میں پیو۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہےاورپہلے تذکرہ سے ان کو علیحدہ کیا ہے مگرابن مندہ اورابونعیم نے ان دونوں کو ایک کردیاہے اورکہاہےکہ ان سے ایاد بن لقیط اور ابوالقموس نے روایت کی ہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
سکونی۔اوربعض لوگ ان کوعبسی کہتےہیں ۔ان کی حدیث اہل کوفہ واہل بصرہ سے مروی ہے۔ان سے ایاد بن لقیط اورزید بن علی یعنی ابوالقموس نے روایت کی ہے ابونعیم اورابوعمرنے ان سےحدیث مذکورہ بالاروایت کی ہے اورابن مندہ نے ابوالقموس والی حدیث روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھےمجھ سے ان لوگوں مین سے ایک شخص نے جوقبیلہ عبدالقیس سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھےیعنی قیس ابن نعمان نے بیان کیاکہ قبیلۂ عبدالقیس کے لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھےیعنی قیس ابن نعمان نے بیان کیاکہ قبیلۂ عبدالقیس کے لوگوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں کچھ چھوہارےہدیتاً پیش کیے تھےابوالقموس کہتےتھے کہ قیس بن نعمان نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن پڑھناشروع کی تھااورحضرت عمر رضی اللہ عنہکی خلافت میں اس کو پوراکیا۔ان سے ایاد بن لقیط نے روایت کی۔۔۔
مزید
سلمی۔ابومعشرنےاپنی سندکے ساتھ روایت کی ہے کہ جب اہل بدرکے ہاتھوں سے واقع ہوا جوواقع ہواتواہل عرب خصوصاً اہل نجد پر بڑاشاق تھاپھرجب غزوۂ خندق کاواقعہ پیش آیااور مشرکین اپنے شہروں میں لوٹ کرگئےتوقیس بن نشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئےاورآپ سے آسمانوں کاحال پوچھاآپ نے ان سے سات آسمانوں کااورفرشتوں کااوران کی عبادت کاذکرکیا۔اورزمین کا ذکرفرمایااورجوکچھ زمین میں ہے اس کو بیان کیاپس یہ اسلام لائے اور اپنی قوم کے پاس لوٹ کرگئےاورکہاکہ اے بنی سلیم میں نے روم وفارس کا کلام سناہےاورعرب کے اورکاہنوں کے اشعار سنے ہیں اورقبیلہ حمیر کے لوگوں کی باتیں سنی ہیں مگرمحمد کا کلام ان میں سے کسی چیزکے مشابہ نہیں ہے پس تم لوگ محمد کے بارے میں میری اطاعت کرو کیوں کہ تم ان کے ماموں ہو دیکھو اگرفتحیاب ہوگئے توتم سب ان سے نفع اٹھاؤگےاوراگرکوئی دوسری صورت ہوئی توعرب تم پر پیشقدمی ن۔۔۔
مزید
۔مغیرہ بن عبداللہ یشکری نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کوفہ کی مسجد میں گئے کہتےتھے وہاں میں نے قیس بن منتفق کو دیکھاوہ یہ بیان کرتے تھےکہ قیس بن منتفق کا حلیہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمایا تھامیں نے ان کومکہ میں اورمنیٰ میں اور عرفات میں تلاش کیاکہیں نہ پایاآخر کوفہ کی مسجد میں مل گئے پھراس کے بعدپورا قصہ نقل کیاہے۔ان کے نام میں اختلاف ہے کئی نام مروی ہیں ۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابوشدادتھی۔ان کے والد کےنام میں اختلاف ہے بعض لوگ عبدیغوث کہتے ہیں اوربعض ہبیرہ ابن ہلال اوریہی زیادہ مشہورہے اوربعض لوگ خود ان کوبجائے قیس کے عبدیغوث بن ہبیرہ بن ہلال بن حارث بن عمرو بن عامر ابن علی بن اسلم بن احمس بن انماربن اراش بن عمروبن غوث کہتےہیں۔یہ بجلی ہیں اورقبیلۂ مراد کے حلیف ہیں یہ ابوعمرکابیان ہےاور ابوموسیٰ نے ان کو قیس بن عبدیغوث بن مکشوح لکھاہے اوراس سے زیادہ کچھ نہیں لکھااورابن کلبی نے قیس ابن مکشوح لکھ کرکہاہے کہ مکشوح کانام ہبیرہ بن عبدیغوث غزیل بن بدابن عامر بن عوتیاں بن زاہر بن مرادتھاپس انھوں نے ان کو قبیلہ مراد کی نسب میں کردیا۔ابوعمرنے کہاہے کہ مکشوح ان کو اس سبب سے کہتےہیں کہ ان کے پہلومیں داغ دیاگیاتھایاچوٹ آگئی تھی بعض لوگ ان کو صحابی کہتے ہیں اوربعض کہتے ہیں صحابی نہیں ہیں اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کا اسلام ابوبکر صدیق کے زمانہ میں ہواہےاو۔۔۔
مزید
۔حنفی۔یزید بن معبد کے بھائی ہیں۔ان کا تذکرہ ان کے بھائی یزید کے نام میں ہوچکاہے۔ ابن مندہ اورابونعیم نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید