بن مطلب بن عبدمناف۔قریشی مطلبی ۔قیس بن محزمہ کے بھائی ہیں انھیں اوران کے بھائی صلت کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرکے مال غنیمت سے سواونٹ دیے تھے۔ان دونوں کی والدہ معمربن امیہ بن عامرکی بیٹی تھیں جن کی ام قیس ام ولد تھیں۔ان کا تذکرہ ابوعمر نے لکھاہےاورکہاہے کہ میں قاسم اورصلت کی روایت کوئی نہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابوعبدالرحمن تھی۔معاویہ کے غلام تھے۔عبدان نے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھاہے۔ داؤدبن حصن نے عبدالرحمن بن ثابت سے انھوں نے قاسم غلام معاویہ سے روایت کی ہے انھوں نے غزوۂ احد میں ایک کافرپرحملہ کیااورکہاکہ لے میں غلام فارسی ہوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تونے اپنے کوانصاری کیوں نہ کہاحالانکہ تم انصارسے ہوکیونکہ ہرقوم کاغلام اسی قوم سے شمارکیاجاتاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےیہ قاسم حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے غلام نہیں ہیں بلکہ یہ معاویہ بن مالک ہے جو انصار کی ایک شاخ ہےاورسیاق حدیث بھی اسی پردلالت کرتاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
فرزند رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم معمرنے زہری سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی لڑکیاں حضرت خدیجہ کے بطن سے پیداہوئیں حضرت قاسم بھی انھیں کے بطن سے تھے۔بعض علماکابیان ہے کہ حضرت خدیجہ کے بطن سے ایک صاحبزادے پیداہوئے تھےقاسم اورعبداللہ۔ابونعیم نے کہاہےکہ متقدمین میں سے میں کسی کونہیں جانتاکہ جس نے قاسم بن رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ میں ذکرکیاہوکیونکہ قاسم آپ کے پلوٹھی کے بیٹے تھےانھیں کے نام پر آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی اورآپ کی اولاد میں سب سے پہلے مکہ میں انھیں کی وفات ہوئی تھی۔مجاہد نے بیان کیاہے کہ قاسم سات دن ہوکرانتقال کرگئے تھےاورزہری نے کہاہے کہ دوبرس کے تھے اورقتادہ نے کہاہے کہ ایسی عمرتھی کہ اپنے پیروں چلتے تھے۔قاسم کاتذکرہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اولا د میں بے شک کیاجاتاہے مگرصحابہ میں نہیں کیاجاتااوراس میں کسی کاخلاف نہیں ۔۔۔
مزید
بن عبدالعزی بن عبدشمس کنیت ان کی ابوالعاص تھی رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے داماد حضرت زینب کے شوہرتھےان کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ لقیط کہتےہیں بعض قاسم نے زبیر بن بکارنے محمد بن ضحاک سے انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ابوالعاص بن ربیع کا نام قاسم تھا۔زبیرنے کہاہے کہ یہی نام ان کاصحیح ہے۔۱۲ھ ہجری میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ان کا تذکرہ انشأ اللہ تعالی کنیت کے باب میں آئے گا۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
کے غلام تھے صحابی ہیں۔روایت حدیث کرتے ہیں بغوی اوریحییٰ بن یونس اورجعفر مستغفری نے ایسا ہی لکھاہے مگرمشہورنام ان کا ابوالقاسم ہے یہ ابوموسیٰ کاقول ہے اورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ مطرف بن طریف سے انھوں نے ابوالجہم غلام برأ سے انھوں نے قاسم غلام ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ وہ کہتےتھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بودارترکاری لہسن کوکھائے وہ ہماری مسجد کے قریب۱؎ نہ آئے تاوقتیکہ اس کی بودفع نہ ہوجائے۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوعمراورابوموسی نے لکھاہے۔ ۱؎یہ ممانعت کراہیت کے لیے ہے۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
ان کا ذکرجابرکی حدیث میں ہے اعمش نے سالم بن ابی الجعد سے انھون نے جابرسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ہم میں سے ایک شخص کے یہاں لڑکاپیداہوااس نے اپنے لڑکے کانام ابوالقاسم رکھاانصارنے کہاہم کبھی اس کو ابوالقاسم کہہ کر نہ پکاریں گےچنانچہ سب لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اورآپ سے بیان کیاآپ نے فرمایامیرانام رکھ لومگرمیری کنیت نہ رکھوکیونکہ میں ہی قاسم ہوں تم لوگوں کے درمیان میں تقسیم کرتاہوں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن معتب بن مالک بن کعب بن عمروبن سعد بن عوف بن ثقیف ثقفی عروہ بن مسعود کے بھتیجے ہیں ابوعمرنے ان کا نسب اس طرح بیان کیاہے قارب بن عبداللہ بن اسود بن مسعود۔اورابن مندہ نے ان کو صرف قارب تمیمی لکھاہےاوران سبنے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایااللہ رحم کرے(احرام سے باہرہوتےوقت)سرمنڈوانے والوں پر۔حمیدی نے ابن عینیہ سے انھوں نے ابراہیم بن میسرہ سے انھوں نے وہب بن عبداللہ بن قارب یامارب سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے یہ حدیث روایت کی ہے۔حمیدی کے علاوہ اورلوگ ان کا نام بغیرشک کے قارب کہتےہیں اوریہی صحیح ہے قارب قبیلۂ ثقیف کے سرداروں میں سے تھےمشہورومعروف شخص ہیں جب احلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑے توان کاجھنڈا انھیں کے ہاتھ میں تھااحلاف قبیلہ ثقیف کی ایک شاخ ہے قبیلہ ثقیف کی دوشاخیں ہوگئی ہیں بنی مالک اوراحلاف ہم کتاب لباب میں یہ سب حالات بہ تفصیل ۔۔۔
مزید
۔وادعی۔عمروبن عبداللہ وادعی کے غلام تھے۔جاہلیت اوراسلام دونوں کازمانہ پایاتھا۔زکریا بن ابی زائدہ بن میمون بن فیروز ہمدانی کوفی کے داداہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔کنیت ان کی ابوعبداللہ ہے اوربعض لوگ کہتے ہیں ابوعبدالرحمن اورابن مندہ اورابونعیم نے بیان کیاہے کہ یہ نجاشی کے بھانجے تھے اسود عنسی جویمن میں دعویٰ نبوت کرتاتھااس کو انھوں نے قتل کیاتھاابوعمر نے کہاہے کہ بعض لوگ ان کوحمیری کہتے ہیں بوجہ اس کے کہ حمیر میں رہتےتھے اہل فارس میں سےتھے مقام صنعاکے رہنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آئےتھے۔ ان کی حدیث پینے کی چیزوں کے متعلق صحیح ہے جب انھوں نے اسود عنسی کے قتل کاارادہ کیاتو یہ اور زادویہ اورقیس بن مکشوح اس بات پر متفق ہوئے چنانچہ فیروز اس کے پاس گئے اورانھوں نے اس کو قتل کردیافیروز نے اسود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات سے پہلے قتل کیاتھامگراس وقت آپ مرض وفات میں مبتلا تھے حضرت کواس کے قتل کی خبربذریعہ وحی کے معلوم ہوچکی تھی چنانچہ آپ نے لوگوں سےبیان کیاتھافرمایاتھااسود کوایک نیک بندے فیروزویلمی نے قتل کردیا۔ضمرہ بن ر۔۔۔
مزید
عیلان۔کنیت ان کی ابوثورفہمی ہے۔ابوبکر بن علی نے کہاہے کہ ان کاتذکرہ ابوبکر بن ابی عاصم نے احاد میں لکھاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ اسی طرح لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ یہ قول غلط ہے کیونکہ فہم بن عمروبن قیس عیلان کازمانہ اسلام سے بہت پہلے ہواہے قبیلہ فہم کے لوگ اسی شخص کی طرف منسوب ہیں اسی قبیلہ کاایک شخص تابط شراکے لقب سے مشہورہے جس کانام ثابت بن جابر بن سفیان ابن عدی بن کعب بن حرب بن تیم بن سعد بن فہم بن عمروبن قیس عیلان ہے یہ شخص بھی اسلام سے پہلے کاہے حالانکہ اس کے اورفہم کے درمیان میں سات پشتیں ہیں پس یہ فہم کیونکر صحابی ہوسکتے ہیں ۔ہاں تابط شراکاذکر البتہ صحابہ میں کیاگیاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید