جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا فویک رضی اللہ عنہ

  رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئےتھےان کی آنکھیں بالکل سفید ہوگئی تھیں کہ کچھ دکھائی نہ دیتاتھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سبب پوچھاانھوں نے کہا کہ ایک مرتبہ میں سانپ کے انڈوں پر گرپڑااس کا کچھ اثرآنکھ پر پہنچ گیااس وقت سے میری بینائی جاتی رہی پس رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پرکچھ پڑھ کر پھونک دیاتوان کی آنکھوں کی پوری روشنی آگئی یہاں تک کہ اسی برس کی عمر میں یہ سوئی میں دھاگہ ڈال لیتےتھےمگرآنکھوں کارنگ ویساہی سفید تھا۔اس حدیث کوابن ابی شیبہ نے محمد بن بشرسے انھوں نے عبدالعزیزبن عمرسے انھوں نے قبیلۂ سلاماں بن سعد کے ایک شخص سے انھوں نے اپنی والدہ سے انھوں نے اپنے ماموں حبیب بن فویک سے روایت کی ہے کہ ان کے والد فویک نے ان سے بیان کیا۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے مگرابوموسیٰ نے ان کانام فدیک بن عمروسلامانی لکھاہے اورکہاہے کہ ابن مند۔۔۔

مزید

سیّدنا فتح ابن دحرج رضی اللہ عنہ

  اوربعض لوگ ابن بزحج کہتے ہیں۔فارسی دینیاری ہیں۔بعض لوگوں نے ان کا نام فتح بیان کیاہےمگرپہلاہی قول صحیح ہے۔ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے ان کی حدیث یعلی بن امیہ سے مروی ہے وہ ایک غیرمعلوم الاسم صحابی سے روایت کرتے ہیں وہ حدیث درخت نسب کرنے کے ثواب میں ہے۔ہمیں عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبردی و ہ کہتےتھےمجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے داؤد بن قیس صنعانی نے بیان کیاوہ کہتےتھےمجھ سے عبداللہ بن وہب نے اپنے والد سے انھوں نے فتح سے روایت کرکےبیان کیاکہ میں مقام رشادمیں کچھ کام کیاکرتاتھایعلی بن امیہ اہل یمن پرحاکم ہوکرآئےاوران کے ساتھ کچھ اوراصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے ان میں ایک شخص میرے پاس آئے جن کی آستین میں کچھ اخروٹ تھے اوروہ ان کوتوڑتوڑکرکھاتے تھےکہ میں نےرسول خدا سے سناہے ا۔۔۔

مزید

سیّدنا فلستان ابن عاصم  رضی اللہ عنہ

   جرمی۔بعض لوگ ان کو منقری کہتےہیں مگرپہلاہی قول صحیح ہے۔خلیفہ نے کہا کہ جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ان میں فلستان بن عاصم جرمی بھی ہیں یہ کلیب بن شہاب جرمی کے ماموں ہیں اورعاصم ابن کلیب کے والد ہیں۔ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے انھوں نے فلستان بن عاصم سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئےتھےآپ نے ایک شخص کومسجد میں چلتے ہوئےدیکھاتوآپ نے اس کو پکاراکہ اے فلاں اس نے عرض کیاکہ لبیک یارسول اللہ پس اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کیاتواس بات کی شہادت دیتاہے کہ میں خداکارسول ہوں اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایاکہ کیاتوتورات پڑھتاہے اس نے کہاہاں آپ نے فرمایاانجیل اس نے کہاانجیل بھی پھر آپ نے اسے قسم دے کرپہوچھاکہ کیاتومیراتذکرہ تورا ت و انجیل میں دیکھتاہے اس نے کہا دیکھیے میں بیان کرتاہوں بے شک۔۔۔

مزید

سیّدنا فضیل ابن نعمان رضی اللہ عنہ

   انصاری۔خیبر میں شہید ہوئے ۔ہمیں عبیداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرسے انھوں نے ابن اسحاق سے ان انصارکے نام میں جوخاندان بنی سلمہ سے خیبرمیں شہید ہوئے لکھاہے کہ بشربن برأبن معرورزہرسے شہیدہوئے اورفضیل بن نعمان بھی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔اورابوعمرنے ان کا تذکرہ اس طرح لکھاہےفضیل بن نعمان انصاری سلمی خیبرمیں شہیدہوئے۔ان کا تذکرہ ابن اسحاق نے لکھاہے۔محمد بن سعد نے بھی ایساہی بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا فضیل ابن عائذ رضی اللہ عنہ

  ۔ان کی کنیت ابوالحسحاس تھی۔ان کا تذکرہ ان کے بیٹے حسحاس کے نام میں گذرچکاہے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا فضل ابن یحییٰ رضی اللہ عنہ

   بن قیوم ازدی۔ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہےشام کے رہنے والے ہیں فلسطین میں رہتے تھے۔ان کی حدیث عبدالجباربن یحییٰ بن فضل نے روایت کی ہے موسیٰ بن سہل نے کہاہے کہ یہ فضل ازدی ہیں کنیت ان کی ابویحییٰ تھی قیوم کے بیٹے ہیں۔انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسےروایت کی ہے یہ وہی شخص ہیں جوابوراشد کے ہمراہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے تھےیہ ابن مندہ کا قول ہےاورابونعیم نے لکھاہے کہ یہ غلطی ہے کیوں  کہ فضل اپنے والد سے وہ اپنے داداقیوم سے روایت کرتےہیں جن کانام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیوم رکھاتھا۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا فضل ابن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

   ہاشمی۔سری بن یحییٰ نے حرملہ بن اسیر سے جوان کے چچازاد بھائی تھےانھوں نے فضل بن عبدالرحمن ہاشمی سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی میں رجز پڑھتے تھے اور فرماتے تھےکہ میں سرداروں کابیٹاہوں ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔حافظ ابومسعود نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا فضل ابن عباس رضی اللہ عنہ

   بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف قریشی ہاشمی۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے۔ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی اوربعض لوگ کہتےہیں ابومحمد۔ان کی والدہ ام الفضل لبابہ بنت حارث بن حزن بلالیہ ۔میمونہ بنت حارث زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی  بہن تھیں حضرت عباس کے بیٹوں میں سب سے بڑے یہی تھےحضرت عباس کی کنیت انھیں کے نام پر تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ فتح مکہ اورحنین میں شریک تھےاورجب لوگوں کوہزیمت ہوئی تو یہ  ثابت قدم رہے اورآپ کے ساتھ حجتہ الوداع میں شریک تے اوراس دن آپ ہی کے ہمراہ اونٹ پر سوار تھے۔نہایت حسین آدمی تھے۔انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ہمیں اسمعیل اورابراہیم وغیرہما نے اپنی سند کے ساتھ ابوعیسیٰ ترمذکی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا وہ کہتےتھےہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے ابن جریج سے انھوں نے عطأ سے ۔۔۔

مزید

سیّدنا فضل ابن ظالم رضی اللہ عنہ

   بن خزیمہ۔ابن کلبی نے کہاہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئےتھےان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا فضالہ ابن ہنداسلمی رضی اللہ عنہ

ابن ہنداسلمی۔ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔ان کی حدیث عبداللہ بن عامر اسلمی نے فضالہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اسمأ بن حارثہ کو ان کی قوم قبیلۂ اسلم کی طرف بھیجااورفرمایاکہ جاؤاوران لوگوں کو یوم عاشورہ کے روزے کاحکم دے اورابونعیم نے کہاہے کہ اس روایت میں عبداللہ بن عامر نے غلطی کی ہے صحیح وہی ہے جو حاتم بن اسمعیل اوروہب نے عبدالرحمن بن حرملہ سےانھوں نے یحییٰ بن ہند بن حارثہ سے روایت کی ہے یہ ہنداسمأ بن حارثہ کے بھائی ہیں۔یحییٰ بن ہندنے اسمأ سے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد  نمبر 6-7)۔۔۔

مزید