جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا فاتک ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  خطمی۔حلیس بن عمروبن قیس نے بنت رفاعہ سے اورایک روایت میں ہے کہ خود رفاعہ سے اورانھوں نے اپنے دادافاتک بن عمروخطمی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں نے نظربد کی ایک جھاڑ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوسنائی آپ نے مجھے اس کی اجازت دی اورمیرےلیے برکت کی دعافرمائی وہ جھاڑیہ تھی۔۱؎بسم اللہ وباللہ اعیذک باللہ من شرماذرأوبرأومن شرمااعتریت واعتراک واللہ ربی شفاک واعیذک باللہ من شرملقح ومحبل یہ حدیث اس حدیث کے مشابہ ہے جس کوفدیک بن عمرونے روایت کیاہے جن کاتذکرہ ہم آئند ہ انشاءاللہ تعالیٰ لکھیں گے۔ ۱؎ترجمہ۔اللہ کا نا م لے کراللہ سے پناہ مانگتاہوں برائی سے ان چیزوں کی جن کو اللہ نے پیداکیااورجو کام میں نے کیےاللہ میراپروردگارتجھے شفادے تجھے ہرچیز کے شرسے اللہ کی پناہ میں دیتاہوں۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا فاتک ابن زید رضی اللہ عنہ

  بن واہب عنسی ۔رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسلام لے آئےتھے یہ وثیمہ کا قول ہے۔اس کو ابن دباغ نے ابوعمرپر استدرک کرنے کے لیے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا فضالہ ابن عبید رضی اللہ عنہ

  بن نافذبن قیس بن صہیب بن اصرم بن حججبا بن کلفہ بن عوف بن عمروبن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی عمری۔کنیت ان کی ابومحمد ہے ان کا سب سے پہلاغزوہ احد ہے اوراس کے بعد کے تمام مشاہد میں شریک رہے۔ان لوگوں میں تھے جنھوں نےبیعتہ الرضوان کی تھی۔بعد اس کے یہ شام چلے گئے تھےاورفتح مصر میں شریک تھےشام ہی میں رہتےتھے۔حضرت معاویہ جب صفین میں جانے لگے توان کودمشق کا قاضی بناگئےتھےاوران سے کہہ گئے تھے کہ اس سے مقصود تمہیں فائد پہنچانانہیں ہے بلکہ میں تمھارے ذریعہ سے دوزخ سے بچناچاہتاہوں ۔پھران کو حضرت معاویہ نے سردارلشکربنا کرروم بھیجاتھاچنانچہ یہ دریامیں لڑے اورکچھ لوگوں کو بھی قید کیاان سے حنش صنعانی اورعمروبن مالک عینی اورعبدالرحمن بن جبیراور ابن محیریزوغیرہم نے روایت کی ہے۔ ہمیں ابراہیم بن محمد بن فقیہ وغیرہ نے اپنی سندکے ساتھ ابوعیسیٰ ترمذی نے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے قتیبہ نے بیان کی۔۔۔

مزید

سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ

  رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے۔اہل یمن سے ہیں۔اس کو جعفر نے بیان کیاہے اور انھوں نے ایک  مقام پر یہ بھی بیان کیاہے کہ یہ شام میں فروکش تھے۔ابوبکر بن جریر نے ان کو رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں ذکرکیاہے۔بعض لوگوں کا بیان ہے کہ ان کی وفات شام میں ہوئی۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ابوعمرنے کہاہے کہ میں ان کاحال اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا فضالہ ابن دینار رضی اللہ عنہ

   خزاعی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایاتھا۔بخاری نے ان کوذکرکیاہے۔یہ جعفر مستغفری کا قول ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا فضالہ ابن حارثہ رضی اللہ عنہ

  ۔اسمأ بن حارثہ کے بھائی ہیں۔ان کی حدیث عبدالرحمن بن حرملہ نے روایت کی ہے۔ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ

   ثم الظفری۔ادریس بن محمد بن انس بن فضالہ کے داداہیں۔ادریس نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسےانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے۔یہ جعفرکاقول ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا فروہ رضی اللہ عنہ

  ان کا نسب نہیں بیان کیاگیاصحابی ہیں۔ ان کی حدیث معاویہ بن صالح نے ابوعمروسے انھوں نے بشیر سے روایت کی ہے۔بخاری نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاہے۔ابن مندہ اورابونعیم نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا فروہ ابن نعمان رضی اللہ عنہ

    بن حارث بن نعمان انصاری خزرجی ۔بنی مالک بن نجار سے ہیں۔جنگ یمامہ میں شہید ہوئےاحداوراس کے بعد کے تمام مشاہد میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا فروہ ابن مسیکہ رضی اللہ عنہ

  ۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ عسکری نے ان کے اورفروہ بن مسیک کے درمیان میں فرق بیان کیاہے اورانھوں نے مجالدسےانھوں نے عامرسے انھوں نے فروہ بن مسیکہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کیاتم کو وہ دن یاد ہےجب تمھارے قبیلہ سے اورقبیلۂ ہمدان سے لڑائی ہوئی تھی انھوں نے عرض کیاکہ ہاں یاد ہے تمام عزیزقریب اسی دن ہلاک ہوگئےتھے آپ نے فرمایاسنوجولوگ زندہ رہےان کے لیے وہ واقعہ اچھارہاعسکری نے بیان کیاہے کہ اس حدیث کوطبرانی نےفروہ بن مسکین کے نام میں روایت کیاہے اورکہاہے کہ بعض لوگ ان کس مسیکین کہتےہیں۔ میں کہتاہوں کہ یہ فروہ بن مسیکہ وہی ہیں جن کاتذکرہ اوپر ہوچکاحدیث بھی وہی ہے جوان کے تذکرہ میں گذرچکی بعض لوگ انھیں کوفروہ بن مسیکہ بھی کہتےہیں باقی طبرانی کافروہ بن مسکین لکھا یہ غلطی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید