بن عمروعامری۔ابوجندل کے بھائی ہیں اوربعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ان کانام عتبہ ہے مگریہ صحیح نہیں عنبسہ اپنے والد کے ہمراہ اسلام لائے تھےاورشام میں شہیدہوئےتھے ان کی بیٹی فاختہ بھی ان کے ہمراہ شام میں تھیں جب یہ شہید ہوئے توفاختہ کو لوگ حضرت عمربن خطاب کے پاس لائےاورعبدالرحمن بن حارث بن ہشام بھی آئے ان کے والد بھی شام میں شہید ہوئےتھے حضرت عمرنے فرمایاکہ ان دونوں کاباہم نکاح کردو پس عبدالرحمن نے ان سے نکاح کیاعبدالرحمن کے لڑکے ابوبکروعمروعثمان و عکرمہ انھیں کے بطن سے ہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھامگرنہ ان کی کوئی روایت حضرت سے ثابت ہے نہ ان کاصحابی ہوناصحیح ہے۔ان سے ابوامامہ باہلی نے اورنعمان بن سالم نے روایت کی ہے۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اورابونعیم نے کہاہےکہ بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے ان کاتذکرہ لکھاہےمگرہمارے متقدمین ائمہ سب اس بات پر متفق تھے کہ یہ تابعی ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
جہنی۔بقول بعض یہ صحابی ہیں۔ان کا تذکرہ جعفرنے اسی طرح لکھاہے۔ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن خلف حمجی ۔کنیت ان کی ابوغلیط تھی بعض لوگوں نے ان کانام عنبسہ بیان کیاہےاور بعض نے اورکچھ اوربیان کیاہے۔ان کا تذکرہ انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں کیاجائے گا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
نے ان کاتذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ یہ صحابہ میں سے ایک شخص ہیں ان سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہےاورانھوں نے اس حدیث کو اپنی سندکے ساتھ عبدالرحمن بن عنان سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کیاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص عیدالفطر کے بعد چھ روزے رکھ لےتواس کو تمام سال کے روزوں کاثواب ملے گا۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حازمی۔قبیلۂ ہمدان کے وفد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئے تھے جبکہ آپ غزوۂ تبوک سے لوٹ کرآئے تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مالک بن نمط کے نام میں ذکرکیاہے۔واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔جعفرمستغفری نے کہاہے کہ یحییٰ بن یونس نے ان کا نام اسی طرح لکھاہےاورابوموسیٰ نے کہاہے کہ میرے نزدیک یہ عرس ابن عمیرہ کے والد ہیں اورانھوں نے ایک حدیث عدی بن عدی سے روایت کی ہے کہ انھوں نےکہا ہم سےہمارے ایک غلام نے بیان کیااس نے ہمارے دادا کو یہ کہتےہوئےسناتھاکہ اللہ تعالیٰ کسی خاص شخص کے گناہ کرنے سےعام لوگوں پر عذاب نہیں کرتاان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے اسی طرح مختصرلکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ کا یہ کہناکہ میرے نزدیک یہ عرس بن عمیرہ کے والد ہیں غلط ہے کیونکہ عرس کے والد عمیرہ بن فروہ نہ عمیرہ بن فروخ اوراگرکاتب کی غلطی سے بجائے فروہ کے فروخ ہو گیاتھاتوابوموسیٰ کو کہناچاہیے تھاکہ فروخ غلط ہے یہ حدیث جواوپر مذکور ہوئی ہم سے یحییٰ بن محمود نے اجازۃً اپنی سند کے ساتھ ابوبکر بن ابی عاصم سے نقل کرکے بیان کی وہ کہتےتھے ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کی وہ کہتےتھےمیں نے عدی بن عدی ۔۔۔
مزید
۔کنیت ان کی ابوسیارہ تھی متعی ہیں قبیلۂ قیس بن غیلا ن سے ہیں پھربنی عدوان سے پھر بنی حارثہ سے۔یہ جعفر کا قول ہے انھوں نے یہ بھی کہاکہ میں نے ابن حبیب کی کتاب میں ان کا نام عمیلہ بن اعزل بن خالد بن سعدبن حارث بن راشی بن حارث دیکھاہے۔ابوسیارہ کا تذکرہ عمیر کے نام میں ہوچکاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کا نسب نہیں بیان کیاگیایہ صحابہ میں سے ایک شخص ہیں ان کاذکرزہری کی حدیث میں ہے جو انھوں نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےنبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز دوپہر کو گھر سے باہرنکلےاس وقت آپ کے شکم پر ایک پتھربندھاہواتھاایک انصاری لڑکے نے کچھ آپ کو ہدیہ دیانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے سے پوچھا تم کون ہواس لڑکے نے کہامیرانام ہے اورفلاں عورت میری ماں ہے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایاکہ کھاؤچنانچہ سب نے کھایا اورسیراب ہوگئے پھرسب لوگوں نے دودھ پیا۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن وہب بن حذافہ بن حمج قریشی حمجی۔کنیت ان کی ابوامیہ تھی قریش میں ان کی بہت قدروعزت تھی صفوان بن امیہ بن خلف کے چچازاد بھائی تھےبدر میں مشرکوں کے ساتھ شریک تھےاس وقت تک کافرتھے۔انھوں نےقریش سے انصارکی بابت کہاتھاکہ میں ان کے چہرے مثل زندگانی کے شاداب دیکھتاہوں یہ لوگ پیاسے نہیں ہوسکتےتاوقتیکہ اپنے ہی برابر ہمارےآدمیوں کو نہ مارڈالیں پس میری مصلحت یہ ہے کہ تم لو گ ایسےروشن چہروں کامقابلہ نہ کرو مگرلوگوں نے ان کی نصیحت نہ مانی پھرانھوں نے اورلوگوں کو یہی ترغیب دینی شروع کی اورسب سے پہلے انھوں نے اپنےآپ کو مسلمانوں کے درمیان میں ڈال دیااورلڑائی شروع ہوگئی۔یہ قریش کے جواں مردوں اورشریر لوگوں میں سے تھے۔بدر کے دن مسلمانوں کی تعداد دریافت کرنے کے لیے لشکر کے گرد یہی گھومتے تھے جب مشرکوں کوہزیمت ہوئی تو عمیر بھی ان لوگوں میں تھے جنھوں نے نجات پائی اس دن ان کے بیٹے وہب بن عمیر۔۔۔
مزید