جمعرات , 20 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 07 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عمرو ابن محصن بن عدثان رضی اللہ عنہ

   بن قیس بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ بن محصن کے بھائی ہیں۔غزوہ احد میں شریک تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ جب مہاجرین ہجرت کرکے پہ در پہ آنے لگے توبنی غنم بن دودان بھی آئےان لوگوں کو مدینہ کی آب وہوا ناموافق ہوئی عمروبن محصن بھی انہیں میں سے تھےان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے اورابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ ابن مندہ پر استدراک کرنے کے لیے لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ ابن ابی عمرو سے انھوں نے عمرو بن محصن سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقرب قیامت کی علامات سے بھی یہ ہیں کہ پانی بہت برسے اورپیداوارکم ہو اورقراء زیادہ ہوں اور فقہا کم ہوں امراء زیادہ ہوں مگر اہل امانت کم ہوں۔لیکن اس استدراک کی کوئی وجہ نہیں ابن مندہ نےان کا تذکرہ کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن مالک رضی اللہ عنہ

   بن قیس بن بجیدبن رواس۔ان کا نام حارث بن ربیعہ بن عامرابن صعصعہ ہے عامری رواسی کوفی تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں اپنے مالک کے ہمراہ آئے تھے۔وکیع بن جراح نے اپنے والد سے انھوں نے ایک شخص سےجنکانام طارق تھاانھوں نے عمروبن مالک سے روایت کی ہےکہ  وہ کہتےتھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گیا(آپ مجھ سے کچھ ناراض تھے) میں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ آپ مجھ سے راضی ہوجائیے پس تین بارمیری طرف سے منہ پھیرلیا میں نے کہاواللہ یارسول اللہ اللہ بھی راضی ہوجاتاہےآپ بھی راضی ہوجائیے پس آپ راضی ہوگئے یہ حدیث یوں بھی مروی ہے کہ عمروبن مالک رواسی نے اپنے والد سے روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابوعمراورابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہےاورابوموسیٰ نے عمروبن مالک اوسی رواسی کا حال اس تذکرہ میں بھی لکھاہےجو اس سے پہلے ہوچکا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن مالک رضی اللہ عنہ

   بن جعفربن کلاب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ۔عامری جعفری لقب ان کا ملاعب الاسنہ ہے۔ابن مندہ اورابونعیم نے اسی طرح  بیان کیاہےاورانھوں نے ابواحمد زبیری سے انھوں نے مسعر بن خشرم بن حسان سے روایت کی ہےکہ عمروبن مالک ملاعب الاسنہ نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں کسی آدمی کودوالینےکے لیے بھیجاتھا۔اس حدیث کوبہت لوگوں نے مسعربن خشرم سے انھوں نے مالک بن ملاعب الاسنہ سے روایت کیاہےاوریہی صحیح ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن مالک رضی اللہ عنہ

   اوسی معروف بہ رواسی۔ابن شاہین نے ان کاتذکرہ اسی طرح لکھاہے مکی بن ابراہیم نے موسیٰ بن عبیدی سےانھوں نے محمد بن کعب سےانھوں نے عمروبن مالک سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھتاہے اس کو ایک نیکی یافرمایا کہ دس نیکیاں ملتی ہیں میں نہیں کہتاکہ الم (ذلک الکتاب)ایک حرف ہے الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف اورمیم ایک حرف ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ یہ نام غلط ہے۔صحیح نام عوف بن مالک ہے بعض لوگ ان کو عمروبن مالک اوربعض ابی بن مالک کہتےہیں ابن مندہ نے ان کاتذکرہ لکھاہےاورکہاہے کہ ان کانام عمروبن مالک ہےاوربعض لوگ مالک بن عمراوربعض لوگ ابی کہتےہیں۔ردیف ہمزہ میں ان کاذکرہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابومالک رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابومالک تھی۔اشعری تھے یحییٰ بن یونس نے اورسعید نے ان کانام اسی طرح بتایاہےاور بقول بعض ان کا حارث بن مالک ہے اوربقول بعض عمروبن عاصم۔ان سے عطاءبن یسار وغیرہ نے روایت کی ہےہم انشاءاللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں ان کاتذکرہ لکھیں گے۔ان کا تذکرہ ابوعمراور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ

  ۔ابن ابی شیبہ وغیرہ نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔ہمیں ابوموسیٰ نے کتابتہً خبر دی  وہ کہتےتھےہمیں ابوعلی نےخبردی وہ کہتےتھےہمیں ابونعیم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن احمد بن حسن نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن عثمان ابی شیبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سےاحمد بن عبدالرحمن نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے ابوالولید بن مسلم نے ابن لہیعہ سے انھوں نے ابوالنصرمولائے عمربن عبیداللہ بن معمرسے انھوں نے عمروبن مالک اشجعی سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے میں نے کہاکہ  یارسول اللہ مجھے کچھ وصیت فرمائیےکیوں کہ مجھے ڈرلگتاہے کہ شاید میں آج کے بعد آپ کو نہ دیکھوں حضرت نے فرمایاکہ تم جبل الخمر میں رہنااختیارکرومیں نے پوچھا کہ جبل الخمر کیاچیزہےفرمایاکہ سرزمین محشر(یعنی ملک شام)اورتم سریتہ النفل کے ساتھ جہاد میں شریک ہوناوہ لوگ دشمن کے مقابلہ سے بھاگ جائیں گےاوراگرغنیمت ملے گی توآپس میں خ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن مازن۔ رضی اللہ عنہ

  قبیلہ بنی خنساء بن مبذول سے ہیں انصاری ہیں بدرمیں شریک تھےاس کوابن مندہ نے ابن اسحاق سے نقل کیاہے فرمایامگرابونعیم نے کہاہے کہ یہ غلط ہے کیونکہ عمروبن غنم خنساء کے دادا ہیں جن کی طرف بنی خنساءبن  مبذول بن غنم منسوب ہیں ابن اسحاق نے ایساہی بیان کیاہےابونعیم نے ان کو شرکاء بدر میں بیان کیاہے ایک ابوداؤد مازنی جن کا نام عمروبن عامر بن مالک بن خنساء ہے اوردوسرے سراقہ بن عمروبن عطیہ بن خنساءاگرکوئی صحیح نسخہ دیکھاجائےتویہ غلطی ظاہر ہوجاتی ہے عمروبن مازن اسلام سے سوبرس پہلے مرچکے تھے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابن مندہ نے جو ابن اسحاق سے شرکائے بدر میں عمروبن مازن کانام نقل کیاہے یہ صحیح ہے یونس بن بکیرنے ابن اسحاق سے شرکائے بدر کے ناموں میں روایت کی ہے کہ بنی خنساء بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجارسے ابوداؤد یعنی عمیربن عامربن مالک اورعمروبن مازن ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن کعب یمامی رضی اللہ عنہ

   اوربعض لوگ ان کو کعب بن عمروکہتےہیں طلحہ بن مصرف کے داداہیں لیث بن ابی سلیم نے طلحہ بن مصرف سے انھوں نے اپنے والدسےانھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاکہ آپ نے وضوکیااوراپنے سرپر اسی طرح ایک مرتبہ مسح کیا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔مگرابوعمرنے کہاہے کہ بیان کیاجاتاہے کہ یہ طلحہ بن مصرف کےداداہیں مگربعض اہل حدیث کہتےہیں کہ طلحہ بن مصرف کے داداصخر بن عمروتھے اور بعض نےبیان کیاہے کہ کعب بن عمرو ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن قیس رضی اللہ عنہ

   بن زید بن سواد بن مالک بن غنم۔انصاری۔بخاری کنیت ان کی ابوعمرہے اورابوالحکم ہے ۔ غزوہ بدر میں شریک تھےجیساکہ ابومعشر اورواقدی اورعبداللہ بن محمد بن عماثہ نے ذکرکیاہے اورا ن سب لوگوں نے بالاتفاق بیان کیاہے کہ غزوہ احد میں شہیدہوئےہمیں عبیداللہ  بن احمد نے اپنی سند کے ساتھ یونس سے انھوں نے ابن اسحاق سے شہدائے کے احد کے ناموں میں ذکرکیاہےکہ بنی نجارکےقبیلۂ بنی سوادبن مالک بن غنم بن مالک بن نجار سے عمروبن قیس اوران کے بیٹے قیس بھی  تھے۔ابن کلبی نے ان کانسب ایساہی بیان کیاہے اوران کوبدری لکھاہےبعض لوگوں کاقول ہے کہ ان کونوفل بن معاویہ ویلی  نے قتل کیاتھاان کے والد قیس اوران کے بیٹے کے بدری ہونے میں اختلاف ہے ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن قیس رضی اللہ عنہ

   بن زائد امدہ؟بن اصم۔اصم کانام جندب بن ہرم بن رواحہ بن حجربن عدی بن معیص بن عامربن لوی۔قریشی عادی۔ابن مکتوم نابینامؤذن یہی ہیں ۔ان کی والد ہ ام مکتوم تھیں۔نام ان کا عاتکہ بنت عبداللہ بن عنکثہ بن عامربن مخزوم تھا۔حضرت خدیجہ بنت خویلد کے ماموں کے بیٹے تھے حضرت خدیجہ کی والدہ فاطمہ بنت زائدہ بن اصم قیس کی بہن تھیں ان کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ عبداللہ کہتےہیں اوربعض لوگ عمرواوریہی زیادہ مشہورہے۔یہ مصعب اورزبیرکاقول ہے۔انھوں نے مصعب بن عمیر کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی اوربقول بعض بدرکے کچھ دنوں بعد ہجرت کی تھی۔انہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ مرتبہ مدینہ پر خلیفہ بنایاجبکہ آپ غزوات میں تشریف لے جاتے تھے منجملہ ان کے غزوہ ابواطہ میں اوربواطہ میں اورذوالعیسرہ میں اورجبکہ آپ کرز بن جابر کے تعاقب میں قبیلہ جہنیہ کی طرف تشریف لے گئےاورغزوہ سویق میں اورغطفان میں اوراحد م۔۔۔

مزید