بن عامربن مالک بن کنابن قیس بن حصین بن وذیم بن ثعلبہ بن عوف بن حارثہ بن عامراکبر بن یام بن غسن بن مالک بن اودبن زیدبن یشحب مذحجی عنسی ۔کنیت ان کی ابوالیتفطان تھی۔یہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے سب سے پہلے اسلام کی طرف سبقت کی تھی۔قبیلہ بنی مخزوم کے حلیف تھے۔ان کی والد ہ سمیّہ تھیں اوروہ پہلی خاتون ہیں جو اللہ عزوجل کی راہ میں شہید کی گئیں۔یہ اور ان کے والداوران کی والدہ سب سابقین میں سےتھے۔حضرت عمارتیس سے کچھ زائدآدمیوں کے بعد اسلام لائے تھے۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جواللہ کی راہ میں بےحدستائے گئے۔واقدی وغیرہ علماء نسب وتاریخ نےبیان کیاہے کہ حضرت عمارکے والد یاسرعرنی قحطانی مذحجی تھے جوقبیلہ عنس کی ایک شاخ ہے مگرحضرت عماربنی مخزوم کے غلام تھےوجہ اس کی یہ تھی کہ ان کے والد قبیلہ بنی مخزوم کے کسی شخص کی لونڈی سے نکاح کیاتھاحضرت عماراس سے پیداہوئے تھے(لہذااس لونڈی کے مالک نے ان کو۔۔۔
مزید
بن زرارہ بن عمربن غنم بن علی بن حارث بن مرہ بن ظفرانصاری اوسی ظفری ۔کنیت ان کی ابونملہ تھی غزوہ بدرمیں شریک تھے۔ابن ابی داؤد نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہے مگراور لوگوں نے اس میں اختلاف کیاہے۔یہ اپنی کنیت سے مشہورہیں عنقریب کنیت کے باب میں ان کا ذکرکیاجائےگا۔ان کی حدیث یہ ہے کہ اہل کتاب جوکچھ تم سےبیان کریں اس کی تصدیق نہ کرو بعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کانام عمارہ تھاچنانچہ ہم عمارہ کے نام میں انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ذکرکریں گے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ابی الیسر انصاری۔ان کا ذکرحمامہ میں کیاگیاہے مگرصحیح نہیں ہےان سے ان کے بیٹے عمارہ نے روایت کی ہے ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن سلمہ ثقفی۔یہ اوران کے بھائی عامراپنے والد سے پہلے اسلام لے آئے تھے عامر نے طاعون عمواس میں وفات پائی ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہےاورکہاہے کہ مجھے یہ پتہ نہیں چلاکہ عمار کی وفات کب ہوئی۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
خثمی اوربعض لوگ ان کو عمارہ کہتےہیں ۔شمار ان کا اہل شام میں ہے ان سے داؤد بن ابی ہند نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہامیں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سناآپ فرماتے تھے کہ اس امت میں پانچ فتنہ ہوں گےاس حدیث کو حبان ابن ہلال سے سلیمان ابن کثیرسے انھوں نے داؤد سے روایت کیاہے (عمارکانام چھوڑدیاہے)حالاں کہ یہ غلط ہے صحیح وہی ہے جوحماد بن سلمہ نے اورحجاج بن منہال نے داؤد سے روایت کیاہے اورانھوں نے عمارسے روایت کی ہےجو اہل شام میں سے ایک شخص اورقبیلہ خثم سے ایک بزرگ تھے ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
قرظ موذن۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہےانس ے ابوامامہ بن سہل نے اور محمد اورحفص اورسعد نے جو خود ان کے بیٹےتھےروایت کی ہے۔عبدالرحمن بن سندنے عمربن حفص بن عماربن سعد سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداعماربن سعدسے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز پڑھنے اس راستہ سے بناتے تھے جوہشام کے گھرکی طرف سے گیاہےیہ ابن مندہ کاقول تھامگرابونعیم نے کہاہے کہ یہ عمارصحابی نہیں ہیں انھوں نے احادیث کی روایت اپنے والدسعدسے کی ہے اس کو بہت لوگوں نے ابن کا سب سے نقل کرکے بیان کیاہے اورابونعیم نے عبداللہ بن محمد بن عماربن سعدسے اورعمربن سعدکوان سبھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے انھوں نے سعدقرظ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مینھ برسنے کی حالت میں مغرب اورعشاکی نمازایک ساتھ پڑھ لیاکرتےتھے۱؎۔ ۱؎ حنفیہ کے نزدیک یہ حدیث متروک العمل ہے ان کے نزدیک سوا۔۔۔
مزید
ابوزہیرثقفی ۔ابوبکربن ابی زہیرکے والد ہیں۔ان کی اسناد میں اس طرح مذکورہے اوربعضوں نے کہاہےکہ ان کا نام معاذ ہے۔حاکم یعنی ابواحمد نیشاپوری نے اسی طرح بیان کیاہے ابو موسیٰ نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کی اسنادمیں نظرہے ہیثم نے ابی معشرسے انھوں نے یحییٰ بن عبدالملک بن علی بن ہبار بن اسود سے انھوں نے اپنے باپ سے انھوں نے اپنے داداسے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم ایک بارعلی بن ہبارکے گھرکی طرف گذرے تووہاں دف کی آواز سنی آپ نے پوچھالوگوں نے کہاعلی بن ہبارنے نکاح کیاہے آپ نے فرمایایہ نکاح ہے نہ کہ زنا۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے کہاہےکہ یہ وہم ہے اوراس حدیث علی بن ہبار کے ذکرکی کوئی اصل نہیں ہے اورکہاہے کہ اس حدیث کومحمد بن سلمہ حرانی اورمحمد بن عبیداللہ عذری نے عبداللہ بن ابی عبداللہ بن ہبار بن اسود سےانھوں نے اپنے باپ سے انھوں نے اپنےداداسے اسی طرح روایت کیاہے اوران دونوں نے علی کاذکرنہیں کیا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عینیہ نےعلی بن علی ہلالی سے انھوں نے اپنے باپ سے روایت کی وہ کہتےتھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بیماری کی حالت میں حاضرہواجس میں آپ کی وفات ہوئی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے تھیں وہ رونے لگیں حتی کہ ان کی آواز بلندہوئی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کرفرمایا اے میری پیاری فاطمہ کیوں روتی ہو انھوں نے عرض کیااس لیے کہ آپ کے بعد مجھ کواپنے بربادہوجانے کا خوف ہےآپ نے فرمایااے میری پیاری کیاتجھ کو نہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے تمام اہل زمین کی طرف متوجہ ہوا تو ان میں سے تیری باپ کو پسند کیاپھردوسری بارمتوجہ ہواتوتیرے شوہرکوپسند کیااورمیری طرف وحی بھیجی کہ میں تیرانکاح ان سے کردوں۔ابونعیم اورابوموسیٰ نے اس کو ذکرکیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
نے ان کا ذکرکیاہےاوراپنی اسناد کے ساتھ عائذ بن ربیعہ بن قیس نمیری سے انھوں نے علی بن فلاں نمیری سے روایت کی انھوں نے کہامیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیامیں نے آپ کوفرماتےسناکہ مسلمان بھائی ہے مسلمان کاجب کوئی مسلمان اپنے کسی بھائی مسلمان سے ملے اور سلام کرے تو چاہیے کہ اس سے بہترجواب دے اورماعون کومنع نہ کرےراوی نے کہامیں نے عرض کیایارسول اللہ ماعون کیاچیزہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپتھراورلوہااورپانی اورمثل اس کے اورچیزیں ۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید