سلمی حضرت معاویہ کے بھائی تھے۔کثیر بن معاویہ بن حکم نے اپنے والدسے روایت کی ہے وہ کہتےتھے میرے بھائی علی بن حکم کاپیرٹوٹ گیاوہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے پس وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں آئے آپ نے ان کے پیرپرہاتھ ماراپس وہ اچھاہوگیا۔یہ ابن مندہ اورابونعیم کا قول ہے اورابوعمرنےکہاہےکہ میں علی بن حکم برادرمعاویہ بن حکم کوسلمی خیال کرتاہوں یہ دادا تھے۔خدیج بن سدرہ بن علی سلمی کے جواہل قباء سے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےمیں کہتاہوں کہ ابوعمربن علی بن حکم کوسدرہ کاوالد قراردیاہے مگرابن مندہ اورابونعیم نے علی بن حکم کو معاویہ کابھائی قراردیاہے اوران علی بن ابی علی کوجن کا ذکرآگے آئےگاسدرہ کاوالد قراردیاہے پس ان دونوں نے اس نام کے دوحصے قراردئےہیں اورابوعمرنے ایک ہی رکھاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عمروبن سلمہ بن منبہ بن ذہل بن عطیف بن عبداللہ بن ناجیہ بن مراد۔ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں وفد بن کرآئےتھے اورپھریمن واپس گئےتھے فتح مصر میں شریک تھے اورحضرت معاویہ کے زمانہ میں عتبہ بن ابی سفیان نے ان کواسکندیہ کا حاکم مقررکیاتھا۔اس کو ابوعقیل معافری نے روایت کیاہے یہ ابن یونس کاقول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ربیعہ بن عمروبن بکاءبن عامربن ربیعہ بن عامربن صعصعہ ظلمیابنت عبدالعزیز بن مولہ نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے انھوں نے ابوہوذہ عرس اورعمروبن عامربن ربیعہ سے روایت کی ہے کہ وہ دونوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئےتھےاوراسلام لائے تھے پس آپ نے دونوں کو ان کے رہنے کے مقامات میں معافیاں دی تھیں۔ان کاتذکرہ ابن دباغ نے ابوعمیرپراستدراک کرنے کے لیے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن وائل بن ہاشم بن سعید بن عمروبن ہصیص بن کعب لوی بن غالب۔قریشی سہمی کنیت ان کی ابوعبداللہ ہے اوربعض لوگ کہتےہیں ابومحمد ہے۔والد ہ ان کی نابغہ منیت حرملہ تھیں قبیلۂ بنی جلان بن عتیک بن اسلم بن یذکربن عرّہ سے قید ہوکرآئی تھیں۔عمروبن عاص کے اخیانی بھائی عمرو بن اثاثہ عددی اورعقبہ بن نافع بن عبدقیس فہری تھے ایک شخص نے خود عمروبن عاص سے ان کی والدہ کاحال پوچھاتوانھوں نے کہاکہ میری والدہ کا نام سلمی بنت حرملہ اورلقب نابغہ تھا۔قبیلۂ بنی عترہ سے تھیں عرب کی کسی لڑائی میں گرفتارہوئی تھیں اورعکاظہ میں بیچ ڈالی گئی تھیں ان کو فاکہ بن مغیرہ نے مول لیاتھاپھران سے عبداللہ بن جدعان نے ان کوخریدلیاتھابعدان کے عاص بن وائل کے پاس آئیں اوران سے وائل کی اولادہوئی۔کفارقریش نے انھیں عمربن عاص کو نجاشی کے پاس بھیجاتھاکہ جس قدرمسلمان ان کے ملک میں ہیں ان کوواپس کردیں مگرنجاشی نے اس ک۔۔۔
مزید
بن یزید بن امیہ بن کعب بن غنم بن سواد۔انصاری سلمی ۔بقول اکثرین بدرمیں شریک تھےمگرابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ بدریوں میں نہیں لکھا۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے اورابوموسیٰ نے کہاہے کہ غزوہ احد میں شریک تھے ہمیں عبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے شہدائے بدرکےناموں میں لکھاہےکہ قبیلۂ بنی سلمہ سے عمروبن طلق بن زیدتھے۔ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔قوم جن سے تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ طبرانی نے ان کا حال بیان کیاہے۔ان کاتذکرہ عمروجنی کے نام میں گذرچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عمرو بن طریف ۔ان کا نسب طفیل کے نام میں گذرچکاہے یہ عمرو غزوہ شام میں شریک تھے اوریرموک میں شہیدہوئے۔یہ ہشام بن کلبی کابیان ہے اورابوموسیٰ نے کہاہے کہ یہ عمرو طفیل بن عمرودوسی کے والد کے والد ہیں محمد بن اسحاق نے بیان کیاہے کہ ابن طفیل کہتےتھے کہ جب میں ہوکراپنی قوم کے پاس لوٹ کرگیاتومیرے والد میرے پاس آئے تو میں نے کہا کہ مجھ سے علیحدہ رہو۔کیونکہ میں مسلمان ہوں۔انھوں نے کہاکہ اے بیتے جودین تمھارا ہے وہی میراہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔قاسم یعنی ابوعبدالرحمن نے ابوامامہ باہلی سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عمروبن طفیل کوخیبرسےان کی قوم کے پاس بھیجاتاکہ وہ ان سے مدد لیں انھوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ جب لڑائی کا وقت آگیاتوآپ مجھے یہاں سے ہٹائے دیتے ہیں تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کیاتم اس بات پرراضی نہیں ہو کہ رسول اللہ کے رسول بنو۔یہ ابن مندہ اور ابونعیم کابیان ہے اورابوعمر نے کہاہے کہ ان کانام عمروبن طفیل بن عمرودوسی ہیں پہلے ان کے والد اسلام لائے تھےاس کے بعد یہ خود اسلام لائے اوراپنے والد کے ساتھ جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اسی دن ان کاہاتھ کٹ گیاتھااورجنگ یرموک میں شہید ہوئے تھے طفیل کے اسلام کا حال ان کے نام میں گذرچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
محاربی۔صحابی ہیں ان سے صخر بن ولید نے روایت کی ہے بخاری نے ان کو صحابہ میں ذکرکیا ہےسیف بن اہیب نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے مجھ سےابوالطفیل نے بیان کیاکہ ہم میں سے ایک شخص تھے جن کا نام عمروبن ضلیع تھاوہ صحابی تھےان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔یافعی۔فتح مصر میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاگیاہے۔عمروبن سعواء کے نام میں ان کا تذکرہ ہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید