بن ابی زکریا۔ان کا ذکرصحابہ میں کیاگیاہےمگرصحیح نہیں ہے۔ان کی حدیث ابوضمرہ یعنی انس بن عیاض نے حارث بن ابی ثابت سے انھوں نے عمربن عبیداللہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےایک مرتبہ نمازمغرب میں سہوہوگیاتھاان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
سلمی۔انھوں نے ایک مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاتھاان سے یعنی ابوعبدالحمید نے روایت کی ہے محمد بن احمد بن سلام نے یحییٰ بن ورود سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم سے ہمارے والدنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عدی بن فضل نے عثمان بتی سے انھوں نے عبدالحمیدبن سلمہ سے انھوں نے اپنےوالد سےانھوں نے عمربن عامرسلمی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازکے متعلق کچھ پوچھاتوآپ نے فرمایاکہ صبح کی نماز پڑھ چکنے کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھوکیوں کی آفتاب شیطان کی دوسینگوں کے ساتھ طلوع کرتاہے پھرجب آفتاب بلند ہوجائے تونمازپڑھو نمازمقبول ہوگی پھردوپہر تک نمازپڑھنے کی اجازت ہے یہاں تک کہ آفتاب سمت الراس پرآجائے تونمازموقوف کردوپھر جب زوال ہوجائے تونماز پڑھو نماز مقبول ہوگی پھر عصر کی نمازکے بعد کوئی نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوجائے کیو۔۔۔
مزید
بن عبدالاسد قرشی مخزومی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب تھےکیوں کہ ان کی والدہ حضرت ام سلمہ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ان کا تذکرہ اس کے قبل ان کے باپ عبداللہ بن عبدالاسدکے ذکرمیں ہوچکا۔ان کی کنیت ابوحفص ہے ۲ھ ہجری میں حبشہ میں پیدا ہوئے اوربعضوں نے کہاہےکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن یہ نوبرس کے تھے اور غزوہ خندق میں یہ اورابن زبیرحسان بن ثابت انصاری کے گھرمیں تھے۔جنگ جمل میں حضرت علی کے ساتھ شریک ہوئے۔حضرت علی نے ان کو بحرین اورفارس کاعامل مقررکیاتھا۔عبدالملک بن مروان کے زمانہ میں ۸۳ھ ہجری میں مدینہ میں وفات پائی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت حدیثیں انھوں نے روایت کیں ان سے سعید بن مسیب اورابوامامہ بن سہل ابن حنیف اورعروہ بن زبیرسے روایت کی ہے۔ ہم کواسمعیل بن علی وغیرہ نے اپنی اسناد کے ساتھ ابوعیسیٰ ترمذی سے روایت کرکےخبردی وہ کہتےتھےہم کوعبدالل۔۔۔
مزید
بن عبدالاسدبن ہلال بن عبداللہ بن عمربن مخزوم قرشی مخزومی۔اسود بن سفیان کے بھائی اورابی سلمہ بن عبدالاسد کےبھتیجے ہیں ان مہاجرین میں سے ہیں جنھوں نےحبشہ کو ہجرت کی تھی ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصراًلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن سعدسلمی۔مطین نے ان کاتذکرہ وحدان میں لکھاہےمگراس میں اعتراض ہے یہ ابونعیم نے کہا ہے۔ہم کوابوموسیٰ حافظ نے اپنی سند کے ساتھ خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوعلی نے خبردی وہ کہتے تھےہم کوابونعیم نے خبردی وہ کہتےتھےہمسے محمد بن محمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حضرمی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے ہمارےباپ نے محمد بن اسحاق سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے جعفر بن زبیرسے روایت کی وہ کہتےتھےہم نے زیاد بن عمربن سعدسلمی کوعروہ بن زبیرسے روایت کرکےبیان کرتےہیں وہ کہتےتھےمجھ سے میرے باپ اوردادانے جوجنگ خیبرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھےبیان کیاوہ دونوں کہتےتھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ظہر کی نمازپڑھائی پھرایک درخت کے سایہ میں بیٹھ گئے اوردیث کاقصہ بیان کیاان کا تذکرہ ابن مندہ اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
انباری کنیت ان کی ابوکبشہ تھی ان کا شماراہل شام میں ہے ان کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگوں نے عمربن سعد بیان کیاہے اوربعض نے سعدبن عمراوربعض نے عمروبن سعد۔ہم انشاء اللہ تعالی ان کاتذکرہ آئندہ اس سے زیادہ لکھیں گے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن معمربن انس قریشی عذدی۔غزوہ بدرمیں یہ اوران کے بھائی عبداللہ بن سراقہ دونوں شریک تھے اورمصعب نے بیان کیاہے کہ ان کانام عمروبن سراقہ ہے ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے میں کہتاہوں کہ ابن اسحاق وغیرہ نے بہت سندوں کے ساتھ ان کا نام عمربیان کیاہے اوریہی صحیح ہے اورابن مندہ اورابونعیم نے عمرہی کے نام میں ان کا تذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
خزاعی اوربعض لوگ ان کانام عمربتاتےہیں یہ قبیلہ خزاعہ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔حکم بن عتبہ نے مقسم سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ عمرابن سالم خزاعی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے تویہ شعرآپ کے سامنے پڑھا۔ ۱؎ لاہم انی ناشد محمدا حلف ابینا وابیہ الاتلدا ۱؎ترجمہ۔کچھ غم میں محمد کو ؟دلاؤنگا۔اوران کے باپ دادا کی اس کے ساتھ اورشعربھی تھےہم ان کوعمروبن سالم کے نام میں انشاءاللہ تعالیٰ ذکرکریں گے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ بعض متاخ۔۔۔
مزید
سلمی۔امام مالک بن انس نے ہلال ابن اسامہ سے انھوں نے عطاء بن یسارسے انھوں نے عمر بن حکم سلمی سےروایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں(ایک مرتبہ)رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوااورمیں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میری ایک لونڈی میری بکریاں چرایا کرتی تھی میں ایک روز چراگاہ توایک بکری میں نے کم پائی اس سے پوچھا تواس نے کہاکہ اے بھیڑیا لے گیامجھے بہت رنج ہوااورآخرمیں بھی آدمی تھا میں نے اس لونڈی کو ایک طمانچہ ماردیا اور میں نے ایک (مسلمان)غلام آزاد کرنے کی نذرکی تھی۔کیااس لونڈی کوآزادکردوں تووہ نذرپوری ہوجائے گی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کوبلاکرپوچھا کہ اللہ کہاں ہے لونڈی نے کہاآسمان میں پھر آپ نےپوچھامیں کون ہوں اس نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں پس آپ نے عمربن حکم سے فرمایا کہ یہ مومن ہے اس کو آزاد کردو۔اس کے بعدپھرراوی نے کاہنوں کااورفال بد ک۔۔۔
مزید
۔ان کا نام ابن مندہ اورابونعیم نے اسی طرح لکھاہےاوردونوں نے کہاہے کہ یہ غلط ہے صحیح نام ان کاعمروبن حمق ہے۔بقیہ بن ولید نے بحیرا بن سعدسے انھوں نے خالد بن معدان سےانھوں نے جبیربن نفیرسے انھوں نے عمرجمعی سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ بھلائی کرناچاہتاہے تواس سے کچھ کام لیتاہے تم لوگ جانتےہوکہ کیونکرکام لیتاہےسنواس کوکسی نیک عمل کی توفیق دیتاہے قبل اس کے کہ وہ مرے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور نعیم نے لکھاہے۔اورابوعلی عسانی نے ابوعمرپراستدراک کرنے کےلئے ان کاتذکرہ لکھاہےاورکہا ہے کہ نام ان کاعمرجمعی ہے۔اورابوعلی نے مالک بن سلیمان الہانی سے انھوں نے بقیہ سے انھوں نے ابن ثوبان سے انھوں نے مکحول سے انھوں نے جبیربن نفیرسےانھوں نے عمرجمعی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب اللہ کسی بندہ کے ساتھ بھلائی کرناچاہتاہے تواس کو مر۔۔۔
مزید