اتوار , 16 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 03 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا علقمہ ابن حجر رضی اللہ عنہ

  ۔ان کا تذکرہ علی عسکری نے لکھاہے۔حجاج بن ارطاہ نے عبدالجبار بن وائل بن علقمہ بن حجر سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاآپ(نمازمیں)اپنی پیشانی اورناک دونوں کے بل سجدہ کرتے تھےان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے حالانکہ یہ غلط ہے اس کو بہت لوگوں نے عبدالجبار بن وائل حجر سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کیاہے اوروہی صحیح ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن حارث رضی اللہ عنہ

  ۔احمد بن خلف دمشقی نے احمد بن ابی الحواری سے انھوں نے ابوسلیمان دارانی سےانھوں نےعلقمہ بن سوید بن علقمہ بن حارث سےانھوں نے اپنے والدسے انھوں نے ان کے داداعلقمہ بن حارث سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں اپنی قوم کے چھ آدمیوں کے ساتھ گیاتھا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورانھوں نے کہاہے کہ بہت سے راویوں نے احمد بن حواری سے یہ حدیث روایت کی ہے اورانھوں نے بجائے ان کے سوید بن حارث کانام لیاہے(خلاصہ یہ کہ ان علقمہ کے صحابی ہونے میں کلام ہے)وہ روایت اوپرگذرچکی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن جنادہ رضی اللہ عنہ

   بن عبداللہ قیس ازدی ثم الجحری۔یہ صحابی تھےفتح مصرمیں شریک تھےاوربحرین میں حضرت معاویہ کی طرف سے حاکم رہے تھے ۵۹ھ؁ ہجری میں وفات پائی۔یہ ابوسعیدبن یونس کا قول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابواوفی۔اسلمی ہیں۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی زکوۃ کامال بھیجاتھاتو آپ نے فرمایاتھاکہ یا اللہ ابواوفی کے خاندان پر رحمت نازل کر۔یہ علقمہ عبداللہ بن ابی اوفی کے والد تھے۔اصحاب بیعتہ الرضوان سے تھے۔ہمیں مسمار بن عمربن عویس وغیرہ نے اپنی سند کے ساتھ ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل (بخاری)سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے حفص بن عمرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے شعبہ نے عمروسے انھوں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کرکے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی قوم اپناصدقہ آپ کے پاس (تقسیم کے لیے) لاتی توآپ دعافرماتے کہ یااللہ فلاں شخص کے خاندان پررحمت نازل کرچنانچہ میرے والد بھی اپنا صدقہ آپ کے پاس لے گئے توآپ نے فرمایا کہ اے اللہ ابواوفی کے خاندان پر رحمت نازل کر ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن اعور رضی اللہ عنہ

  ۔سلمی اوربعض لوگ ان کو ابوعلقمہ کہتےہیں ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے ان سے ابن عباس نے روایت کی ہے عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی سزامیں آخرآخر میں مارناشروع کیاتھاآپ جب غزوۂ تبوک میں تھے توبوقت شب آپ کے خیمہ کوعلقمہ بن اعورسلمی نے نشہ کی حالت میں آکے گھیرلیااورخیمہ کی کچھ رسیاں بھی انھوں نے کاٹ ڈالیں حضرت نے پوچھاکہ یہ کیابات ہےلوگوں نے عرض کیا کہ علقمہ نشہ کی حالت میں ہیں پس حضرت نے حکم دیاکہ کوئی شخص تم میں سے اٹھ کر ان کاہاتھ پکڑکران کو ان کے مقام پر جاکر پہنچاآئے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علسہ ابن عدی رضی اللہ عنہ

   بلوی۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے درخت کے نیچے بیعتہ الرضوان کی تھی اورفتح مصر میں شریک تھے ان سے ان کے بیٹے ولید بن علسہ نے اورموسیٰ بن ابی اشعث نے روایت کی ہے یہ ابن یونس کا قول ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علس کلبی رضی اللہ عنہ

     نے کہاہےکہ (ان کانا م ونسب یہ  ہے)علس بن نعمان بن عمروبن عرفجہ بن فاتک بن امراء القیس بن ذہل بن معاویہ بن حارث اکبرکندی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں وفدبن کرآئے تھےیہ اوران کے دونوں بھائی حجراوریزیداس وفد میں تھ میں نہیں جانتا کہ یہ وہی ہیں جن کاذکر طبری نے کیاہےاوران کا نسب اسود تک بیان کیاہےیاکوئی اورہیں ہم نے اسی کے موافق لکھ دیاہے جوہشام کلبی نے بیان کیاہےواللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علس ابن اسود رضی اللہ عنہ

  کندی طبری نے ان کاذکران لوگوں میں کیاہے جونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں وفد بن کرآئےتھے یہ اوران کے بھائی سلمہ بن اسوددونوں اس  وفد میں تھے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علبہ ابن زیدبن رضی اللہ عنہ

   صیفی بن عمروبن زید بن جہثم بن حارثہ بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس انصاری اوسی حارثی قبیلہ بنی حارثہ سے ہیں ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے ان سے محمودبن لبیدنے روایت کی ہے یہ بھی منجملہ ان لوگوں کے تھےجن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تھی۱؎ الذین تولوواعینہم تفیض من الدمعاورعبدالمجیدبن ابی عبس بن جبرنے اپنے والدسے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے جب صدقہ کی ترغیب دی توہرشخص اپنی طاقت کے موافق صدقہ لایاعلبہ بن زید نے کہاکہ میرے پاس کچھ مال نہیں ہے جوصدقہ  دوں یا اللہ میں اپنی آبروکاصدقہ کرتاہوں جو شخص تیری مخلوق میں سے اس کو چاہے لے لے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بیشک اللہ نے تمھارا صدقہ قبول کرلیاان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎ترجمہ جولوگ روتے ہوئے لوٹ گئے کہ ان کے پاس راہ خرچ نہ تھا جس کولے کرجہادمیں جاتے۱۲۔ (اسد الغابۃ ج۔۔۔

مزید

سیّدنا علباء سلمی رضی اللہ عنہ

   ان کاشمار اہل مدینہ میں ہے ان سے صرف ایک حدیث مروی ہے ہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازۃً اپنی سند کے ساتھ ابوبکربن ابی عاصم سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن علی بن میمون نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے حضربن محمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے علی بن ثابت نے عبدالحمید بن جعفر سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے علباء سلمی سےروایت کی ہے کہ وہ کہتے تھےمیں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے سناآپ فرماتےتھے قیامت نہ قائم ہوگی یہاں تک کہ غلاموں میں سے ایک شخص جس کانا م جہجاہ ہوگالوگوں پرحکومت کرے گا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید