جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

پسنديدہ شخصيات

میاں میراں بخش رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں سلطان بالابن الٰہی بخش نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ فرزند اکبرتھے۔بیعت طریقت اور خلافت شیخ گوہرشاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ  اللہ علیہ سے تھی۔جن کاذکر چوتھےطبقہ کے نویں باب میں گذرچکاہے۔آپ والد بزرگوارکےبعد سجادہ نشین ہوئے۔ شجرہ بیعت میاں سلطان شیردڑوہ والہ کے حالات میں لکھاجاچکاہے۔ وجد و تاثیر منقول ہے کہ ایک بارتمام اولادحضرت سچیاردرگاہَ حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ پر حاضر ہوئے۔محفل سرورمنعقدہوئی۔دیرتک قوالی ہوتی رہی ۔مگرکسی کو تاثیر نہ ہوئی۔سب کو خیال ہو ا کہ شہنشاہ کے دربارکے سامنے قوالی ہورہی ہے۔پھر وجد کیوں نہیں ہوتا۔ اس وقت آپ جوش سے اُٹھ کردربارشریف کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایاقوالو۔یہ پڑھو۔ "شہربھنبھوروسندیوکُڑیونک نَتھ نہ رکھیوکائی" اورہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔اُس وقت اتنی تاثیرہوئی کہ کُل اہل مجلس کو وجدہوگیا۔ توام لڑکے پیداہونےکی دعا میاں محمد ا۔۔۔

مزید

میاں دیوان علی دڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں اکبرعلی بن سلطان حاجی دڑوہ والہ کے چوتھے بیٹے تھے۔ معمولات آپ پرہیزگار،اہل تقوٰے تھے۔نماز پنجگانہ پر واظبت رکھتے۔سردیوں کے موسم میں ساری مسجد میں گذاردیتے۔قرآن مجید کی تلاوت کیاکرتے۔ان کاجسم دُبلاپَتلاتھا۔ شادی خانہ آبادی آپ کی شادی ۲۷کتک ۱۹۱۹؁بکرمی مطابق ۱۹جمادی الاولیٰ ۱۲۷۹ھ؁ کو ہوئی۔ اولاد آپ کے دوبیٹے تھے۔ ا۔میاں اللہ دتہ لاولد۔ ۲۔میاں فیروزعلی۔ ؎         میاں  فیروزعلی کے چاربیٹے ہیں۔صاحبزادہ محمد شفیع۔صاحبزادہ محمد عالم۔صاحبزادہ محمد طفیل۔صاحبزادہ نذرمحی الدین موجود ہیں۔ ؎         صاحبزادہ محمد عالم کے چار بیٹے ہیں۔صاحبزادہ محمود اختر۔صاحبزادہ سلمیر احمد۔صاحبزادہ           منیر احمد۔صاحبزادہ سعید احمد۔چاروں موجودہیں۔ تاریخ وفات میاں دی۔۔۔

مزید

میاں حشمت علی دَڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں اکبرعلی بن سلطان حاجی دَڑوہ والہ کے تیسرے بیٹے تھے۔بیعت طریقت سلطان مست بن سلطان ملک نوشہروی سے تھی۔ اخلاق و عادات آپ بڑے بارعب وبااقبال تھے۔سخاوت اور جودوکرم میں بلند پایہ تھے۔چھ ہَل کی زراعت کرتے۔دولتمندواہل جمیعت تھے۔آیندہ روندہ کوروٹی دیاکرتے۔ اولاد آپ کے تین بیٹے تھے۔ ا۔میاں امام علی۔ ۲۔میاں فتح علی۔ ۳۔میاں غلام حسن۔ ؎         میاں امام علی کاذکر آٹھویں باب میں آئےگا۔ ؎         میاں فتح علی کے ایک ہی فرزند میاں نواب علی موجودہیں۔ ؎         میاں نواب علی کے دو بیٹے ہیں۔صاحبزادہ غلام انور۔صاحبزادہ غلام غوث۔دونوں اس           وقت موجود ہیں۔ ؎         صاحبزادہ غلام ا۔۔۔

مزید

میاں سلطان شیردَڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

آپ میاں اکبرعلی بن سلطان حاجی دَڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے فرزند تھے۔بیعت وخلافت شیخ گوہر شاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ شجرہ بیعت آپ مرید شیخ گوہرشاہ سلیمانی کے۔وہ مرید شیخ نظام الدین سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ گھنگوالی کے۔ اس سے اُوپرشجرہ میاں غلام حسن بن سلطان مست نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے ذکرمیں لکھاگیاہے۔ فیضانِ کثیر آپ بڑے صوفی اہل شریعت وطریقت۔صاحب فیضان ظاہری و باطنی  تھےنماز باجماعت اداکیاکرتے ۔دنیاوی جاہ وجلال بھی بہت تھا۔ اولاد آپ کے پانچ بیٹے تھے۔ ا۔میاں چراغ علی ۔ ۲۔میاں حسین بخش۔ ۳۔میاں عطامحمد۔ ۴۔حافظ غلام محمد۔ ۵۔میاں شاہ محمد۔ ؎         میاں چراغ علی کے ایک ہر فرزند صاحبزادہ محمدحسین اس وقت ۱۳۷۶ھ؁ میں موجودہیں۔ ؎         صاحبزادہ محمد حسین کے دو ۔۔۔

مزید

میاں خوشی محمد دَڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں اکبرعلی بن سلطان حاجی دَڑوہ والہ کے فرزند اکبرتھے۔بیعت ِ طریقت نوشاہی ہاشمی خاندان میں کسی صاحبزادہ سےتھی۔ خلعت سرداری والد نے آپ کو تمام بھائیوں پر خلعت سرداری عطاکی۔آپ  امیر طبع اور ریاست ولیاقت کے اوصاف سےموصوف تھے۔گھوڑیاں ۔اونٹ اور بَھینسیں رکھنے کا آپ کو بہت شوق تھا۔ آپ کی شادی میاں سلطان بالابن الٰہی بخش نوشہروی کی بیٹی ہوئی  تھی۔لیکن کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ تاریخ وفات میاں خوشی محمد کی وفات ۱۲۹۴ھ؁ میں ہوئی۔قبرموضع دَڑوہ (اکبرآباد) ضلع گجرات میں ہے۔ قطعہ تاریخ ازمولوی حافظ محمد رمضان قادری امام مسجد دَڑوہ عیاں شددرجہاں دروالہما جہاں شدتیرہ از آلام، غمہا بعالم غم الم گردید بے حد زفوتِ مہَ لقاخوشی محمد یکے مردِکریم ونیک خُوبود نیامد ہمسرش اندرکرم جود تفاخر فقرِ نوشاہی از ویافت فقط جانِ خود اندرراہِ حق باخت قبائے نیک،بختی دربرش ب۔۔۔

مزید

میاں محمد الدین رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں نبی بخش بن سلطان امیر نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔بیعت و طریقت اور خلافت سید امیر عالم بن سید ایزدبخش ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن کاذکرتیسرے طبقہ کے آٹھویں باب میں گذرچکاہے۔ شجرہ بیعت آپ مرید سید امیرعالم ہاشمی کے۔وہ مرید شیخ چنن شاہ بن صدق شاہ سلیمانی رسول  نگری کے ۔وہ مرید شیخ پُھلے شاہ بن فتح الدین سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ  رسول نگری کے۔وہ مرید شیخ حمزہ شاہ سلیمانی جوکالوی کے۔وہ مرید اپنے والد شیخ محمد آفتاب سلیمانی کے۔وہ مرید اپنے والد شیخ تاج محمود قلندریہ سلیمانی بھلوالی کے ۔وہ مرید حضرت نوشہ گنج بخش قادری قدس سرہ العزیز کے۔ اشغال واوراد آپ نے ابتدائے احوال میں اسم شریف اللّٰہ الصَّمَدکی دعوت کی۔جلالی و جمالی کی پرہیزات کے ساتھ پچاس لاکھ ختم کیا۔روزانہ بیس ہزار کی منزل ہوتی تھی۔اس کے بعد روزانہ اس کاوظائف کرتےاوراس کے برکات سے متم۔۔۔

مزید

حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہا

اِن کی کنیت ابو عبد اللہ، نام عثمان، لقب ذو النّورین تھا، والد کا نام عفّان بن ابی العاص بن حارث بن امیّہ بن عبد الشمس بن عبد المناف بن قصیّ القرشی تھا، [۱] [۱۔ مسالک السالکین جلد اوّل ص ۱۰۹] والدہ کا نام امّ حکیم بیضا بنت عبد المطّلب بن ہاشم بن عبد المناف تھا، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی پھوپھی تھیں، [۱] [۱۔ سفینۃ الاولیا قلمی ۱۲ خزینۃ الاصفیا جلد اوّل ص ۱۳] واقعہ فیل سے چھ سال بعد پیدا ہوئے، حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بعد سب مردوں سے اوّل ایمان لائے، اور حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یکم محرم ۲۴ھ کو  باتفاق صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جلوہ افروزِ خلافت ہوئے اور بارہ سال تک ترویجِ دین فرما کر بروز جمعہ بتاریخ بارہویں (۱۲) ذی الحجہ ۳۵ھ باغیوں کے ہاتھ سے تلاوتِ قرآن مجید فرماتے ہوئے شہید ہوئ۔۔۔

مزید

حافظ حاجی شاہ بخش رحمتہ اللہ علیہ

  فرزندچہارم میاں سلطان فضل بن سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ بیعت اپنےوالد کے ماموں میاں سلطان علی بن عبدالغفور بن غلام مصطفےٰ وڑائچ جھنگیوالہ رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل تھی۔وہ مرید میاں سلطان ملک موصوف کے۔ حج وزیارات آپ صاحب علم وعمل کلام اللہ شریف کے حافظ۔فقیر کامل۔امیرانہ مزاج تھے۔آپ نے حج حرمین الشریفین کیا۔بغداد شریف میں حضرت غوث الاعظم رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ عالی پر گوشہ نشین رہےاور نجف اشرف میں درگاہِ مرتضوی پر بھی چلہ کیا۔چالیس سال تک طعام نہ کھایا۔پھرجناب غوثیہ سے امرہواتوکھانے لگے۔احمد آباداور سندھ حیدرآبادکے نواب آپ کے ارادت مندوں میں سے تھے۔ آپ کی اولاد باقی نہ رہی۔ یارانِ طریقت آپ کے خواص احباب یہ تھے۔ ۱۔میاں اخلاص محمد برادرکلاں                    &۔۔۔

مزید

میاں اخلاص محمّد رحمتہ اللہ علیہ

  فرزند سوم میاں سلطان فضل بن سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ ۔بیعت و خلافت اپنے چھوٹے بھائی میاں شاہ بخش بن سلطان فضل سے رکھتے تھے۔ اعمال صالح آپ امیرانہ مزاج درویش تھے۔شریعت کے پابند ۔عابد۔متورع۔متقی۔ زاہدتھے۔آپ کا قلب ذاکرتھا۔علم توحیدمیں آپ کاکلام عالی تھا۔ اولاد آپ کےایک ہی فرزند میاں لدھے شاہ تھے۔ ؎         میاں لدھے شاہ اہل توحید وفقرتھے۔ان کا ایک درویش سائیں بدرالدین کشمیری گجراتی صاحب ذکروفکرتھا۔ان کے تین بیٹے ہوئے۔میاں شہسوار۔میاں محمد حسین ۔میاں فضل حسین۔ ؎         میاں شہسوار مہمان خلیق و لئیق تھے۔جوانی میں انتقال کرگئے۔ان کے تین بیٹے ہیں۔           صاحبزادہ غلام سرور ۔صاحبزادہ محمد شفیع ۔صاحبزادہ نذرمحی الدین ۔تینوں موجودہیں۔ ؎&n۔۔۔

مزید

میاں رستم علی رحمتہ اللہ علیہ

  فرزند ثانی میاں سلطان فضل بن سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ ۔خرقہ خلافت و اجازت اپنے چچامیاں سلطان مست رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ اخلاق آپ بڑے بہادرشاہ زورتھے۔دنیاکو ترک کرکے فقیر ہوگئے۔خوش آواز بحد کمال تھے۔ ستار کے ساتھ گایاکرتے تھے۔سامعیں کو بہت تاثیرہواکرتی۔ریاست مالیر کوٹلہ کانواب آپ کامرید تھا۔ مدفن میاں رستم علی ریاست مالیر کوٹلہ میں فوت ہوئے۔کوئی اولاد باقی نہیں۔بیان کیاجاتاہے کہ آپ کی قبرفرشتوں نے بنائی تھی۔ وفات  ۱۳۲۳ھ؁۔ فائدہ۔ مردانِ غیب یاملائکہ کابزرگوں کے ساتھ ایسی خدمات کرناکتب تاریخ و تصوّف سے ثابت ہے۔چنانچہ ۱۔خواجہ مودودچشتی کاجنازہ مردانِ غیب نے پڑھااورغائب ہوگئے۔۱؎ ۲۔شاہ جمال قادری کوملائکہ نے دفن کیا۔کسی کو خبرنہ ہوئی۔۲؎ ۱؎تذکرہ اولیائےہندجلد۱ص۲۱۔۲؎تذکرہ جلد۳ص۱۶۶۔شرافت   (سریف التوایخ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید