ابن خالد بن نعمان بن جفسا بن عسیرہ بن عبد بن عوف بن غنم بن مالک۔ بنی تیم اللہ سے ہیں۔ ان کا نسب ابن مندہ اور ابو نعیم نے ایسا ہی بیان کیا ہے۔ اور ابو عمر نے کہا ہے کہ یہ ثابت بیٹے ہیں خالد بن نعمان بن جنسا بن عبد بن عوف بن غنم بن مالک بن نجار کے جنگ بدر میں شریک تھے۔ یہ اور ابو ایوب عبد بن عوف میں جاکے مل جاتے ہیں۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ ابن مندہ نے یونس بن بکیر سے انھوںنے ابن اسحاق سے شرکائے بدر میں بنی غنم سے ثابت بن خالد بن نعمان کا ذکر کیا ہے اور ابن مندہ نے کہا ہے کہ موسی بن عقبہ نے ان کو بنی تیم اللہ سے لکھاہے اور ابن اسحاق نے شرکا سے بدر میں ابن اسحاق کی طرح ان کا ذکر لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہ بنی تیم اللہ سے ہیں۔ میں کہتا ہوں بے شک ابن مندہ نے یہ گمان کیا ہے کہ بنی غنم اور میں بنی تیم اللہ اور میں اور بنی تیم اللہ اور میں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ غنم بیٹے ہیں مالک ۔۔۔
مزید
ابن حسان بن عمرو۔ بنی عدی بن نجار سے ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ بدر میں شریک تھے۔ یہ زہری کا قول ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن حارث انصاری۔ جنگ بدر میں شریک تھے۔ ان کا شمار اہل مصر میں ہے۔ ان سے حارث بن یزید نے روایت کی ہے کہ انوں نے کہا یہود کی عادت تھی کہ جب ان کا کوئی چھوٹا بچہ مر جاتا تو کہتے کہ یہ صدیق ہے نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہود جھوٹ بولتے (٭یعنی بغیر علم کے یہ بات کہتے ہیں چٹے بچوں کی بابت علماء اسلام مختلف ہیں بعض کہتے ہیں کہ سب ناجی ہیں بعض کہتے ہیں قطعا ناجی نہیں ہیں جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے حنفیہ کا مسلک اس بارے میں سکوت ہے) ہیں اللہ تعالی جب کسی جان کو ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے تو اسی وقت وہ شقی و سعید (بھی لکھ دیتا) ہے پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ہو اعلم بکم اذا انشائکم من الارض واذا انتم اجنتہ فی بطون امہتکم الایہ (٭ترجمہ وہ (اللہ) تم سے خوب واقف ہے جب کہ اس نے تمہیں زمیں سے پیدا کیا اور جب کہ تم اپنی ماں کے شکم میں بچے تھے) ان کا تذکرہ تینوں نے۔۔۔
مزید
ابن جذع۔ جذع کا نام ثعلبہ بن زید بن حارث بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ بن سعد بن علی بن اسد بن شارہ بن تزید بن جشم بن خزرج انصاری خزرجی ثم اسلمی۔ ابن اسحاق نے کہا ہے کہ یہ ثابت بیع تعقبہ میں شریک تھے اور زہری نے کہا ہے کہ یہ بدری ہیں۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن اقرم بن ثعلبہ بن عدی بن عجلان بن حارثہ بن ضبیعہ بن حرام بن جعل بن خثیم بن ودم بن ذبیان بن ہمیم بن ذہ بن ہنی بن بلی۔ یہ مرہ بن حباب عدی بلوی کے چچازاد بھائی ہیں انصار سے ان کی حلف کی دوستی تھی۔ عروہ اور موسی بن عقبہ نے کہا ہے کہ یہ بدر میں شریک تھے اور تمام غزوات میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ شریک رہے اور غزوہ موتہ میں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے پھر جب عبداللہ بن رواحہ شہید ہوئے تو جھنڈا انھیں دیا گیا مگر انھوں نے وہ جھنڈا خالد بن ولید کو دے دیا اور کہا کہ تم فن حرب کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ یہ ثابت سن۱۱ھ میں قتال مرتدین میں شہید ہوئے اور بعض لوگ کہتے ہیں سن۱۲ھ میں ان و طلیحہ اسدی نے قتل کیا تھا اور عکاشہ بن محصن بھی انھیں کے ہمراہ شہیدہوئے تھے۔ طلیحہ اور ان کے بھائی نے مل کے ان دونوں کو قتل کیا اس کے بعد طلیحہ مسلمان ہوگئے تھے۔ اور عروہ نے کہا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک۔۔۔
مزید
اخنس بن شریق بن عمرو بن وہب ثقفی کے غلام تھے جو بنی زہرہ بن کلابکے غلام تھے۔ ثابت مہارین میں سے تھے پھر مصر چلے گئے تھے۔ انکی کوئی روایت معلوم نہیں۔ یہ عبدان کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
اوسی۔ خیبر میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ شہید ہوئے انکا تذکرہ عبدان نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ ابو موسی نے ان کا تذکرہ اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
یہ ایک مجہول شخص ہیں۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ ان کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ابو عبداللہ جعفی نے محمد بن سوقہ سے انھوں نے اسعد بن تیہان انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے روایت یا ہے کہ انھوںنے رسول خدا ﷺ کو سنا کہ آپنے موذن کی آواز سن کر ویسا ہی فرمایا (یعنی یہ کہ ہمیں اپنے شعر سنائو) ابن مندہنے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے صرف اسی سند سے مروی ہے صرف ابن مندہ نے اس تذکرہ کو لکھا ہے اور ابو نعیم نے اس حدیث کو تیہان والد ابو الہثیم کے بیان میں لکھاہے اور کہا ہے کہ اس حدیث میں اور اس حدیث میں جو اس سے پہیلے گذر چکی کلام ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابو الہثیم بن تیہان کے والد ہیں۔ محمد بن جعفر مطین نے ہناد بن سری سے انھوں نے یونس بن بکیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے انھوںنے مہمد بن ابراہیم بن حارث تیمیس ے انھوں نے ابو الہثیم بن تیہان سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ سے اثنا ے سفر خیبر میں عامر بن اکوع سے یہ فرماتے ہوئے سنا اکوع کا نام سنان ہے کہ ہمیں کچھ اپنا اشعار انائو تو عامر اتر پڑِ اور انھوںنے رسول خدا ﷺ کے سامنے رجز پڑھنا شروع کیا اور یہ اشعار پڑھے۔ والیہ لولا اللہ ما اہتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا فانزلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لاقینا (٭ترجمہ۔ قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے پس اے اللہ تو ہم پر اطمیںان نازل کر اور جب ہم ۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو دخان ہے۔ انکی حدیث عباس ازرق نے ہذیل بن مسعود سے انھوںنے شعبہ بن دخان بن قوام سے انھوںنے ان کے دادا سے روایتکی ہے کہ نبی ھ نے فرمایا یہ شعر موزوں کلام عربکا نام ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید