ابن ابی زید نام نا کا ثابت بن زید ہے۔ ابو زید ان چھ آدمیوں میں تھے جنھوں نے رسول خدا ﷺ کے عہد میں قران جمع کیا تھا۔ جنگ حرہ میں شہید ہوئے یہ ابن مندہ نے محمد بن سعد سے نقل کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ جنگ جسر میں شہید ہوئے وہم اور تصحیف ہے وہ جنگ جسر میں شہید ہوئے جس دن ابو عبیہ ثقفی عراق میں شہید ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا وہ دن قس ناطف کا تھا۔ انھوں نے جسر کوحرہ لکھ دیاواللہ اعلم ابو عمر اور کلبی نے بھی ان کا ذکر لکھا ہے مگر انھوں نے لکھا ہے کہ ابو زید کا نام قیس بن سکن ہے انھوں نے قرآن جمع کیا تھا۔ لوگ ابو زید کے نام میں بہت اختلاف کرتے ہیں جو ابو زید کے بیان میں آئے گا ابو عمر نے بشیر بن زید انصاری کا تذکرہ لکھاہے اور کہا ہے کہ کلبی نے بیان کیا ہے کہ ان کے والد ابو زید احد کے دن شہید ہوئے اور بشیر بن ابی زید اور ان کے بھائی وداعہ بن ابی زید صفین میں حضرت ۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو رافع ہے۔ انصاری سلمی ہیں۔ بعض لوگ ان کا نام بشر کہتے ہیں۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے یہاں مختصر لکھا ہے اور کہا ہے کہ ان کا صحابی ونا چابت ہے۔ان سے ان کے بیٹے رافع نے روایت کی ہے۔ ان کے نام میں اختلاف ہے ان کا تذکرہ ابو نعیم نے بھی لکھا ہے اور انھوں نے ان کے بیٹے کی روایت بواسطہ ان کے نبی ﷺ سے نقل کی ہے کہ آپنے فرمایا (قریب قیامت کے) ایک آگ ظاہر ہوگی الی آخر الحدیث ان کا تذکرہ ابو موسی نے بھی لکھا ہے اور کہا ہے کہ ابو زکریا نے اپنے دادا ابو عبداللہ بن مندہ پر استدراک کرنے کے لئے ان کا تذکرہ لکھا ہے۔ ابو موسی نے کہا ہے کہ ابو عبداللہ نے ان کا تذکرہ بشڑ اور بشیر کے نام میں ان کا تذکرہ لکھا ہے پس وہ سمجھے کہ یہ کوئی اور ہیں حالانکہ یہ سلمی بفتح سین و لام ہیں منسوب طرف بنی سلمہ کے جو انصر میں سے تھے۔ میرا خیال یہ ہیک ہ ابو زکریا نے اپنے ددا کی کتاب میں بشر کے بیان میں وہ مضم۔۔۔
مزید
بعض لوگ ان کو بشر کہتے ہیں کنیت ان کی ابو خلیفہ ہے انھوںنے نبی ﷺ سے جہاد کے بارے میں ایک حدیث روایت کی ہے۔ انکا تذکرہ بشر کے نام میں ہوچکا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
یہ ابن خصاصیہ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کے نسب میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کا نام بشیر بن یزید بن معبد بن ضباب بن سبع ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ بشیر بن معبد بن شراحیل بن سبع بن ضباری بن سدوح بن شبان بن ذہل بن ثعلبہ بن عکابہ بن صعب بن علی بن بکر بن وائل ہے۔ ان کا نام پہلے زحم تھا رسول خدا ﷺ نے ان کا نام بشیر رکھا۔ ہمیں یحیی بن محمود بن سعد نے اپنی اسناد سے ابوبکر بن ابی عاصم تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عفان نے خبر دی وہ کہتے تھے میں حماد بن زید نے ایوب سے انوں نے وسیم سدوسی سے انھوں نے بشیر بن خصاصیہ سے روایت کر کے خبر دی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے اور نبی ﷺ نے ان کا نام بشیر رکھا ان کو ابن خصاصیر اس وجہے کہتے ہیں کہ ان کی ماں کا نام خصاصیہ تھا۔ اور ہشام کلبی نے کہا ہے کہ سدوس بن شیان کے دو بیٹے تھ ثعلبہ اور ضباری ان ۔۔۔
مزید
یہ حارثی ہیں بعض لوگ انھیں کعبی کہتے ہیں۔ کنیت ان ی ابو عصام ہے۔ ابو نعیم نے کہا ہے کہ یہ بسیر بیٹے ہیں فدیک کے اور ابن مندہ نے بشیر بن فدیک کو بسیر حارثی کے علاوہ کھا ہے جن کی کنیت ابو عصام ہے۔ بشیر بن فدیک کے بیان میں انشاء اللہ اس کی بحث ہوگی انھوں نے حضرت کو دیکھا ہے اور ان کے بیٹے بھی صحابی ہیں ان سے ان کے بیٹے عصام بن بشیر نے روایت کی ہے کہ یہ کہتے تھے مجھے میری قوم بنی حارث نے نبیﷺ کے حضور میں بھیجا اور اپنے مسلمان ہونے کی خبر کہلا بھیجی چنانچہ میں حضور میں پہنچا آپ نے فرمایا تم کہاں سے آئے ہو میں نے عرض کیا کہ میں اپنی قوم بنی حارث بن کعب کی طرف ان کے اسلام کی خبر لے کر حضور میں آیا ہوں آپنے فرمایا مرحبا۔ تمہارا کیا نام ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام اکبر ہے آپنے فرمایا نہیں تمہارا نام بشیر ہے ور حارث بن کعب بیٹے ہیں علہ بن جلد بن مالک بن اودبن زید بن بشجب ابن عریب بن زید بن ۔۔۔
مزید
ابن حارث عبسی یہ ان نو آدمیوں میں سے ہیں جو رسول خدا ﷺ کے حضور میں قبیلہ عبس سے حاضر ہوئے تھے اور اسلام لائے تھِے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن حارث انصاری۔ انکا تذکرہ عبد بن حمید نے ان لوگوں یں یا ہے جنھوں نے نبیھ کا شرف زیارت حاصل کیا ہے حالانکہ یہ وہم ہے ان کا شمار تابعین میں ہے۔ دائود آمدی نے شعبی سے انھوں نے بشیر بن حارث سے روایت کی ہے کہ بشر نے یا بشیر نے کہا کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب (قرآن کے) کسی حرف میں تم اختلاف کرو کہ بے ہے یا تے تو س کو بے کے ساتھ لکھ دو۔ اس کو ایک جماعت نے شعبی سے انھوںنے بشر بن حارث سے انھوں نے ابن مسعود ے رویت کی اہے۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کابیان تھا مگر ابو عمر نے ابن ابی حاتم سے ان کا صحابی ہونا نقل کیا ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں بیان کی۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو جمیلہ۔ انھوں نے نبی ﷺ کی زیارت کی ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے ابن سعد کاتب واقدی سے نقل کیا ے اور ابو نعیم نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں یعنی ابن مندہ نے ان کیبیان میں تصحیف کر دی ہے ان کا تذکرہ لکھا ہے مگر ان کی کوئی روایت نہیں لکھی ان کا صحیح نام سنین ہے کنیت ابو جمیلہ ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
یہ بیٹے ہیں جابر بن عراب بن عوف بن ذوالہ عبسی کے۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا بیان ہے۔ اور ابو عمر نے لکھا ہے کہ یہ عکی ہیں (قبیلہ عکہ سے) ور بعض لوگ ان کو غافقی کہتے ہیں ان سب لوگوں نے لکھا ہے کہ ابن یونس نے ان کا تذکرہ ان صحابہ میں کیا ہے جو فتح مصر میں شریک تھے اور کہا ہے کہ نہ یہ صحابی ہیں اور نہ انھوں نے کوئی روایت کی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بعض لوگوں نے جو عکی کہا ہے اور بعض لوگون نے عبسی کہا ہے اس می کچ اختلاف نہیں ہے کیوں کہ عبسی میں نسبت ہے عبس بن صحار ابن عک ک یطرف نہ عبس بن بفیض بن ریث بن غطفان کی طرف ان کے نسب کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے نسب ان کا یہ ہے بشیر بن جابر ابن عراب بن عوف بن ذوالہ بن شیوہ بن ثوبان بن عبس بن صحار۔ اور اسی طرح عکی اور غافقی کے درمیان میں بھی اختلاف نہیں ہے کیوں کہ غافق بیٹے ہیں شاہد بن عک بن عدنان کے عبس اور غافق دونوں چچازاد بھائی ہیں۔ (اسد الغابۃ ج۔۔۔
مزید
ثقفی ان سے حفصہ بنت سیرین نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں رسول خدا ﷺ کے حضور میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ اونٹ کا گوشت نہ کھائو ں گا اور شراب نہ پیوں گا تو رسول کدا ﷺ نے فرمایا کہ اونٹ کا گوشت تو کھائو ہاں شراب البتہ نہ پیو۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے۔ ابن ماکولا نے بیان کیا ہے ہ ان کے نام میں اختلا ف ہے بعض لوگ بشیر کہتے ہیں اور بعض لوگ بجیر کہتے ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید