ام الطفیل جوابی کعب کی زوجہ تھیں،ان سے محمد بن ابی کعب،عمارہ بن عمیر اور بشر بن سعید نے روایت کیاوریاسر بن ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ سے انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اسحاق بن عیسٰی سے،انہوں نے ابن لہیعہ سے،انہوں نے بکیر سے،انہوں نے بشر بن سعید سے،انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کی،کہ عمر بن خطاب کا مجھ سے ایک ایسی بیوہ عورت کے بارے میں جھگڑا ہوگیا،جو حاملہ ہو،میں یہ کہتا تھا،کہ وہ وضع حمل کے بعد ہی نکاح کر سکتی ہے،اس پر ام الطفیل نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کی ام ولد سبیعہ اسلمیہ کو وضع حمل کے بعد نکاح کی اجازت دی تھی۔ سعید بن ہلال نے مروان بن عثمان سے انہوں نے عمارہ بن عامر بن حزم الانصاری سے،انہوں نے ام الطفیل سے روایت کی،کہ حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ آپ کو خواب میں اللہ تعا لیٰ کی زیارت نصیب ہوئی،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عبید دختر صخربن مالک،ابن جریج نے عکرمہ سے روایت کی،کہ اسلام نے چار عورتوں اور ان کے سوتیلے بیٹوں کے درمیان جو جاہلیت کے زمانے سے اپنی سوتیلی ماؤں کے خاوند بنے ہوئے تھے، تفریق کی،ایک حمنہ دختر ابو طلحہ بن عبدالعزی بن عثمان بن عبدالدار،جو خلف بن اسد بن عاصم بن بیاضہ خزاعی کی زوجہ تھیں،اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے اسود بن خلف نے اسے بیوی بنالیا، دوسری فاختہ دختر اسود بن عبدالمطلب تھی،جو امیہ بن خلف کی بیوی تھی،جس پر امیہ کی موت کے بعد اس کے بیٹے صفوان بن امیہ نے قبضہ کرلیا تھا،تیسری ام عبید دخترصخر بن مالک بن عمرو بن عزیز تھی،جواسلت کی بیوی تھی،اور خاوند کی موت کے بعد ابوقیس بن اسلت نے سنبھال لی تھی،اور اسلت بنوانصار سے تھی،چوتھی ملیکہ دختر خارجہ بن سنان بن ابی حارثہ تھی،جو زبان بن سیار کی بیوی تھی،جسے زبان کی وفات کے بعد منظور بن زبان نے بیوی بنالیا تھا۔ ۔۔۔
مزید
ام اسید انصاریہ،ابو اسید انصاری کی زوجہ تھیں،محمد بن محمد بن سرایا بن علی الفقیہ کے علاوہ اور کئی راویوں نے باسنادہ محمد بن اسماعیل سے،انہوں نے سعید بن ابو مریم سے،انہوں نے ابو غسان سے،انہوں نے ابوحازم سے،انہوں نے سہل بن سعد سے روایت کی،کہ جب ابواسید ساعدی نے شادی کی،تو انہوں نے حضورِ اکرم اور صحابہ کوکھانے کی دعوت دی،کھانا تیار کرنے اور مہمانو ں کے سامنے پیش کرنے کا سارا کام ابواسید کی بیوی،ام اسید نے سر انجام دیا،جب حضورِ اکرم کھانا کھا چکے، تو ام اسید نے وہ مشروب جو پتھر کے ایک برتن میں رات کو کھجوریں بھگو کر تیار کیا تھا،ہلا کر تحفہ کے طور پر آپ کو پیش کیا،ابو موسیٰ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عثمان ابوالعاص ثقفی ،ان کے بیٹے عثمان ان کی حدیث کے راوی ہیں،ان کی حدیث کو عبداللہ بن عثمان بن ابوسلیمان نے ابن ابو سوید ثقفی سے،انہوں نے عثمان بن ابوالعاص سے،انہوں نے اپنی والدہ سے،روایت کی کہ وہ اس وقت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ کے پا س موجود تھیں،جب آپ کی ولادت ہونے کو تھی،جب جناب آمنہ کو درد زِہ شروع ہوا،تو میں نے دیکھا کہ ستارے زمین کے قریب آرہے ہیں اور مجھے یوں لگا،کہ ستارے مجھ پر گرنے والے ہیں،جب آپ کی ولادت ہوچکی تو نور کا ایسا ظہور ہوا،کہ جس کمرے میں ہم تھے،وہ چمک اٹھا،اور جدھر بھی نظر پڑتی تھی ہر طرف نور ہی نور تھا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عثمان دختر سفیان ام بنو شیبہ اکابر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی،ان سے صفیہ دختر شیبہ نے روایت کی،اور عبداللہ بن مسافع نے اپنی والد ہ سے انہوں نے ام عثمان سے۔ ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ سے،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے روح سےاور ابونعیم سے، انہوں نے ام ولد شیبہ سے روایت کی،کہ انہوں نے رسول اکر م کوصفااور مروہ کے درمیان دوڑتے دیکھا اور فرماتے سنا کہ ابطح کی وادی کو تیز رفتار سے طےکرنا چاہئے۔ حماد بن زید نے بدیل بن میسرہ سے،انہوں نے مغیرہ بن حکیم سے،انہوں نے صفیہ سے،انہوں نے ایک عورت سے روایت کی،کہ انہوں نے حضورِ اکرم کو دیکھا،اسی طرح حدیث بیان کی،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عثمان دختر خشیم خزاعیہ،وہب بن جریر نے اپنے والد سے،انہوں نے قیس بن سعہ بن عطاءسے ،انہوں نے ام عثمان دختر خشیم سے روایت کی،کہ انہوں نے رسولِ کریم سے عقیقے کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے فرمایا،لڑکے کے لئے دو جوان بکریاں اور لڑکی کے لئے ایک بکری،ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور لکھا ہے،کہ یہ حدیث ام کریز کبیسہ کے نام سے معروف ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام وہب دخترابوامیہ،ابن جریح کا قول ہے،کہ ابوسفیان بن حرب کے پاس چھ اور صفوان بن امیہ بن خلف کے پاس بھی چھ بیویاں تھیں(۱)ام وہب دختر ابوامیہ بن قیس ازبنوعیاطلہ(۲)فاختہ دختر اسود بن عبدالمطلب(۳)امیمہ دختر ابوسفیان بن حرب(۴)عاتکہ دختر ولی بن مغیرہ (۵)برزہ دختر مسعود بن عمرو(۶)ملاعب الاسنہ عامربن مالک بن جعفر کی بیٹی۔ صفوان نے ام وہب کو طلاق دےدی،کہ وہ بوڑھی ہوگئی تھی،اور فاختہ چونکہ امیہ بن خلف (والد صفوان) کے پاس رہ چکی تھی،اس لئے وہ بھی علیٰحدہ ہو گئیں،عاتکہ اور دختر ملاعب الاسنہ صفوان کے نکاح میں رہیں آخر کار عاتکہ کو خلافت عمر کے دوران طلاق ہو گئی،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام ولید دخترعمر،ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے روایت کی،کہ ایک شام کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا،اے لوگو! کیا تمہیں حیا نہیں آتی،انہوں نے گزارش کی، یارسول اللہ!کس چیز سے،فرمایا،تم وہ اشیاء جمع کرتے ہو،جنہیں کھاتے نہیں،اور ایسی چیزوں کی بنیاد رکھتے ہو،جن کی تعمیر نہیں کرتے،اور ایسے معاملات کے بارے میں سوچتے ہو،جن کا تم ادراک نہیں کرسکتے،کیا تمہیں ان حرکتوں سے شرم نہیں آتی،تینوں نے ان کا ذکر کیاہے۔ ابوعمرکاقول ہے،کہ وازع بن نافع کے نزدیک یہ راوی منکر الحدیث ہے،اور ابوسلمہ اور سالم سے ایسی روایت بیان کرتا ہے،جنہیں اس کے بغیر اور کوئی نہیں جانتا۔ ۔۔۔
مزید
ام ورقہ دختر عبداللہ بن حارث بن عمری انصاریہ،ایک روایت میں ام ورقہ دختر نوفل ہے اور وہ اپنی کنیت کی وجہ سے مشہور ہیں،ان کے نسب کا اختلاف ہے۔ عبدالوہاب بن علی الصوفی نے باسنادہ ابوداؤد سے،انہوں نے عثمان بن ابی شیبہ سے،انہوں نے وکیع سے،انہوں نے ولید بن عبداللہ بن جمیع سے،انہوں نے اپنی دادی اورعبدالرحمٰن بن خلاد انصاری سے،انہوں نے ام ورقہ بن نوفل سے روایت کی کہ جب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہِ بدر کے لئے کوچ فرمایا،تو ورقہ نے حضورکے ساتھ چلنے کی اجازت طلب کی،تاکہ مریضوں کی تیمارداری کریں،شاید انہیں بھی شہادت نصیب ہوجائے،فرمایا،تم اپنے گھر میں مقیم رہو،تمہیں یہیں شہادت مل جائے گی،چنانچہ لوگ انہیں شہید کہتے تھے،انہوں نے قرآن حکیم پڑھاتھا،اور آپ نے انہیں گھر میں موذن رکھنے کی اجازت دی ہو ئی تھی۔ انہوں نے اپنے غلام اور لونڈی سے مکاتبت کی تھی،ایک روات وہ دونو۔۔۔
مزید
ام یحییٰ دختر عبدالوہاب،عمر بن محمد بن معمر نے ابوغالب بن بناء سے،انہوں نے ابومحمد جوہری سے،انہوں نے ابوبکر بن مالک سے،انہوں نے بشر بن موسیٰ سے،انہوں نے ہوذہ بن خلیفہ سے، انہوں نے ابنِ جریج سے،انہوں نے عبداللہ بن ابوملیکہ سے،انہوں نے عقبہ بن حارث بن عامر سے روایت کی،کہ ام یحییٰ دختر ابی اہاب نے نکاح کیا،توایک سیاہ فام کنیز ان کے یہاں آئی اور کہا،کہ میں نے تم دونوں کو دُودھ پلایاہے،ام یحییٰ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور واقعہ بیان کیا،آپ نے فرمایا،اس کنیز کو زعم ہے،کہ اس نے تم دونوں کو دُودھ پلایا ہے،پس وہ اس کے قریب نہ جائے،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید