/ Thursday, 03 April,2025


شہیدِ جنگِ آزادی حضرت مولانا سیّد محمد کفایت علی کافی مراد آبادی رحمۃ اللہ تعا لٰی علیہ   (192)





مناجات کرتا ہوں میں اے عزیزو!

مناجات   مناجات کرتا ہوں میں اے عزیزو! ذرا لفظِ ’’آمین‘‘ تم بھی کہوں تو الٰہی الٰہی الٰہی الٰہی کرم کر طفیلِ رسالت پناہی ہمیں محوِ حُبِّ رسولِ خُدا کر ہمیں دین  و ایمانِ کامل عطا کر وہ ایمانِ کامل کہ حبِّ نبی ہے مِرے دل کو اُس کے لیے بے کلی  ہے مجھے حبِّ احمد کا شایاں عطا کر الہٰی! مجھے دین و ایماں عطا کر رہوں نعرہ زن، اُلفتِ مصطفیٰ میں شب و روز حبِّ حبیبِ خُدا میں مِرا عزم جب سُوۓ دارِ بقا ہو مِرے لب پہ نامِ حبیبِ خُدا ہو میں اپنے نبی کی محبّت میں اُٹھوں شفیعِ قیامت کی اُلفت میں اُٹھوں فوائد، فضائل درودِ نبی کے حبیبِ خُدا ہاشمی اَبطحی کے سنو او محبّانِ درگاہِ حضرت پڑھو اُن کے اوپر درودِ تحیّت سلام و صلاۃِ نبی کی فضیلت ہوئی ہے کتابوں میں وارد بَہ کثرت وہ اس طرح کی کثرتِ بے عدد ہے کہ امکانِ طاقت سے باہر وہ حد ہے مگر قدرِ طاقت جو علمائے دیں نے احادیث۔۔۔

مزید

لکھا ہے کوئی تو دُرود اس طرح کا

آغازِ فوائد و فضائلِ درود شریف لکھا ہے کوئی تو دُرود اس طرح کا کہ ہے اصلِ صلوات کا وہ نتیجہ ہوا ہے دُرود اس طرح کوئی مروی کہ تقریب  ہے واں شمار و عدد کے کسی کو ہے کیفیتِ خاص حاصل بَہ وقتِ معیّن ہوا کوئی داخل کوئی لازمِ حال میں پُر اثر ہے کہ تاثیر اُس کی کسی حال پر ہے غرض ایک یہ کیا بڑا فائدہ ہے کہ حکمِ الٰہی کا لانا بجا ہے کیا حکم اللہ نے مومنوں کو کہ تم سب سلام و صلاۃ اُن پہ بھیجو فرشتے بھی مامور اس امر کے ہیں کہ حضرت نبی پر وہ صلوات بھیجیں روایت میں یہ اور مذکور آیا درود ایک جو کوئی بندہ پڑھے گا جنابِ الٰہی سے دس بار اُس پر نزولِ دُرود ہو عنایات گستر مدارج بھی دس اس بشر کے بڑھیں گے اور اُس کے لیے نیکیاں دس لکھیں گے مٹا دیں گے دس جرم و عصیاں کا نقشا درود ایک کا اتنا درجہ ملے گا کیا یہ بھی ارشاد خیرالورا نے حبیبِ خدا خاتمِ انبیا نے کہ جو میرے اوپر درود ایک بھیجے تو ستر درود اُس کو۔۔۔

مزید

سلامٌ علیک اے حبیبِ الٰہی

صلو علیہ واٰلہ سلامٌ  علیک اے حبیبِ الٰہی سلامٌ علیک اے رسالت نہ پاہی سلامٌ  علیک اے مہِ برجِ رحمت سلامٌ علیک اے درِ دُرجِ رحمت سلامٌ علیک اے سنراوارِ تحسیں مناقب تمہارا ہے طٰہٰ و یاسیں سلامٌ علیک اے شہِ دین و دنیا اگر تم نہ ہوتے، کوئی بھی نہ ہوتا سلامٌ علیک اے خدا کے پیارے قیامت میں ہم عاصیوں کے سہارے سلامٌ علیک اے خبردارِ اُمّت یہاں اور وہاں آپ غم خوارِ اُمّت درود آپ پر اور سلام ِ خُدا ہو قیامت تلک بے حد و انتہا ہو سنا واہ کیسا یہ جاں بخش مژدہ کہ مژدہ نہیں کوئی اُس سے زیادہ کہ جو اُمتی سرورِ انبیا کا درود اور تسلیم  ہے عرض کرتا تو اُس  محفلِ خاصِ نور و ضیا میں حضورِ جنابِ رسولِ خدا میں بیاں ہونا ہے اُس کے نام و نشاں کا کیا جاتا ہے ذکر صلوات  خواں کا سنو اور بھی، اے محبو! بشارت کہ تھی جاوداں آپ کی خاص عادت کہ  جو کوئی کرتا سلام اُن کو آ کے جوابِ سلام اُس کو ۔۔۔

مزید

سراپا وہ صَلِّ عَلٰی آپ کا تھا

صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ سراپا وہ صَلِّ عَلٰی آپ کا تھا کہ ہر عضو حسنِ تجلی نما تھا حبیبِ خدا کا جمالِ مکرم سنراوارِ تحسین و حمد و ثنا تھا جبینِ مصفّا میں حُسنِ مصفّا ہلال اور ماہِ تمام ایک جا ہیں بہارِ لطافت میں بے مثل و ثانی گُلِ بے خزاں عارضِ مصطفیٰ تھا مدوّر جو کہتی ہیں چہرے عالَم وہ تدویر سے بھی ورآء الورا تھا وہ صَلِّ عَلٰی گندمی رنگ اُن کا کہ غازہ رخِ عالمِ نور کا تھا چمکتا تھا کیا نورِ حُسنِ صباحت فروغ ملاحت دمکتا ہوا تھا مزیّن بَہ پیرایۂ اعتدالی خوش اندام اندامِ خیرُ الورا تھا وہ چشمِ مبارک کی روشن سیاہی کہ سر چشمۂ نور جس کا گدا تھا وہ دندان و لب غیرتِ وردِ ہر جاں وہ حُسنِ تبسم کا عالَم نیا تھا وہ بحر تبسم میں موجِ تبسم کہ دریوزہ گر جس کا آبِ تقا تھا وہ حُسنِ ادا کس زباں سے ادا ہو تبسم میں اُن کے جو حُسنِ ادا تھا کروں اُس شمائل کا کیا وصف، کاؔفی! سراپا سبھی خوبیوں سے بھرا تھ۔۔۔

مزید

نفاق اُس سے ہو جائے گا یوں روانہ

صلی اللہ علی محمد   نفاق اُس سے ہو جائے گا یوں روانہ کہ ہو پاک پانی سے اطرافِ خانہ انھیں چار لفظوں کے یہ بھی فضائل ہوئے ہیں بَہ اَسنادِ مذکور حاصل کہ جو کوئی لائے گا اُن کو زباں پر درِ رحمتِ حق کھلیں اس پہ ستّر  کہا خضر و الیاس نے اور یہ بھی کہ تقریبِ اوقات ایسی ہوئے تھی کہ یعنی کوئی جانبِ شام سے تھا حضورِ حبیبِ الٰہی میں آیا کیا غرض اس نے کہ غم خوارِ اُمّت مِرا باپ ہے ناتواں کم بصارت اُسے ضعفِ پیرانہ سالی ہے لاحق نہیں آپ تک آنے جانے کے لائق تمہارا ہے پر اُس کو شوقِ زیارت دل و جاں سے ہے محوِ ذوقِ زیارت کیا ایسا ارشاد محبوبِ رب نے کہ تِرا پدر سات شب اُس کو پڑھ لے پڑھے یعنی ان چار لفظوں کو ہر شب تو بر آئے گا باپ کا تیرے مطلب میسر اُسے خواب میں ہو زیارت مناسب ہے اب اس خبر کی روایت غرض اُس نے ارشادِ خیر البشر سے کیا جا کے اظہار اپنے پدر ہے کیا باپ نے اُس کے اس کا وظیفہ ہوا واہ مقب۔۔۔

مزید

ہے یہ قولِ ابو سعید سعید

حدیثِ سی وہفتم از مشکوٰۃ ،بابِ مَناقبِ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنھم   عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ: لَا تَسَبُّوْٓا اَصْحَابِیْ فَلَوْ اَنَّ اَحَدُکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا مَّا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نِصْفَہٗ۔‘‘ (مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ)   ہے یہ قولِ ابو سعید﷜ سعید وہ صحابی ہے مقتدا و رشید یعنی کہتے تھے دو جہاں کے امام میرے اَصحاب کو نہ دو دشنام جو کوئی تم سے از برائے خدا﷯ خرچ کر دے پہاڑ سونے کا یعنی وہ شخص مثلِ کوہِ اُحُد زر لُٹائے گا بے عدد بے حد کوہِ زر سے زیادہ تر ہوگا نیم پیمانہ اُس صحابی کا یارِ حضرتﷺ کی کیا فضیلت ہے اُن کی صحبت کی کیا فضیلت ہے جب کہ ہوں اُن سے مصطفیٰﷺ راضی اُن سے کیوں کر نہ ہو خدا﷯ راضی میری اُلفت کے واسطے اُن کو تم یہ چاہیے کہ دوست رکھو بعد میرے نہ کیجیو ایسا۔۔۔

مزید

ہے انس نے بیاں کیا ایسا

حدیثِ سی ونہم از مشکوٰۃ ،بابِ مَناقبِ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنھم   عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ صَعِدَ اُحُدًا وَّ اَبُوْ بَکْرٍ وَّ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ فَرَجَفَ بِھِمْ فَضَرَبَہٗ بِرِجْلِہٖ فِقَالَ اثْبُتْ اُحُدُ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ نَبِیٌّ وَ صِدِّیْقٌ وَ شَھِیْدانِ۔‘‘ (رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ)   ہے انس﷜ نے بیاں کیا ایسا کہ فرازِ اُحُد رسولِ خدا ایک دن اس طرح سے آ نکلے کہ ابو بکر﷜ ساتھ تھے اُن کے اور فاروق﷜ بھی تھے آپ کے ساتھ اور عثمان﷜ مجمعِ حسنات الغرض جب گزار فرمایا زیرِ پائے نبیﷺ پہاڑ ہلا جنبشِ کوہ جب ہوئی پیدا آپ نے کوہ پر قدم مارا اور اس طرح سے کہا اُس کو کہ بس اب اے پہاڑ ساکن ہو یعنی تو جانتا نہیں تجھ پر اِس گھڑی کو کر رہا ہے گزر ایک تو ہے رسول حق تحقیق دوسرے ساتھ اُس کے ہے صدّیق اور یہ دو شہید ہیں ہمراہ یعنی ہمراہیِ ۔۔۔

مزید

یہ انس کا بیانِ شافی ہے

حدیثِ چہلم از مشکوٰۃ ،بابِ اثبات عذاب القبر   عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالکٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ:  ’’اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِهٖ وَتَوَلّٰى عَنْهُ اَصْحَابُهٗٓ إِنَّهٗ  لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، اَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهٖ، فَيَقُوْلَانِ لَہٗ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَاَمَّا الْمُؤْمِنُ، فَيَقُوْلُ: اَشْهَدُ اَنَّهٗ عَبْدُ اللہِ وَرَسُوْلُهٗ، فَيُقَالُ لَهٗ: اُنْظُرْ اِلٰى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ اَبْدَلَكَ اللہُ بِهٖ مَقْعَدًا مِّنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيْعًا - وَاَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ فَيُقَالُ لَهٗ: مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَآ اَدْرِیْ كُنْتُ اَق۔۔۔

مزید

ہے جو اِس دل کا مُدَّعا، یا رب!

مُناجات   ہے جو اِس دل کا مُدَّعا، یا رب! اپنی رحمت سے کر عطا، یا رب! بَہ طُفیلِ نبی رسولِ کریمﷺ ہو اِجابت مِری دعا، یا رب! اب تو میں بے طرح تڑپتا ہوں ہوں مِری مشکلیں روا، یا رب! اور یہ بھی تیری جناب میں ہے اب کفایت کی التجا، یا رب! یعنی نظمِ نسیمِ جنّت میں ہو گئی ہو جہاں خطا، یا رب! اپنے پیارے حبیب کے صدقے اُس خطا کو بھی بخشنا، یا رب! مُونِسِ روزگارِ کاؔفی ہو نعت و اَوصافِ مصطفیٰﷺ، یا رب!  ۔۔۔

مزید

جس کے باعث کیا جہاں روشن

غزل در نعت   جس کے باعث کیا جہاں روشن اور خورشیدِ آسماں روشن مشرق و مغرب و جنوب و شمال دینِ احمدﷺ سے ہر مکاں روشن خوبی و حُسنِ مصطفائیﷺ سے حُسن و خوبی کا گلستاں روشن ہے فروغِ جمالِ احمدﷺ سے قصرِ ہستی کا تاب داں روشن شبِ اسرا میں اُن کے قدموں سے ہو گیا گُلشنِ جِناں روشن ہے وہ شرعِ منوّرِ نبویﷺ جس سے ہے بزمِ اِنس و جاں روشن نعت و اَوصافِ مصطفیٰﷺ میں رہے یا الٰہی! مِری زباں روشن  ۔۔۔

مزید

آب وصفِ صاحبِ کوثرﷺ سے شیریں کام ہے

غزل در نعت   آب وصفِ صاحبِ کوثرﷺ سے شیریں کام ہے ماہیِ کوثر زبانِ مدح خواں کا نام ہے نعت و اَوصافِ جنابِ مصطفیٰﷺ جس میں نہ ہو وہ لب و دندان وہ کام و زباں نا کام ہے عَینِ عرفانِ خدا﷯ عَینِ جنابِ مصطفیٰﷺ آہوئے بے عیب اُس عَینِ صفا کا نام ہے رحمتِ عالَم کی اُمّت میں ہمیں پیدا کیا کیا مقامِ شکرِ خلّاقِ ذَوِی الاِکرام﷯ ہے یا الٰہی! میں بھی پہنچوں منزلِ مقصود کو کار سازِ بے کساں، اللہ﷯! تیرا نام ہے جائے نومیدی نہیں درگاہِ ربّ العالمین وسعتِ رحمت یہاں مصروفِ خاص و عام ہے میں نہیں شاعر، مدیحِ صاحبِ لَوْلَاک ہوں ہم صفیرو! مجھ کو اپنے کام ہی کام ہے مغتنم ہے بس کہ دورِ مدح خوانی مدح خواں یہ زباں محشر تلک پھر عاطل و نا کام ہے کاؔفیِ بیمار کو وصفِ جنابِ مصطفیٰﷺ قوّتِ دل راحتِ جاں موجبِ آرام ہے  ۔۔۔

مزید

اِتمام ہُوئی نسیمِ جنّت

تاریخِ  اِتمامِ نسیمِ جنّت از مصنّف   اِتمام ہُوئی نسیمِ جنّت یہ جادۂ مستقیمِ جنّت سیرابیِ گلستانِ جاں ہے جو طالبِ روئے مصطفیٰﷺ ہے اُس عاشقِ زار کی دوا ہے یہ ہے عرق بہار، کاؔفی آرام دلِ ہزار، کاؔفی تاریخ بھی خوب ہائی آئی ’’بوئے گُلِ باغِ اِصطفائی‘‘   ۱۲۶۲ھ   تمام شد   بتاریخ چہار دہم ذی الحجہ ۱۲۹۵؁ھ باختتام رسید۔    ۔۔۔

مزید