حدیثِ بست و پنجم از دلائل الخیرات رُوِیَ عَنْہُ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ مَنْ صلّٰی عَلَیَّ مَرَّۃً وَّاحِدَۃً صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ عَشْرَ مَرَّاتٍ وَّ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ عَشْرَ مَرَّاتٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ وَّ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ مِائَۃَ مَرَّۃٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ اَلْفَ مَرَّۃٍ وَ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ اَلْفَ مَرَّۃٍ حَرَّمَ اللہُ جَسَدَہٗ عَلَی النَّارِ وَثَبَّتَہٗ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ وَعِنْدَالْمَسْئَلَۃِ وَ اَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ وَ جَآءَتْ صَلَاتُہٗ عَلَیَّ نُوْرٌلَّہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلَی الصِّرَاطِ مَسِیْرَۃَ خَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ وَّاَعْطَاہُ اللہُ بِکُلِّ صَلَاۃٍ صَلَّاھَا عَلَیَّ قَصْرًا فِی الْجَنَّۃِ قَلَّ اَوْ کَثُرَ۔ ۔۔۔
مزیدحدیث بست و ہفتم از کتاب مشارق الاَنوار عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَشْھِدُوْا اَشْھِدُوْا وَ یُرْوٰی اَللّٰھُمَّ اَشْھِدْ قَالَہٗ عِنْدَ اِنْشِقَاقِ الْقَمَرِ۔ حَبَّذَا ذاتِ صاحبِ لَوْلَاک عینِ اعجازہے یہ جوہرِ پاک ہیں بِلا ریب وہ حبیبِ خدا اُن کو اللہ نے دیا کیا کیا جو کہ اعجاز انبیا کے تھے سب وہ اپنے حبیب کو بخشے اور اُس کے سوا بہت اعجاز خاص اُن کو دیے، کیا ممتاز واہ کیا ایک ہی اشارے سے کر دیا قرصِ ماہ دو ٹکڑے ابنِ مسعود اور ابنِ عمر کہتے ہیں: وقتِ انشقاقِ قمر ایسا فرماتے تھے رسول اللہﷺ رہو، اے لوگو! تم گواہ گواہ اور راوی نے یہ ہی کی تقریر کہ جنابِ نبی بشیر و نذیرﷺ اُس گھڑی اِس طرح ہُوئے گویا یا الٰہی! گواہ تو رہنا الغرض، ہے جو حالِ شقِّ قمر اُس میں راوی ہیں متفق اکثر اور مذکور ہے خبر اس کی اوّلِ سورۂ قمر میں یہی جب کریں آپ ماہ دو ٹکڑے دلِ کفّار کیوں نہ۔۔۔
مزیدحدیث بست و ہشتم از کتاب مشارق الانوار عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ لَا ھُلْکَ عَلَیْکُمْ اَطْلِقُوْا اِلٰی عُمْرِیْ قَالَہٗ ظَھِیْرَۃَ لَیْلِةِ التَّعْرِیْسِ۔ قول ہے یہ ابو قتادہ کا کہ جنابِ نبیﷺ نے فرمایا تم نہ ہوگے ہلاک، اے لوگو! کھول لاؤ میرے پیالے کو آپ نے یہ کہا تھا اُس ہنگام آخرِ شب جہاں کیا تھا مقام شبِ تعریس اُس کو ہیں کہتے آخرِ شب تھی وہ جہاں اُترے اور وہ رات جب تمام ہُوئی روزِ روشن کو صبح دکھلائی دوپہر بھی ڈھلی جب اُس دن کی آپ نے جب یہ بات فرمائی اِس خبر میں رہا جو رہا ہے اِجمال اُس کا شارح نے یوں لکھا ہے حال یعنی تشریف آپﷺ جب لائے پھر کے جنگِ تبوک سے آئے تھا ترقی پہ موسمِ گرما اور اُس سر زمیں میں آب نہ تھا واں ہُوا جب زوالِ نصف ِ نہار لوگ بولے کہ، اے شہِ ابرارﷺ! ہم یہاں اب ہلاک ہوتے ہیں تشنہ کامی سے جان کھوتے ہیں تب وہاں آپﷺ نے یہ فرمایا اور پیالے کو اپنے منگوای۔۔۔
مزیدحدیثِ بست و ششم از کتاب دلائل الخیرات قَالَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ: مَنْ عَسُرَتْ عَلَیْہِ حَاجَتُہٗ فَلْیُکَثِّرْ بِالصَّلَاۃِ عَلَیَّ فَاِنَّھَا تَکْشِفُ الْھُمُوْمَ وَالْغُمُوْمَ وَالْکُرُوْبَ وَ تُکَثِّرُ الْاَرْزَاقَ وَ تَقْضِی الْحَوَآئِجَ۔ ہے حدیثِ جنابِ مصطفوی جس کو لاحق ہو عسرت و تنگی اور حاجت بھی اُس کی بند رہے یعنی وہ شخص مستمند رہے ہے یہ لازم پڑھے دُرود کثیر میرے اوپر وہ درد و غم کا اسیر جب کرے گا دُرود کی کثرت بر طرف ہوگی حاجت و عسرت غم سے فارغ دُرود خواں ہوگا رزق و روزی سے کامراں ہوگا جس نے، کاؔفی! دُرود خوانی کی دونوں عالَم میں کامرانی کی بَہ جنابِ نبی رسولِ کریمﷺ صد ہزاراں تحیّت و تسلیم ۔۔۔
مزیدحدیثِ بست و نہم از کتابِ مشارق الانوار عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَاَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ اَنْ اُبْعَثَ اِنِّيْٓ لَاَعْرِفُهُ الْاٰنَ۔(رَوَاہُ الْمُسْلِمُ) ہے روایت زبانِ جابر سے اُس حدیث و خبر کے ذاکر سے کہ جنابِ نبی ستودہ خصالﷺ سے کہتے تھے ہم سے یہ حقیقتِ حال یعنی مکّے میں ایک پتھر تھا میرے اوپر سلام تھا کرتا اُس کو پہچانتا ہوں میں تحقیق اب تلک جانتا ہوں میں تحقیق ہے یہ مذکور قبلِ بعثت کا کہ وہ پتھر سلام کرتا تھا اور حضرت علی بھی کہتے ہیں کہ بَہ ہمراہیِ نبیﷺ تھا وہ جدھر کو قدم اُٹھاتے تھے اور حضرتﷺ جدھر کو جاتے تھے جو حجر اور جو شجر ملتا وہ سَلَامٌ عَلَیْک کہتا تھا حَبَّذَا رتبۂ حبیبِ خداﷺ سنگ نے بھی اُنھیں سلام کیا جائے عبرت ہے، کاؔفیِ ناکام! کہ کر۔۔۔
مزیدحدیثِ سی ام از مشکوٰۃ شریف در بابِ معجزات عَنْ جَابِرِ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا خَطَبَ اسْتَنَدَ اِلٰی جِذْعِ نَخْلَۃٍ مِّنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ لَہُ الْمِنْبَرُ فَاسْتَوٰی عَلَیْہِ صَاحِبُ النَّخْلَۃِ الَّتِیْ كَانَ عِنْدَهَا حَتَّى كَادَتْ اَنْ تَنْشَقَّ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهَا، فَضَمَّهَا اِلَيْهِ، فَجَعَلَتْ تَاِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِيْ يُسَكَّتُ، حَتَّى اسْتَقَرَّتْ، قَالَ: «بَكَتْ عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ۔( رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ) لائقِ کبریا ہے وہ خلّاق جس نے پیدا کیا جہانِ وفاق ہے وہ نقاشِ کارگاہِ جمال جس کا پیدا نہیں نظیر و مثال اُس نے پیدا کیا حسینوں کو رشکِ خورشید مہ جبینوں کو صانع و خالق و قدیر وہ ہے اپنی ق۔۔۔
مزیدحدیثِ سی و یکم ازکتاب ’’جامع صغیر‘‘ نوشتہ شد عَنْ اَبِیْ نَصْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: اَدِّبُوْآ اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلَاثِ خِصَالٍ:حُبِّ نَبِیِّکُمْ وَ حُبِّ اَھْلِ بَیْتِہٖ وَ قِرَآءَۃِ الْقُرْآنِ، فَاِنَّ حَمَلَۃَ الْقُرْاٰنِ فِیْ ظِلِّ اللہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ مَعَ اَنْبِیَآئِہٖ وَ اَصْفِیَآئِہٖ۔ یہ ابو نصر نے حدیث لکھی یعنی ہے حکم و امرِ مصطفویﷺ ایسا فرماتے تھے نبی کریمﷺ اپنی اولاد کو کرو تعلیم دو ادب اُن کو تین چیز کے ساتھ اور سکھلاؤ اُن کو تین صفات ایک تو حُبِّ مصطفیٰﷺ میں رہیں اور مصروف اِس ولا میں رہیں دوسری حُبِّ اہلِ بیتِ نبیﷺ ہوئے حاصل بَہ اِختصاصِ ولی تیسری وہ پڑھا کریں قرآں جس سے حاصل ہو عَیشِ جاویداں کہ بَہ تحقیق دن قیامت کے حاملِ مصحفِ خدا کے لیے سایۂ رحمتِ خدا ہوگا حشر میں ظِلِّ کبریا ہوگا وہ قیامت کا روز ہے ایسا ظلّ و سای۔۔۔
مزیدحدیثِ سی و دوم ازکتاب ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ ، بابِ مناقبِ اہلِ بیتِ نبیﷺ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ وَقَّاصٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ: نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَکُمْ (آلِ عمران: ۶۱) دَعَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ عَلِیًّا وَّ فَاطِمَۃَ وَ حَسَنًا وَّ حُسَیْنًا فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ ھٰٓؤُلَآءِ اَھْلُ بَیْتِیْ۔ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ) اِس روایت کے واسطے، کاؔفی! سعد کا قول ہے ہمیں کافی یعنی نازل ہُوئی یہ جب آیت نَدْعُ اَبْنَآءَنَا کی سب آیت شاہِ لَوْلَاک نے کیا ایسا فاطمہ و علی کو بُلوایا اور حسنین کو بھی اُن کے ساتھ جمع یک جا کیا اُسی اوقات پھر یہ کہتے نبی وہ ماہِ عربﷺ یہ مِرے اہلِ بیت ہیں، یا رب! فاطمہ و حسن، حسین و علی ہیں بلا شک یہ اہلِ بیتِ نبی جو محبِّ نبیﷺ ہے، اے کاؔفی! اُس کو ۔۔۔
مزیدحدیثِ سی و سوم از مشکوٰۃ در مناقبِ اہلِ بیت عَنْ عَآئِشَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھَا قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَّعَلَيْهِ مِرْطٌ مُّرَحَّلٌ مِّنْ شَعْرٍ اَسْوَ دَ، فَجَآءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَاَدْخَلَهٗ، ثُمَّ جَآءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهٗ، ثُمَّ جَآءَتْ فَاطِمَةُ فَاَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَآءَ عَلِيٌّ فَاَدْخَلَهٗ، ثُمَّ قَالَ: ’’اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُـذْہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیۡرًا‘‘ (اَلْاَحْزَاب: ۳۳)۔ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ) عائشہ سے ہُوا ہے یوں مروی کہ حقیقت یہ ایک دن گزری کہ جنابِ نبیﷺ بَہ وقتِ سحر لائے تشریف صبح دم باہر آپ اوڑھے ہُوئے تھے ایک گلیم تھی منقّش گلیم با تکریم قسم مو کی گلیم والا تھی کہ عجب نقش دار و زیبا تھی پھر جو آئے ۔۔۔
مزیدحدیثِ سی و چہارم از مشکوٰۃ ،مناقبِ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔ (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَحْمَدُ) یہ روایت ہے زید ارقم سے اُس صحابی ثقہ مکرّم سے کہ رسولِ خداﷺ نے فرمایا یعنی میں جس کسی کا ہوں مولا اُس کا مولا ہے بس علی ولی ابنِ عمِّ محمدِ عربیﷺ اور تفصیل اِس روایت کی اِس طرح سے حدیث میں آئی کہ نبیﷺ جب اخیر حج سے پھرے بَہ مکانِ غَدِیرِ خُمّ اُترے کر کے اَصحاب کو وہاں یک جا ہاتھ میں ہاتھ مرتضیٰ کا لیا پیشِ اصحابِ زمرۂ اخیار کر دیا رتبۂ علی اظہار یعنی واں یہ حدیث فرمائی دی علی کو شرف سے آگاہی اور یہ بھی لکھا ہے راوی نے کہ بَہ نزدِ علی، عمر آئے اور کہنے لگ۔۔۔
مزیدحدیثِ سی و پنجم از مشکوٰۃ ،مناقبِ اہلِ بیت علیھم السلام عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِیٍّ وَ فَاطِمَۃَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ: ’’اَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَھُمْ وَ سَلْمٌ لِمَنْ سَالَمَھُمْ۔‘‘ (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ) زید ارقم سے یہ بھی ہے منقول یعنی کہتے تھے یہ جنابِ رسولﷺ مرتضیٰ شاہِ لَا فَتٰی کے لیے اور بہرِ بتول و بہرِ حسن اور بہرِ حسین ہے یہ سخن جو لڑے اِن سے، میں لڑوں اُس سے حرب اِن کے لیے کروں اُس سے اورجو صلح اِن کے ساتھ کرے صلح اور آشتی کی بات کرے میں بھی کرتا ہوں صلح اُس کے ساتھ اُس سے کرتا ہوں آشتی کی بات کاؔفیِ خاک پائے آلِ عبا! نظم کیجے ثنائے آلِ عبا نظم محبّت جس کو ہے آلِ عبا سے اُسے ا۔۔۔
مزیدبیِّ مکرّم نبیِّ امیں ہیں شفیع الورا خاتم المرسلیں ہیں وہ ایسے نبی ہیں کہ جن کے سبب سے زمین و زمان و مکان و مکیں ہیں وہ ہیں بحرِ زخارِ احسان و رحمت وہ سب خلق سے بہترین و گزیں ہیں اسں عالم میں غم خوار ہم عاصیوں کے بروزِ جزا شافعِ مذنبیں ہیں سلام و صلاۃ و درود و تحیّت انھیں کے لیے ہدیۂ مسلمیں/ مومنیں(؟) ہیں مدارج مراتب جو اُن کو ملے ہیں کسی دوسرے کو نہیں ہیں نہیں ہیں ملا ہم کو کیا خوب کؔافی وسیلہ ہمارے نبی رحمت العالمیں ہیں قطعہ چہ دم زند خامہ بحالِ آل نبیﷺ کہ خار جست ز گفتن کمالِ آل نبیﷺ مطالب ِ دلِ کاؔفی عطا بکن، یا رب ؟؟؟ بحق حرمتِ جاہ و جلالِ آل نبیﷺ ۔۔۔
مزید