بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ کیجیے کس زباں سے شکرِ خدا کیں عطا اُس نے نعمتیں کیا کیا ہر سرِ مو ہو گر ہزار زباں ہر زباں سے کروں ہزار بیاں مو برابر نہ ہو سکے تقریر حمدِ خلّاق و شکرِ ربِّ قدیر ہے وہ معطی و منعم و وہّاب جس کی رحمت کا کچھ نہیں ہے حساب ہے عنایات ِ ایزدِ غفّار یوں تو ہم سب پہ بے حساب و شمار ہے مگر یہ عجیب فضل و کرم کہ مخاطب کیا بَہ خیرِ اُمَم شکر کس طرح سے کریں اس کا کہ کیا اُمّتِ حبیبِ خدا وہ رسولِ خدا شفیعِ اُمَم ہے لقب جن کا رحمتِ عالَم اُن کے حق میں خدا نے فرمایا تم کو رحمت کے واسطے بھیجا ہم پہ احسان یہ کیا کیسا اُن کی اُمّت میں جو کیا پیدا واہ کیا ذاتِ پاکِ حضرت ہے عینِ رحمت ہے عینِ رحمت ہے تھا شمائل کا ترجمہ جو لکھا نام اُس کا ’’بہارِ خلد‘‘ رکھا نام اِس کا ’’نسیمِ جنّت‘‘ ہے جادۂِ مستقیمِ جنّت ہے نگہتِ ۔۔۔
مزیدمُناجات رحمتِ عالَم جنابِ مصطفیٰﷺ کا ساتھ ہو یا الٰہی! ہے یہی دن رات میری التجا روزِ محشر شافِعِ روزِ جزا کا ساتھ ہو یا الٰہی! جب قریبِ نیزہ آئے آفتاب اُس سزاوارِ خطابِ وَالضُّحٰی کا ساتھ ہو یا الٰہی! حشر میں نیچے لوائے حمد کے سیّدِ سادات فخرِ انبیا کا ساتھ ہو یا الٰہی! پُل کے اوپر بھی بَہ ہنگامِ گزر دستگیرِ بے کساں اُس پیشوا کا ساتھ ہو یا الٰہی! جب عمل میزان میں تُلنے لگے سیّدِ ثقلین ختم الانبیا کا ساتھ ہو یا الٰہی! جب قیامت میں صفیں بندھنے لگیں اہلِ بیتِ مجتبیٰ آلِ عبا کا ساتھ ہو یا الٰہی! شغلِ نعتِ مصطفائی میں رہوں جسم و جاں میں جب تلک میرے وفا کا ساتھ ہو بعد مرنے کے یہی ہے کؔافی کی، یا رب! دعا دفترِ اَشعارِ نعتِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو ۔۔۔
مزیدحدیثِ چہارم از ’’مَشَارِقُ الْاَنْوَار‘‘ عَنِ اَنَسٍ رَّضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(۔۔۔قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ۔(رَوَاہُ بُخَارِیٌّ وَّمُسْلِمٌ) اس طرح سے بیان انس نے کیا کہ جنابِ نبیﷺ نے فرمایا کہ محبّت ہے جس کسی سے تجھے اور اُلفت ہے جان و جی سے تجھے تو تو اے شخص ہے اُسی کے ساتھ جس کی اُلفت میں صرف کی اوقات اس روایت میں جو رہا اِجمال ہے مناسب لکھوں مفصّل حال ہے جو شرحِ ’’مَشارق الاَنوار‘‘ اس کے شارح نے یہ کیا اظہار کہ جنابِ شَفیعِ محشر سے فخرِ عالَم قسیمِ کوثر سے ایک سائل نے یہ سوال کیا کہ قیامت کا دن کب آئے گا آپ نے اِس طرح کیا ارشاد تو جو محشر کو کر رہا ہے یاد تو نے ساماں برائے روزِ جزا کر رکھا ہے تیار یاں کیا کیا اُس نے یہ عرض کی کہ اے۔۔۔
مزیدحدیثِ پنجم از ’’اَلْمَوَاھِبُ اللَّدُنِّیَّۃُ‘‘ عَنِ اَنَسٍ رَّضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مَرْفُوْعًا: مَنْ اَحْیَا سُنَّتِیْ فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ۔(رَوَاہُ فِی الْمَوَاھِبُ اللَّدُنِّیَّۃُ) یہ روایت بَہ صورتِ مرفوع رکھتی ہے اِس طرح ظہورِ وقوع کہ انس نے بیاں کیا ایسا یعنی حضرت نبی نے فرمایا کہ جس انسان نے مِری سنّت جہد و کوشش سے زندہ کی سنّت اُس نے تحقیق مجھ کو دوست رکھا دوستی میں مِری یہ کام کیا اور جو میری دوستی میں ہو حُبّ و اخلاص اُس کے جی میں ہو ساتھ میرے وہ ہوگا جنّت میں کہ رہا ہے مِری محبّت میں ہیں جو اَفعال و عادت ِ نبوی اُس کو کہتے ہیں سنّتِ نبوی جو کہ طالب ہُوا صفائی کا روش و راہِ مصطفائی کا آپ نے اُس کو یہ بِشارت دی ۔۔۔(؟) مشتاق کی تسلّی دی غزل در نعتِ رسول ﷺ جس کو خ۔۔۔
مزیدحدیثِ ششم عَنِ عَبْدِاللہِ بْنِ ھُشَّامٍ رَّضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ کُنَّا معَ النَّبِیٍّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَ ھُوَ اَخَذَ بِیَدِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ اِلَّا نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ فَاِنَّہُ الْاٰنَ وَاللہِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ عَلَیْہِ السَّلَامُ الْاٰنَ یَا عُمَرُ۔ راویِ خوش کلام ابنِ ہشام خادمِ بارگاہِ خیرِ انام اِس روایت کو ہے رواں کرتا اور یہ حال ہے بیاں کرتا عاشقانہ کلام کرتا ہے یہ سخن دل میں کام کرتا ہے کہ ہمراہِ سرورِ عالَم یعنی تھے ایک روز حاضر ہم اس۔۔۔
مزیدحدیثِ ششم عَنِ عَبْدِاللہِ بْنِ ھُشَّامٍ رَّضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ کُنَّا معَ النَّبِیٍّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَ ھُوَ اَخَذَ بِیَدِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ اِلَّا نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ فَاِنَّہُ الْاٰنَ وَاللہِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ عَلَیْہِ السَّلَامُ الْاٰنَ یَا عُمَرُ۔ صبح محشر شانِ محبوبی دکھانا چاہیے خندۂ دنداں نما سے مسکرانا چاہیے آب و تابِ حُسنِ عالَم گیر کے اعجاز سے آفتابِ حشر کی تیزی بجھانا چاہیے گیسوِ مشکیں دکھا کر عرصۂ عرصات میں اپنے مشتاقوں کو دیوا۔۔۔
مزیدحدیثِ ہفتم۔۔۔ از کتاب مَواہبِ لدنیہ عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَال رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لَمَّا اقْتَرَفَ اٰدَمُ الْخَطِیْٓئَۃَ قَالَ یَا رَبِّ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمّدٍ لِمَا غَفَرْتَ لِیْ فَقَالَ یَآ اٰدَمُ وَکَیْفَ عَرَفْتَ مُحَمَّدًا وَلَمْ اَخْلُقْہُ؟ قَالَ لِاَنَّکَ یَا رَبِّ لَمَّا خَلَقْتَنِیْ بِیَدِکَ وَ نَفَخْتُ فِیَّ مِنْ رُّوْحِکَ رَفَعْتُ رَاْسِیْ فَرَأَیْتُ عَلٰی قَوَآئِمِ الْعَرْشِ مَکْتُوْبًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ فَعَلِمْتُ اَنَّکَ لَمْ تُضفْ اِلَی اسْمِکَ اِلَّآ اَحَبَّ الْخَلْقِ اِلَیْکَ فَقَالَ اللہُ تَعَالٰی صَدَّقْتَ یَآ اٰدَمُ اِنَّہٗ لَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَیَّ وَاِذْ سَاَلْتَنِیْ بِحَقِّہٖ قَدْ غَفَرْتُ لَکَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ۔(رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِیْ دَلَآئِلِہٖ م۔۔۔
مزیدحدیثِ ہشتم۔۔۔ از کتاب مشکاۃ باب۔۔۔؟؟؟ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ طُوْبٰی لِمَنْ رَّاٰنِیْ وَ طُوْبٰی سَبْعَ مَرَّاتٍ لِّمَنْ لَّمْ یَرَنِیْ وَاٰمَنَ بِیَّ۔(رَوَاہُ اَحْمَدُ بو اُمامہ سے کیا روایت ہے واہ کیا مژدۂ بشاشت ہے کیا خوشی کی خبر سناتا ہے کیا ہی مہجوروں کو ہنساتا ہے واہ کیا فضلِ کبریائی ہے کیا ہی الطافِ مصطفائی ہے یہ عنایاتِ سرورِ عالَم زخمِ دل پر ہے صورتِ مرہم اُس کلام و بیان کے صدقے اُس زبان و دہان کے صدقے اُس مبارک لسان کے قربان اُس لبِ دُر فشان کے قربان یہ جو ارشاد مصطفیٰﷺ کا ہے یہ مکاں حمدِ کبریا کا ہے شکر اُس کا ادا کریں کیوں کر ہے یہ نعمت قیاس سے باہر الغرض یوں نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے جس کسی نے دیکھ لیا اُس کو حاصل خوشی کی بات ہُوئی خُرّمی ایک اُس کے ساتھ ہُوئی اور جس نے۔۔۔
مزیدحدیثِ نہم۔۔۔ مواہبِ لدنیہ عَنْ سَلْمَانِ بْنِ عَسَاکِرَ قَالَ ھَبَطَ جِبْرِیْلُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فقَالَ اِنَّ رَبَّکَ یَقُوْلُ اِنْ کُنْتُ اتَّخَذْتُ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلًا فَقَدِ اتَّخَذْتُکَ حَبِیْبًاوَ مَا خَلَقْتُ خَلْقًا اَکْرَمَ عَلَیَّ مِنْکَ وَلَقَدْ خَلَقْتُ الدُّنْيَا وَاَهْلَهَا لِاَعْرِفَهُمْ كَرَامَتَكَ وَمَنْزِلَتَكَ عِنْدِىْ، وَلَوْ لَاكَ مَا خَلَقْتُ الدُّنْيَا۔ یہ کلام و بیاں سلمان کا ہے مناقب حبیبِ یزدان کا ایک دن یعنی جبرئیلِ امین ہُوئے حاضر بخدمتِ شہِ دیں اور اس طرح سے پیام دیا کہ تمھیں ہے خدا نے فرمایا کہ اگر میں نے از رہِ تکریم کیا اپنا خلیل ابراہیم میں نے اپنا تجھے حبیب کیا یعنی یہ رتبۂ عجیب دیا نہ کیا ہے کوئی بشر پیدا میں نے تجھ سے بزرگ تر پیدا اے نبیﷺ! افضلِ بشر تو ہے پاس میرے بزرگ تر تو ہے ۔۔۔
مزیدحدیثِ دہم۔۔۔ کتاب جامع صغیر تصنیفِ جلال الدین سیوطی عَنْ اَبِیْ مُوسٰی اَبْشِرُوْا وَبَشِّرُوْا مَنْ وَّرَآءَکُمْ مَنْ شَھِدَ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ صَادِقًا بِھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ یہ حدیثِ جنابِ خیرِ ورا کرتے ہیں یوں بیاں ابی موسیٰ کہ رسولِ کریمِ اعلیٰ خو کہتے تھے یہ نوید ہے ہم کو اور اِس مژدۂ بِشارت سے غائبوں کو بھی ہاں خبر پہنچے بعد تم سے جو آنے والے ہیں یعنی ایمان لانے والے ہیں جو کہے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ اُس کو حاصل ہُوئی بہشت کی راہ ہے اگر رتبۂ صداقت میں ہوگا داخل وہ شخص جنّت میں غزل در نعت شریف کلمہ گویوں کو ہُوئی کیا ہی بشاشت حاصل اور اُس مژدۂ جاں بخش سے فرحت حاصل کیا شرف کلمۂ طیّب کو خدا نے صدقِ دل سے جو پڑھے ہو اُسے جنّت حاصل مومنو! روضۂ رضواں کی اگر خواہش ہے وردِ کلمہ سے کرو خلد کی نعمت حاصل ذکرِ کلمہ کا عجب فیض ہے سُبْحَان۔۔۔
مزیدحدیثِ یازدہم۔۔۔از کتاب جامع صغیر عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ اَتَانِیْ جِبْرَئِیْلُ فَقَالَ اِنَّ رَبِّیْ وَرَبُّکَ یَقُوْلُ لَکَ تَدْرِیْ کَیْفَ رَفَعْتُ ذِکْرَکَ قُلْتُ اَللہُ اَعْلَمُ قَالَ لِاُذْکِرَتْ مَعِیْ۔ ہے روایت ابو سعید نے کی کہ حبیبِ خدا جنابِ نبیﷺ یہ حقیقت زبان پر لائے کہ مِرے پاس جبرئیل آئے اور اس طرح مجھ سے کی تقریر کہ تِرا اور میرا ربِّ قدیر تم سے کہتا ہے، اے نبی داناﷺ! تم نے کچھ جانا اور پہچانا رفعتِ ذکر کس طرح سے بھلا میں نے کی تجھ کو، اے حبیب! عطا بولے حضرت یہ ماجرا سن کر ہے خدائے علیم دانا تر جانبِ حق سے جبرئیلِ امیں پھر مُخاطب ہُوئے کہ، اے شہِ دیں! ہے یہ ربِّ رحیم کا ارشاد واسطے تیرے، اے کریم نہاد! کہ تمھیں ہے وہ مرتبہ بخشا ذکر میں اپنے ساتھ یاد کیا کیا نبیﷺ پر ہے لطفِ یزدانی مدح خواں کیجیے ثنا خوانی غزل در نعت شریف کیا جن۔۔۔
مزیدحدیثِ دوازدہم۔۔۔از کتاب جامع صغیر تالیفِ جلال الدین سیوطی زَیِّنُوْا مَجَالِسَکُمْ بِالصَّلَاۃِ عَلَیَّ فِاِنَّ صَلٰوتَکُمْ عَلَیَّ نُوْرٌلَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ (رَوَاہُ فِیْ الْجَامِعِ الصَّغِیْر) ہے جو وہ جامعِ صغیر کتاب کتبِ معتبر کا لبِّ لباب یہ بیان اُس کتاب میں آیا کہ رسولِ خداﷺ نے فرمایا یعنی پڑھ کر دُرود، اے لوگو! اپنی تم مجلسوں کو زینت دو مجھ پہ بھیجو گے جو درود و سلام نور ہو جائے گا بروزِ قیام وہ درود و سلام روزِ نشور پڑھنے والے کے واسطے ہے نور سُن مِری بات، کاؔفیِ ناکام! بجنابِ رسولﷺ بھیج سلام غزل در نعت شریف اَلسَّلَام، اے ختمِ دورِ رسالت! اَلسَّلَام اے وجودت مطلعِ اَنوارِ رحمت! اَلسَّلَام اَلسَّلَام، اے ماہِ کامل بر سپہرِ اصطفا! اَلسَّلَام، اے مہرِ رخشانِ جلالت! اَلسَّلَام اَلسَّلَام، ۔۔۔
مزید