حضرت حامد گنج بخش ف۔۔ ۹۷۸ھ آپ سید عبدالرزاق بن عبدالقادر ثانی کے فرزند بند تھے، صاحب تصرف و کرامت ولی تھے۔ خلق خدا کو آپ سے ہدایت ملی، شاہان وقت آپ کی بارگاہ میں جبہ سائی کو اور جاروب کشی کو فخر جانتے تھے، تمام عمر اسلام کی تبلیغ میں صرف کی، ۹۷۵ھ میں واصل بحق ہوئے، مزار شریف اوچ میں ہے۔ (خزینتہ الصفیاءص ۱۲۷، ۱۲۸) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت حاجی ترابی رحمۃ اللہ علیہ آپ کا نام شیخ ابو ترابی تھا لیکن آپ حاجی ترابی کے لقب سے مشہور تھے۔ شیخ ابو تراب بنی عباس کی حکومت کی جانب سے سندھ کے بعض حصوں پر حاکم مقرر ہوئے۔ شیخ ابو تراب کا شمار تبع تابعین میں ہوتا ہے۔آپ نے شہید ہو کر وفات پائی۔ آپ کا مزار مبارک موضع گجو اور موضع کوری کے درمیان ٹھٹھہ سے ۱۰ میل کے فاصلہ پر زیارت گاہ خاص و عام ہے ۔ مزار مبار ک کے گنبد پر جو کتبہ نصب ہے اس میں سن تعمیر ۷۷۱ھ درج ہے۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت شیخ جیہ شیخ جیہ ولدشیخ نعمت اللہ سندھ کے اکابر اولیاء سے تھے، آپ نے شیخ بہاؤ الدین ذکریا سے روحانی استفادہ کیا تھا، آپ کوچراغ مکلی کہاگیا ہے جبکہ تحفۃ الکرام میں وفور تجلیات کے باعث آپ کو مکلی کا دریا کہا گیا ہے، ہر ماہ کے پہلے پیر کو مزار پر عقیدت مندوں کا بڑا اجتماع ہوتا تھا رات عبادت میں گذرتی تھی اور وجد وسماع کی محافل منعقد ہوتی تھیں، پورے مکلی کے پہاڑ پر سب سے ممتاز درگارہ انہیں کی ہے، اس وقت ان کے مزارپر ایک بڑا گنبد ہے جس میں کئی قبریں ہیں ان کی درگاہ کے عقب میں ان کے والد شیخ نعمت اللہ کی قبر ہے۔ آپ کی وفات سموں دور حکومت میں ہوئی۔ (حدیقۃ الاولیاء ص ۶۱،۶۱)(دارۃ المعارف اسلامیہ ، ص ۴۷۳، مادہ ک) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت حسین کاہ برشیخ آپ شیخ بہاؤ الدین ذکریا ملتانی کے معاصر تھے گھاس کھود کر معاش حاصل کرتے تھے، حالت جذب میں ویرانہ کو مسکن بنالیا ، شیخ ذکریا خود آپ کے ملاقات کے لیے پہنچے ، آپ کا مزا رملتان میں ہے۔ (اذکار ابرار،ص۵۸) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت درس امین محمد آپ شیخ محمد یعقوب کے فیض یافتہ تھے جو گجرات کے رہنے والے تھے، کہتے ہیں کہ شیخ عثمان بسا اوقات اپنے صاحبزادے سے فرمایا کرتے تھے کہ تم میرے پاس کیوں بیٹھتے ہو، یہاں سے بصد محنت و کوشش ایک دانہ پاؤ گے وہاں جاؤ جہاں سے بلا محنت پور خرمن مل جائے اس میں شیخ امین محمد کی صحبت اختیار کرنے کی طرف اشارہ ہوتا تھا، آپ کی قبر مکلی کے دروازہ کے باہر موجود ہے۔ (تحفۃ الکرام ج۳،۴۳۳۔ تحفۃالطاہرین ص۶۲) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت دادن پیر مجذوب مجذوب دادن محمد یوسف رضوی کے معاصر تھے، آپ نے اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ تم لوگ اگر میرے مزار پر نہ پہنچ سکو تو مجذوب دادن کے پاس چلے جانا۔ (تحفۃ الکرام ج۳، ۲۴۷۔ الطاہرین ص۱۶۷) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت درس للہ درس للہ حضرت شیخ محمد یعقوب کے فیض یافتہ بزرگوں میں سے تھے، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے ٹھٹھہ تشریف لائے، آپ نے خوجہ قوم کی رہائش گاہ کے قریب اپنا مسکن بنایا۔ یہ جگہ حاجی محمد قائم کی مسجد کی قریب تھی، پیر مسکین والا میدان بھی اس کے قریب ہے، شیخ محمد یعقوب شیخ عثمان اورردس امین سے آپ کے گہرے تعالیقاتتھے، مذکورہ میدان میں ان سب بزرگوں کی ملاقات ہوئی تھی۔ مزار مکلی میں ہے۔ (تحفۃ الکرام ج۳،۲۳۴۔ تحفۃالطاہرین ص۷۸) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت درگاہی شاہ صاحب تصرف و کرامت بزرگ تھے، ایک مرتبہ نواب سعید خان کے بھائی عزیز خان کے پاس سے بڑے کرو فر کے ساتھ گذرے مگر اپ نے مطلق ان کی طرف توجہ نہ دی انہوں نے سلام بھی کیا تو بیٹھے بیٹھے جواب دے دیا، اس کو بہت غصہ آیا، اس نے آپ کو ڈنڈوں سے پٹوایا، اس عالم میں آپ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا: ‘‘کردنی خویش آمدنی پیش’’ کہتے ہیں ایک ماہ بعد جب شخص مذکور نواب صاحب کے حر سرا میں آیا ہوا تھا، نواب کو اس پر شک گذرا، اس کے ہا تھ میں کوڑا تھا وہی کوڑا اس کے سر پر مارا، اور اپنی بیوی کو فوراً ہلاک کردیا۔ (تحفۃالطاہرین ص۱۶۲) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت دھنہ شاہ شاہ دھنہ قائم اللیل اور صائم النہار تھے، جس کے حق میں دعا کو ہاتھ اٹھا دیتے تھے وہ بامر اد ہوجاتا، سید کمال کو آپ کی صحبت حاصل تھی، انہیں سے علم ظاہری حاصل کیا تھا، آپ کا مزار ٹھٹھہ کے محلہ مسگر میں واقع ہے۔ (تحفۃالطاہرین ص۱۵۲) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت خیر الدین قاضی قاضی خیر الدین صاحب قال و صاحب حال بزرگوں میں تھے، آپ کی قبر نصر پور کے قریب ہے۔ (خزینۃ الاصفیاء،ص۱۷۳، وتذکرہ مشاہیر سندھ، ص۶۲) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید