جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

حضرت شیخ پیرمحمد سچیار نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ

  درمناقب حضرتِ پیر محمد پاک ذات روضۂ والائے شاں در حضرتِ نوشہرہ واں آنانکہ جائے درحرمِ کبریاکنند مِس وجودرا۔بنظر کیمیا کنند گوتندذاتِ حق نتواں گفت شاں ولیک درکسوتِ بشرشدہ کارخداکنند وقتیکہ طورِ عشق شود جلوہ گاہِ شاں علوی بشوق از اَرِنِی مرحباکنند مرجع جہان ومعبدِ آفاق درگہش تاچشم ہم زنی ہمہ حاجت رواکنند بحرِ فیوض ومنبعِ احسان وکانِ عشق بیگانہ رابہ نیم نگاہ آشنا کنند دربرمدام خلعتِ معشوقیں درست حق دار د آرزوکہ چہ ہست وچہاکنند نرودکسے زمعتقعدانش بدوزخے چوں در حضور حق زعنایت صلاکنند کافر بہ بُت پرستی وزاہد بصوم وحج شاں راہِ حق بگوشۂ ابرواداکنند وقتیکہ چشم مست کشانیدازخمار مگسِ شکستہ پر بتوجہ ہما کنند بینند یک بیک ہمہ دیدار حق عیاں آنانکہ خاکِ پاک ورش تویتاکنند روشن چوماہِ چاردہ سیمائے شارشود رنداں کہ پیش ورگہ۔۔۔

مزید

میاں خیرالدین بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  المعروف بابا خیرشاہ بن میاں عمر بخش بن میاں پیر بخش بن میاں جان محمد بن میاں غلام رسول بختاوری بھڑیوالہ۔ آپ کی بیعتِ طریقت سیّد غلام حسن بن سیّد قطب الدین نوشاہی برخورداری رحمتہ اللہ علیہ ساہنپالوی سے تھی۔ عادات و اخلاق    آپ حلیم الطبع ۔مؤدب درویش صورت تھے۔مؤلف کتاب ہذافقیر سیّد شرافت عفی  عنہ ۱۳۴۷ھ؁ میں بمعہ اپنے اہل خانہ مستورات کے درگاہ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ زیارت کے لیے حاضرہوئے۔آپ نے ساتھ ہوکر ہم کو سب مقابرو مقامات کی زیارت کروائی ۔بالخصوص یہ زیارتیں۔ ۱۔حضرت پاک صاحب اور شیخ الٰہ داد کے مزارات روضہ اقدس میں۔ ۲۔شیخ برخوردار (برادر پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ )کامزار۔ ۳۔والدۂ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ  کامزار۔ ۴۔اہلیہ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور اہلیہ حضرت الٰہ داد کے مزارات۔ ۵۔دختران حضر ت پاک صاحب کے مزارات۔ ۶۔مائی پرائی مطربہ کا مز۔۔۔

مزید

میاں غلام محمد بختاوری

  خلف اکبرمیاں الٰہی بخش بن میاں محمد بخش بن میاں جان محمد بخش  بختاوری رحمتہ اللہ علیہ۔ارادت اور بیعت آپ کی حاجی شمس الدین بن شیخ قطب الدین سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ چاوہ والہ سے تھی۔ جدامجد کی دعا آپ کو بچپن میں آپ کے دادا میاں محمد بخش بختاوری نے دعادی تھی کہ جوں جوں تم جوان ہوگے۔تمہار اعشق بھی جوان ہوگا۔چنانچہ عشق اور ذوق میں کمال ہوئے۔جب آپ کو وجد ہوتا۔آٹھ پہر تک مدہوش رہتے۔آپ کے پاؤں میں رَسّہ ڈال کر درخت پرنشان کیاجاتا۔اگراس پر افاقہ نہ ہوتاتو حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ  کے روضہ شریف کے آس پاس زمین پر گھسیٹاجاتا۔بہت دیرکے بعد افاقہ ہواکرتا۔ وجد و ذوق میاں مہرشاہ بن امام بخش بختاوری سے منقول ہے کہ ایک رات آپ نے چاہ خانقاہ والہ جُوتاہواتھااورخود بیلچہ لے کر کیارہ میں پانی لانے گئے اُس وقت بھڑی خورد سے قوالوں کے گانے کی آواز آئی۔آپ کو وجد ہوگیا۔جوش کی حالت می۔۔۔

مزید

میاں کرم الدین بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  خلفِ اکبرمیاں امیربخش بن جان محمد بن میاں غلام رسول بختاوری بھڑیوالہ۔آپ کی بیعت طریقت شیخ غلام حسن بن شیخ بڈھاسلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔انہیں سے خلافت پائی۔ معمولات آپ مسکین طبع درویش مردعزیزالوجودتھے۔آپ نے اوائل میں دوچلے کئے وہاں سے بہت کچھ فوائد حاصل ہوئے۔اکثر خاموش رہتےروزانہ سرگی کے وقت اُٹھ کر نوافل تہجد اداکرتے۔کلمہ طیّبہ اوردرود شریف ہزارہ معہ اسم اعظم غوثیہ اور درود تاج کا وظیفہ کیاکرتے۔ ذکر پاس انفاس میں ہروقت مشغول رہتے۔نماز پنجگانہ پر مواظبت رکھتے۔شجرہ شریف خاندان نوشاہی مصنّفہ مولوی محمد اشرف فاروقی روزانہ ایک مرتبہ پڑھاکرتے جس کا شروع یہ ہے؂ رب داایہ اسم ذات   وِردرکھادنے راتی اکدم غافل نہ تھیواں  رہاں نِت چتاردا تاثیر نگاہ آپ جس وقت کسی کو بیعت کرتے۔اُسی وقت نظرتوجہ سے اُ س کے دل میں عشق کابیج بودیتے۔ذوق وشوق ووجد آپ کی نظر ک۔۔۔

مزید

میاں امام بخش بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  المعروف امام شاہ ۔خلف ثانی میاں پیر بخش بن میاں جان محمدبن میاں غلام رسول بختاوری رحمتہ اللہ علیہ صاحبِ فقر درویشی تھے۔ شجرہ بیعت آپ کی بیعت طریقت باباگلاب بادشاہ کن کوٹلی بال گوبندسے تھی۔وہ مرید بابا رمضان شاہ ساکن جَوڑا سیاناں کے۔وہ مرید باباعظیم شاہ کوٹلی والہ کے ۔وہ مرید میاں غلام رسول بن خدابخش بختاوری کے۔ قصیدہ شریف کا فیضان آپ نے ابتدائے احوال میں قصیدہ غوثیہ اکتالیس روز تک پانی میں کھڑے ہوکر پڑھا۔اس سے آپ کو بہت فیض ہوا۔ کرامات ایک مرید کو فیض عطاکرنا آپ کے بیٹے میاں مہرشاہ سے منقول ہے کہ آپ کے مُرید سوایا مراسی ساکن چبّہ سندھواں  نے عرض کیاکہ مجھے فیض عطافرماویں ۔آپ نے فرمایا۔ہمارے مرید غوثاترکھان کو چالیس روز مُٹھیں بھرو۔تم کو فیض مل جائے گا۔چنانچہ اُس نے یہی معمول بنالیا۔ چالیسویں روز غوثاکسی کام سے چلاگیا۔سوایاعشأ کے بعد اپنے معمول پر وہاں گیا ۔تواُس کو نہ پا۔۔۔

مزید

میاں رکن الدین بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں محمد بخش بن جان محمد بختاوری رحمتہ اللہ علیہ کے چوتھےبیٹے اور مرید و خلیفہ تھے۔علم و حلم و یمن وبرکت والے تھے۔ تصوّف کاشوق آپ کتب تصوّف کامطالعہ رکھتے ۔خصوصاً کتاب آب حیاتی مصنّفہ حضرت سیّد عم بخش نوشاہی برخورداری رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ کے مطالعہ کابہت شوق تھا۔ مولوی بدرالدین بن مولوی کرم الٰہی خوشنویس ساکن گاجرگولہ نے آپ کے لیے خط نسخ سے آب حیاتی لکھی تھی۔جس کا دستخط یہ ہے۔ "الحمدللہ۔تمت تمام شد آب حیاتی بتاریخ ۲۴ ماہ جمادی الثانی۱۳۱۹ھ؁ مطابق ۸ ماہ اکتوبر۱۹۰۱ء؁ موافق ۲۴ماہ اسوج ۱۹۵۸؁بکرمی بروزمنگلوار وقت پیشی انجام یافت انتظام یافت۔حسب فرمائیش میاں عمدۃ السالکان طریقِ نوشاہی مقبول الٰہی صاحبزادہ خجستی آئیں میاں رکن الدین زاداللّٰہ اشفاقھماز خاندان پاک رحمان ساکن بھڑی شریف بقلم شکستہ رقم بندہ گندہ بدرالدین ولد میاں کرم الٰہی مرحوم ساکن گاجرگولہحرسھااللّٰہ تعالٰی عن۔۔۔

مزید

میاں قطب الدین بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں محمد بخش بن جان محمد بختاوری رحمتہ اللہ علیہ  کے تیسرے بیٹے اور مرید تھے۔ غیبی عطیہ ایک روز آپ درگاہِ عالیہ رحمانیہ میں بیٹھے تھے۔محمد لوہارکوکہاتمباکو پاؤ۔اُس نے دُھواں پر جاکرااپ کا صافہ کھولاتو تمباکو میں ایک روپیہ تھا۔اس نےچُھپاکر سوراخ میں دے دیا اور تمباکوپاکرلے آیا۔آپ دیر تک پیتے رہے۔جب وہ چلم ختم ہوگئی توپھرکہا۔نیا تمباکو پاؤ۔جب اُس نے دوبار ہ صافہ کھولا۔پھربھی روپیہ میں موجودتھا۔آپ نے کہا ۔بھائی اگرہزاردفعہ بھی نکالوگےتویہ عطیہ غیبی موجودہی رہے گا۔پھروُہ نادم و شرمندہ ہوا۔ کتاب خوانی آپ کو علم فقہ سے دلچسپی تھی۔کتاب انواع العلوم مصنّفہ مولوی عبداللہ لاہوری کامطالعہ رکھتے۔کتاب روشندل پنجابی منظوم قلمی کے ایک نسخہ سے ثابت ہوتاہےکہ وہ کسی کاتب نے آپ کے واسطے لکھی تھی۔اُس کا دستخط یہ ہے۔ "تمام شدایں کتاب روشندل برائے میاں قطب الدین فقیر ولد میاں محمد بخش سا۔۔۔

مزید

میاں محمد بخش بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں جان محمد بن میاں غلام رسول بختیاری رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے تھے۔بیعت و خلافت میاں کرم شاہ بن میا ں لال شاہ ساکن گاجرگولہ سے رکھتے تھے۔وہ مرید آپ کے دادا میاں غلام رسول بن خد ابخش بختاوری کے تھے۔ آپ صاحب جذبہ و عشق ذوق و شوق تھے۔جوش کے وقت جوکچھ منہ سے فرماتے وہی ہوجاتاتھا۔ کشفی نگاہ آپ کے بیٹے کاشتکاری کرتے تھے۔ایک روزشام کے وقت ان کی ایک گائے گم ہوگئی۔ساری رات تلاش کی اور دن کوبھی دوپہرتک ڈھونڈتے رہے۔مگرکوئی سراغ نہ ملا۔آپ بحالت ضعیفی گھرمیں بیٹھے تھے۔بیٹوں نے آکر خبرکی۔آپ نے مراقبہ کیااورفرمایاکہ اس وقت وہ فلاں ٹیلہ پر چَررہی ہے۔چنانچہ وہ گئے تو وہیں سے مِل گئی۔ دولت مندی کی دعا ایک دن آپ گھرسے چل کر درگاہِ شریف حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ پرجارہے تھے۔بوجہ ضعف و نقاہت کے راستہ میں بیٹھ کردم لینے لگے۔میاں کرم الدین بن وزیر شاہ زمانی نے جو نوجوان تھے۔آپ کو کاند۔۔۔

مزید

میاں جان محمد بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ امام العاشقین ۔سلطان الکاملین۔برگزیدہ وقت تھے۔میاں غلام رسول بن خدابخش بختاوری رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اکبراور مرید و خلیفہ تھے۔صاحب ذوق و شوق تھے۔ فضلائے سادات کو مریدکرنا ایک مرتبہ آپ موضع چک کُپّا ضلع سیالکوٹ میں تشریف لے گئے۔وہاں دوبزرگ سیّدنورشاہ اور میرمحمد شاہ نام علمائے وقت سے ممتازتھے۔آپ کی مجلس میں وجد و رقص کے متعلق احتساب کرنے آئے۔آپ نے ایسی نگاہ کی کہ اُن کو وجد ہوگیااور تڑپنے لگے۔ آپ نے اُن کودرخت پرنشان کردیا۔دیرتک معکوس حال کرتےرہے۔آخر افاقہ ہونے پر مُرید ہوگئے۔ پھرآپ نے فرمایاکہ یہاں تمہارے مکان پر ہر سال جیوڑے کا وجد ہواکرےگا۔ چنانچہ زمانہ تا حال پندرھویں ہاڑ کو وہاں سال بسال میلہ ہوتاہے اور سماع و وجدو رقص عام ہوتاہے۔ اولاد آپ کے تین بیٹے تھے۔ ۱۔میاں محمد بخش۔ ۲۔میاں پیربخش۔ ۳۔میاں امیربخش۔ ؎         میاں محمد ب۔۔۔

مزید

میاں غلام رسول بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں خدابخش بن میاں محمد بختاور بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند یگانہ تھے۔خلافت و اجازت اپنے دادامیاں محمد بختاوربن میاں شکرعلی رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ مراتب سلوک آپ صاحب جذبہ و سلوک وفقروریاضت و عبادت تھے۔آپ کا سلسلہ فقر علاقہ دوآبہ اور مانجھہ میں اکثرپایاجاتاہے۔ اولاد آپ کے دو بیٹے تھے۔ ۱۔میاں جان محمد۔ ۲۔میاں خان محمد لاولد۔ نوٹ:۔         آپ نے ایک عورت سے نکاح کیاتھا۔پہلے شوہر سے اُس کا ایک بیٹابنام خدا یارساتھ آیااورآپ کے گھر میں پرورش پائی۔جب وہ جوان ہواتوآپ نے اس کی شادی کردی۔اس کے ہاں ایک لڑکاشرف الدین نام پیداہوا۔آگئے اُس کا بیٹاگوہرشاہ نام متولد ہوا۔اُس نے میاں غلام رسول کی حقیقی اولاد کے ساتھ ملکیّت زمین کی شرکت کا دعوٰی کردیا۔چناچہ عدالت کی طرف سے وہ شخص حِصّہ زمین اور وراثت ِ جدی سے محروم کیاگیااور پھرچندعرصہ ۔۔۔

مزید