آپ کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ ابراہم رام پوری ہیں۔ جو غایت فقر و فنا سے متصف تھے۔ اور بڑے عبادت گذار اور مجامد تھے۔ آپکا ذات بے کیف کا شغل ہوا[1] کے ذریعے حاصل ہوا تھا۔ چنانچہ آپ ہمیشہ فنائے احدیت میں مستغرق رہتے تھے۔ اس فقیر کو م علوم ہوا ہے کہ حضرت شیخ ابراہیم لاہوری اہل بیت کی محبت میں بے اختیار تھے۔ چنانچہ جن ایام میں آپ سیدہپورہ میں رہتے تھے۔ جو کرنال کے نواح میں ہے تو آپ ہمیشہ زمین پر سوتے تھے۔ آپ کہتے تھے کہ کتنے سادات ہیں کہ جنکو چارپائی میسر نہیں ہے۔ آداب کے خلاف ہے کہ میں چار پائی پر سوجاؤں اور سادات زمین پر سوئیں اس سے ظاہر ہے کہ آپکو فنافی الرسول بدرجۂ کمال حاصل تھا۔ سیدپورہ میں آپ دن کے وقت ایک باغ میںجامن کے درخ کےنیچے شغل باطن میں مشغول رہتے تھے۔ اور رات کےوقت اپنے گھرمیں مشغول بحق رہتے تھے۔ جب درختوں کو پ۔۔۔
مزید
چودہویں خلیفہ حضرت شیخ فتحی تھے اور شیخ اسمٰعیل اکبر آبادی حضرت شیخ فتحی کے خلفا اعاظم میں سے تھے۔ حضرت شیخ نظام الدین بلخی قدس سرہٗ کے خلفا کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ اس مختصر کتاب میں گنجائش نہیں کہ انکا ذکر کیا جائے۔ غرضیکہ ہندوستان کا کوئی شہر اور قصبہ ایسا نہ ہوگا جہاں آپکے خلفاء یا خلفاء آسودہ اور متصرف نہ ہوں۔ یہاں تک کہ عربسان اور توران میں آپکے خلفاء پہنچ چکے تھے۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔ اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد ٍوَالہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۔ ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد نور دوئیم در ذکر مجمل از احوال قطب الاقطاب حضرت شیخ ابو سعید گنگوہی الحنفی محبوب حق حضرت شیخ محمد صادق بن شیخ فتح اللہ گنگوہی، وقطب دائرۂ وجود حضرت شیخ داؤد بن حضرت ش۔۔۔
مزید
آپکے بارہویں خلیفہ حضرت قاضی عبدالحی ابن قاضی سالم کیرانوری تھے۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ نظام الدین کے گیارہویں خلیفہ حضرت سید قاسم برہان پوری ہیں۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
حضرت اقدس کے دسویں خلیفہ حضرت شیخ عبدالرحمٰن کشمیری جنکا مسن لاہور تھا۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آپ کے آٹھویں خلیفہ حضرت شیخ مصطفیٰ ہیں۔ جن کا مسکن و مدفن معلوم نہیں ہوسکا۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
شیخ محمد مرزا جنکا روضہ سرہند میں ہے میر سید اللہ بخش کے اکمل خلفاء میں سے ہیں۔ شیخ محمد مرزا بڑے باکمال درویش تھے جب سے انہوں نے اپنے شیخ کے حکم کے مطابق خلوت اختیار کی ساری عمر ایک قدم باہر نہ رکھا۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ نظام الدین بلخی قدس سرہٗ کے تیسرے خلیفہ قطب وقت حضرت شیخ پائندہ بنوری ہیں جو مستِ جام توحید ومحو شراب تفرید تھے۔ آپ کی سکونت قصبۂ بنور میں تھی۔ جو شہر سہر اند سے چودہ پندرہ کوس کے فاصلہ پرہے۔ ابتدائے حال میں آپ نے شدید ریاضت و مجاہدہ کیا۔ اور اسکے بعد آپ کا مجاہدہ مشاہدہ میں مبدل ہوا۔ روایت ہے کہ کہ شدیدی مجاہدہ کے بعد آپ پر شغل باطن کے آثار وتصرفات ظاہر ہونے لگے۔ اُن دنوں آپ ذکر نفی واثبات بعض اوقات بطریق جہری اور بعض اوقات بطریق خفی کرتے تھے۔ ذکر سےشہر کےدروازے کھل جاتے تھے رات کے وقت آپ جب یہ شغل کرتے تھے اور لاَاِلَہَ اِلاَّ اللہ کہتے تھے تو شہر کے تمام گھروں میں قفل اور زنجیر ٹوٹ جاتے تھے اور گھروں کے دروازے کھل جاتے تھےاور صبح تک کھل رہتےتھے۔ جب شہر کے باشندوں پر یہ راز کھ۔۔۔
مزید
شیخ ولی محمد نارنولی جو اکبر آباد میں رہتے تھے حضرت شیخ ح سین بھوری کے اکمل خلفاء میں سے تھے۔ شیخ حسین کا مزار بھوہر میں حاجت روائے خلق ہے۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید