بن جدعان قریشی تیمی۔عمروکانام مہاجربھی ہے۔مہاجرکاتذکرہ انشاء اللہ تعالی میم کی ردیف میں آئے گاکیونکہ یہ مہاجرہی کے نام سے مشہورہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
قبیلۂ بنی عوف بن عمروبن عوف بن مالک بن اوس سے ہیں ۔انصاری اوسی ہیں۔بعض لوگ ان کومحز رجی کہتےہیں ان کا تذکرہ جعفرنے شرکائے بدرمیں لکھاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
مکحول نے عمروبن ابی خزاعہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک آدمی ہماراقتل ہوگیاتھااورہم نے حضرت کے سامنے استغاثہ کیاتھاآپ نے اس کا فیصلہ کیاتھا۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حضرت خباب کے غلام تھےان سے صرف ایک حدیث مروی ہے مگراس کی سند صحیح نہیں ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن منفق اسدی۔اوربعض لوگ ان کو اشعری کہتےہیں حضرت ابوسفیان بن حرب کے حلیف تھے اوربقول بعض ان کانام خارجہ بن عمروہے مگرپہلاہی قول صحیح ہے۔ان کا شمار اہل شام میں ہے ۔ان سے عبدالرحمن بن غنم اشعری نے روایت کی ہے۔ہمیں بہت لوگوں نے اپنی سند ابوعیسیٰ یعنی محمد بن عیسیٰ (ترمذی)تک پہنچاکرخبردی کہ انھوں نے کہاہم سے قتیبہ نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے ابوعوانہ نے قتادہ سے انھوں نے شہربن حوشب سے انھوں نے عبدالرحمن بن غنم سے انھوں نے عمروبن خارجہ سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (مقام)منیٰ میں خطبہ پڑھا اس وقت آپ اپنی اونٹنی پرسوارتھےاورمیں اس کی گردن کے نیچے کھڑاتھا۔اس کالعاب میرے شانوں پر ٹپک رہاتھاوہ پاگرکرتی جاتی تھی آپ نے اس خطبہ میں بیان کیاکہ اللہ تعالیٰ نے میراث میں ہرحق دارکاحق قائم کردیاہے لہذااب کسی واث کے لیے وصیت جائز نہیں اورلڑکا صاحب فراش کو ۔۔۔
مزید
بن قیس بن مالک بن عدی بن عامربن نجارانصاری خزرجی بخاری۔ بدرمیں شریک تھے یہ ابن اسحاق وغیرہ کاقول ہے۔ہمیں عبداللہ بن احمدنے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے ان لوگوں کے نام میں جوانصارسے شریک بدرتھےیہ روایت نقل کرکے سنائی کہ بنی عدی بن نجارسے عمروبن خارجہ بن قیس تھے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کے نام میں اختلاف ہے۔طبرانی نے اپنی سند میں ان کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔ ہمیں ابوموسیٰ نے کتابتہً خبردی وہ کہتےتھے ہمیں جال اورکوشیدی نے خبردی وہ دونوں کہتےتھے ہمیں ابن بریدہ نے خبردی نیزابوموسیٰ کہتےہیں کہ ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ دونوں کہتےتھےہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عمروبن حفص سدوسی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے قیس بن ربیع نے اعمش سے انھوں نےابوسفیان سے انھوں نے جابرسے نقل کرکے بیان کیا وہ کہتےتھے کہ انصار میں سے ایک شخص جن کو لوگ عمروبن حبہ کہتےتھے اوران کو سائب کا ایک منترمعلوم تھاآئے اور انھوں نےعرض کیاکہ یارسول اللہ آپ نے منتروغیرہ سے ممانعت فرمائی ہےاورمجھے سانپ کا ایک منترمعلوم ہے چنانچہ وہ منتر انھوں نےآپ کوسنایاآپ نےفرمایااس قسم کے منترمیں کچھ مضائقہ نہیں نیزایک اورشخص۔۔۔
مزید
بن حبیب بن عمروبن قین بن رزاح بن عمروبن سعد بن کعب بن عمرو بن ربیعہ خزاعی ۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بعدحدیبیہ کے ہجرت کی تھی۔اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ حجتہ الوداع کے سال اسلام لائےتھےمگرپہلاہی قول صحیح ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہےتھے اورآپ سے احادیث حفظ کی تھیں ۔کوفہ میں رہتےتھےاورپھرمصرچلے گئے تھےیہ ابونعیم کا قول ہے۔اورابوعمرنے کہاہے کہ یہ شام میں رہتےتھے بعد اس کے کوفہ میں چلے گئے تھےاوروہیں رہتے تھے مگرصحیح یہ ہے کہ یہ مصر سے کوفہ گئے تھےان سے جبیربن نفیر اوررفاعہ بن شداد قتبانی وغیرہما نے روایت کی ہے ہمیں منصور بن مکارم بن احمد مودب نے اپنی سند ابوزکریا یعنی یزید بن ایاس تک پہنچاکرخبردی کہ وہ کہتےتھے ہم سے ابن حفص نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے علی بن حرب نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حکم بن موسیٰ نے یحییٰ بن حمزہ سے انھوں نے اسحاق بن ابی فروہ ۔۔۔
مزید
۔انصاری۔قبیلہ بنی سلمہ سے ہیں ان کا نسب اوپر بیان ہوچکاہےیہ ان رونے والوں میں تھےجن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تھی۱؎ ولاعلی الذین اذامااتوک لتحملہم قلت لااجدمااحملکم علیہ تولواواعینعم تفیض من الدمع حزناً الایجدواماینفقون۔یہ واقعہ غزوہ تبوک کاہے۔یہ لوگ بہت سےتھے۔اس حدیث کوجعفر نے اپنی سندکے ساتھ ابن اسحاق سے نقل کیاہے۔اورجعفر مستغفری نے کہاہے کہ یہ احد کے دن شہید ہوئے اور یہ اورعبداللہ بن عمرو حضرت جابرکے والد ایک قبرمیں مدفون ہوئےتھےاس قبرکا نام قبرالاخوین ہےیہ دونوں باہم سالے بہنوئی تھے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ نے ان کاذکر اسی طرح کیاہے حالانکہ جو شخص عبداللہ کے ساتھ مدفون ہوئےتھے وہ عمروبن جموح ہیں جن کاذکراوپرہوچکا۔ ۱؎ترجمہ۔ان لوگوں پربھی کچھ گناہ نہیں جو اے نبی تمہارے پاس آتے ہیں تاکہ تم ان کو جہاد میں جانے کے لیے سواری دواورتم کہہ دیتے ہو ک۔۔۔
مزید
لیثی۔ان کاتذکرہ غیرمحفوظ ہے سفیان نےابن ابی ذیب سےانھون نےحارث بن حکم سے انھوں نے عمروبن حماس سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعورتوں کوبیچ سڑک پر نہ چلناچاہیےورنہ مردوں کے ساتھ اختلاط ہوگابلکہ ان کو یکسوہوکرچلناچاہیے اس حدیث کو وکیع نے ابن ابی ذیب سے روایت کیاہے اورکہاہے کہ اس حدیث کو حارث نے حکم سےانھوں نے عمروسے روایت کیاہے ۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ ان کا صحابی ہوناصحیح نہیں ہے۔اورکہاہے کہ بقول بعض ان کی کنیت ابوعمرو بن حماس ہے اوریہی مشہور ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید