بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف۔یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاکے بیٹےاورابن سیدالشہدا ہیں ان کی ماں خولہ بنت قیس بن فہد بن مالک بن نجار ہیں حضرت حمزہ کی کنیت انہی کے ساتھ مشہورتھی اوربعضوں نے کہاہے کہ حمزہ کی کنیت ان کے بیٹے یعلی کے ساتھ تھی حضرت حمزہ کی کوئی یادگارنہیں ہے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی حمزہ کے دونوں بیٹے عمارہ اور یعلی کے بھائی بھی تھاابوعمرنے ان کا تذکرہ اسی طرح کیاہےاورکہاہے کہ ان دونوں سے کوئی روایت مجھے معلوم نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
انصاری مازنی۔صحابی تھےان کا شمار اہل مدینہ میں ہےاور ابواحمد نے اپنی تاریخ میں کہا ہے کہ یہ صحابی اورعقبی بدری ہیں ابن مندہ نے ان کاذکرکیاہے اورابونعیم کہتےہیں کہ بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے اس کو ذکرکیاہے اوراس میں نظرہے اورابوعمرنے کہاعمارہ بن ابی حسن مازنی انصاری داداہیں عمروبن یحییٰ مازنی کے جوامام مالک کے شیخ تھے۔صحابی ہیں اوران کی روایت ہے اور ان کے باپ ابوحسن عقبی بدری تھے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن تیطان جاہلی۔انھوں نے اسلام کازمانہ پایااوراسلام لائے۔ان سے ان کے بیٹے ابی بن عمارہ نے روایت کی ہے ابوبکراسماعیلی نے ان کا ذکرصحابہ میں کیاہے۔خالد بن سنان کی حدیث و نار الحدثان روایت کرتےتھےان کی روایت سے اس حدیث کوابوسعید نقاش نے عجائب میں ذکرکیا ہے۔ ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن زید بن لوذان بن عمروبن عبدبن عوف بن غنم بن مالک بن نجار انصاری خزرجی پھربنی نجار سے ۔بھائی ہیں عمروبن حزم کے اوران کی ماں خالدہ بنت انس بن سنان بن وہب بن لوذان ہیں۔ یہ سب لوگوں کے نزدیک ان سترلوگوں میں سے ہیں جنھوں نے لیلتہ العقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اورمحرزبن نفلہ کے درمیان اخوت کرادی تھی۔یہ جنگ بدر میں شریک ہوئےمگران کے بھائی عمرونہیں شریک ہوئے اورنیزعمارہ احد اورخندق اورتمام جہادوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہےاورفتح مکہ میں بنی مالک بن نجار کاعلم ان کے ساتھ تھااورخالد بن ولید کے ساتھ مرتدین کے قتال میں شریک تھے جنگ یمامہ میں شہیدہوئے ابن لہیعہ نے یزیدبن محمد سے روایت کی انھوں نے زیادبن نعیم سے انھوں نے عمارہ بن حزم سے روایت کی وہ کہتےتھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاچار ۔۔۔
مزید
انصاری۔بھائی ہیں خزیمہ بن ثابت کے ان کانسب ان کے بھائی کے ذکرمیں پہلے مذکورہو چکاان سے ان کے بھائی کے بیٹے عمارہ بن خزیمہ بن ثابت نے روایت کی ہے یونس نےزہری سے انھوں نے ابن خزیمہ سے انھوں نے اپنے چچاعمارہ سے جوصحابی تھے۔روایت کی ہے کہ خزیمہ بن ثابت نے خواب میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پرسجدہ کررہےہیں خزیمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکریہ خواب بیان کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئےاور فرمایاکہ اپناخواب سچاکرو پس انھوں نے آپ کی پیشانی پر سجدہ کیااورابوالیمان نے شعبہ سے اس کو روایت کیاہے اورکہاہے کہ ان کے چچانے جو اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تھے اس کو اس طرح ان سے بیان کیاان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن خالد بن عبیدبن امیہ بن عامر بن خطمہ انصاری ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے اورتحویل قبلہ کی حدیث ان سے روایت کی ہے اورابوعمر نے ان کا نسب اس طرح بیان کیاہے عمارہ بن اوس بن زیدبن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار انصاری۔مگراول زیادہ صحیح ہے اوریہ کوفی ہیں زیاد بن علافہ نے ان سے روایت کی ہے ۔ابوالفضل مخزومی فقیہ نے اپنی اسناد ابی یعلی موصلی تک پہنچاکر ہم کوخبردی وہ کہتےتھےہم سے یحییٰ بن عبدالحمید نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے قیس بن ربیع نے بیان کیاانھوں نے زیاد بن علاقہ سے انھوں نے عمارہ بن اوس سے روایت کی۔اورانھوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازپڑھی ہے انھوں نے کہامیں اپنے مقام میں تھاکہ میں نے سنا ایک منادی دروازہ پر نداکررہاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ تبدیل کردیاپس میرے سامنے آیااور مردوں اور عورتوں اورلڑکوں نے بیت المقدس کی طرف بھی نماز پڑھی اور کعبہ کی طرف بھی۔ان کا۔۔۔
مزید
یہ عمارہ بن احمرمازنی ہیں۔محمد بن اسماعیل بخاری نے صحابہ میں ان کاذکرکیاہےقتیلہ بنت جمیع نے یزید بن حنفیہ سے انھون نےاپنے باپ سے روایت کی ہے انھوں نے کہامیں نے عمارہ بن احمرمازنی کوکہتے ہوئے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں نے مجھ پرحملہ کیااوراونٹ ہانک لے گئے تقسیم کرنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہواآپ نے واپس کردیاان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
یہ پہلے مسلمان ہیں جنھوں نے مسجد بنائی ہمیں عبیداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند یونس بن بکیرتک پہنچاکرخبردی وہ عبدالرحمن بن عبداللہ سے وہ حکم بن عیتیہ سےروایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے توبوقت چاشت وہاں پہنچے تھے حضرت عمار نے کہابڑی ضرورت ہے کہ ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی جگہ ایسی بنادین جہاں آپ دوپہرکوسایہ میں بیٹھیں اوروہیں آپ نماز پڑھیں چنانچہ چند پتھرجمع کئےاورمسجد قباکی بنیاد ڈالی پس یہ سب سے پہلی مسجد ہے جوبنائی گئی اورحضرت عمارنے اس کو بنایا۔ہمیں اسمعیل بن علی وغیرہ نے اپنی سند محمد بن عیسیٰ (ترمذی)تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہمیں عمربن علی نے وہ کہتےتھے ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سعید نے قتادہ سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے سعید بن عبدالرحمن بن ابزدسے انھوں نےاپنے والد سے انھوں نے حضرت ع۔۔۔
مزید
بن عامربن مالک بن کنابن قیس بن حصین بن وذیم بن ثعلبہ بن عوف بن حارثہ بن عامراکبر بن یام بن غسن بن مالک بن اودبن زیدبن یشحب مذحجی عنسی ۔کنیت ان کی ابوالیتفطان تھی۔یہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے سب سے پہلے اسلام کی طرف سبقت کی تھی۔قبیلہ بنی مخزوم کے حلیف تھے۔ان کی والد ہ سمیّہ تھیں اوروہ پہلی خاتون ہیں جو اللہ عزوجل کی راہ میں شہید کی گئیں۔یہ اور ان کے والداوران کی والدہ سب سابقین میں سےتھے۔حضرت عمارتیس سے کچھ زائدآدمیوں کے بعد اسلام لائے تھے۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جواللہ کی راہ میں بےحدستائے گئے۔واقدی وغیرہ علماء نسب وتاریخ نےبیان کیاہے کہ حضرت عمارکے والد یاسرعرنی قحطانی مذحجی تھے جوقبیلہ عنس کی ایک شاخ ہے مگرحضرت عماربنی مخزوم کے غلام تھےوجہ اس کی یہ تھی کہ ان کے والد قبیلہ بنی مخزوم کے کسی شخص کی لونڈی سے نکاح کیاتھاحضرت عماراس سے پیداہوئے تھے(لہذااس لونڈی کے مالک نے ان کو۔۔۔
مزید
بن زرارہ بن عمربن غنم بن علی بن حارث بن مرہ بن ظفرانصاری اوسی ظفری ۔کنیت ان کی ابونملہ تھی غزوہ بدرمیں شریک تھے۔ابن ابی داؤد نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہے مگراور لوگوں نے اس میں اختلاف کیاہے۔یہ اپنی کنیت سے مشہورہیں عنقریب کنیت کے باب میں ان کا ذکرکیاجائےگا۔ان کی حدیث یہ ہے کہ اہل کتاب جوکچھ تم سےبیان کریں اس کی تصدیق نہ کرو بعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کانام عمارہ تھاچنانچہ ہم عمارہ کے نام میں انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ذکرکریں گے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید