اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

سیّدنا عمرو ابن سلمہ رضی اللہ عنہ

   بن نخیع۔اوربعض لوگ سلمہ بن قیس اوربعض سلمہ بن لائے بن قدامہ جرمی کہتےہیں۔ کنیت ان کی ابوبریدتھی انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی قوم کی امامت کیاکرتا تھاحالانکہ اس وقت میری عمرچھ یاسات برس کی تھی۔اور حجاج بن منہال نے حماد بن سلمہ سے انھوں نے ایوب سے انھوں نے عمروبن سلمہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں ان لوگوں میں تھاجووفد بن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت  میں حاضرہوئے تھےآپ نے فرمایاکہ جو شخص تم سب میں زیادہ قاری قرآن ہو وہی امامت کرےتو میں ہی سب سے زیادہ قاری قرآن تھا۔حماد بن سلمہ نے ایسا ہی بیان کیاہے۔ہمیں ابواحمد یعنی عبدالوہاب بن علی نے اپنی سند ابوداؤد یعنی سلیمان بن اشعث تک پہنچاکر خبردی وہ کہتےتھےہم سے قیضبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے وکیع نے مسعربن حبیب جرمی روایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھےمجھ سے ع۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن ابی سلامہ رضی اللہ عنہ

   بن سعد۔ابوحدردیعنی سلامہ بن عمرواسلمی کے والد ہیں ان کاتذکرہ جعفر نے لکھاہے اورکہاہے کہ ان کی حدیث کی سند میں اختلاف ہے۔محمد بن یحییٰ قطعی نے حجاج سے انھوں نے حماد سے انھوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے یزید بن عبداللہ بن  قسیط سے انھوں نے ابوحدرداسلمی سے انھون نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کواورابوقتادہ اور محلم بن جتامہ ایک چھوٹاسالشکر دیکر اضم کی طرف بھیجاتھاراستہ میں ان کو عامر بن اضبط اشجعی ملااور اس نے ان کو اسلام کے طریقہ کے موافق سلام کیامگرمحلم بن جثامہ نے اس کو قتل کردیا اور اس کا سب مال لے لیا جب یہ سب لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اورآپ سے سب واقعہ بیان کیاتو آپ نے فرمایاکہ کیاتم نے اس کو قتل کردیاباوجود یکہ وہ مسلمان تھابعد اس کے یہ آیت نازل ہوئی۱؎یاایھاالذین آمنوااذاضربتم فی سبیل اللہ فتبینواس حدیث کو ابوخال۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سفیان رضی اللہ عنہ

  ۔ان کی حدیث روح بن عبادہ نے ابن جریح سے انھوں نے عبدالملک بن عبداللہ بن ابی سفیان سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگرپیالہ ٹوٹ گیاہوتوجس طرف سے وہ ٹوٹاہو اس طرف سے نہ پیو کیونکہ اس طرف سے شیطان پیتاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اورابن مندہ نےکہاہے کہ میرے خیال میں یہ وہی پہلے شخص ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سفیان رضی اللہ عنہ

   بن عبدشمس بن سعد بن قائف بن اوقص بن مرہ بن ہلال بن فالج بن ذکوان بن ثعلبہ بن بہثہ ابن سلیم کنیت ان کی ابوالاعورتھی سلمی ہیں۔ان کی والد ہ قریبہ بنت قیس بن عبدشمس تھیں قبیلہ عمروبن ہصص سے۔یہ اپنی کنیت ہی کے ساتھ مشہورہیں حضرت معاویہ کے مشہور رفیقوں میں ہیں صفین میں تمام لڑائی کامدارانھیں پرتھا۔مسلم بن حجاج نے کہاہے کہ الاعور سلمی کا نام عمروبن سفیان تھاصحابی ہیں اورابن ابی حاتم نے کہاہے کہ صحابی نہیں ہیں جاہلیت کازمانہ انھوں نے پایاتھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ حدیث جوانھوں نےروایت کی ہے مرسل ہے کہ آپ نے فرمایامجھے اپنی امت کوحق میں ایک حرص کاخوف ہے دوسرے ہوائےنفسانی کاتیسرے بادشاہ گمراہ کا۔یہ حضرت معاویہ کے اصحاب میں سے تھے۔ابوعمرنے کہاہے کہ ابن ابی حاتم نےایساہی بیان کیا ہےاوریہی صحیح ہے ان سے عمروبکالی نے روایت کی ہے ہم ان کا تذکرہ انشاءاللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں ک۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ

  ۔حنین میں مشرکوں کے ساتھ آئےتھے۔ان کا شماراہل شام میں ہے ان سے قاسم یعنی ابوعبدالرحمن نے اسی طرح روایت کی ہے حاکم ابواحمد نے ایساہی بیان کیاہے پھرحنین کے بعد اسلام لائے ان سے مروی ہے کہ حنین کے دن جب مسلمانوں کوہزیمت ہوئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سواعباس اورسفیان بن حارث کے کوئی نہ تھاپس آپ نے ایک مشت خاک اٹھائی اورکافروں پر پھینکی پس ہم سب لوگوں کویہ معلوم ہونے لگاکہ ہرشجروبحر ہمیں پکڑنے کے لیے دوڑاہواآرہاہےپس میں اپنے گھوڑے پر سوارہوکربھاگااورطائف میں آکر میں نے دم لیا۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سعید رضی اللہ عنہ

   ہذلی ۔کنیت ان کی ابوسعید تھی۔حاتم بن اسمعیل نے عبداللہ بن یزید ہزلی سے انھوں نے سعید بن عمروبن سعید ہذلی سے انھوں نے اپنے والد سے جوبہت بوڑھے تھےاورانھوں نے جاہلیت اوراسلام دونوں زمانے دیکھے تھے روایت کی ہے کہ انھوں نےکہامیں اپنی قوم کے ایک شخص کے ہمراہ ایک بت کے پاس جو مقام سواع میں تھاگیااورکچھ ذبیحہ بھی ہم نےاس کے سامنے کیے تھے ان کا تذکرہ ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابوسعید رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابوسعیدتھی۔انصاری ہی۔شرکائے بدرمیں سے ہیں ان سے ان کے بیٹے سعید نے روایت کی  ہےوکیع نےسعد بن سعید تغلبی سے انھوں نے سعید بن عمروسے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے والدسے جواہل بدرسےتھےروایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی میرے اوپرخلوص قلب سے ایک مرتبہ درود پڑھے اللہ تعالیٰ اس پردس بار رحمت نازل کرتا ہےان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سعید رضی اللہ عنہ

بن عاص بن امیہ بن عبدشمس قریشی اموی ان کی والد ہ صفیہ بنت مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھیں حضرت خالد بن ولید ان کے چچاتھےانھوں نے اوران کے بھائی خالد بن سعید نے دو ہجرتیں کی تھیں ایک حبش کی طرف دوسری مدینہ کی طرف اوریہ دونوں بھائی ایک ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےتھےمگرعمروخالد کے کچھ دنوں بعد اسلام لائے تھے۔واقدی نے جعفربن محمد بن خالد سے انھون نے ابراہیم بن عقبہ سے انھوں نے ام خالد بنت خالد بن سعید ابن عاص سے روایت کی ہے کہ وہ کہتی تھیں میرے چچا عمروبن سعیدمیرے والد کے جانے کے کچھ دنوں بعدحبش گئےتھےپھروہیں رہے یہاں تک کہ اوراصحاب نبی کے ہمراہ دو کشتیوں میں سوارہوکروہاں سے آئے جس وقت مدینہ پہنچے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے یہ ۷ھ؁ ہجری کاواقعہ ہے پس عمرونبی صلی اللہ علیہ وسلم کےہمراہ فتح مکہ اورحنین اور لطائف اور تبوک میں شریک ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سعید رضی اللہ عنہ

بن ازعربن زیدبن عطاف اوسی انصاری جعفرنےان کا تذکرہ شرکائے بدرمیں کیاہے ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ مختصرلکھاہے میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ سے اس میں غلطی ہوگئی ہے کہ انھوں نے ان کے والد کانام سعیدبتایاحالاں کہ ان کانام معبد ہے اورانھوں نے خود بھی عمروبن اور عمیربن معبدکے نام میں ان کاتذکرہ لکھاہے اورہم نے بھی ان دونوں ناموں میں ان کا ذکرکیاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن شعواء رضی اللہ عنہ

   بعض لوگ کہتے ہیں شعواء یافعی تھے۔فتح مصر میں شریک تھے۔ان کا شمارصحابہ میں ہے ان سے سلیمان بن زیاد اورابومعشرحمیری نے روایت کی ہے ابن امیہ نے عیاش بن عباس قتبانی سے انھوں نے ابومعشرحمیری سے انھوں نے عمروبن شعواء یافعی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات آدمیوں پرمیں نے لعنت کی ہےاور ہرنبی کی دعامقبول ہوتی ہے جن سات آدمیوں پر میں نے لعنت کی ہےوہ یہ لوگ ہیں۔کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا اورتقدیر الٰہی کی تکذیب کرنے والااوراللہ کی حرام کی ہوئی چیزکوحلال کرنے والااورمیری عترت کی بےحرمتی کوجائزجاننے والا اور میری سنت کو ترک کرنےوالااور مال غنیمت کواپنے لیے مخصوص کرنے والااوراپنی سلطنت کے غرورمیں اس شخص کوعزت دینے والاجسے خدانے ذلیل کیااوراس کو ذلت دینے والاجسے خدانے عزت دی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید