حضرت شیخ ابو علی کیال علیہ الرحمۃ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ ابو علی کیال کو دیکھا تھالیکن میں چھوٹا تھا۔میں نے ان کو نہیں پہچانا۔بزرگ تھے اور سیستان کے شیخ تھے۔ملامتی طریقہ پر تھے۔ان کی کرامت کی تعریف نہیں کر سکتےکیونکہ وہ کرامات سے خود بہتر تھے وہ اور شیخ احمد نصر ، شیخ ابو سعید مالینی تینوں صوفیوں کی سرائے کے صفہ میں رہتے تھےاور میں وہاں حاضر رہتا تھا۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ ابو سلمہ باوردی علیہ الرحمۃ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ شیخ ابو سلمہ باوردی خطیب صوفی سیاح میرے پیروں میں سے ہیں ۔ بڑے بوڑھے تھے اور بہت سے مشائخ کو دیکھا تھا۔جیسے ابو عبداللہ رودباری عباس چاعر ابو عمر نخند ابو ایعقوب نہر جوری رحمہم اللہ۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ احمد حاجی علیہ الرحمۃ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ شیخ احمد حاجی میرے پیروں میں سے ہیں ۔ انہوں نے شیخ الاسلام حصری کو دیکھا تھا اور ابوالحسن ترزی وغیرہ کو بھی ان سے حکایات نقل کیا کرتے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ حصری سے کچھ یاد رکھتے ہیں ۔ کہا ایک شیخ کے ساتھ حصری کی خدمت میں ہم گئے ۔ کچھ کھانے کی چیز موجود نہ تھی۔شیخ کہتے تھے ۔نحن دوابک یاسیدیاعلف دوابک یا سیدی یعنی اے میرے سردار ہم تیرے چوپایہ ہیں۔ان کو اے میرے سرداردانہ گھاس دےاور تالی بجاتے تھے۔شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ اس کا خیال نہ کر کہ ان کو چارہ کی ضرورت تھی ۔ اس کا کر کہ خداتعالی کے سواان کی کوئی حاجت نہ تھی۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت احمد مرجانہ واحمد کا پرستانی علیہ الرحمۃ اور مثل احمد مرجانہ اور احمد کلنہ دستانی کے کہ توت کی شاخ پر رقص کرتے تھے۔ہم چالیس سے کچھ اوپر دن وہاں تھے۔ ہر روز لوگوں کے مہمان ہوتے تھے۔ایک ہزار دوسو کپرے فتوح(نذرانہ)ملے تھےجن میں سے سوا پرانےمصلے کے میں کچھ نہیں لایا تھا۔ ایک دن میں سماع کرتا تھا اور اس میں شور مچا رہا تھا۔اپنے کپڑے پھاڑ تا تھاجب میں سماع سے باہر نکلا اور مسجد جامع میں گیا ۔سماع کے خمارمیں تھا۔ایک شخص میرے سامنے آیا اور کہنے لگا وہ جوان کون تھاکہ سماع میں پھرتا تھا۔میں نے کہا کس قسم کا تھا۔ کہا ایک نوجوان تھا ۔نرگس کی شاخ دراز اس کے ہاتھ میں تھی تمہارے ساتھ سماع میں پھرتا تھاجب وہ نرگس کو تمہاری ناک کے سمانے کرتا تو تم شور مچا تے تھے اور زیادہ بے طاقت ہوجاتے تھے۔ میں نے کہا ک۔۔۔
مزید
حضرت ابو بشرکواشانی علیہ الرحمۃ جب ابو بشر کواشان میں تھے کبوتر ان کی بات سے نیچے نہیں اتر آیا تھا اور جیسے ۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت ابو حفص غارو دانی علیہ الرحمۃ ابوحفص نے غاردان میں آنکھیں اور کان میری طرف متوجہ کیے ہوئے تھے۔وہ بے حد صاحب کرامت ظاہرہ تھے۔ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ اگر ابو حفص غارودان میں زندہ ہوتے تو تم اپنے کپڑے ان سے چھین لے تے اور اس کی طرف نہ دیکھتے لیکن میں اس بزگ کو دیکھتا تھا وہ ظاہری کرامات اور بڑی فراست والے تھے۔ ایک دوست اس کے دوستوں میں سے تھا۔وہ اس کے ساتھ پوشیدہ رہتے تھے۔اس غیرت سے کہ اس کا کوئی دوست نہ ہو۔اس کے دوستوں کو لوگ پہچانتے نہ تھے۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت ابو منصور سوختہ رحمتہ اللہ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ ابو منصور کے قہندز میں پیر تھے۔ایک دفعہ اپنے آپ کو جلا لیا اور خدا کے لیے جلے اس لیے ان کا نام سوختہ پڑگیاسچے مرد متقی پکے تھے۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت ابو منصور محمد انصاری علیہ الرحمۃ آپ شیخ الا سلامکے باپ شری حمزہ عقیلی کے مرید ہیں۔ابوالمظفر ترمذی کی خدمت میں رہے تھے۔شیخ الا سلام کہتے ہیں کہ شیخ احمدکوفانی نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ سب کچھ تو نے کیا ،اور بہت پھرے مگر اپنے باپ میں کیو ں نہ دیکھا۔شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ میں نے ستر سے کچھ اوپر سال تک علم سیکھا اور لکھا ہے۔رنج اٹھایا ہے۔عقاید میں نے سب سے پہلے اپنے باپ سے سیکھے تھے لیکن وہ ایسے قاری صادق ،متقی،پرہیزگار تھےکہ کوئی ایسا ہو نہیں سکتا،نہ اختیار کر سکتا ہے۔شیخ الاسلام یہ بھی کہتے ہیں کہ میرے باپ میری نسبت بڑا آواز رکھتے تھے۔مجھے کہا تھا کہ عبداللہ تم کب تک فضیل عیاض اور ابراہیم ادھم ؒکی باتیں کہو گے ۔تم سے فضیل اور ابراہیم ادھم پیدا ہوں گے۔انہوں نے میرے بابت خواب میں دیکھا تھا لیکن مجھ سے نہ کہتے تھے مگر کہتے تھے،۔۔۔
مزید
حضرت کاکااحمد سنبل اور اس کے بھائی محمد خواجہ علیہ الرحمۃ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ کاکا احمدسنبل اپنے بھا ئی محمدخواجہ سے بڑھ کر تھے۔ نیک باطن تھے اور ان کے بھائی ظاہر میں زیادہ پاکیزہ تھے۔بڑے مشہور درویش تھےکرامت ولایت والے تھےمیری بابت ان کے خیالات تھے۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت کاکاابوالقصر بستی علیہ الرحمۃ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ آپ بزرگ مرد میرے زمانہ میں تھے۔لیکن میرے باپ کہ نزدیک بزرگ نہ تھےوہ مجھے ان کے پاس نہ لے جاتے تھے۔میں چھوٹا تھا جمعہ کے دن مجھ کو باپ پیرون کی خدمت میں لے جایا کرتے تھےتاکہ وہ یرے سر پر ہاتھ پھیرے۔ابوالقصر کے پاس نہیں لے جاتے تھے۔حالانکہ وہ مسجد میں ہی ہوتے تھے کیونکہ وہ ملامتی تھے اور میرے باپ قادری تھے۔لیکن شیخ ابوالحسن تیشہ ساز اور ان کے بھائی شیخ ابو محمد کاکا ابوالعصر کے مرید تھے۔روشن پیر اور بڑے نعرے لگانے والے تھے۔ابوالقصر کے سب مرید ایسے ہی تھے کہ نعرہ بڑے مارا کرتے تھےاور یہ دونوں اپنے پیر کی حکایات بیان کرتے تھے۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید