حضرت شیخ برکہ ہمدانی رحمتہ اللہ تعالی عین القضاۃ ہمدانی رحمتہ اللہ تعالی اپنے مصنیفات میں ان سے حکایت کرتے ہیں۔ایک جگہ یوں کہتے ہیں جو شخص سورۃ فاتح اور قرآن مجید کی چند آیتوں کے سوا اور کچھ یاد نہ رکھے اور وہ بھی شرط کے طور نہ پڑھ سکےاور قال یقول کو نہ جانے کہ کیا کہے اور اگر سچ پوچھو تو موزوں حدیث بھی ہمدانی کی زبان سے نہیں جانتالیکن جانتا ہو کہ وہ سحیح قرآن جانتا ہے اور میں نہیں جانتا ،مگر کچھ کچھ اور وہ بعض بھی میں نے تفسیر وغیرہ کے طور پر نہیں جاناہاں ان کی خدمت کرکے جانا ہے ۔ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ میں نے خواجہ احمد غزالی سے سنا ہے کہ وہ یہ فرماتے ہیں۔ہرگز شیخ ابو القاسم گرگانی نے یہ نہیں کہا ہے کہ ابلیس جب اسکا نام لیتے تو کہتے ۔خواجہ خواجگان سرمہجوران جب یہ حکایت برکہ سے میں نے بیان کی تو کہا کہ ابلیس کو خواجہ خ۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ عبیداللہ ادام اللہ برکات وجودہ علی مفارق الطالبین علیہ الرحمۃ آپ آیات الٰہی کےمظہر طبقہ خواجگان کی ولایات کرامات"ان کے وجودکی برکتیں خدا تعالٰی ہمیشہ طالبین کے سر پر رکھے کا مجمع ان کے سلسلہ شریف کے انتظام کا واسطہ اور پیوند کا رابطہ حضرت خواجہ پیر مرشید اور ان کے جو مخلص نیاز منہ ہیں مجھے ایسی امید ہےکہ ان کے وجود شریف کی برکت سے اس سلسلہ کا انتظام وپیوند قیامت تک چلاجائےگا۔اگر چہ فقیر کی اس قسم کی باتیں گستاخی ہیں"لیکن جس قدر کہ میں سوچتاہوں اپنے میں یہ حوصلہ نہیں پاتا کہ میرا دل اس پرقرار پکڑے کہ یہ مجموعہ جس کے جمع کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ان حضرات کے معاف کا ذکر اور اس گروہ کےمناقب کا شہرہ ہو۔حضور کے ذکر سے خالی رہے۔اس لیے اس سلسلہ شریفہ کے حالات و مناقب کی شرح کو آپ کے پاکیزہ کلمات سے جس کو آپ کی قلم معرفت لکھنے والی نے لکھا ہے۔بطور مسک الختام یعنی کس۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ عبداللہ ایامی اصفہانی علیہ الرحمۃ آپ بھی خواجہ علاؤ الدین قدس اللہ تعالی کے صحاب میں سے ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ جب میں پہلی دفعہ ہی خواجہ کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے یہ شعر پڑھا: تو زخود گم شو کمال انیست بس تو ممان اصلا وصال انیست و بس آپ اپنے بعض رسالوں میں ذکر کرتے ہیںکہ علائیہ گروہ کی توجہ کا طریقہ اور ان کی باطنی نسبت کی پرورش یوں کہ جب چاہتے ہیں کہ اس میں شغل کریں۔اولاً اس شخص کی صورت کہ جس سے یہ نسبت حاصل کی ہے خیال میں لاتے ہیں۔یہاں تک کہ حرارت کا اثر اور ان کی بعینہ کیفیت ظاہر ہوجائے۔اس کے بعد۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ علاؤ الدین عجدانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ عبید اللہؒ فرماتےہیں کہ خواجہ علاؤ الدین عجدوانی خواجہ بزرگ کے اصحاب میں سے ہوئے ہیں۔حضرت خواجہ نے ان کو خواجہ محمد پارسا کی صحبت کے لیے فرمایا تھا،وہ پورا استغراق رکھتے تھے اور نہایت شیریں سخن تھے۔کبھی ایسا ہوتا کہ باتیں کرتے کرتے اپنے سے غائب ہوجاتےجبکہ خواجہ محمد ؑپارسا سفر مبارت میں گئےتھے۔ان کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔سمر قذ کے ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے خواجہ سے درخواست کی کہ خواکہ علاؤ الدین بہت بوڑھےضعیف ہوگئے ہیں۔ان سے کوئی کام نہیں ہوسکتااگر ان کو سفر سے معذور رکھیں تو آپ کی عنایت سے دور نہیں۔خواجہ نے فرمایا کہ ہم کو ان سے کوئی کام نہیں۔صرف یہ کہ جب ان کو دیکھتے ہیںتو عزیزوں کی نسبت یاس آجاتی ہے۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
سید محمد اصغر علوی قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (شیخوپورہ)۔۔۔
مزید
حضرت امام ابو سعد اسماعیل بن سمان رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ محمد عرف سید مرتضیٰ حسینی بلگرامی ثم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔
مزید
حضرت علامہ شیخ محمد بن ہاشم فاضل سورتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا غلام رسول کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت مولانا غلام رسول ، جنت نظیر وادی کشمیر کے ایک گاوٗ ں پر تاب پورہ ( قصبہ شوپیاں تحصیل کو لگام ) ضلع اسلام آباد ( اننت ناگ ) کے ایک معزز و متمول ’’بٹ ‘‘ خاندان میں ۱۹۳۵ء کو تولد ہوئے۔ آپ کے والد عبدالعزیز گاوٗ ں کے نمبر دار تھے ۔ تعلیم و تربیت : اپنے علاقہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد ۱۹۴۸ ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے سفر اختیار کیا ۔ تبلیغی جماعت ‘‘ کے ظاہر کو دیکھ کر چھ ماہ اس کے ساتھ رہے جب باطن نظر آیا توالگ ہو گئے بلکہ متنفر ہو گئے ۔ ۱۹۵۱ء میں پاکستان تشریف لائے، کراچی میں قاری احمد حسین فیروز پوری ثم گجراتی کی دل کش تقریروں اور روح پر ور نعتوں نے دل کو گرمایا ، عشق کو جگایا، قاری صاحب سے تعلق خاطر ہو گیا ، تبلیغی جماعت کے اثرات زائل ہو گئے۔ مولانا نے ابتدائی دینی کتابیں حضرت۔۔۔
مزید