جمعرات , 11 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 22 October,2026

حضرت ابومزاحم شیزازی

حضرت ابومزاحم شیزازی رحمۃاللہ           وہ فارس کے بزرگوں میں سے تھےجنید ؒ اور شبلی ؒ سے انکی انبن رہی تھی ۔کب یہ معرفت میں باتیں کرتے تو مشائخ بھی اس سے ڈرتے ۔صاحب حدیث اور بڑے بزرگ تھے ۔شیخ ابو عبداللہ خفیف نے انکو اپنی کتاب میں فارس کے مشائخ کے چند ناموں میں ذکر کیا ہے۔انکا ۲۴۵ ہجری میں انتقال ہوا ابوحفص کی زیارت کے لیے جاتے تھے ابو حفص اور اس کے یاروں کو چند درہم کہیں سے ملے تھے ۔لوگوں نے کہا کہ انسے بیت الخلا کو صاف کریں گے ۔ابوحفص نے کہا کہ یہ تو ہم نے گندی کیے ہیں پھر ہم ہی کو پاک کرنا چاہیے اور جو درہم ملے ہیں وہ درویشوں کے کام میں لانا چاہیے۔اس صفائے میں مشغول تھے کہ ایک شخص آیا ابو حفص کہنے لگے کہ اپنے آپ کو دھو ڈالو اور کپڑے پہن لو کہ شیخ ابو مزاحم فارس سے آئے ہیں کہا کہ اگر یہ وہ ابو مزاحم ہیں کہ جن کو میں جانتا ہوں تو چاہیے کہ وہ مج۔۔۔

مزید

حضرت ظالم بن محمد

حضرت ظالم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ           آپ بڑے مشائخ میں سے ہیں آپکا نام ابو عبد اللہ تھا لیکن اپنے آپ کو ظالم کہتے تھے کہ مجھ سے ہر گز بندگی کا حق ادانہیں ہوتا تھا اس لیے میں ظالم ہوں اور وہ ابو جعفر حداد کے یاروں میں سے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو شخص چاہتا ہے کہ یہ راہ اس پر کھل جائے اسکو چاہیے کہ تین کام ضروری کرے۔خدا کے ذکر سے آرام پانا ،لوگوں سے بھاگنااور کم کھانا۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔

مزید

حضرت ابو محمد حداد

حضرت ابو محمد حداد رحمۃ اللہ علیہ           آپ ابو حفص کے مریدوں میں سے ہیں کوپان سے ابو حفص کے پاس نیشاپور میں آئے آپ نے انسے کہا کہ لوہارا کام کر اور درویشوں کو دے اور اس سے خود نہ کھا اور آپ مانگ کر کھا ۔کچھ مدت ایسا کیا تو لوگوں طعن کرنا شروع کیا کہ دیکھو کماتا بھی ہے اور پھر مانگ کر بھی کھاتا ہے لیکن جب آخر انکو اعلیٰ درجہ پہنچایا گیا کہ انکا حال کس قسم کا ہے تو مقبولیت عامہ ظاہر ہوئی اس لیے لوگوں نے احسان کا ہاتھ کھولا اور بہت کچھ دینے لگے۔ابوحفص فرمانے لگے کہ جب تمہارا حال یہاں تک کردیا گیا تو اب سوال مت کر ،اب تم پر سوال کرنا حرام ہو گیا جو کام کرتا ہے اس میں سے کھا اور اس میں سے دے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک مرید انکے پاس آیا آپ نے اس سے کہا کہ اگر اس راہ کا تجھے قصد ہے تو جا پہلے جا کر حجامی سیکھ یہاں تک کہ لوگ تجھ کو حجام کہیں پہلے سے ت۔۔۔

مزید

حضرت ابو سندی

حضرت ابو سندی علیہ الرحمۃ             شرح شطیحات شیخ روز بہان بقلی میں مذکور ہے کہ آپ با یزید کے اساتذہ میں سے ہیں ۔ بایزید کہتے ہیں کہ میں  ابو علی سے توحید میں فنا ہونےکا علم سیکھتا تھا اور ابو علی مجھ سے الحمد اور قل ھو اللہ سیکھا کرتے تھے۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔

مزید

حضرت خلف بن علی

حضرت خلف بن علی رحمۃ اللہ علیہ           آپ بصرہ کے رہنے والے ہیں اور یحیٰ بن معاذ کے ہمصحبت تھے ۔آپ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ یحی بن معاذ کی مجلس میں تھا ایک شخص کو وجد ہو گیا دوسرے نے شیخ سے پوچھا کہ اسکو کیا ہوا ہے ۔آپنے جواب دیا کہ اسنے خدا کی بات سنی وحدانیت کا راز اسکے دل میں کھل گیا ۔انسانیت کی صفت محو گئی۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔

مزید

حضرت یحی بن معاذ رازی

حضرت یحی بن معاذ رازی روح اللہ روحہ           آپ پہلے طبقہ والوں میں ہیں آپکی کنیت ابو زکریا ہےاور لقب واعظ ۔حسین بن رازی کہتے ہیں کہ میں ایک سو بیس(۱۲۰)شہروں کے حکماء و علماءو مشائخ کی زیارت کے لیے گیا ہوں مگر یحی بن معاذ رازی سے بڑھ کر میں نے کسی کو بات کرنے پر قادر نہ پایا اور انکا مقولہ یہ ہے"انکسار العاصین احب الی من صولۃ المطیعین " یعنی گناہ گاروں کی عاجزی میرے نزدیک تابعداروں کے دبدبہ سے زیادہ محوب ہے ۔شیخ الاسلام نے کہا کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ مرد کو بندگی میں اور وہاں سے نکال کر غرور میں ڈال دیتاہے اور خود اپنے آپ میں مغرور ہوجاتا ہے اورایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ کسی شغل میں ڈالتا ہے یا کسی گناہ میں ،پھر وہاں سے اس کو اچھی نکال لیتا ہےاور اس غفلت میں اسکو اپنی طرف مشغول کرلیتا ہے۔اپنا نظارہ اسکو عنایت کرتا ہے وہ مالک ہے جا چاہے کرتا ہے ا۔۔۔

مزید

حضرت احمد بن خضرویہ بلخی

حضرت احمد بن خضرویہ بلخی علیہ الرحمۃ           آپ پہلے لوگوں میں سے ہیں اور آپکی کنیت ابو حامد ہے خراسان کے بڑے مشائخ میں سے ہیں ،آپ بلخ کے باشندہ ہیں ابو تراب اور حاتم اصم ے ہم صحبت رہے ہیں اور ابراھیم بن ادھم کو دیکھا تھا وہ کہتے ہیں کہ ابراھیم بن ادھم نے یہ کہا ہے کہ "التوبۃ ھی الرجوع الی اللہ بصفاء السر"یعنی توبہ یہ ہے کہ خدا کی طرف دل کی صفائی سےرجوع ہو۔ بایزید اور ابو حفص کے امثال میں سے ہیں حج کے سفر میں ابو حفص کی نیشا پور میں اور بایزید کی بسطام شریف میں زیارت کی ہے۔ ابو حفص سے لوگوں نے پوچھا کہ صوفیہ کے گروہ سے تم نے کسی کو بزرگ تر دیکھا ہے کہا کہ میں نے احمد خضرویہ سے بڑھ کر ہمت اور صدق احوال میں کوئی بزرگ نہیں دیکھا ایک شخص نے احمد سے وصیت چاہی کہا"امت نفسک حتی تحییھا" یعنی مار نفس کو یہاں تک کہ اسکو زندہ کردےاور یہ بھی کہا ہے"الطریق۔۔۔

مزید

حضرت ابو جعفر سماک

حضرت ابو جعفر سماک رحمۃ اللہ علیہ           آپ بغدادی ہیں اور سری سقطی کے مشائخ میں سے گوشہ نشین اور قطع تعلق والے اور عابد تھے۔حضرت جنید ؒ کہتے ہیں کہ میں نے سری سےسنا وہ کہتے ہیں  کہ ایک دن ابو جعفر سماک میرے پاس آئے دیکھا تو میرے پاس چند لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ،کھڑے رہے اور نہ بیٹھے کہنے لگے "یا سری صرت مناخ البطالین "یعنی اے سری تو بیہودہ لوگوں کی نشست گاہ بن گیا ہے واپس چلے گئے اور اس جماعت کا میرے پاس بیٹھنا پسند نہ کیا۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔

مزید

حضرت ابو حاتم عطار

حضرت ابو حاتم عطار علیہ الرحمۃ           آپ ابو تراب کے ہمعصروں میں سے ہیں اور ابو سعید خراز کے استاذ ہیں ۔ حضرت جنید نے کہا ہے "کان ابو حاتم العطار ظاہرہ ظاہر للتجار وباطنہ باطن الابرار"یعنی ابو حاتم عطار کا ظاہری حال تو سوداگروں جیسا تھا لیکن انکا اطن نیکو کاروں کا باطن تھا،اور کہتے ہیں کہ اول جس نے اشارات کے علوم کی باتیں کی ہیں وہ یہ ہیں کہ جب کسی صوفی کو اوڑھنی اور چادر سے دیکھتےتو یہ کہتے"یا ساداتی قد نشرتم اعلامکم وضربتم طبو لکم فیالیت شعری فی اللقاء ای رجال تکونون"یعنی میرے سردار تم نے اپنے نشانات کو پھیلا رکھا ہےاور اپنے ڈھولوں کو بجایا ہے کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ خدا کی ملاقات میں تم کیسے جوان مرد ہو ۔ ابو حاتم عطار کے دروازے پر گیا اور دروازہ کھٹ کھٹایا اور کہا کہ ایک درویش ہے کہ جواللہ کہتا ہے ۔ ابو حاتم نے دروازہ کھولا اور باہر نکل۔۔۔

مزید

حضرت ابو تراب رملی

حضرت ابو تراب رملی رحمۃ اللہ علیہ آپ اپنے یاروں کے ساتھ مکہ سے باہر نکلے تو ابوتراب نے ان سے کہا کہ تم عام راستہ سے جاؤ ،میں تبوک کے راستہ سے آتا ہوں کہنے لگے کہ گرمی سخت ہے کہا اسکا کچھ علاج نہیں لیکن جب تم رملہ میں آؤ تو میرے فلاں دوست گھر اترنا ،جب رملہ میں پہنچے تو اسکے دوست کے گھر اترے اس نے انکے لیے گوشت کے چار ٹکڑے بھونے اور حاضر کیے۔اچانک چوہے گیر جانور ہوا سے آیا اور ایک ٹکڑ ا اٹھا کر لےگیا یہ لوگ کہنے لگے کہ خیر وہ ہماری قسمت کا نہ تھا باقی کو کھانے لگے۔ جب دس روز کے بعد ابو تراب آئے تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ راستے میں کوئی چیز کھانے کو ملی؟انہوں نے کہا نہیں مگر فلاں دن ایک موش گیر نے ایک ٹکڑ ا بھونے ہوئے گوشت کا گرم میری طرف ڈالا تھا ،انہوں نے کہا کہ بس ہم سب نے ملکر وہ گوشت کھایا ۔ وہ گوشت ہمارے پاس سے وہ لے گیا تھا ابو تراب نے کہا کہ صدق ایسا ہی ہوتا ہے۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔

مزید