ابن ملہ یمامی۔ جنان کے بھائی ہیں۔ رسول خدا ﷺ کے پاس یہ اور ان کے بھائی حیان جوملہ کے میٹے تھے اور رفاعہ اور بعجہ جو زید کے بیٹے تھے یمامہ کے بارہ آدمیوں کے ہمراہ آئے تھے جب یہ لوٹ کے گئے تو انیف سے ان کی قوم نے پوچھا کہ تمہیں نبی ﷺ نے کیا حکم دیا ہے انھوںنے کہا کہ ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم بکری کو بائیں پہلو پر گرائیں اور اس کو قبلہ رو کر کے ذبح کریں اور اس کا خون بہا دیں اور اس کو کھالیں پھر ہم اللہ تعالی کا شکر کریں۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن حبیب۔ طبری نے ان کا ذکر ان صحابہ میں کیا ہے جو خیبر کے دن سہید ہوئے۔ انکا تذکرہ ابو عمر اور بو موسی نے لکھا ہے اور کہا ہے کہ خیبر میں سن۷ھ میں شہید ہوئے۔ ان کی کوئی حدیث نہیں روایت کی گئی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ان کے نام کے آخر میں فے ہے۔ یہ بیٹے ہیں جشم بن عوذ اللہ بن تاج بن اراشہ بن عامر بن عبیل بن قسمیل بن فران بن علی بن عمرو بن الحاف بن قضاعہ کے۔ انصار کے حلیف تھے بدر میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ سریک تھے۔ یہ محمد بن اسحاق کا بیان ہے۔ انکا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن معاذ بن انس بن قیس بن عبید بن زید بن عمویہ بن عمرو بن مالک بن نجار انصاری خزرجی بدری بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام انس ہے اور ان کے والد کو بعض لوگوں نے معاذ بن قیس کہا ہے۔ انکا تذکرہ صرف ابو نعیم نے لکھا ہے اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ عروہ بن زبیر نے ان انصار کے بیان میں جو بدر میں شریک تھے انیس بن معاذ بن قیس کا بھی نام لیا ہے اور ابوبکر نے ابن اسحاق سے شرکائے بدر میں قبیلہ بنی عمرو بن مالک بن نجار یعنی بنی حدیلہ سے انس بن معاذ بن انس بن قیس کا بھی نام لیا ہے۔ ان کا نسب یہی ہے جو ہم نے بیان کیا ان کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ ابو نعیم نے ان کا تذکرہ لکھا ہے مگر ابوموسی نے ابن مندہ پر استدراک نہیں کا حالانکہ ان کی عادت اس قسم کے مقامات میں اتدراک کرنے کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن مرثد بن ابی مرثد غنوی۔ ان کو لوگ انس بھی کہتے ہیں مگر انیس ہی زیادہ مشہور ہے۔ یہ ابو عمر کا بیان ہیمگر ہم نے ان کا ذکر انس ہی کے بیان میں کیا ہے ہم نے ان کا نسب بھی وہاں بیان کیا ہے ابو عمر نے کہا ہے کہ ان کی کنیت ابو یزید ہے۔ اور بعض لوگوں ن کہا ہے کہ وہ انصاری ہیں بوجہ اس کے کہ ان کے گمان میں انصر سے اور ان سے حلف کی دوستی تھی مگر یہ صحیح نہیں ان سے اور حمزہ ابن عبدالمطلب سے حلف کی دوستی تھی ان کا نسب غنی بن اعصر سے ہے۔ یہ اور ان کے والد مرثد اور انکے دادا ابو مرثد سب صہای یں ان کے والد رجیع کے دن رسول خدا ﷺ کی حیات میں شہید ہوئے اور ان کے دادا نے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت میں وفات پائی اور یہ انیس نبی ﷺ کے ہمراہ فتح مکہ اور حنین میں شریک تھے اور جنگ حنینکے زمانہ میں مقام اوطاس میں یہ نبی ﷺ کی طرف سے جاسوس تھے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ یہی ہیں جن سے رسول خدا ﷺ نے فرمایا ت۔۔۔
مزید
ابن قتادہ باہلی۔ ان کا شمار بصریوں میں ہے۔ ان سے اسیر بن جابر اور شہر بن حوشب ین روایت کی ہے۔ ان کی حدیث عباد بن راشد کے پاس ہے وہ میمون بن سیاہ سے وہ شہر بن حوشبس ے روایت کرتے ہیں کہ انھوںنے کہا چند لوگ خطبہ پڑھنے کھڑے ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و ارضاہ کو برا کہنے لگے اور ان کی برائی بیان کرنے لگے یہاں تک کہ آخر میں ایک شخص قبیلہ انصار کے یا اور کسی قبیلہ کے کھڑے ان کا نام انیس تھا انھوںنے خدا کی حمد و ثنا بیان کی بعد اس کے کہا کہ تم لوگوں نے آج حضرت علی کو بہت برا کہا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول خدا ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ شفاعت کروں گا جتنے کہ پتھر اور مٹی کے ٹکڑے زمیں پر ہیں اور میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے بڑھ کر کوئی اپنے قرابت کا لحاظ کرنے والا نہ تھا پس کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آپ کی شفاعت تم تک پہنچ جا۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو فاطمہ ضحری۔ انکا شمار اہل مصر میں ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام ایاس ہے ان کی حدیث کی اسناد میں اختلف ہے ابن مندہ نے اپنی سند سے ابو طاہر احمد بن عمرو سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں رشدین بن سعد نے زہرہ بن معبد سے انھوں نے عبداللہ بن انیس یعنی ابو فاطمہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے (ایک روز صحابہ سے) فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح تندرست رہے کبھی بیمار نہ ہو صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم سب لوگ اس بت کو چاہتے ہیں آپ نے فرمایا کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ موٹے گھوں کیطرح بن جاو یہ نہیں چاہتے کہ آزمائش والے اور کفارے والے بنو قسم اسکی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ کسی بندہ کے لئے کوئی درجہ جنت میں مقرر ہوتا ہے مگر وہ اپنے اعمال کی وجہس ے اس درجہ پر نہیں پہنچ سکتا لہذا اللہ تعالی اس کو۔۔۔
مزید
ابن عتیک انصاری۔ بعض لوگ ان کو اوس کہتے ہیں۔ ہمیں ابو موسی محمد بن عمر اصفہانی نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیںابو غالب کو شیدی نے خبر دی وہ کہتے تھے میں ابوبکر بن زید نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں سلیمان بن احمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیںابن لہیعہ نے ابو الاسود سے انھوں نے عروہ سے نقل کر کے خبر دی کہ جس پر مدائن کے دن جو لوگ انصار سے پھر بنی عبدالاشہل سے پھر بنی زعورا سے شہید ہوئے ان میں انیس بن عتیک بن عامر بھی ہیں۔ محمد بن اسحاق نے ان کا تذکرہ کیا ہے اور ان کا نام اوس بتایا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھاہے۔ جسر مدائن کو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اور فارس کی کسی لڑائی کا نام ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے یہ وہ جسر ہے جس میں ابو عبید ثقفی والد مختار قتل کیا گیا ہے اس دن کو قیس ناطف بھی کہتے ہیں اور اس کو جرابی عبید بھی کہتے ہیں کیوں کہ وہ سردار لشکر تھے اور وہ بھی اس یں شہید ہوئے ۔۔۔
مزید
ابن ضحاک اسلمی۔ یہ وہی ہیں جن کو نبی ﷺ نے قبیلہ اسل کی عورتکے پاس بھیجا تھا کہ اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اس کو سنگسار کر دیں۔ ہمیں ابو الفضل عبداللہ بن احمد نے اپنی سند سے ابودائود طیالسی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے ابن ابی ذیب نے اور زمعہ بن صالح نے زہری سے انھوں نے عبید اللہ بن عبداللہ ابن عتبہ سے انھوں نے زید بن خالد اور ابوہریرہ سے نقل کر کے بیان کیا کہ یہ دونوں کہتے تھے دو شخص رسول خدا ﷺ کے پاس جھگڑتے ہوئے آئے ان میں سے ایک نے کہا کہ حضرت کتاب اللہ کے موافق ہمارے درمیان میں فیصلہ کر دیجئے اور اس نے سب حال اپنا بیان کیا تو اس معاملہ میں رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ اے انیس اس شخص کی عورت کے پاس جائو اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اسے سنگسار کر دیانا چنانچہ انیس اس کے پاس گئے اور اس سے پوچھا اس نے اقرار کر لیا لہذا انھوں نے اس کو سنگسار کر دیا۔ اس حدیث کو ابن مندہ اور ابو نعیم نے بھی۔۔۔
مزید
ابن جنادہ غفاری۔ حضرت ابو ذر کے بھائی ہیں۔ انکے نسب میں بہت اختلاف ہے جو ان کے بھائی باو ذر کے تذکرہ ہیں بیان کیا جائے گا۔ جب ابو ذر کو نبی ﷺ کے ظہور کی خبر پہنچی تو انھوں نے اپنے انھیں بھائی کو حضرت کے پاس بھیجا تھا چنانچہ یہ حضرت کی خدمت میں آئے اور پھر لوٹ کر ابوذر کے پاس گئے اور ان سے سب حال بیان کیا۔ ہم اس قصہ کو ابوذر کے اسلام یں بیان کریں گے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید