ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ

ایک روایت میں ان کا نام مالک بن عوف بن نضلہ بن خدیج بن حبیب بن حدید بن غنم بن کعب بن عصیمہ بن جشم بن معاویہ بن بکر بن ہوازن الجشمی مذکور ہے۔ یہ صاحب ابوالاحواص جشمی کے والد اور عبداللہ بن مسعود کے ساتھی تھے۔ ان سے ابوالاحوص نے جن کا نام عوف بن مالک تھا، روایت کی ہے۔ ہمیں ابراہیم بن محمد وغیرہ نے اس اسناد سے جو ابوعیسیٰ ترمذی تک پہنچتا ہے بتایا کہ ہم سے بندار، احمد بن منیع اور محمود بن غیلان نے بیان کیا کہ ہمیں ابو احمد نے سفیان سے اُس نے ابواسحاق سے اُس نے ابوالاحوص سے اس نے اپنے والد سے یہ روایت بیان کی کہ انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، ’’یارسول اللہ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرتا ہوں۔ وہ نہ تو مجھے کھلاتا پلاتا ہے اور نہ مجھے مرحبا ہی کہتا ہے۔ اگر کبھی اس کا گزر میرے پاس سے ہوا تو کیا میں بھی اس سے ایسا ہی سلوک کروں۔‘‘ فرمایا، نہیں بلکہ تم اس ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام الہذیل( رضی اللہ عنہا)

ام الہذیل غیرمنسوبہ،محمد بن ابوبکرمدینی نے اذناً ابوعلی سے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے ابوبکر محمد بن حسن سے،انہوں نے محمد بن غالب بن حرب سے،انہوں نے ہانی بن یحییٰ لشیکری سے، انہوں نے حسن بن ابوجعفر سے،انہوں نے لیث سے،انہوں نے سلیم الفقیمی سے روایت کی، حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اسیے علاقے میں وارد ہوئے،جہاں ایک اکیلا گڈریا تھا،آپ نے اسے فرمایا،میاں گڈریے،اپنے کام کا خیال رکھا کرو،اپنی پوری مزدوری وصول کرو،اور اپنے کنبے کا حق ادا کرو،اس نے گزارش کی،یارسول اللہ،کیا میں نے اپنا فرض منصبی ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کیا آپ نے فرمایا،بے شک تم نے اداکیاہے،لیکن ہمیں ایساآدمی بالکل نہیں چاہئیے کہ جب وہ اکیلا ہو،تو اسے خدا سے شرم نہ آئے،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام الجلاس( رضی اللہ عنہا)

ام الجلاس التمیمیہ،یہ خاتون عبداللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی کی والدہ تھیں،اور ان کا نام اسماء تھا،ہم ان کا ذکر پہلے کرآئے ہیں،ابوعمرنے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ کعب( رضی اللہ عنہا)

ام کعب انصاریہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں فوت ہوئیں،یحییٰ بن محمود اور عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ مسلم بن حجاج سے،انہوں نے یحییٰ بن یحییٰ سے،انہوں نے عبدالوارث بن سعید سے،انہوں نے حسین بن ذکوان سے،انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کی کہ نبیِ اکرم نے ام کعب کی (جو نفاس سے فوت ہوئی تھیں) نماز جنازہ پڑھائی اور آپ میت کی چارپائی کے درمیان میں کھڑے ہوئےابو نعیم اور ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ الکرز( رضی اللہ عنہا)

ام کرز خزاعیہ کعبیہ،ان سے ابن عباس حبیبہ دختر میسرہ،مجاہد اور عطار بن ابی رباح نے روایت کی یحییٰ نے کتابتہً ابنِ ابی عاصم سے،انہوں نے محمد بن خالد بن عبداللہ واسطی سے،انہوں نے والد سے، انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے،انہوں نے قتادہ سے،انہوں نے عطاء سے ،انہوں نے ابن عباس سے،انہوں نے ام کرز خزاعیہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضورِ اکرم سے عقیقے کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے لڑکے کے لئے دو جوان بکرے اور لڑکی کے لئے ایک بکرابتایا۔ اس اسناد میں عطاء پر اختلاف ہے،ایک سلسلے میں عطاء نے ام کرز سے روایت کی اور ایک دوسرے سلسلے میں عطاء نے حبیبہ دختر میسرہ سے اور انہوں نے ام کرز سے روایت کی اور عینیہ نے اس روایت کو عبیداللہ بن ابویزید سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے سباع بن ثابت سے،انہوں نے ام کرز سے بیان کیا،اور ابو احمد بن علی صوفی نے باسنادہ ابوداؤد سجستانی سے،انہوں نے مسدد ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن نمط الہمدانی رضی ا للہ عنہ

خارفی، الیامی، ارحبی (حسب روایت مختلفہ) ابن الکلبی کے قول کے مطابق ان کا نام نمط بن قیس بن مالک بن سعد بن مالک بن لائی بن سلمان بن معاویہ بن سفیان بن ارحب اور اس کا نام مرہ بن دعام بن مالک بن معاویہ بن صعب بن دومان بن بکیل بن جشم بن حیوان بن نوف بن ہمدان ہے اور ان کی کنیت ابو ثور ہے۔ یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک فرمان لکھ کر دیا جس میں انھیں جاگیر دی گئی تھی۔ ان کی حدیث کو غریب احادیث جمع کرنے والوں اور اہل الاخبار نے اس کی غرابت کی وجہ سے مفصلاًبیان کیا ہے لیکن محدثین کی حدیث مختصر ہے۔ ابواسحاق ہمدانی سے مروی ہے کہ ہمدان کا وفد حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جن میں ابوثور مالک بن نمط بھی تھے (ان کے لمبے لمبے بال تھے) ان کے علاوہ مالک بن الیفع۔ صمام بن مالک السلمانی اور عمیرہ بن مالک الخارفی بھی تھے۔ ان۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام الخیر( رضی اللہ عنہا)

ام الخیر دختر صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ قرشیہ تیمیہ،ان کا نام سلمیٰ تھا،اور وہ ابوبکر صدیق کی والدہ تھیں،بقول زبیر انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ قاسم بن محمد نے جناب عائشہ سے روایت کی،کہ جب حضرت ابوبکر نے اسلام قبول کیا،تو انہوں نے پہلا خطبہ دیا،اور لوگوں کو خداکی عبادت اور رسولِ اکرم کی اطاعت کی طرف بُلایا،اس پر مشرکین مکہ نے ابوبکرپر حملہ کردیا،اور انہیں بُری طرح زدوکوب کیا،عتبہ بن ابوربیعہ حضرت ابوبکر کے قریب کھڑاتھا،وہ اپنے جوتوں سے جن میں نعل لگے تھے،ان کے منہ پر ٹھوکریں مارتا رہا،تا آنکہ ان کی ناک چہرے کہ برابر ہوگئی،اس کےبعد وہ ان کے پیٹ کو مارتا رہا،اور وہ گوشت کا ایک لوتھڑا بن گئے۔ جب بنو تیم کو معلوم ہوا تو وہ آئے اور انہیں کپڑے میں ڈال کر لے گئے،اور انہیں ان کی موت کا یقین ہوگیا،حضرت ابوبکر کے والد اس ان کے۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ الکرام( رضی اللہ عنہا)

ام الکرام سلمیہ،انہوں نے حضورِ اکرم سے ایک حدیث نقل کی،جس میں عورتوں کو سونے کے زیورات پہننے سے منع کیا گیا ہے،ان سے حکم بن حجل نے روایت کی،لیکن اس کا اسناد ضعیف ہے، حالانکہ اس بارے میں عورتوں کے لئے اجازت ثابت ہے،ابوعمر نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ کلثوم( رضی اللہ عنہا)

ام کلثوم دختر عباس طب عبدالمطلب،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا،ان کی والدہ کا نام ام سلمہ دختر محمید بن جزء الزبیدی تھا،دراوردی نے یزید بن ہاد سے،انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ام کلثوم سے روایت کی کہ حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ جب بندے کے بدن پر اللہ کے ڈر سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،تو گناہ اس کے جسم سے اس طرح جھڑتے ہیں،جس طرح کی خشک درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ ابن ِمندہ نے بھی اس حدیث کو اسماعیل بن عبداللہ بن مسعود سے،انہوں نے ضرار بن صرد سے، انہوں نے دراورہ سے روایت کیا،اور ابونعیم نے حسین بن جعفر القتات سے،انہو ں نے ضرار سے، انہوں نے دراوری سے روایت کی اور مجھے یہ اسناد صحیح معلوم ہوتی ہے۔ جناب حسن بن علی نے ان سے نکاح کیا ،اور ان کے بطن سے محمد اور جعفر دو لڑکے پیدا ہوئے،پھر ان میں تفریق ہوگئی اور ابوموسیٰ اشعری نے ان سے نکاھ کیا،اور موسی۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ کلثوم( رضی اللہ عنہا)

ام کلثوم دختر ابوسلمہ بن عبدالاسد مخزومیہ،یہ خاتون حضور اکرم کے ربیبہ اورام سلمہ کی بیٹی تھیں۔ یحییٰ بن ابوالرجاء نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے صلت بن مسعود سے،انہوں نے مسلم بن خالد سے،انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے،انہوں نے اپنی والدہ سے انہوں نے ام کلثوم دختر ابوسلمہ سے روایت کی ،کہ جب حضور اکرم نے ام سلمہ سے نکاح کیا تو آپ نے ان سے کہا،کہ میں نے نجاشی کو کچھ اشیابطور ہدیہ روانہ کی تھیں،چونکہ نجاشی مر گیا ہے،اس لئے جلد ہی وہ اشیاء واپس آجائیں گی،مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک حلہ تھا،اور کچھ کستوری تھی،جب وہ ہدیہ واپس آجائے گا تو میں تمہیں دےدو نگا،ہدیہ واپس آگیا،تو آپ نے تمام ازواج کو ایک ایک اوقیہ کستوری عطافرمائی(اوقیہ چالیس دام کا ہوتا ہے اور دام ساڑھے تین ماشے کا) حلہ اور باقیماندہ کستوری مجھے عطافرمادی،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن ابن مندہ نے ان ک۔۔۔

مزید