ابوالسائب مولیٰ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ،یزیدبن ابوحبیب نے عروہ بن سلمہ سےروایت کی کہ ابوالسائب غیلان کے غلام تھے،بھاگ کر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور اسلام قبول کرلیا،آپ نے انہیں آزاد کردیا ان کے بعد غیلان نے بھی اسلام قبول کرلیا،اورحضور نے انکی ولاءغیلان کو منتقل کردی،ابوعلی نے انکاذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالسنابل بن بعکک بن حجاج بن حارث بن سباق بن عبدالدار،ابوعمراورابن کلبی نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے،ابنِ اسحاق کے مطابق ان کا نسب السنابل بن بعکک بن حارث بن عمیلہ بن سباق ہے،ابو نعیم نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہےاورنام عمرولکھاہے،ایک روایت میں حبہ مذکورہے،ان کی والدہ عمرہ دختر اوس العذریہ ازبنوعذرہ بن سعد ہذیم تھی،فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا،مونقہ القلوب سے تھے،اورشاعر،کوفے میں سکونت اختیار کر لی تھیعبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے کہ میرے باپ نے حدیث بیان کی ،حسین بن محمدسے،اس نے شیبہ بن منصورسے(ح)احمد نے کہا کہ عفان نے شعبہ سے،انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے،انہوں نے اسودسے،انہوں نے ابوالسنابل سے روایت کی کہ سبیعہ دختر حارث نے اپنے خاوند کی وفات کے تیرہ یا پندرہ دن کے بعدایک بچہ جنا،جب وہ نفاس سے ۔۔۔
مزید
ابوسنان اسدی،نام وہب بن عبداللہ یاعبداللہ بن وہب یاعامر تھا،مگرآخرالذکر درست نہیں،ایک روایت میں وہب بن محصن بن حرثان بن قیس بن لبہ بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ ہے،اگر ان کا نام وہب بن محصن جرثان ہو،توپھر یہ کاشہ بن محصن کے بھائی ہیں،اوران کے بارے میں جو کچھ کہاگیاہے،وہ درست ہے،ان کا بیٹا سنان بن سنان تھا،اوربنوعبدشمس کے حلیف تھے،ابوسنان غزوۂ بدر میں شامل تھے۔ ابوجعفرنے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدرابوسنان بن محصن کا ذکرکیا ہے،وہ اپنے بھائی عکاشہ سے تقریباً بیس برس بڑے تھے،نیزایک روایت میں ہے کہ انہوں نے چالیس۴۰برس کی عمر میں ۵ہجری میں وفات پائی،یہ وہ زمانہ تھا،جب حضورِاکرم نے بنوقریظہ کا محاصرہ کیا ہواتھا،بروایت شعبی وزربن حبیش سب سے پہلے آدمی ہیں جنہوں نے بیعتِ رضوان کی،وہ ابوسنان بن وہب ا۔۔۔
مزید
ابوسنان اشجعی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بروعِ دخترِ واشق کے بارے میں جوفیصلہ دیاتھا ابوسنان اس کے عینی شاہد ہیں،بروایتے ان کانام معقل بن سنان تھا۔ خطیب عبداللہ بن احمد نے باسنادہ ابوداؤد وطیالسی سے،انہوں نے ہشام سے ،انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے جلاس بن عمروسے،انہوں نے عبداللہ بن عتبہ سےروایت کی،کہ عبداللہ بن مسعود کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایاگیا،جس کا خاوند فوت ہوچکاتھا،لیکن نہ تو اس نے مجامعت کی تھی اور نہ اس کامہرمقررکیا تھا،کہ وہ اس کے بارے میں فتوٰی دیں،انہوں نے ایک مہینے بعد فیصلہ دینے سے پہلے دعاکی،اے خدا،اگرمیرافیصلہ درست ہے،تومیری طرف سے ہے،اگرغلط ہے تو میرے فہم کا قصور ہے،انہوں نے فیصلہ کیاکہ اس عورت کو خاوند کے خاندان کی خواتین کامہرمثل ملے گا،اوروہ میراث کی حق دارہوگی،اورحسب معمول عدت بسرکرناہوگی،اس پر بنواش۔۔۔
مزید
ابوسنان بن صیفی بن صخر بن خنسأ بن سنان بن عبیدبن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ غزوۂ بدرمیں شریک تھےاورغزوۂ احزاب میں شہید ہوئے،اسے جعفر نے ابن اسحاق سےنقل کیا ہے،ابنِ کلبی نے ان کا نام سنان بن صیفی لکھاہے،اورہمارے پاس مغازی ابن اسحاق کے جو ذرائع ہیں،ان کے مطابق سنان کے ساتھ کنیت مذکور نہیں ہے،ابوعمراورابوموسیٰ نے ان کا ترجمہ اسماکی ذیل میں لکھا ہےاورکنیت نہیں لِکھی واللہ اعلم۔ ۔۔۔
مزید
ابوسرمہ بن قیس انصاری،مازنی ازبنومازن بن نجار،ایک روایت میں ہے کہ وہ عدی بن نجارسے تھے،اوربقول عمراول روایت کے اکثرقائل ہیں۔ بقول ابونعیم یہ صاحب ابوصرمہ بن ابوقیس انصاری ہیں،نام مالک بن قیس تھا،غزوات میں شریک رہے،بقول ابوعمران کا نام مالک بن قیس یا لبابہ بن قیس یا قیس بن مالک بن ابوانس یا مالک بن اسد تھا،وہ اپنی کنیت سے مشہورتھے،اورتمام غزوات میں شریک رہے،ان سے محمد بن قیس اور ابن محیر یز لولؤہ نے روایت کیاسماعیل اورابراہیم وغیرہ نے باسنادہم تاابوعیسیٰ،قتیبہ سے، انہوں نے لیث سے،انہوں نے یحییٰ بن سعید سے ،انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے،انہوں نے لولؤہ سے،انہوں نے ابوصرمہ سے روایت کی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جوشخص کسی کو دکھ دیتاہے،اللہ اسے دُکھ دیتاہے،جوشخص کسی کو تنگ کرتاہے اللہ اسے تنگی میں مبتلاکردیتاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوسودتمیمی،ابن قانع نے ان کانسب یوں بیان کیا ہے،حسان بن قیس بن ابی اسود بن کلب بن عدی بن مالک بن عذانہ بن یربوع بن حنظلہ بن مالک التمیمی حنظلی،وکیع بن اسودکے والد تھے،ایک روات کی رُو سے وکیع بن حسان بن ابوسود کے داداتھے،جوداداسے منسوب تھے،وکیع وہی ہیں جنہوں نے خراسان میں فتنہ برپا کیاتھا،اورقتیبہ بن مسلم کوجوحاکمِ خراسان تھا،قتل کردیا تھا،یہ سلیمان بن عبدالملک کی حکومت کا ابتدائی دورتھا،پھر وکیع کو معزول کردیاگیا،دیکھئے الکامل فی التاریخ،ابواسود نے حضوراکرم سے روایت کی۔ ابنِ ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے والد سے ،انہوں نے یحییٰ بن آدم سے ،انہوں نے عبداللہ بن مبارک سے،انہوں نے معمرسے،انہوں نے بنوتمیم کے ایک شیخ سے،انہوں نے ابوسودسےروایت کی حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،دوسروں کا مال ہڑپ کرنے کے لئے۔۔۔
مزید
ابوسودتمیمی،ابن قانع نے ان کانسب یوں بیان کیا ہے،حسان بن قیس بن ابی اسود بن کلب بن عدی بن مالک بن عذانہ بن یربوع بن حنظلہ بن مالک التمیمی حنظلی،وکیع بن اسودکے والد تھے،ایک روات کی رُو سے وکیع بن حسان بن ابوسود کے داداتھے،جوداداسے منسوب تھے،وکیع وہی ہیں جنہوں نے خراسان میں فتنہ برپا کیاتھا،اورقتیبہ بن مسلم کوجوحاکمِ خراسان تھا،قتل کردیا تھا،یہ سلیمان بن عبدالملک کی حکومت کا ابتدائی دورتھا،پھر وکیع کو معزول کردیاگیا،دیکھئے الکامل فی التاریخ،ابواسود نے حضوراکرم سے روایت کی۔ ابنِ ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے والد سے ،انہوں نے یحییٰ بن آدم سے ،انہوں نے عبداللہ بن مبارک سے،انہوں نے معمرسے،انہوں نے بنوتمیم کے ایک شیخ سے،انہوں نے ابوسودسےروایت کی حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،دوسروں کا مال ہڑپ کرنے کے لئے۔۔۔
مزید
ابوسوید،ایک روایت میں ابوسویہ انصاری اورایک میں جہنی ہے،صحابی تھے،ان سے عبادہ بن نسی نے روایت کی کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحرکے اٹھنے والوں پررحمت بھیجی ہے،دارقطنی لکھتے ہیں،کہ حضورِاکرم سے روایت کرنے والے ابوسویہ ہیں اورجن لوگوں نے ابوسویدکہا،انہوں غلطی کی ہے۔ ابنِ ماکولا ان کا نام ابوسَوِیَّہ بتاتے ہیں،اوران کی صحبت کے قائل ہیں،یحییٰ نے اجازۃً باسنادہ تاابن ابی عاصم،انہوں نے محمدبن علی بن ابومیمون سے،انہوں نے حصن بن محمدسے،انہوں نے علی بن ثابت سے،انہوں نے حاتم بن ابونصرسے،انہوں نے عبادہ بن نسی سے،انہوں نے ابوسوید صحابی سےروایت کی کہ حضورِاکرم نے سحرخیزوں کے لئے دعافرمائی،تینوں نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوسیارہ منعی،قیسی،شامی،ان کا نام عمیرہ بن اعلم یاعامربن ہلال از بنوعبس بن حبیب از خارجہ عدوان بن عمروبن قیس عیلان بن نضریاحارث بن مسلم تھا،بروایتے جماعتے صحابی تھےاوران سے حدیث مروی ہے۔ ابومنصور بن مکارم نے باسنادہ معانی بن عمران سے،انہوں نے سعیدبن عبدالعزیزدمشقی سے، انہوں نےسلیمان بن موسیٰ سے،انہوں نے ابوسیارہ منعی سےروایت کی کہ انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔ یارسول اللہ،میرے پاس کھجوریں اورشہدہے،آپ نے فرمایا،عشراداکرو،انہوں نے التماس کی، یارسول اللہ،ان کا پہاڑ میری تحویل میں دے دیجئے،ابوعمرکے نزدیک بوجہ عدم ملاقات صحابی، یہ حدیث مرسل ہے،جس سے استدلال نہیں کیا جاتا،تینوں نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید