منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

پسنديدہ شخصيات

عمِ عمیر بن سعید رضی اللہ عنہ

عمِ عمیربن سعید،ابوالجواب نے عماربن زریق سے،انہوں نے عبداللہ بن عیسیٰ سے،انہوں نے عمیربن سعید سے،انہوں نے اپنے چچاسےروایت کی،ہم لوگ حضوراکرم کی معیت میں جنت البقیع کوروانہ ہوئے،فرمایا،جس نے ہمیں دھوکادیا،وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اسی حدیث کوشریک نے عبداللہ بن عیسیٰ سے،انہوں نےجمیع بن عمیرسے،انہوں نے اپنے ماموں ابوبردہ سے،انہوں نےرسولِ اکرم سےروایت کی،ابن مندہ اورابوموسیٰ نےذکرکیاہے۔ ابن اثیرلکھتے ہیں کہ اس ترجمے کوابنِ مندہ نے اسی طرح لکھاہے،جس طرح ہم لکھ آئے ہیں،اور ابوموسیٰ نے بھی بعینہٖ اسی طرح درج کیاہے،ہاں البتہ انہوں نے شریک کی روایت کاتذکرہ نہیں کیا، پھر میں سمجھ نہیں سکا،کہ استدراک کیوں کیاگیاہے۔ ۔۔۔

مزید

عمِ ام عمرودخترعیسیٰ رضی اللہ عنہ

عمِ ام عمرودختر عیسیٰ،جعفرنےذکرکیا،اورابن ابی عاصم نےام عمروصریمیہ لکھاہے،یحییٰ نے اجازۃً باسنادہ تاقاضی ابوبکرمحمدبن مثنی سے،انہوں نے ابوعامرسے،انہوں نےابراہیم بن طہمان سے، انہوں نے عاصم بن سلیمان سے۔انہوں نے ام عمرودختر عیسیٰ سے،انہوں نےچچاسےروایت کی، کہ وہ ایک سفرمیں حضورِاکرم کے ساتھ تھے،اس دَوران میں آپ پرسورہ مائدہ کانزول ہوا،چنانچہ آپ کی ناقہ عضیاء کاکندھا سورت کےبوجھ سےجُھک گیا،ابوموسیٰ نے ذکرکیاہے۔ ابن ِابی عاصم کے قول کے مطابق ام عمرو بنوتمیم سے تعلق رکھتی ہیں،اورابنِ مقاعس بن عمرو بن کعب بن سعیدبن زیدمناہ بن تمیم،بنوصریم سےتھا۔ ۔۔۔

مزید

عمِ یحییٰ بن خلاد رضی اللہ عنہ

عم یحییٰ بن خلاد،ابوالقاسم یعیش بن صدفہ بن علی الفقیہہ نے باسنادہ ابوعبدالرحمٰن احمدبن شعیب نے انہوں نےقتیبہ سے،انہوں نے بکربن مضرس سے،انہوں نے ابن عجلان سے،انہوں نے علی بن یحییٰ زرقی سے،انہوں نےوالدسے،انہوں نے چچاسےروایت کی(اوروہ بدری تھے)کہ ہم حضورِ اکرم کے پاس بیٹھےہوئےتھے،کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا،اورمصروفِ نمازہوگیا،وہ نماز ادا کررہاتھا،اورآپ اسے کنکھیوں سے دیکھ رہےتھے،نمازسےفراغت کےبعداس نے حاضرہوکرسلام عرض کیا،آپ نے جواب سلام کےبعدفرمایا،جاؤ،پھرنمازپڑھو،کہ تمہاری نمازنہیں ہوئی،راوی کہتا ہے،مجھےیادنہیں رہا،دوسری یاتیسری کوشش پراس آدمی نے گزارش کی،مجھے اس ذات کی قسم، جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی،میں نے توکوشش کردیکھی ہے،آپ مجھے بتائیں، یانماز پڑھ کر دکھائیں،آپ نے فرمایا،جب تونمازکاارادہ کرے تواچھی طرح وضوکر،قبلہ رُخ ہوکرکھ۔۔۔

مزید

عم حبیب بن ہرم رضی اللہ عنہ

عمِ حبیب بن ہرم بن حارث سلمی،ابوالفرج بن محمودنے کتابتہً باسنادہ تاابوبکراحمدبن عمرو،سعید بن اشعث سے،انہوں نے ابوبکرزہرانی سے،انہوں نے ابوحباب سے،انہوں نے ھبیب بن ہرم بن حارث سےروایت کی کہ میرے چچاکاوظیفہ دوہزارتھا،جب اس کی ادائیگی ہوئی،توانہوں نے اپنے غلام سے کہا،جاؤ،اورالاداقرض اداکرو،کیونکہ میں نے رسولِ اکرم کوفرماتے سُناہے،کہ جوشخص اپنے پیچھے ایک دینار چھوڑ مریگا،اسے ایک داغ اور جودودینارچھوڑ مریگا،اسے دوداغ گرم لوہے کے لگائے جائیں گے،ابوموسیٰ نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

عم حسناء دخترمعاویہ صریمیہ رضی اللہ عنہ

عم حسناءدخترِ معاویہ صریمیہ،ابویاسربن ابوحبہ نےباسنادہ عبداللہ بن احمدسے،انہوں نےاپنےوالد سے،انہوں نے اسحاق الارزق سے،انہوں نےعوف سے،انہوں نے حسناء سے،انہوں نے اپنے چچا سےروایت کی،میں نے دریافت کیاجنت میں کون لوگ ہوں گے،حضورِاکرم نے فرمایا،شہید،بچہ اورزندہ دفن کردہ لڑکی جنتی ہیں،شعبہ یحییٰ بن سعیدوغیرہ نےعوف سےنقل کیاہے،ابن مندہ اور ابونعیم نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

عمِ جبربن عتیک رضی اللہ عنہ

عمِ جبیربن عتیک،ابوموسیٰ نے اذناًابوعلی سے،انہوں نے احمدبن عبداللہ سے،انہوں نے محمدبن احمد بن حسن سے،انہوں نے محمدبن عثمان بن ابوشیبہ سے،انہوں نے قاسم بن خلیفہ سے،انہوں نے عمرو بن محمدسے،انہوں نے اسرائیل سے،انہوں نے عبداللہ بن عیسیٰ سے،انہوں نے جبربن عتیک سے،انہوں نے چچاسےروایت کی،کہ میں آپ کے ساتھ انصارکے ایک گھرمیں گیا،جس میں موت ہوگئی تھی،عورتیں رورہی تھیں،میں نے کہا،حضورموجودہیں اوریہ لوگ رورہے ہیں، فرمایا، جب تک میت یہاں رکھی ہے،رولینے دو،جب اُٹھالی جائےگی،توپھرنہیں روئیں گے،ابونعیم اورابوموسیٰ نے ذکرکیاہے،ابوموسیٰ کہتے ہیں،یہ حدیث کئی لحاظ سے مختلف فیہ ہے۔ ۔۔۔

مزید

عمِ خارجہ بن صلت رضی اللہ عنہ

عمِ خارجہ بن صلت،ابواحمدنےباسنادہ سلیمان بن اشعث سے،انہوں نے مسددسے،انہوں نے یحییٰ سے،انہوں نے زکریاسے،انہوں نے عامرسے،انہوں نے خارجہ بن صلت سے،انہوں نے چچا سے روایت کی،کہ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوکرانہوں نے اسلام قبول کیا،واپسی پروہ ایک جماعت کے پاس سےگزرےجنہوں نے ایک آدمی کوزنجیروں میں جکڑرکھاتھا، ان لوگوں نے کہا، ہمیں بتایاگیاہےکہ تمہارے آقا خیرکثیرلےکرآئے ہیں،کیاتمہارے پاس بھی ہے،تاکہ اس مریض کاعلاج ہوسکےمیں نے کہابےشک میرے پاس اس کاعلاج ہے،چنانچہ سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا،اوروہ ٹھیک ہوگیا،انہوں نے مجھےسوبکریاں دیں،لیکن میں نے انکارکردیا۔ پھرمیں لوٹ کرحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،اورواقعہ بیان کیا،دریافت فرمایا، اس کے علاوہ بھی کچھ کیاتھا،میں نے عرض کیا،نہیں،فرمایا،لوگ جُھوٹے منترپڑھ کرلے لیتے ہیں،تُونے ۔۔۔

مزید

عمِ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ

عمِ رافع بن خدیج،ہم ان کاذکرابی ثابت کے ترجمے میں کرآئے ہیں،ابوموسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔

مزید

عمِ عبیداللہ یاعبداللہ رضی اللہ عنہ

عمِ عبیداللہ یاعبداللہ،ابوالیمان نے شعیب بن ابوحمزہ سے،انہوں نے زہری سے،انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے،انہوں نے چچاسےروایت کی، کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبائل کے تعاقب سےواپس ہوئے،توآپ نےعورتوں اوربچوں کے قتل سے منع فرمایا،یہ ابن مندہ کاقول ہے۔ ابونعیم باسنادہ سفیان سےوہ زہری سےوہ ابن کعب بن مالک سےوہ اپنے چچاسےروایت کرتے ہیں، کہ حضورِاکرم نے عورتوں اوربچوں کے قتل سے منع فرمایا،اورابنِ مندہ نے ابویمان سے،انہوں نے شعیب سے،انہوں نے زہری سے،انہوں نے حمیدسے،انہوں نے عبداللہ بن کعب سے، انہوں نے چچاسے روایت کی،لیکن اس حدیث کے اسناد میں حمیدکوکوئی دخل نہیں ہے،اور مزروق ابن ابی ہذیل نے اس کی تجوید کی ہے،اوراسےزہری سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے،انہوں نے چچاسے روایت کی،کہ جب ۔۔۔

مزید

عم زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ

عم زیدبن ارقم،کثیرالتعدادنے باسنادہم ترمذی سے،انہوں نے عبدبن حمیدسے،انہوں نے عبداللہ بن موسیٰ سے،انہوں نے اسرائیل سے،انہوں نے ابواسحاق سے،انہوں نے زید بن ارقم سےروایت کی،کہ میں اپنے چچاکےساتھ تھا،میں نے عبداللہ بن ابی کواپنے ساتھیوں سےکہتے سنا، تم ان لوگوں پرجومحمدکےاردگردرہتےہیں،کچھ نہ خرچ کیاکرو،تاکہ وہ تَتّربِتّرہوجائیں، اورجب ہم مدینے واپس جائیں گے،توان رذیلوں کوماربھگائیں گے،میں نے چچاسے ذکرکیا،انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکرکردیا،آپ نے عبداللہ بن ابی کوبُلابھیجا،اس نے اوراس کے ساتھیوں نے قسم کھائی کہ انہوں نے یہ بات نہیں کہی،چنانچہ آپ نے مجھے جھوٹااورعبداللہ بن ابی کو سچاقراردیا،اس سے مجھےایسا صدمہ پہنچا،کہ زندگی بھرنہیں پہنچاتھا،چنانچہ پریشانی سے خانہ نشین ہوگیا، "اذاجَاءَکَ المنافقون" نازل ہوئی،آپ نے مجھے ۔۔۔

مزید