ابی لقیط رضی اللہ عنہ:حبشی یایمنی تھے،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزادکردہ غلام تھے، حضرت عمررضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت تک زندہ رہےفوجی نفری کا رجسٹر ان کی تحویل میں ہوتا تھا،ابوعمراورابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے،لیکن ابوعمرکہتے ہیں میں انہیں نہیں جانتا۔ ۔۔۔
مزید
ابوعامرالسکونی،شامی تھے،ان سے عبدالرحمٰن بن غنم نے روایت کی،انہوں نے حضورِاکرم سے دریافت کیا،یارسول اللہ،مکمل نیکی کیاہے؟فرمایا،چھپ کر بھی نیکی کاکام اس طرح کرنا،جس طرح لوگوں کے سامنے کرتے ہو،ابنِ غنم نے ابوعامر سے تمامی وضوکے بارے میں حدیث بیان کی، حبیب بن صالح کہتے ہیں کہ ان کی نسبت سکونی ہے،ابن ہندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ابوعامر،انہیں حضورِاکرم نے شام روانہ کیا ،ان سے ابوالیسرنے روایت کی کہ انہیں حضورِاکرم نے شام کو روانہ کیاپھرحدیث بیان کی،ابومندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعامر انصاری،انہوں نے آپ سے اہلِ نارکے بارے میں سوال کیا،ان سے فرات البہرانی نے روایت کی،ابوعمر اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے،ابونعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے ان کا ذکرکیا ہے، اورانہیں انصاری لکھا ہے،حالانکہ وہ اشعری ہیں اور ان سے بسندہ بواسطہ سلیم بن جنائزی،انہوں نے فرات البہرانی سے،انہوں نے ابوعامراشعری سے روایت کی کہ ایک آدمی نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہلِ نار کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے فرمایا،سائل نے بڑاسوال کیا ہےہر بڑا آدمی اپنے ساتھی پر زیادتی کرتاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ:ابوموسیٰ کے بھائی تھے،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،کسی نے ہانی بن قیس،کسی نے عبدالرحمٰن بن قیس،کسی نے عبید بن قیس اورکسی نے عباد بن قیس لکھاہے،بھائیوں کے ساتھ اسلام قبول کیا،ابوعمر نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ:ابوموسیٰ کے چچاتھے،اوران کانام عبید بن سلیم بن حضار تھا،اورہم ان کا ذکر ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس کے ترجمے میں کرآئے ہیں،ابن امداشنی نےان کا نام عبید بن وہب بیان کیا ہے لیکن بے سود بات کی اورابوعامر کبارصحابہ سے تھے،جو غزوۂ حنین میں شہید ہوئے تھے۔ عبیداللہ بن سمین نے باسنادہ تایونس ابن اسحاق سے روایت کی،کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعامرکوان لوگوں کے تعاقب میں روانہ کیا،جووادی اوطاس سے بھاگ نکلے تھے،چنانچہ انہوں نے بعض بھاگنے والوں کو جالیا،اورتیراندازی کرکے ان میں سے بعض کو قتل کردیا اور باقی کو بھگادیا، بعض کا خیال ہے،کہ سلمہ بن ورید بن صمہ نے تیر سے ابوعامرکوقتل کردیاتھا،سلمیٰ کا تیران کے گھٹنے پر لگاتھا،جس کے زخم سے وہ شہید ہوگئے تھے،ایک روایت میں ہے کہ ورید جسے ابوعامر نے قتل کیا تھا،ا۔۔۔
مزید
ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ:ابوموسیٰ کے چچاتھے،اوران کانام عبید بن سلیم بن حضار تھا،اورہم ان کا ذکر ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس کے ترجمے میں کرآئے ہیں،ابن امداشنی نےان کا نام عبید بن وہب بیان کیا ہے لیکن بے سود بات کی اورابوعامر کبارصحابہ سے تھے،جو غزوۂ حنین میں شہید ہوئے تھے۔ عبیداللہ بن سمین نے باسنادہ تایونس ابن اسحاق سے روایت کی،کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعامرکوان لوگوں کے تعاقب میں روانہ کیا،جووادی اوطاس سے بھاگ نکلے تھے،چنانچہ انہوں نے بعض بھاگنے والوں کو جالیا،اورتیراندازی کرکے ان میں سے بعض کو قتل کردیا اور باقی کو بھگادیا، بعض کا خیال ہے،کہ سلمہ بن ورید بن صمہ نے تیر سے ابوعامرکوقتل کردیاتھا،سلمیٰ کا تیران کے گھٹنے پر لگاتھا،جس کے زخم سے وہ شہید ہوگئے تھے،ایک روایت میں ہے کہ ورید جسے ابوعامر نے قتل کیا تھا،ا۔۔۔
مزید
ابوعامر ،حنظلہ کے والد تھے،جو غسیل ملائکہ تھے،ابوموسیٰ نے کتابتہً ابوعبداللہ محمد بن عمربن ہارون الفقیراندھے سے،انہوں نے ابوبکراحمد بن علی بن ثابت کے خط سے،انہوں نے ابوبکراحمد بن محمد بن غالب یرقانی سے،انہوں نے علی سے (جودارقطنی کے عمزاد ہیں)انہوں نے احمد بن محمد بن سعید سے ،انہوں نے عبید بن حمدون رواسی سے،انہوں نے حسن بن طریف بن ناصح سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں عبدالرحمٰن بن ناصح الجعفی سے،انہوں نے اجلح سے،انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے بنواوس سے ابوقیس بن اسلت اور ابوعامر کو جو غسیل الملائکہ کاوالدتھا،اوربنوخزرج سے معاذ بن عفراء اوراسد بن زرارہ کو حضورِاکرم کی خدمت میں بھیجا،آپ مسجد میں مصروف نمازتھےاوربقول شعبی آپ سے ملاقات کرنے والوں میں یہ لوگ سب سے آگے تھے،جابربن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب میں بیعت کی تو ۔۔۔
مزید
ابوعامر رضی اللہ عنہ یہ ابوموسیٰ کے چچاکے علاوہ کوئی اور آدمی ہیں،ابونعیم نے انہیں اشعری لکھا ہے،ان کے نام اختلاف ہے،حضرمی نے عبید بن وہب،کسی نے عبداللہ بن وہب،کسی نے عبداللہ بن ہانی اور کسی نے عبداللہ بن عمار لکھاہے،وہ عامر کے والد تھے،انہیں صحبت ملی،اورشامی شمار ہوتے ہیں،ان سے مروی ہے،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،بنوازداور اشعری کیسے اچھے لوگ ہیں،جو میدانِ جنگ سے نہیں بھاگتےاورنہ کسی سے دھوکاکرتے ہیں،یہ لوگ میرے ہیں،اور میں ان کا ہوں،اورخلیفہ بن خیاط نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھےجن کا تعلق یمنی قبائل سے تھا،اورشام میں مقیم ہوگئے تھے،ابوعامر اشعری کا نام لیا ہے،عبدالمالک بن مروان کے عہد میں فوت ہوئے،ابونعیم اور ابوعمرنے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعامر،کوفی شمارہوتے ہیں،مطین اورطبرانی نے ان کا ذکرکیا ہے،ابوموسیٰ نے کتابتہً ابوغالب احمد بن عباس سے،انہوں نے ابوبکربن زیدہ سے(ح) ابوموسیٰ کا قول ہےکہ انہیں ابوعلی نے ،انہیں احمدبن عبداللہ نے ،انہیں سلیمان بن احمد نے،انہیں بن داؤدمکی نے،انہیں مسلم بن ابراہیم نے، انہیں مالک بن مغول نے،انہیں علی بن مدرک نے،انہیں ابوعامرنے بتایا،کہ ہم میں کچھ کمی تھی، اس لئے انہوں نے حضورِاکرم کی محفل میں آنا چھوڑدیا،آپ نے وجہ دریافت کی توانہوں نے یہ آیت پڑھی، یَاایھاالذین اٰمنواعلیکم انفسکم،لایضرکم من ضل اذا ھتدیتم آپ نے فرمایا،اس سے مرادمن ضل من الکفار ہے،احمد بن عبداللہ نے محمد بن محمد سے،انہوں نے محمد بن عبداللہ حضرمی سے،انہوں نے محمد بن موسیٰ سے،انہوں نے مسلم بن ابراہیم سے اسی طرح روایت کی ہے،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعامر ثقفی ان سے محمد بن قیس نے روایت کی،ان کی حدیث کے بارے میں ایک شخص سے مروی ہے کہ ابوعامرنامی آدمی نے حضورِاکرم کو فرماتے سُنا،سبزی جنت ہے،کشتی ذریعۂ نجات ہے، عورت خیر ہے،اونٹ باعثِ رنج ہے،اوردودھ عین فطرت ہے،اور قید ثبات فی الدین ہے اور مجھے دھوکادینا نا پسند ہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید