پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت ورد شیرازی سید

حضرت ورد شیرازی سید علیہ الرحمۃ  سید ورد شیرازی پر استغراق کا  عالم بسا او قا ت  طا ری رہتا  تھا،آپ کا معمول  تھا کہ  نماز عشا ء کے  بعد  مکلی  جا تے  اور صبح کو آتے،سید سو مار اور سید حسین مسا فر  ہندی  کی قبروں  کے  پا س ٹھٹھہ کے  محلہ  مغل وارہ میں  آسودہ خواب ہیں۔ (تحفتہ الظا ہرین ص ۱۳۲ ) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔

مزید

حضرت کھتوریہ پیر

حضرت کھتوریہ پیر علیہ الرحمۃ            آپ مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ اکثر اوقات ریاضت و مجاہدہ  میں  صرف کرتے ، آپ کے مکان کے قریب نواب کا ایک منہ چڑھا ملازم بھی رہتا تھا، جو آپ کی اذیت  رسانی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔ جب پانی  سر سے چڑھ گیا تو حضرت نے نواب سے داد رسی چاہی، مگر نواب نے ظالم ہی کا ساتھ دیا ۔ اس پر وہ ملازم مزید فرعون ہوگیا، بالا خر آپ کی غیرت کو جش آگیا اور یہ کلمہ مند سے ادا فرمایا ‘‘روزے باشد کن نواب رابد ار کشند، و سار جمل رازندہ در چاہ کند’’ کہتے ہیں کہ دوبارہ شاہجہاں بادشاہ اپنے باپ سے رنجیدہ ہوکر ٹھٹھہ میں آیا۔نواب شریف الملک مذکور نے علم بغاوت بلند کیا، شاہجہان کو غلبہ حاصل ہوا، اس نے جو پہلا حکم جاری کیا وہ یہی تھا کہ نواب  کو گرفتار کیا جائے اور اونٹ سوار۔۔۔

مزید

حضرت گھمن درویش

حضرت گھمن درویش علیہ الرحمۃ            آپ مخدوم  نوح کے مریدوں میں سے ہیں، عشق الٰہی  میں بے تابی اس درجہ تھی کہ کبھی دراز قدم نہ ہوئے ایک مرتبہ  صحرا سے تنہا رہے تھے حال کی کیفیت  طاری ہوگئی وہیں محفل سماع منعقد کی جنگلی جانور ہر چہار طرف سے اکٹھے ہوگئے اور جب تک آپ سماع مصروف رہے کوئی جانور اپنی جگہ سے نہ ہلا، ٹھٹھہ شہر میں مزار ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۱۷۱) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔

مزید

حضرت گر گنج شاہ

حضرت گر گنج شاہ علیہ الرحمۃ            یہ ایک مجذوب صفت بزرگ تھے، سید احمد شیرازی جیسے عظیم بزرگ بھی ان کی خدمت میں بسا اوقات حاضری  دیتے تھے، مجذوب صاحب نے ان کو سید مراد کی ولادت کی خبر پہلے دے دی تھی، سیر و سیاحت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ مدفن ٹھٹھہ  کے محلہ ستھیہ میں ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۱۱۹ و تحفۃ الکرام ج۳ ص ۲۴۶) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔

مزید

حضرت گنج شہیداں

حضرت گنج شہیداں علیہ الرحمۃ            ہر ملک کی طرح سندھ میں بھی بعض مقامات پر اجتماعی قبور پائی جاتی ہیں، ان قبور میں بعض اہل اللہ کی بھی ہیں۔ ایسی اجتماع قبور گنج شہیداں کے نام سے مشہور ہیں۔ ہم چند ایک کاذکر کرتے ہیں۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔

مزید

حضرت گنج شہیداں متصل جامع فرخ

حضرت گنج شہیداں متصل جامع فرخ علیہ الرحمۃ            جب مرزا شاہ حس ارغون فوت ہوگئے،  تو ملک سندھ دو حصوں میں بٹ  گیا، سمند سے ہالہ کندی تک مرزا عیسیٰ ترخان  کو اور سیوستان سے بکھر تک سلطان محمود تغلق کو ملا، نتیجہ  یہ نکلا کہ  دونوں میں لڑائی ٹھن گئی، مرزا عیسیٰ نے انگریزوں سے مدد کی درخواست کی، چناں چہ ۹۶۲ھ میں انگریز بندکودہ سے بند لاہوری آئے اور جمعہ کی نماز کے وقت جب شہر مصروف نماز تھا، شہر پر حملہ کردیا، خوب گولے برسائے اور قتل کا بازار گرم کردیا، یہاں تک کہ جامع  مسجد  فرخ اوغون  میں گھس آئے، اور تقریباً دو ہزار نمازیوں کو جن میں بیشتر اولیاء  اللہ تھے شہید کردیا، ان شہدا کی یاد گار مسجد مذکور کے شمال میں ہے ، حاجت مندوں کی حاجتیں  یہاں پوری ہوئی ہیں۔ (تحفہ الطاہرین ص ۱۱۶) (تذکرہ اولی۔۔۔

مزید

حضرت لاکھامیاں

حضرت لاکھامیاں علیہ الرحمۃ            آپ صاحب کمال اور صاحب حال تھے،  ہر موسم میں صرف ایک چرمی  تہبند ناف سے گھٹنا  تک پہنتے تھے، تغلق آباد میں تنہا رہتے تھے، آپ کا مزار فیض اثار میاں شیخ عالی کے مزار کے قریب مکلی پر واقع ہے۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔

مزید

حضرت لاکھا پیر

حضرت لاکھا پیر علیہ الرحمۃ           صاحب استغراق، خلوت نشین بزرگ تھے، کہتے ہیں جو بھی آپ کی  خدمت میں کوئی حاجت لیکر جاتا راستہ میں اس کو حصول مقصد کی بشارت مل جاتی،  اور اس کا دل حصول مدعا پر از خود گواہی دینے لگتا، آپ کا مزار محلہ ستھیہ  ٹھٹھہ میں واقع ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۱۲۳) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔

مزید

حضرت لال میاں

حضرت لال میاں علیہ الرحمۃ            شیخ محمد سجادہ نشین حضرت پیر شیخ عالی قدس سرہ کے صحبت یافتہ تھے، آپ کا مزار مکلی پر ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۹۶) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔

مزید

حضرت لال پیر

حضرت لال پیر علیہ الرحمۃ            یہ بڑے صاحب کرامات بزرگ تھے، مستجاب الدعوات تھے، ان کا مزار پیر چھتہ کے مزار کے پاس ٹھٹھہ  قلعہ ارک پر واقع ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۱۶۲) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔

مزید