حضرت قادر بخش خان گولہ مولوی علیہ الرحمۃ و ۱۲۵۳ھ/۱۸۳۷ء۔ ۱۳۴۱ھ/ ۱۹۲۲ء مولوی قادربخش بن نگل خان ۱۲۵۳ھ میں جیکب آباد کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے، بچپن ہی سے والدین کے سایہ عاطفت سے محروم ہو گئے، علم ظاہر کے ساتھ علم باطن آپ کو سندھ کے مشہور شیخ کے پاری کی سالہا سال کی صحبت سے حاصل ہوا، دوران تعلیم ہی اپنے مکان میں اکتارہے کی دھن پر محور ہوجایا کرتے تھے اور اسی سوز و گداز میں کھوجاتے، جو نہی تعلیم سے فارغ ہوئے استاد کی نصیحت کے مطابق ایک ویران مقام پ جنگل میں مدرسہ قائم کیا اور جنگل میں منگل کا سماں پیدا کردیا، اس مدرسہ کے لیے کبھی کسی کی مدد قبول نہ کی، سینکڑوں شاگردآپ کے اس مرکز علمی سے سیراب ہوتے رہے۔ صحبت پور می۔۔۔
مزید
حضرت غلام احمد مخدوم علامہ ملکانی علیہ الرحمۃ و۱۲۸۶ھ/ ف۱۳۵۴ھ/ ۱۹۳۵ء رشد و ہدایت کے پیکر آسمان علم و فضل کے مفخر حضرت علامہ مخدوم غلام احمد ملکانی بلوچ، ملکانی گوٹھ ضلع دادو میں ۱۴ رمضان المبارک ۱۲۷۶ھ میں تولد ہوئے۔ والد نے غلام محمد اور والدہ نے غلام احمد نام تجویز کیا لیکن مشہور غلام احمد ہوا۔ سات یا آٹھ اسل کی عمر میں آخوند عبدالکریم کے پاس قرآن مجید پڑھنے کے لیے بیٹھ گئے۔ بعد میں سیالن کی بستی میں بھار دانش اور انوار سہیلی تک فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس دوران دادو کے پرائمری سکول سے سندھی فائنل پاس کیا۔ کچھ وقت کے لیے فیروز شاہ اور علامہ عطاء اللہ کے پاس زانوئے تلمذتہہ کیے۔ پھر اس کے بعد حضرت مولانا محمد حسن کے پاس مسجد مائی خیری حیدر آباد میں پڑھتے رہے، سن ۱۳۰۲ھ میں آ۔۔۔
مزید
حضرت شاہ فقیر اللہ علوی علیہ الرحمۃ فقیر اللہ بن عبدالرحمٰن بن شمس الدین گیارہویں صدی ہجری کے اوائل میں افغانستان میں پیدا ہوئے، ہند اور افغانستان میں علوم ظاہری کی تکمیل کر کے اس دور کے عظیم فضلاء میں شامل ہوئے تحصیل علم کے بعدسیاحت کی اور حرمین شریفین میں حاضری دی پھر سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ شیخ محمد مسعود دائم کے ہاتھ پر بیعت کی آپ کا سلسلہ طریقت یہ ہے۔ شاہ فقیر اللہ علوی ، شیخ محمد مسعود دائم، شیخ محمد سعید لاہوری شیخ آدم بنوری حضرت مجدد سرہندی رحمہم اللہ اجمعینسلسلہ نقشبندیہ کے علاوہ سلسلہ قادریہ میں بھی آپ نے اجازت لی، آپ نے ایک طویل عرصہ تک قندھار میں قیام فرمایا وہاں ایک مسجد  ۔۔۔
مزید
حضرت قطب درویش علیہ الرحمۃ مخدوم نوح کے مرید تھے کاھر بیلے کے رہنے والے تھے، ان پر عجیب و غریب کیفیات طاری ہوتی تھیں ان کا مدفن معلوم نہ ہوسکا مگر صوفیاء سندھ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ (دلیل الذاکرین ص ۲۶۰۔وتحفۃ الکرام ج۳ ص ۱۶۸) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت قادر شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ حضرت فقیر قادر شاہ بابا ولی اللہ کا مزار تابوت لین روڈ کھارا در کراچی میں مرجع خلائق ہے، برا کشادہ شاندار مزار مبارک ہے، مزید حالات معلوم نہ ہوسکے۔ (راقم نے زیارت کے موقع پر یہ معلومات حاصل کی) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت پیر قلندر قائم الدین علیہ الرحمۃ و۱۱۴۰ھ ف ۱۲۱۵ھ مجذوب مزاج صاحب کرام حضرت پیر قائم الدین قلندر کا شجرہ نسب اس طرح ہے قائم الدین بن مہر شاہ بن سراج الدین بن شیخ شہر اللہ بن شاہ اسماعیل بن قطب الدین بن فتح محمد بن شاہ کبیر بن شیخ بہاؤ الدین ثانی ملتانی بن ثھر اللہ اول بن شاہ یوسف بن عماد الدین محمد بن رکن الدین اسماعیل بن صدر الدین محمد بن عماد الدین شہید بن شیخ صدر الدین محمد عارف بن شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی اسد ہاشمی (حمہم اللہ) (تذکرہ مشاہیر سندھ جلد دوم ص ۳۲۰) آپ والدہ کا نام بی بی نہال بنت پیر پیر محمدکلاں (غوث کا پوتا) تھا۔ آپ کی ولادت ایک اندازے کے مطابق ۱۱۴۰ھ بتائی جاتی ہے، ۔۔۔
مزید
حضرت شاہ قطب علیہ الرحمۃ حضرت سید قطب شاہ المعروف ظہور شاہ علیہ الرحمۃکشف و کرامت والے بزرگ ہوئے ہیں، بعد زمانے کے سبب سے آپ کے حالات ناپید ہیں یہ آپ کی کرامت ہے کہ جب حکومت نے آپ کے مزار کی جگہ پر سڑک تعمیر کرنا چاہی تو کوشش کے باوجود کامیابی نہ ہوئی، اب آپ کا مزار شریف سڑک کے بیچ میں ہے صرف چھوٹی سی ایک گلی ہے جو ایک جانب سے نکلتی ہے۔ آپ کا مزارپیر والی گلی بھیم پورہ نشر روڈ پر کراچی میں مرجع خلائق ہے۔ راقم نے یہ حالات آپ کے مجاور سے معلوم کیے) ۷۔۸ اور ۹ ذوالحج کو آپ کا شاندار عرس ہوتا ہے۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت فرید الدین مسعود رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کا نسب دس واسطوں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جاملتا ہے، نسب یوں ہے مسعود ابن سلمان ابن قاضی شعیب ابن احمد ابن یوسف ابن شہاب الدین ابن فرخ شاہ آپ کے تیسرے دادا یوسف عہد چنگیری میں ہندوستان آئے تھے، اور قصبہ کو توال میں قیام فرمایاتھا، یہیں خواجہ کی پیدائش ہوئی، ابتدائی رسمی علوم کی تحصیل کے بعد جوانی میں ملتان آ کے ایک مسجد میں قیام فرمایا، اسی اثناء میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی اوشی رحمہ اللہ سمر قند کی سیاحت کے بعد دہلی جاتے ہوئے ملتان سے گذرے اور اتفاقاً اسی مسجد میں قیام کیا ، یہاں آپ کو خواجہ قطب الدین کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور ان سے کسب فیض کیا، بعد میں دہلی پہنچ کر مزید کسب فیض کیا، نیز خرقہ خلافت حاصل کیا، آپ نے حضرت خواجہ معین۔۔۔
مزید
حضرت شیخ فرید علیہ الرحمہ شیخ فرید شریعت و طریقت ، دونوں علوم کے ماہر تھے، ورع و تقویٰ میں بلند پایہ تھے، انگریزوں کے دور میں شہید کر دیئے گئے، آپ کے ایک مرید نے کہا حضور تین سال سے حج کا پختہ ارادہ کرتا ہوں مگر ہر دفعہ بوڑھے محروم ہی رہتا ہوں فرمایا کیا امر مانع ہے؟ عرض کی میرے والدین سخت بوڑھے ہیں، اگر میں حج کو گیا تو مرجائیں گے، فرمایا چلو ہمارے ساتھ چلو، یہ کہہ کر کھڑے ہوگئے چند قدم آگے بڑھائے اس نے بھی نشان قدم کی پیروی کی تھوڑی دیر بعد سامنے کعبۃ اللہ آگیا، مناسک حج ادا کیے اور واپس آگئے، آپ کا مزار ٹھٹھہ کے غلہ بازار میں ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۱۰۳) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت فتح محمد سید قادری جیلانی علیہ الرحمۃ آپ حضرت غوث اعظم عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی اولاد سے ہیں۔آپ کا شجرہ نسب اس طرح ہے سید فتح محمد بن سید نور محمد بن سید اسماعیل بن سید شیخ ابو الوفا قادری بن سید شیخ شہاب الدین بن سید شیخ بدالدین بن سید شاہ علاؤ الدین بن سید چراغ الدین، بن حضرت شیخ ابوبکر تاج الدین بن حضرت سید شیخ الشیوخ عبدالرزاق بن حضرت قطب الاقطاب محی الدین ابو محمد عبدالقادر جیلانی (رضی اللہ تعالٰی عنہ)آپ بغداد سے حامہ شریف تشریف لائے پھر حامہ سے ٹھٹھہ ایک اندازے کے مطابق ۷۷۔ ۱۰۷۸ھ میں نواب سید عزت خان المعروف عزت پیر ٹھٹھہ کے صوبے دار کے زمانے میں آپ کا درود مسعود ہوا آپ کے ساتھ آپ کے چھوٹے بھائی سید برخوردار جیلانی بھی تھے۔ یہاں کے لوگوں نے آپ کی سیادت کا انکار کیا، آپ دونوں بھ۔۔۔
مزید