پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

حضرت سید برہان الدین محقق

حضرت سید برہان الدین محقق علیہ الرحمۃ           آپ حسینی ہیں۔ترمذ کے رہنے والے ہیں۔مولانا بہاؤالدین ولد کے مریدوں میں سے ہیں۔اپنی شرافت کے سبب خراسان اور ترمذ کے لوگوں میں سید سروان مشہور تھے۔جس روز کہ مولانا بہاؤالدین ولد نے وفات پائی،آپ ترمذ میں ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔کہنے لگے،افسوس کہ میرے حضرت استاد و شیخ اس جہان سے رخصت ہوگئے۔چند روز بعد مولانا جلال الدین کی تربیت کے لیے قونویہ کی طرف متوجہ ہوئے۔مولانا نے ۹ سال تک ان کی خدمت و ملازمت وہیں نیاز مندی کرتے رہے،تربیتیں حاصل کیں۔کہتے ہیں کہ جب شیخ شہاب الدین سہروردی روم میں آئے تھے،تو سید برہان الدین کی زیارت کو تشریف لائے۔سید راکھ پر بیٹھے تھے۔جگہ سے ہلے۔شیخ نے دور سے تعظیم کی اوروہیں بیٹھ گئے۔کوئی بات نہ ہوئی۔مریدوں نے پوچھا کہ سکوت کا کیا سبب تھا؟شیخ نے فرمایا کہ اہل حال کے سامنے۔۔۔

مزید

حضرت شیخ بہاؤالدین عمر

حضرت شیخ بہاؤالدین عمر علیہ الرحمۃ           آپ شیخ محمد ؑ شاہ کے بھانجے اور مرید ہیں۔میں نے بعض اکابر سے سنا ہے۔وہ کہتے تھے معلوم نہیں کہ شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ کے اصحاب کے سلسلہ میں کوئی ان کا ہم پلہ ہوا ہے۔بچپن سے مجذوب تھے۔جذبہ کے آثار ان پر ظاہر تھے۔نماز ادا کرنے کے وقت کس ی کو پاس بٹھا لیا کرتے تھےکہ رکعت کے شمار کی،ان کو اطلاع دے دیا کرے۔کیونکہ وہ خودبخود یاد نہ رکھ سکتے تھے۔ایک شروع میں نہایت پیاس کی وجہ سے جو اس گروہ کو ہوتی ہے۔اپنے ماموں شیخ محمد شاہ سے مقصود کے نہ پانے کی بابت باتیں کرتے تھے۔ان کے ماموں نے یہ شعر پڑھا۔           اگر نالد کے نالد کہ یارے در سفر دارد             تو بارے انرچہ مے نالی کہ یارے دل بغل داری  &n۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شمس الدین محمد اسد

حضرت مولانا شمس الدین محمد اسد علیہ الرحمۃ           آپ ظاہری علوم میں طبیعت کی جودت  اور تیز فہمی میں پورے مشہور تھے۔فرماتے تھے کہ تحصیل کے زمانہ میں مجھے راہ خدا کے سلوک کی خواہش قوی ہوئی۔اس وقت زین الدین خوانی علیہ الرحمۃ طالبوں کے ارشاد اور مریدوں کے تربیت میں مشغول تھے۔میں ایک دن ان کی مجلس میں پہنچا۔ایک جماعت کو بیعت کر رہے تھے،ان کو توبہ اور ذکر کی تلقین کر رہے تھے۔درویشوں کا قاعدہ ہوتا ہےکہ جب درویش کسی کے ہاتھ کو بیعت کے پکڑتا ہے،تو بعض اس درویش کے دامن کو پکڑ لیتے ہیں،اور بعض اس دوسرے کے دامن کو جہاں تک کہ پہنچ سکے،پکڑتے ہیں۔میں نے ان بعض کا دامن پکڑا۔جب میں اس مجلس سے باہر نکلا،تو مدرسہ میں اسی حجرہ میں جہاں میں پڑھتا تھا۔ذکر میں مشغول ہوا،اپنے اندرون بدن ذکر کی تاثیر زیادہ پاتا  تھا۔یہاں تک کہ میرا باطن بالکل اس درسگاہ کی ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ محمد شاہ فراہی

حضرت شیخ محمد شاہ فراہی علیہ الرحمۃ           آپ ظاہری ، باطنی علوم سے پیراستہ تھے۔ایک واسطہ سے شاہ علی فراہی کے مرید ہیں۔آخر میں حج کا ارادہ کیا۔ہر مز کی راہ سے جب فوجان میں پہنچے تو بیمار ہوگئے۔وہیں وفات پائی اور وہیں آپ کی قبر ہے۔"صاحب کشف کرامت الہام" ہیں کہتے ہیں کہ حج کے سفر میں ایک شہر میں پہنچے ،جہاں بدچلن لوگ تھے۔آپ مراقبہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔اتفاقاً چیخ ماری۔ایک عالم نے جو وہاں ہمراہ تھا۔اس کا سبب پوچھا۔آپ نے فرمایا کہ اس شہر کے خراب لوگوں کا حال مجھ پر منکشف ہوا۔ان میں ایک نہایت خوبصورت عورت میں نے دیکھی ۔خداوند ا اس عورت کو میرے لیے بخش ،میرے دل میں یہ آواز آئی کہ یوں کیوں نہیں کہتے کہ تجھے اس کی وجہ سے بخش دیں۔اس عورت نے اسی وقت توبہ کی توفیق حاصل کی۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔

مزید

حضرت شاہ علی فراہی

حضرت شاہ علی فراہی علیہ الرحمۃ           آپ شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ کے مرید ہیں۔آپ کے والد فرہ کے حاکم تھے،اور بوڑھے ہوگئے تھے،چاہا کہ حکومت سے استغفار کریں،اور آخر عمر میں گوشہ نشین ہو کر طاعت و عبادت میں مشغول ہوجائیں۔اپنے بیٹے شاہ علی کو بادشاہ وقت کے لشکر کی طرف بھیج دیا۔تاکہ حکومت کا فرمان اپنے نام پر لے لے اور اس کے باپ کو معاف رکھیں۔ان کا گزر سمنان کے اطراف پر ہوا۔اس اطراف کے ڈاکوؤں سے ان کو لڑائی کا موقع ہوا۔چنانچہ ان کے سب متعلقین مارے گئے۔ان کو بھی بہت سے زخم لگے،مردوں میں پڑگئے۔شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ کو عیب میں معلوم ہوا کہ فلاں موقع پر مردے پڑے ہیں۔ان میں ایک زندہ باقی ہے ،اور پوری قابلیت رکھتاہے،اس کو جا کر لانا چاہیے۔آپ گئے ،مگر وہاں کوئی زندہ نہ پایا۔دوبارہ پھر حکم ہوا،دوبارہ وہاں گئے۔تب بھی کسی کو زندہ نہ پایا۔تیسری دفعہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا فخر الدین لورستانی

حضرت مولانا فخر الدین لورستانی علیہ الرحمۃ           آپ نے ظاہری  علوم کی تحصیل کی ہوئی ہے۔ہمیشہ دل میں یہ تھا کہ تحصیل علوم کے بعد خدائے تعالی کی راہ کے سلوک میں مشغول رہو۔ایک دفعہ مصر کے ایک مدرسہ کے ایک گھر میں رہتے تھے،اور وہاں کتاب کے مطالعہ میں مشغول تھے۔مطالعہ کرتے کرتے تھک گئے۔طبیعت کع بہلانے کے لیے گھر سے باہر نکل آئے۔سلوک کی خواہش ان کے دل میں تازہ ہوگئی۔اپنے دل میں کہنے لگے،آخر ایک دن اس موجودہ بکھیڑے سے باہر نکلنا ہی پڑے گا،وہ آج ہی کا دن ہونا چاہیے۔دوبارہ گھر میں نہ گئے۔گھر کو ویسے ہی کتابوں اور رسالے اسباب کے ساتھ کھلے دروازہ کو چھوڑ دیا،اور شیخ شی اللہ رحمتہ اللہ کی خدمت میں کہ اس وقت مصر میں ارشاد کے لیے معین تھے۔گئے اور سلوک میں مشغول ہوئے۔ج تک وہ زندہ رہے،تب تک تو ان کی صحبت میں رہےاور جب وہ دنیا سے رحلت کر گئے،تو کسی ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حافظ بہاؤ الدین عمر ابروہی

حضرت شیخ حافظ بہاؤ الدین عمر ابروہی علیہ الرحمۃ           آپ اخی علی کے مریدوں میں سے ہیں۔کہتےہیں کہ وہ چھوٹی عمر کے ہی تھے کہ ان کے والد فوت ہوگئے تھے۔جب کچھ ان کو تمیز آئی،تو ان کے رشتہ داروں  نےان کو درزی کی دکان پر بھیج دیا کہ درزی گری سیکھو۔ان دنوں میں مولانا رضی الدین علی مایانی ؒ کہ شیخ عبداللہ خرجستانی کے مریدوں اور خضر علیہ السلام کے یاروں میں تھے۔ابروہ میں پہنچے اور پوچھا کہ عمر کا لڑکا کہا ہے؟لوگوں نے کہا کہ وہ درزیوں کے پاس ہے۔مولانا نے فرمایا،جو شخص درزیوں کے پاس جائے گا۔زیان میں رہے گا۔اس کو بلاؤ،بلایا گیا۔مولانا اس کو طوس میں لے گئے۔ایک نیک بخت حافظ کے سپرد کیا کہ اس کو قرآن حفظ کرائے۔مالانا کچھ عرصہ کے بعد پھر وہاں تشریف لے گئے۔شیخ حافظ کو دیکھا،اور خفا ہو کر اس کے استاد سے پوچھا کہ تم فرزند عمر کو غالباً اسی کھانے میں سے۔۔۔

مزید

حضرت اخی علی فتلق شاہ

حضرت اخی علی فتلق  شاہ رحمتہ اللہ           آپ بھی شیخ عبداللہ ؒ کے مریدوں میں سے ہیں،اور ان کی حسن تربیت کامل مرتبہ تک پہنچ گئے تھے۔جس زمانہ کہ شیخ عبداللہ کو لشکر کی طرف بلایا گیا تھا،اخی علی سفر میں تھے۔فرمایا تھا کہ ہم اس لشکر میں شہادت کی سعادت حاصل کریں گے۔ہمارے بعد ہماری جگہ پر اخی علی کو بٹھادینا۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔

مزید

حضرت ابا محمود طوسی

حضرت ابا محمود طوسی علیہ الرحمۃ           آپ شیخ عبد اللہ کے مریدوں مین سے ہیں۔ایک دفعہ شیک عبد اللہ نے درویشوں کی ایک جماعت کو شلہ میں بٹھا یاہوا تھا۔ایک رات خانقاہ کے خادم سے کہا کہ آج کی رات دو درویشوں کے قویٰ حال واقی ہوگا۔خبردار رہو کہ مستی نہ کر پائیں،اور خلوت کی کھڑکی سے باہر نہ نکل جائیں۔خادم حاضر تھا۔اتفاقاً بابا محمود نعرہ لگاتے ہوئے اور چلاتے ہوئےخلوت سے باہر آگئے،اور ایک اور درویش جس کا نام مہندو الیاس تھا وہ بھی بابا محمود کے پیچھے باہر نکل آئے۔خادم ان دونوں کے پیچھے دوڑا۔مہندو الیاس تک پہنچ گیا،اور اس کو پکڑ لیا،لیکن بابا محمود نے پہاڑ اور جنگل کا راستہ لیا۔مہندو الیاس شیخ کی اچھی تربیت اور سیاست سے فی الجملہ ہوش میں آگئے اور  بابا محمود ویسا ہی مجذوب عمر گزار گئے۔ان سے بہت سی کرامات ،خرق عادات ظاہر ہوئے ہیں۔ (نفحاتُ الاُ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبد اللہ غرجستانی

حضرت شیخ عبد اللہ غرجستانی علیہ الرحمۃ         آپ شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ کے مریدوں میں سے ہیں۔خرجستان کے دیہات میں ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں۔آپ چھوٹے تھے کہ جب آپ کے والد فوت ہوچکے تھے۔ان کی والدہ نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیاتھا۔ایک دن کچھ اس شخص سے ایسا امر ہو گیاکہ اس نے کو وہم ہوگیا۔بھاگ کر گاؤں سے بار نکل آئے۔ان اطراف میں ایک بڑا درخت تھا،اس کے نیچے ایک پانی کا چشمہ تھا۔اس درخت پر چرھ کر اس کی شاخوں اور پتوں میں چھپ گئے۔اتفاقاً درویشوں کی ایک جماعت نے وہاں پر ڈیرہ کیا۔جب پانی کے چشمہ میں اس کا عکس دیکھا ،تو انہیں درخت سے اتار لیا،اور اپنے ساتھ لے گئے،ان کا گزر سمنان کی طرف ہوا۔شیخ کی خدمت میں سب گئے،اور اس کو بھی ہمراہ لے گئے ۔جب شیخ کی نگاہ اس پر پڑی۔فراست کے نور سے اس میں طریقت کے درس میں پوری قابلیت  پائی۔جب درویش سفر کو چلے اپنے درویش بھ۔۔۔

مزید