حضرت حسن مقرری درویش درویش حسن مقرری موذن کےلقب سے معروف تھے بانوت کی بستی کے باشندے تھے پیشہ کے اعتبار سے بڑھئی تھے عام طورپر جلال کی کیفیت طاری رہتی تھی، صاحب کرامت تھے ، آپ کی گفتگو دل کی گہرائیوں میں پیوست ہوکر سامان ہدایت بن جاتی تھی، ایک حافظ صاحب خدمت میں حاضر ہوئے ، حضرت نے دریافت فرمایا کہ تیسوں پارے یاد کر رکھےہیں؟ وہ صاحب بولے جی ہاں! فرمایا کہ تلاوت کے وقت کبھی کوئی کوئی تیر ونشتر تیر دل میں پیوست نہ ہوا؟ بس یہ سننا تھا کہ حافظ صاحب پروجد کی کیفیت طاری ہوگئی وہ بے خود ہوگئے جب عالم صحو کی طرف لوٹے تو صاحب حال ولی بن چکے تھے۔ بانوت کی بستی میں آپکا مزار ہے۔ (حدیقۃ الاولیاء ، ص۱۱۷ تا ۱۱۹) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت حماد جمالی شیخ قادری شیخ حماد جمالی قادری بن شیخ رشید جمالی زہد ورع تقوی وتقدس اور عرفان و تصوف میں یگانہ روزگار تھے، حدیقۃ الاولیاء کے مصنف نے آپ کی بزرگی اور عظمت کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ ‘‘آپ صاحب کشف و کرامت و آں جلیل القدر عالی مرتبت سر خیل مبارزان طریقت، سردفتر عارفان حقیقت ، خدا وند فصائل مرضیہ ، جامع کمالات علمیہ و عملیہ ، محرم خلوت خانہ قدس، بار یافتہ مجلس انس ، سرمست جام و حدت، غریق دردیائے معرفت، محبوب ذوالجلال شیخ حماد بن شیخ رشید الدین جمالی۔’’ تحفۃ الطاہرین میں شیخ محمد اعظم ٹھٹھوی آپ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں: &nbs۔۔۔
مزید
حضرت دتہ سیوستانی قاضی قاضی دتہ بن قاضی شرف الدین المعروف بہ مخدوم راہو سیوستان کے قاضی القضاۃ سر کردہ اعلی سند ولی کامل اور صاحب کرامت بزرگ تھے، بے شمار اولیاء اللہ کی صحبت اور ان سے فیض حاصل کرنے کا شرف آپ کو حاصل تھا، آپ شیخ محمد کی اولاد سے ہیں۔ آپ نے علم تفسیر و حدیث مخدوم بلال سے اور دوسرے علوم دینیہ مخدوم محمد فخر پوترہ اور عبدالعزیزی پردی سے حاصل کیے تھے، اکثر کتب حفظ یاد تھیں، ترکی ہندی اور عربی زبانوں کے ماہر تھے، مرزا شاہ حسن ارغون نے ان سے علمی استفادہ کیا تھا اور ان کی حد درجہ تعظیم و تکریم کیا کرتا تھا میر معصوم بکھری صاحب تاریخ سندھ نے بھی آپ سے علم حاصل کیا تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قاضی صاحب کا سن وفات ، ۹۷۰ھ ہے، مزار شریف باغبان میں ہے۔ (حدیقتہ الاولیاء ص۸۳، ۸۴۔ مخدوم بلال المتوفی، ۹۳۱ھ کا ذکر۔۔۔
مزید
حضرت دتہ سیوستانی قاضی قاضی دتہ بن قاضی شرف الدین المعروف بہ مخدوم راہو سیوستان کے قاضی القضاۃ سر کردہ اعلی سند ولی کامل اور صاحب کرامت بزرگ تھے، بے شمار اولیاء اللہ کی صحبت اور ان سے فیض حاصل کرنے کا شرف آپ کو حاصل تھا، آپ شیخ محمد کی اولاد سے ہیں۔ آپ نے علم تفسیر و حدیث مخدوم بلال سے اور دوسرے علوم دینیہ مخدوم محمد فخر پوترہ اور عبدالعزیزی پردی سے حاصل کیے تھے، اکثر کتب حفظ یاد تھیں، ترکی ہندی اور عربی زبانوں کے ماہر تھے، مرزا شاہ حسن ارغون نے ان سے علمی استفادہ کیا تھا اور ان کی حد درجہ تعظیم و تکریم کیا کرتا تھا میر معصوم بکھری صاحب تاریخ سندھ نے بھی آپ سے علم حاصل کیا تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قاضی صاحب کا سن وفات ، ۹۷۰ھ ہے، مزار شریف باغبان میں ہے۔ (حدیقتہ الاولیاء ص۸۳، ۸۴۔ مخدوم بلال المتوفی، ۹۳۱ھ کا ذکر۔۔۔
مزید
حضرت حلتہ ورتہ رحمہما اللہ یہ دونوں بزرگ حقیقی بھائی تھے، صاحب کرامات و تصرفات ہوئے ہیں، مکلی کے بارے میں کہا کرتےتھے کہ قیامت کے دن اس قطعہ زمین کو اکھاڑ کر ہم جنت میں لے جائیں گے، غالباً اس لیے کہ یہ لاکھوں اولیاء اللہ کا مدفن ہے، ان کے کشف کا یہ عالم تھا کہ جب کوئی ضرورت مند اپنے دل میں اپنی مراد لے کر آتا تھا یہ حضرات اس کی آمد سے پہلے ہی اس کے آنے کا اور آنے کے سبب کا ذکر کر دیتے تھے، ثقہ راویوں سے مروی ہے کہ جوشخص کسی مشکل میں مبتلا ہو اس کو چاہیے کہ ان کی قبور کے پاس بیٹھ جائے اور تین دن متواتر روزانہ صلواۃ تنجینا پڑھے اس کی مشکل آسان ہوجائے گی۔ دونوں کے مزارات مکلی پر ہیں۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۴۰) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت حسین حاجی یہ بڑے اعلی درجے کے محدث اور فقیہہ تھے ایک دن اس آیت کی تلافت فرما رہے تھے ۔ وَ لِلہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ٭ فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِؕ ترجمہ کنزالایمان: اور پورب پچھم سب اللّٰہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللّٰہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے) تھوڑی دیر خاموش ہوئے اس آیت پر غور کیا پھر کھڑے ہوئے اور جنگل کی راہ لی، اولیاء اللہ کے زمرہ میں شامل ہوئے اور تمام عمر صحرا میں تجردکے ساتھ گذرا دی، ٹھٹھہ کے محلہ قند سر میں مزار ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۴۱) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت سید حسین کہتے ہیں کہ آپ کا مزار شریف مرور ایام کے باعث مسمار ہوگیا تھا، ملوک شاہ نے جب مسجد کی بنیاد ڈالی تو معماروں نے عدم تعاون کی بنا پر مسجد کی مشرقی دیوار مزار کے اوپر بنادی رات کو ملوک شاہ نے آپ کو خواب میں دیکھا کہ شکوہ فرما رہے ہیں، صبح اس نے حکم دیا کہ دیوار دو گز ہٹاکر بنائی جائے، اور حضرت کا مزار مسجد کے اندر لے کر باقاعدہ تعمیر کروایا۔محلہ قند ٹھٹھہ میں قبر ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۴۱) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت حسام الدین ملتانی آپ ظاہر و باطن کے علم میں یکتائے روزگار تھے ، کہتے ہیں کہ آپ جس شہر میں جاتے داخل ہونے سے پہلے دریافت فرماتے کہ یہاں شرعتہ الاسلام ہے یا نہیں؟ اگر یہ کتاب نہ ہوتی تواس شہر میں داخل نہ ہوتے اور فرماتے کہ جس شہر مین یہ کتا ب نہ ہووہ شریعت اسلامیہ سے دور ہوگا۔ آپ کا مزار شریف حسام پور میں ہے، شاہ عبدالحق نے بھی حسام الدین ملتانی کا ذکرکیا ہےمگر ان کا مزار پٹن میں بتایا ہے جو گجرات کا قدیم شہر ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ دونوں شخصیات ایک ہی ہیں یا الگ الگ ۔ صاحب سید الاولیاء نے آپ مزارگجرات کے شہر پٹن میں بتایاہے۔ آپ سلطان المشائخ نظام الدین کے خلفاء میں سے تھے۔ (سیرالاولیاء از سید محمد بن مبارک کرمانی مہی خور ترجمہ اردو،ص‘ل’۲۶۳ دارلکت۔۔۔
مزید
حضرت تاج محمد قریشی آپ حضرت غوث بہاؤ الدین ذکریا ملتانی کے اولاد امجاد سے ہیں بڑے کمال کے صاحب تھے، آپ حضرت شاہ اسماعیل قادری کی آمد سے بہت پہلے پرانی نورائی شریف میں تشریف لائے تھے آپ کی داڑھی مبارک بہت طویل تھی اور اس سے اس سر زمین کو (جہاں آپ کے پیر و مرشد حضرت شاہ اسماعیل قادری جیلانی علیہ الرحمۃ نے متمکن ہونا تھا) صاف کرتے، اور جھاڑو دیا کرتے تھے اورفرمایا کرتے تھے کہ یہ سرزمین میرے مرشد کا مسکن بننے والی ہے۔ آپ کی اولاد میں اس وقت سعید محمد قریشی مجذوب صفت اور صاحب کرامت بزرگ موجود ہیں اور آپ کے سجادہ ہیں۔آپ کے مزید حالت معلوم نہ ہوسکے۔ آپ کا مزار پر انوار حضرت شاہ اسماعیل قادری ج۔۔۔
مزید
حضرت تاری بی بی سومرہ خاندان سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون انتہائی خدا رسیدہ خثیت الہٰی سے مسلسل گریہ وزاری کرتی تھی اور کبھی پیر دراز کر کے نہ سوتی ھی وہ دیوار سے ٹیک لگا کر تھوڑی دیر اونگھ لیتی پھرآسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر روتی اور کہتی یا اللہ تو کریم ہے تو نے مجھے تمام آفتوں سے محفوظ رکھا ہے جبکہ میں تجھ سے ٖغافل ہوں اور تجھ کو فراموش کر بیٹھی ہوں تین دن بعد جو کی یخنی کا ایک پیالہ پیتی تھی، جو حاجت مند آتا اور دعا کی درخواست کرتا اس کے حق میں دعا کرتی ، اور اسکی دعا مستجاب ہوتی تھی۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۴۸) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید