جمعہ , 12 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 23 October,2026

مولانا حکیم پیر سید عبدالغفار شاہ راشدی

  نامور ادیب و شاعر ، شمس الاطباء مولانا حکیم پیر سید عبدالغفار شاہ بن مولانا پیر سید امان اللہ شاہ راشدی ( متوفی ۱۹۲۲ئ) گوٹھ ریلن متصل لا ڑکانہ ( سندھ )میں ۱۷ ، شعبان المعظم ۱۳۰۱ھ میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت : رمور الاطباء میں ہے :آپ نے دس سال تک فارسی درسیات اور علوم شرعیہ کی تحصیل کی ۔ پندرہ سال کی عمر میں طبی کتابیں اپنے والد ماجد سے دیکھنی شروع کیں ۔ پانچ سال تک اکثر مروجہ کتب کا مطالعہ کیا ایک سال تک مفردات و مرکبات کو دیکھا بھالا اور تیار کیا ۔ ایک سال اپنے والد ماجد کے اہتمام میں مطب ( آپکے والد کا مطب گوٹھ ریلن میں تھا ، اختر شاہ ) کرتے رہے ۔ جس میں آپ کے والد محترم آپ کو مشورہ دیتے تھے اور نیک و بد سمجھاتے رہتے تھے ۔ بعد ازاں (لاڑکانہ شہر میں )علیحدہ مطب جاری کیا۔ اب چھ سات سال سے کام کر رہے ہیں ۔ بیرون جات سے بھی لوگ علاج معالجہ کی غرض سے آتے جاتے ہیں ۔ مرکبار و مفردا۔۔۔

مزید

حضرت علامہ مفتی عبدالرحمن دھامراہ

  استاد العلماء مفتی عبدالرحمن بن عنایت اللہ دھامراہ اپنے آبائی گوٹھ دھامراہ ( تحصیل لاڑکانہ ) میں ۷، رجب المرجب ۱۲۶۸ھ کو تولد ہوئے ۔ آپ کا خاندان صدیوں سے اسی گوٹھ دھامراہ میں آباد ہے ، میر صاحبان کے دور حکومت میں آپ کے خاندان کے افراد حکومت کے ممتاز عہدوں پر فائز تھے ۔ اور آپ کے والد محترم عنایت اللہ دھامراہ صاحب درمیانی طبقہ کے زمیندار اور آباد گار تھے ۔ تعلیم و تربیت : ابتدائی عمر میں اپنے والد صاحب کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تقریبا بارہ سال کی عمر میں آپ کے والد صاحب بعض احباب کے اصرار پر آپ کو لاڑکانہ کے گوٹھ بنگلہ دیر و کے مشہور عالم دین حضرت مولانا عبداللہ لاکھو صاحب کے مدرسہ میں داخل کروادیا ۔ مفتی صاحب نے وہیں فارسی کی مکمل تعلیم حاصل کرنے کے بعد عمدۃ المدرسین حضرت علامہ مولانا قمر الدین اندھڑ سہروردی کے پاس گھوٹکی میں عربی کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد اعلیٰ ۔۔۔

مزید

علامہ مفتی علی محمد مہیری

  حضرت مولانا مفتی علی محمد مہیری بجاری شریف ( تحصیل گونی ضلع بدین ) میں ۱۲۹۴ھ ؍ ۱۸۷۷ء میں تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت : ابتداء میں حضرت عارف کامل خلیفہ محمود نظامانی قادریؒ کے مرید با فیض حضرت حافظ محمد نوندانی ؒ سے قرآن شریف کی تعلیم حاصل کی ۔ مولانا مہیری پر حضرت حافظ صاحب کی شخصیت کا زیادہ اثر تھا ۔ اس کے بعد فارسی کی تعلیم مخدوم عبدالروٗف نورنگ زادہ اور حافظ احمد میمن ( تحصیل گونی ، گولا رچی ) سے حاصل کی ۔ دوران تعلیم مخدوم عبدالروٗف کا انتقال ہوگیا ، اس لئے حافظ احمد میمن جو کہ کھورواہ میں مخدوم صاحب کے مدرسہ میں مدرس تھے کھور واہ سے دڑو (ضلع ٹھٹھہ ) کے نزدیک ملوک کے گوٹھ منتقل ہوئے تو مولانا مہیری بھی اپنے استاد کے ساتھ آگئے اور گوٹھ ملوک میں تعلیم مکمل کی۔ عربی علم و ادب کی تعلیم مولانا عبدالرحیم عباسی ، مولانا محمد سلیمان ( بنو ) اور حضرت علامہ مفتی حامد اللہ میمن ( بیلو ) سے۔۔۔

مزید

فقیہ العصر مولانا قاضی عبدالرئوف

  مورو کے قاضی خاندان کی نامور علمی شخصیت فقیہ العصر حضرت مولانا علامہ قاضی عبدالرئوف بن خلیفہ مولانا عبدالواحد ۱۲۲۲ھ میں مورو (ضلع نوشہرو فیروز سندھ) میں پیدا ہوئے۔ مٹیاری(ضلع حیدرآباد) کے مولانا قاضی عبدالکریم اور مولانا عبدالرحیم ٹھٹوی سے علم حاصل کیا۔ قاضی عبدالرئوف جید عالم، بے مثال مفتی، لاجواب فقیہ، عمدہ مدرس، محقق مصنف، اور عدیم المثال شاعر تھے۔ فارسی زبان کے بلند پائے کے انشاء پرداز تھے اور فارسی نظم میں بھی کما حقہ دستر رکھتے تھے۔ شیخ طریقت حضرت خواجہ محمد سعید صدیقی علیہ الرحمۃ درگاہ لواری شریف (ضلع بدین سندھ) نے عاشق خیر الوریٰ، فاضل اجل حضرت مولانا حافظ محمد شفیع صدیقی علیہ الرحمۃ درگاہ پاٹ شریف (ضلع دادو) مترجم منظوم قصیدہ بردہ شریف اور فقیہ العصر حضرت علامہ قاضی عبدالرئوف کو کہلوا کر بھیجا کہ آپ ایسے (جمعہ کے) خطبات تیار کریں جس میں ’’وہابیت‘‘ ۔۔۔

مزید

فقیہ العصر مولانا قاضی عبدالرئوف

  مورو کے قاضی خاندان کی نامور علمی شخصیت فقیہ العصر حضرت مولانا علامہ قاضی عبدالرئوف بن خلیفہ مولانا عبدالواحد ۱۲۲۲ھ میں مورو (ضلع نوشہرو فیروز سندھ) میں پیدا ہوئے۔ مٹیاری(ضلع حیدرآباد) کے مولانا قاضی عبدالکریم اور مولانا عبدالرحیم ٹھٹوی سے علم حاصل کیا۔ قاضی عبدالرئوف جید عالم، بے مثال مفتی، لاجواب فقیہ، عمدہ مدرس، محقق مصنف، اور عدیم المثال شاعر تھے۔ فارسی زبان کے بلند پائے کے انشاء پرداز تھے اور فارسی نظم میں بھی کما حقہ دستر رکھتے تھے۔ شیخ طریقت حضرت خواجہ محمد سعید صدیقی علیہ الرحمۃ درگاہ لواری شریف (ضلع بدین سندھ) نے عاشق خیر الوریٰ، فاضل اجل حضرت مولانا حافظ محمد شفیع صدیقی علیہ الرحمۃ درگاہ پاٹ شریف (ضلع دادو) مترجم منظوم قصیدہ بردہ شریف اور فقیہ العصر حضرت علامہ قاضی عبدالرئوف کو کہلوا کر بھیجا کہ آپ ایسے (جمعہ کے) خطبات تیار کریں جس میں ’’وہابیت‘‘ ۔۔۔

مزید

فقیہ العصر مولانا قاضی عبدالرئوف

  مورو کے قاضی خاندان کی نامور علمی شخصیت فقیہ العصر حضرت مولانا علامہ قاضی عبدالرئوف بن خلیفہ مولانا عبدالواحد ۱۲۲۲ھ میں مورو (ضلع نوشہرو فیروز سندھ) میں پیدا ہوئے۔ مٹیاری(ضلع حیدرآباد) کے مولانا قاضی عبدالکریم اور مولانا عبدالرحیم ٹھٹوی سے علم حاصل کیا۔ قاضی عبدالرئوف جید عالم، بے مثال مفتی، لاجواب فقیہ، عمدہ مدرس، محقق مصنف، اور عدیم المثال شاعر تھے۔ فارسی زبان کے بلند پائے کے انشاء پرداز تھے اور فارسی نظم میں بھی کما حقہ دستر رکھتے تھے۔ شیخ طریقت حضرت خواجہ محمد سعید صدیقی علیہ الرحمۃ درگاہ لواری شریف (ضلع بدین سندھ) نے عاشق خیر الوریٰ، فاضل اجل حضرت مولانا حافظ محمد شفیع صدیقی علیہ الرحمۃ درگاہ پاٹ شریف (ضلع دادو) مترجم منظوم قصیدہ بردہ شریف اور فقیہ العصر حضرت علامہ قاضی عبدالرئوف کو کہلوا کر بھیجا کہ آپ ایسے (جمعہ کے) خطبات تیار کریں جس میں ’’وہابیت‘‘ ۔۔۔

مزید

حضر ت مولانا سید علی محمد شاہ ( دائرہ والے)

   سید علی حمد شاہ ، مٹیار ی کے سادات میں سے ہیں ، علم و عرفان کے اندر بڑا بلند مقام رکھنے والے ہوئے ہیں۔ سندھ کے معروف علمی مرکز دائرہ کی درسگاہ کے سجادہ نشینوں میں آپ کا شمار ہوتے ہے ۔ آباء واجداد : سادات مٹیاری میں سے عیسیٰ شاہ کی اولاد میں ’’حمزہ شاہ بنوری نقشبندی ‘‘بزرگ ہوئے ہیں ان کے آپ پڑپوتے اور ’’سید نیک محمد شاہ ‘‘کے فرزند ہیں ۔ چونکہ آپ کے والد اور دادا، دائری شریف ( موجودہ اڈیرو ، تحصیل ہالا ، ضلع حیدرآباد ) کے رہنے والے تھے اور دائرہ کی مشہوردرسگاہ سے ان کا اور ان کے دیگر اہل علم عزیز واوقاب کا تعلق رہا ہے ، اس لئے یہ لوگ دائرائی سید کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ۔ آپ کی ولادت ہالا کے ایک گاوٗں اڈیرو ( سابقہ دائری شریف ) میں ۵، رجب المرجب ۱۲۲۶ھ؍۱۸۱۱ء کو ہوئی ، آپ کی والدہ دائرہ کی درسگاہ کے بانی و سجادہ نشین سید یار۔۔۔

مزید

استاد الکل علامہ سید عاقل شاہ لکیاری

  گیسوئے دراز ، یوسف ثانی، استاد الکل علامہ سید محمد عاقل شاہ لکیاری اپنے دور میں اسلامی دنیاکے مشہور و معروف عالم تھے ۔ہالانی ( تحصیل کنڈیا رو ضلع نو شہرو فیروز سندھ ) میںتولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت : ابتدائی تعلیم ہالانی میں حاصل کی اس کے بعد کوٹری کبیر میں حضرت مخدوم یار محمد صدیقی ؒ کے پاس تعلیم حاصل کی ۔( دیکھئے حالات مخدوم یار محمد انوار علماء اہل سنت ) فقیہ الا عظم حضرت علامہ مفتی محمد قاسم مشوری قدس سرہ رقمطرا ز ہیں:’’حضرت امام العارفین پیر سائین روضے دہنی قدس سرہ الاقدس آخر میں گوٹھ خیر محمد عاریجہ ( تحصیل ڈو کری ضلع لاڑ کانہ ) میں حضرت مولانا مولوی محمد صاحب عاریجوی ؒ کے پاس کتابیں پڑھ کر مکمل کی۔ اس مدرسہ عالیہ میں سید عاقل شاہؒ آپ کے ہم درس تھے لیکن حضرت پیر سائیں قدس سرہ ان سے پہلے مقررہ نصاب کی تکمیل کے بعد فیض و فضیلت کی دستار حاصل کر کے درگاہ مقدس پر رخصت یا۔۔۔

مزید

سید الفقہاء علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی

  مفتی اعظم ، اما م العلماء ، علامہ مفتی عبدالغفور ’’ مفتون ‘‘ ہمایونی بن صدر العلماء بدر الطریقہ علامہ مفتی خلیفہ محمد یعقوب ہمایونی ۱۲۶۱ھ ؍ ۱۸۴۵ء کو ہمایون شریف ضلع شکار پو ر سندھ میں تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت : تعلیم کا آغاز گھر سے کیا ۔ ابتدائی کتب شرح جامی تک والد ماجد سے پرھیں ۔ ۱۲۷۳ھ؍۱۸۵۷ء میں والد محترم علامہ محمد یعقوب کا انتقال ہوا ۔ اس وقت علامہ عبدالغفور کی عمر بارہ سال تھی۔ آپ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے ۔ بقیہ تعلیم والد ماجد کے شاگر دارشد استاد العلماء علامہ حکیم سلطان محمود سیت پوری سے حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔ ان سے علم طب بھی حاصل کیا۔ ( ہماہما یونی) بیعت : ولی کامل حضر ت میاں غلام حیدر قادری ؒ (متوفی ۱۳۰۰ھ درگاہ کٹبار شریف ، بیل بٹ ، ضلع کچھی ، قلات ڈیژن ، صونہ بلوچستان ) کے وصال پر آپ نے ان کی شان میں نہایت عقیدت و احترام سے منقبت کہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا صوفی عبدالرحمن و جودی لکھنوی

  مولانا صوفی سید عبدالرحمن بن حضر ت سید محمد حسن کوٹ مخدوم عبدالحکیم متصل مبارکپور تحصیل شکار پور سندھ میں۱۱۶۰ھ میں تولد ہوئے ۔ ( تذکرۃ علمائے اہل سنت کا نپورص ۱۱۶۔ تذکرہ مشاہیر سندھ جلد اول ص ۲۱۷) الرحیم ( حیدرآباد ) کے مشاہیر سندھ نمبر میں ہے کہ مبارکپور شکار پور میں نہیں بلکہ ضلع گھوٹکی میں ہے اور حقیقت بھی یہی ہے ۔ حضرت سید عبدالرحمن کے جدا علی عرب شاہ عربستان سے سندھ میں آئے اور روپاہ کے علاقہ میں اقامت پذیر ہوئے او ریہیں اعلی خاندان میں شادی کی جس کے بطن سے دو بیٹے تولد ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب یوں ہے:سید عبدالرحمن بن سید محمد حسن بن سید علم الہدیٰ بن سید حسن محمد بن سید دین محمد بن سید عرب شاہ ۔ تعلیم و تربیت : سید عبدالرحمن ۱۹ سال کی عمر تک والد ماجد سے تھصیل علوم کی ، قصبہ مہاروی میں چند دنوں مولانا اسد اللہ سے پڑھنے کے بعد دہلی پہنچے اور وہاں سے رامپور آئے ، رامپور سے ۱۱۹۸۔۔۔

مزید