اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

حضرت مولانا صوفی عبدالرحمن و جودی لکھنوی

  مولانا صوفی سید عبدالرحمن بن حضر ت سید محمد حسن کوٹ مخدوم عبدالحکیم متصل مبارکپور تحصیل شکار پور سندھ میں۱۱۶۰ھ میں تولد ہوئے ۔ ( تذکرۃ علمائے اہل سنت کا نپورص ۱۱۶۔ تذکرہ مشاہیر سندھ جلد اول ص ۲۱۷) الرحیم ( حیدرآباد ) کے مشاہیر سندھ نمبر میں ہے کہ مبارکپور شکار پور میں نہیں بلکہ ضلع گھوٹکی میں ہے اور حقیقت بھی یہی ہے ۔ حضرت سید عبدالرحمن کے جدا علی عرب شاہ عربستان سے سندھ میں آئے اور روپاہ کے علاقہ میں اقامت پذیر ہوئے او ریہیں اعلی خاندان میں شادی کی جس کے بطن سے دو بیٹے تولد ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب یوں ہے:سید عبدالرحمن بن سید محمد حسن بن سید علم الہدیٰ بن سید حسن محمد بن سید دین محمد بن سید عرب شاہ ۔ تعلیم و تربیت : سید عبدالرحمن ۱۹ سال کی عمر تک والد ماجد سے تھصیل علوم کی ، قصبہ مہاروی میں چند دنوں مولانا اسد اللہ سے پڑھنے کے بعد دہلی پہنچے اور وہاں سے رامپور آئے ، رامپور سے ۱۱۹۸۔۔۔

مزید

مفتی ظفر اللہ خان

  مولانا مفتی محمد ظفر اللہ خان بن منثی صاد اللہ خان ریاست ٹونک ( انڈیا ) میں مئی ۱۹۲۴ء کو تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت : ابتدائی تعلیم وہیں ٹونک کے مدرسہ میں حضرت مولانا حیدر علی سے حاصل کی ، حفظ قرآن کی دولت حاصل کی ، قرات سبعہ میں ملکہ حاصل کیا اور اعلی تعلیم علامہ پروفیسر منتخب الحق قادری سے حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔ درس نظامی کے علاوہ عربی فاضل، اردو فاضل ، منشی فارسی کے امتحانات غالبا پنجاب یونیورسٹی سے پاس کئے ۔ بیعت : آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں غالبا مولانا پیر حیدر علی ٹونکی سے دست بیعت تھے ۔ در س و تدریس : ۴۸۔ ۱۹۴۹ء کو ٹونک سے نقل مکانی کر کے کراچی تشریف لائے ۔ نانک واڑہ کے مدرسہ دارالعلوم کراچی ، جیکب لائن کے مدرسہ اشرفیہ سندھ مدرسۃ الا سلام کراچی ، عربی کالج ایم اے جناح روڈ، اور ۱۹۶۰ء سے لے کر آخر عمر تک جامعہ علیمیہ المرکز الا سلامی ( نارتھ ناظم آباد گوٹھ کھنڈو ) ک۔۔۔

مزید

بابا صلاح الدین کو ٹری والے

  حضرت بابا صلاح الدین بن حضرت عین الدین المعروف آئین دان ۱۳۲۰ ھ بمطابق ۱۹۰۲ء کو بمقا م اندرون ریاست چترال جبلی علاقہ دشوار گذار ( صوبہ سرحد ، پاکستان ) میں تولد ہوئے ۔ آپ کے والد عالم دین و صوفی بزرگ تھے اور پہلے عالم تھے جو کہ اتالیق مہتر چترال کے عہدہ پر بھی فائزر ہے اور آپ نے دین کی عظیم الشان خدمت انجام دیں ۔ آپ کا وصال بلخ میں ہوا اور وہیں آپ کی دائمی آرام گاہ ہے ۔ تعلیم و تربیت :  زعفران کی کاشت جووراثتا آپ کیلئے ذریعہ معش تھی کچھ عرصہ تک ماموررہے ۔ بعد میں اپنے دونوں بڑے بھائیوں شکر اللہ اور ابدال الدین اور اپنی چھوٹی ہمشیرہ طاہرہ بی بی کے سپرد کرکے حصول تعلیم کی غرض سے اسلامیہ اسکول پشاور میں داخل ہوگئے ۔ جہاں سے سند امتیازی میٹرک کی حاصل کی تو حکومت چترال نے آپ کو علی گڑھ حصول تعلیم کے لئے بھیج دیا گیا۔ جہاں سے آپ نے بی ۔ اے تک تعلیم حاصل کی ۔ مگر سوئے اتفاق کہ۔۔۔

مزید

ماہتاب ولایت پیر سید صبغت اللہ شاہ راشدی

  امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد شاہ پیر صاحب روضے دھنی رضی اللہ عنہٗ (۱۲۳۴ھ) کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے پیر سید صبغت اللہ شاہ راشدی اول پچاس سال کی عمر میں مسند آرائے رشد و ہدایت ہوئے اور دستار سجادگی ان کے سر پر باندھی گئی۔ ا سخاندان میں یہ پہلے پیر ہیں جو پیر پگارہ (صاحب دستار) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ سید صبغت اللہ شاہ اول ۱۱۸۳ھ/۱۷۷۹ء کو بمقام گوٹھ رحیم ڈنہ کلہوڑ عرف پرانی درگاہ شریف تحصیل پیر جو گوٹھ ضلع خیر پور میر س (سندھ) میں تولد ہوئے۔ (الرحیم مشاہیر نمبر ۱۹۶۷ئ) تعلیم و تربیت: حضور امام العارفین کی زیر سرپرسی درگاہ شریف پر مورجہ نصاب کی تعلیم حاصل کی اور حضرت سے مثنوی شریف ودیگر تصوف کی کتب کا درس لیا۔ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ لکھتے ہیں: آپ قرآن شریف ، حدیث شریف اور فقہی احکام پر دسترس رکھتے تھے۔ حدیث شریف کا خاص مطالعہ کیا تھا اور روزانہ بعد نماز فجر درس حدیث دینا آپ۔۔۔

مزید

مولانا حافظ شبیر احمد دہلوی

  حضرت مولانا حافظ شبیر احمد بن مولانا بشیر احمد دہلوی، دہلی کی شاہی سنہری مسجد  کے سابق نائب امام ، خواجہ حسن نظامی دہلوی کے درینہ فریق اور تحریک پاکستان کے خاموش مگر سرگرم کارکن تھے۔ ۱۹۲۲ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی ذی علم شخصیت تھے جب کہ والدہ محترمہ ایک نیک اور پارسا خاتون تھیں اور وقت کے جلیل القدر عالم دین حضرت مولانا عبدالغفور عارف دہلوی کی صاحبزادی تھیں۔ آپ کی ولادت کے کچھ عرصہ بعد ہی وصال فرماگئیں اسی لیے آپ کی پرورش آپ کی پھوپھی نے کی جو بڑی متقی پرہیز گار خاتون تھیں۔ اور حضرت علامہ مفتی حبیب احمد دہلوی صدر مدرس مدرسہ عالیہ فتحپوری دہلی کی صاحبزادی اور حضرت ابو مخدوم سید محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی قدس سرہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ اس علمی اور روحانی ماحول نے آپ کی شخصیت پر گہرا اثر کیا اور آپ بچپن ہی سے حصول علم میں لگ گئے۔ تعلیم و تربیت: والد محترم نے آ۔۔۔

مزید

مفکر اسلام مفتی سید شجاعت علی قادری

  حضرت مولانا مفتی سید شجاعت علی بن حضرت علامہ مفتی سید مسعود علی قادری جنوری ۱۹۴۱ء میں بدایون یوپی (انڈیا) میں تولد ہوئے (شرح الصدور ص۴۱، مطبوعہ سبزواری پبلشرز، کراچی ۱۹۹۸ئ) تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم مدرسہ عربیہ حافظیہ سعدیہ ، دادوں ضلع علی گڑھ سے حاصل کی۔ ناظرہ قرآن مجید حافظ غلام ربانی سے پڑھا۔ اس کے بعد مفتی صاحب اپنے والدین کے ساتھ دس سال کی عمر ۱۹۵۱ء میں پاکستان ملتان تشریف لے آئے اور یہاں مدرسہ انوار العلوم کچہری روڈ میں تعلیم کا آغاز کیا اور اسی درسگاہ سے اپنے والد ماجد کی سرپرستی میں درس نظامی کی تکمیل فرمائی۔ آپ کے مشہور و معروف اساتذہ میں علامہ مفتی سید مسعود علی قادری، رئیس المناظرین حضرت علامہ مفتی عبدالحفیظ حقانی (والد مولانا محمد حسن حقانی) اور رازی زماں محدث اعظم حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں۔ تقریباً اٹھارہ سال کی عمر میں انو۔۔۔

مزید

مولانا سہراب چارن

  جناب مولانا سہراب بن محمد آچر چارن گوٹھ کنڈی استیشن پھلجی ضلع دادو، سندھ) میں ۱۹۲۴ء کو تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: ماسٹر والی ڈنہ قریشی بو بکائی کے پاس پرائمری کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد مولانامحمد سلیمان میمن  (محلہ میمن نزد جیون شاہ مسجد ، دادو شہر) کے پاس فارسی و عربی کی کتب پڑھیں اوراعلیٰ تعلیم کیلئے مدرسہ عین العلوم امینائی شریف میںرجو ع کیا، جہاں مولانا سید امیر محمد شاہ حسینی کے پاس نصاب مکمل کرکے ۱۹۴۹ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔ بیعت: آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت فقیر نور بخش نقشبندی (پھلن پور ضلع مظفر گڑھ/پنجاب) سے دست بیعت ہوئے۔ درس و تدریس: آپ نے بعد فراغ مدرسہ شمس العلوم قائم کرکے درس و تدریس کاسلسلہ تا حیات جاری رکھا۔   تلامذہ: آپ کے شاگردوں میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں: ٭     مولانا احمد کوہستانی       ۔۔۔

مزید

مولانا سعد اللہ خان چانڈیو

  استاد العلماء علامہ مولانا سعد اللہ خان چانڈیو گوٹھ ستانی چانڈیو تحصیل خیر پور نا تھن شاہ ضلع دادو (سندھ )میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت : قرآن مجید ناظرہ ملا پیر بخش سے پڑھا ، گوٹھ بہادر پور میں سید و ریل شاہ کے پاس فارسی پڑھی ۔ اس کے بعد رہڑو شریف کی نامور دینی درسگاہ میں داخلہ لے کر استاد العلماء سند الکاملین حضرت مولانا محمد صالح مہیسر ؒ کی خدمت میں رہ کر درسی نصاب مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔ بیعت : شیخ طریقت ولی کامل حضرت پیر سید محمد پناہ عرف پنھل شاہ راشدی قدس سرہ درگاہ پیر جو گوٹھ (بٹ سرائی تحصیل میھڑ )سے سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے۔ (بروایت احمد خان آصف مصرانی مرحوم ) درس و تدریس : بعد فراغت گوٹھ ستانی چانڈیو میں دینی درسگاہ قائم فرمائی اور تاحیات درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ دور دراز سے علم کے پیاسے دولت خانہ پر پہنچے اور سیراب ہو کر گئے ۔ تلامذہ : آپ سے کثیر۔۔۔

مزید

جرنیل اہلسنّت جناب محمد سلیم قادری

  بھارت کے شہر گجرات سے نقل مکانی کرکے اانے والے محمد ابراہیم قریشی نے اپنی زوجہ آمنہ بی بی کے ساتھ پاکستان کے شہر کراچی کے علاقہ  نانک وارہ پان منڈی میں رہائش اختیار کی۔ انہیں تین بیتے اور دوبیٹیاں تولد ہوئیں۔ دو بیٹوں کے بعد ایک سعادت مند بیٹا۔ ۱۹۶۰ء میں تولد ہوا جس کا نام محمد سلیم رکھا گیا۔ محمد ابراہیم نے ۱۹۶۸ء میں بلدیہ ٹائون کراچی میں رہائش اختیار کی۔ تعلیم و تربیت: آپ کا خاندان مذہبی تھا، بچپن سے صالحین اور علماء اہلسنت کی صحبت میسر تھی۔ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک آل بلدیہ اسکول بلدیہ ٹائون سے پاس کیا۔ بیعت: امیر دعوت اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری مدظلہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے اسلئے قادری کہلائے۔ مبلغ دعوت اسلامی: سلیم قادری کو قدرت نے بچپن سے مسلک کی تڑپ دے رکھی تھی ان میں دینی جذبہ تھا، وہ کچھ کرنا چاہتے تھے انہی دنوں ۱۹۸۰ء میں علماء اہلسنت کی سر ۔۔۔

مزید

مفتی اعظم حضرت علامہ سعد اللہ انصاری

  استاد العلماء حضرت مفتی اعظم علامہ محمد سعد اللہ انصاری تقریباً ۱۸۶۴ء میں نیوہالا (ضلع حیدرآباد) کے انصاری محلہ میں تولد ہوئے (السند) تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم ہالا میں حاسل کی اس کے بعد مزید تعلیم کیلئے حرمین شریفین کا سفر اختیار کیا۔ تحصیل علم کے بعد وطن واپس ہوئے (تاریخ و ماہ ولادت، اساتذہ کے نام ، فراغت کا سن معلوم نہ ہوسکا) جامع مسجد صدر حیدرآباد کے امام و خطیب مقرر ہوئے۔ علوم دین کے علاوہ مختلف ادیان نجوم اور عروض و غیرہ علوم میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ مفتی اعظم: ۱۹۰۱ء میں اخبار میں خیر پور ریاست (سندھ) کیلئے سنی مفتی کی ضرورت کا اعلان جاری ہوا۔ اخباری اعلان پڑھ کر مفتی صاحب کی طرح کئی علماء وہاں تشریف لے گئے لیکن مفتی صاحب کامیاب قرار پائے۔ مفتی  صاحب ریاست کی طرف سے ریاست کیلئے ’’سنی مفتی اعظم‘‘ مقرر ہوئے۔ قضاء کی شدید مصروفیات کے باجود درس و ۔۔۔

مزید