آپ سیّد فیض اللہ بن سیّد صالح محمد قادری نوشاہی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے اورمریدو خلیفہ تھے۔صاحب علم و فقر و زہدوورع تھے۔فن کتابت بھی سیکھاہواتھا۔آپ کے ہاتھ کی بعض تحریرات خاندان کے گھروں میں موجودہیں۔ دستی تحریر آپ کے ہاتھ کی ایک غزل فارسی میں لکھی ہوئی ہے۔جو عارف کی ہے ۔وہ یہ ہے۔ غزل "دلاہُشدارکارےکن کہ وقتِ مرگ درپیش ست "دلاہُشدارکارےکن کہ وقتِ مرگ درپیش ست زچنگالش رہائی نیست ہر کس راکہ جاندارست زناخن ہائے تیزے اوہمہ کس رادلے ریش ست چووقتِ مرگ پیش آید نباشد کس مراہمدم بجزحسناتِ توایدل چہ جائے ہمدم و خویش ست چودرقبرت فرودآرند خویشاں باز پس بروند بمنکربانکیرت ہم سوائے پیش درپیش ست سلیم القلب مے باید کہ ثابت تر بود آنجا کجاثابت شود آنکس کہ اینجامردِبدکیش ست نمے بینم کسے دلخوش زہولِ آن قیامت ہا زاہوالش ہمہ خائف اگرچہ شاہ ودرویش ست ۔۔۔
مزید
آپ سیّد فیض اللہ بن سیّد صالح محمد چک سادہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے اورمریدو خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ فضائل آپ صاحب علم و فضل مقتدائے روزگار،اہل شریعت و طریقت تھے۔ ہزاروں مخلوق آپ کے فیض سے سیراب ہوئی۔خوارق و کرامات آپ سے ظاہر ہوتی تھیں۔ مستجاب الدعوات تھے۔حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی پیشگوئی کے مطابق ولی کامل ہوئے۔ بھائی پرجان فداکرنا منقول ہے کہ آپ کے چھوٹے بھائی سیّد عبدالواسع ایک مرتبہ اس قدر بیمار ہوئےکہ زندگی کی اُمید منقطع ہوگئی۔والدہ ماجدہ رونے لگیں۔آپ نے ان کا اضطراب دیکھ کرکہا۔ مائی صاحبہ۔آپ کو عبدالواسع کی محبت کافی ہے۔اوراس کی جدائی آپ کو سخت ہے۔اس لیے اُس پر میں اپنی جان فداکرتاہوں۔یہ کہہ کرآپ چارپائی پر لیٹ گئےاورجان بحق تسلیم کی اور سیّد عبدالواسع اُسی وقت اٹھ بیٹھےاورعرصہ دراز تک زندہ رہے۔ وفات کے بعد زندہ ملنا آپ نے اپنی وفات کے وقت اپنی ۔۔۔
مزید
آپ سیّد صالح محمد قادری نوشاہی کے فرزند اصغر اور مرید وخلیفہ تھے۔صاحب فقر و درویشی ومقامات ارجمند تھے۔ اخفائے احوال آپ اپنے حالات چھپانے میں بہت کوشش کرتے۔اپنے والد بزرگوار کے طریقہ پر پورےپورے کاربند تھے۔جیساکہ رسالہ احمد بیگ میں ہے۔"اکثر وضع ولینعمی خوددارند"۔ اکثر لوگ آپ کے ساتھ اعتقاد اورامارات رکھتے تھے۔ آپ ۱۱۰۷ھ میں موجود تھے۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند سیّد محمد امین تھے۔ ؎ سیّد محمد امین ۔اہل علم و فضل اور یگانہ روزگارتھے۔تمام عمر درس وتدریس میں گذاری فقیہ و محدث تھے۔کہتے ہیں کہ کسی فقہ کی کتاب پر ان کا عربی حاشیہ ہے۔ان کے دو بیٹے تھے۔سیّد اللہ نور۔سیّد گل محمد لاولد۔ ؎ سیّد اللہ نور کے دوبیٹے تھے۔سیّد محمد شاہ ۔سیّد عمر شاہ لاولد۔ ؎ &n۔۔۔
مزید
آپ شاہبازِ اَوجِ سیادت،اخترِ بُرجِ سعادت۔سادات صالحیہ سےصاحب کرامت و شرافت تھے۔ حضرت سیّد صالح محمد قادری نوشاہی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبر اور مرید و خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ تحصیل علوم و فضائل آپ نے ظاہری تعلیم مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی رحمتہ اللہ علیہ سے پائی۔ایک بارحضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ بمعہ یارانِ خواص سیالکوٹ تشریف لے گئے آنجناب پلنگ پر بیٹے تھے۔مولوی صاحب اور سیّد صالح محمد رحمتہ اللہ علیہ نیچے صف پر بیٹھے تھے۔ اتنے میں سیّددریادل اور آپ آگئےاورسلام و آداب کیا۔مولوی صاحب اور شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے سیّد دریادل رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے پاس بٹھالیا۔چونکہ جگہ تنگ تھی۔اس لیے آپ کھڑے رہے۔حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے دیکھ کرفرمایا۔میاں فیض اللہ تم ہمارے پاس بیٹھ جاؤ۔ آپ نےعرض کیا۔یاقبلہ ۔میری کیامجال ہے کہ میں حضور کے برابر بیٹھ سکوں۔نیزسیّد دریادل اور ۔۔۔
مزید
آپ سیّد عبدالوہاب ثانی بن سیّد شاہ روح اللہ عرف شہراللہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر تھے۔اپنے بڑے بھائی سیّد صالح محمد رحمتہ اللہ علیہ کی وساطت سے حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچ کر بیعت و خلافت سے مشرف ہوئے۔آپ کانام تذکرہ نوشاہیہ میں خلفائے نوشاہ عالیجاہ رحمتہ اللہ علیہ کی فہرست میں آتاہے۔ اخلاق آپ زاہد عارف کامل تھے۔علم ظاہروباطن میں یگانہ وقت تھے۔بہت مخلوق آپ کے ذریعہ سے واصل الی اللہ ہوئی۔ بَن باجواہ میں وَرُود آپ چک سادوسے رہائش منتقل کرکے بَن باجواہ ضلع سیالکوٹ میں تشریف لے گئے۔وہاں اُس علاقہ میں آپ کے ارادت مندوں کی کافی تعدادتھی۔ اولاد آپ کے دو بیٹے تھے۔ ۱۔سیّددائم شاہ۔ ۲۔سیّد قائم شاہ لاولد۔ ؎ سیّد دائم شاہ کے ایک ہی فرزند سیّد داؤد شاہ تھے۔ ؎ &nbs۔۔۔
مزید
درمناقب سیّد صالح محمد پاک ذات آنکہ نسبت پاکِ اوازحیدرِ کرارداں اوصاف ِجمیلہ آپ عارف ربانی ۔تارک لاثانی۔منبع اسراریزدان۔مخزنِ انوارِ رحمان ۔ صاحبِ کرامات عالیہ ومقاماتِ رضیہ ۔صاحب ذوق وشوق و عشق و محبت تھے۔سیّد العارفین حضرت سید حافظ حاجی محمد نوشہ گنج بخش قادری قدس سرہ العزیزکے بزرگ خلیفوں اور ناموریاروں میں سے تھے۔ نام و لقب آپ کانام نامی صالح محمد ۔لقب مقرب حق تھا۔ نسب نامہ آپ کے خاندان کی قلمی تحریرات آپ کانسب نامہ اس طرح پرتحریر ہے۔ سیّدصالح محمد بن سید بن عبد الوہاب ثانی سید شاہ روح اللہ عرف شہراللہ بن سیّد جمال بن سیّد محمود عرف محمد کلان بن سیّد عمربن سیّد حامد گنج بخش کلان بن سیّد عبدالرزاق بن سیّد عبدالقادرثانی بن مخدوم سیّد محمد غوث الحسنی اوچی رحمہم اللہ۔۱؎ ۱؎سوانحعمری سید جلال ص۴۔سیّد شرافت تحقیق ِنسب یہ سلسلہ نسب علم لاانساب اورعلم تا۔۔۔
مزید
فرزند اکبرمیاں مردان علی بن غلام حیدر بن سلطان فضل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ ۔بیعت و خلافت اپنےداداسےبلاواسطہ پائی۔ صفات و کمالات آپ صاحب علم ۔نیک خلق ۔متشرع درویش تھے۔اپنے آباو اجداد کے طریقہ پر کاربند ۔آپ کا چہرہ روشن منوّر تھا۔دیکھنے سے آثار رشدوہدایت مترشح ہوتے تھے۔ خاندانی روایات خاندان سچیاریہ کی روایات کاکافی ذخیرہ آپ کے حافظہ میں جمع تھا۔اولاد سلطان ملک کے حالات میں نے آپ کی زبان سے ہی اِس کتاب میں درج کئے۔آپ میرے ساتھ نہایت خلوص ومحبت رکھتے تھے۔ مریدوں کادَورہ آپ کے ارادت مندوں کا سلسلہ اکثر ریاستِ کپور تھلہ میں تھا۔اُس علاقہ کا آپ دَورہ کیاکرتے۔ اولاد آپ کے تین بیٹے ہوئے۔ ۱۔صاحبزادہ فیض محمد۔ ۲۔صاحبزادہ محمد شفیع ۔ ۳۔ صاحبزادہ محمد فاضل۔ ؎ صاحبزادہ فیض محمد۔فقیر سیّد شرافت سے بہت محبّت رکھتے تھے۔علاق۔۔۔
مزید
فرزند اکبر میاں پیراں بخش بن سلطان بالا بن الٰہی بخش نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ آپ ۱۲۹۷ھ میں پیدا ہوئے۔مولوی حافظ محمدرمضان قادری فاضلی رحمتہ اللہ ساکن دَڑوہ نے آپ کا قطعہ تاریخ بنایا۔ آپ کے والد نے ان کو گھوڑا انعام میں دیا۔ قطعہ تاریخ مبارک برمبارک بر مبارک زافضالِ خدا لک باربادا چراغ افروخت اندر فقرِ نوشہ بمدوش حضرت سچیاربادا گُلے خندیداندر باغِ سچیار ہمیشہ خندۂ بے خار بادا کہ میراں بخش پیراں بخش رازو مبارک تہنیت صدباربادا گلِ اقبالِ اودائم شگفتہ بچشمِ دشمنانش خار بادا بعالم بادبااعزازواقبال دُرادولت ہمیشہ یاربادا بعزوحشمت واقبال ودولت زعمرِ خویش برخوردار بادا بگوتاریخِ تولید یش۔ابدا۹۷ الٰہی بخت دے بیدابادا۱۲ دعاگو لائقِ انعام بے شک چہ انعام اسپِ خوش رفتار بادا اولاد آپ کے دو بیٹے ہیں ۔ ا۔صاحبزادہ اللہ دتہ۔ ۲۔صاحبزادہ ف۔۔۔
مزید
آپ میاں میراں بخش بن سلطان بالانوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند ارجمنداور سجادہ نشین تھے۔ بیعت طریقت آپ کی سید اکرم الٰہی بن سیّد حیدر شاہ ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ اس سے اُوپر شجرہ میاں غلام مصطفےٰ نوشہروی کے ذکرمیں لکھاجاچکاہے۔ اذکار واعمال آپ صاحب علم و عمل تھے۔شریعت کے پابند ۔تلاوت قرآن مجید بلاناغہ کیا کرتے۔نماز باجماعت پڑھنے کی کو شش کرتے۔علم دوست تھے۔علمأ و فضلاکے ساتھ محبت رکھتے ۔ عُرس شریف کے موقعہ پرضروروعظ کروایاکرتے۔ حج وزیارات آپ نے حرمین الشریفین میں جاکر فریضہ حج اداکیااور زیارات مقامات مقدسہ بغداد شریف۔کربلائے معلّےٰ۔نجف اشرف سے بھی مشرف ہوئے۔ استقامت ایک مرتبہ عرس شریف کے موقعہ پررات کو طواف کے بعد درگاہِ سچیاریہ کے پاس آتش بازی کا اکھاڑہ لگا۔قدرت الٰہی سے ایک ہوائی جہاز کاچکرچھوٹ کر خلائق کے ہجوم میں داخل ہوگیا۔خلقت ہرطرف بھاگنے لگی۔میں نے دیکھاکہ۔۔۔
مزید
آپ فرزند اکبرمیاں حشمت علی بن اکبرعلی دڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے تھے۔بیعت و خلافت اپنے حقیقی چچامیاں سلطان شیردڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ اخلاص آپ درویش صورت نیک سیرت ۔شاہ قد جسیم تھے۔سرپرٹوپی رکھتے ۔ادب اخلاص میں بلند پایہ تھے۔متعدد مرتبہ مجھ کو ملے۔عزّت واحترام وآداب میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑتے۔درگاہ نوشاہیہ میں کئی مرتبہ حاضر ہواکرتے ۔ خاندانی تاریخ آپ کا حافظہ بہت قوی تھا۔اپنے خاندان کی تاریخی روایات کا آپ کو کافی علم تھا۔اپنی یادداشت کی بناپر اپنے بزرگوں کے واقعات بیان کرتے ۔میں نے ۱۳۷۱ھ میں خود آپ کے پاس موضع دَڑوہ جاکرآپ سے حضرات سچیاریہ کے حالات تحریر کیے۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند صاحبزادہ محمد فاضل موجودہیں۔ صاحبزادہ محمدفاضل کے تین بیٹے ہیں۔صاحبزادہ مظفرعلی۔صاحبزادہ خضر حیات۔صاحبزادہ محمداکرام۔تینوں اس وقت موجود ہیں۔ تاریخ وفات میاں امام علی کی وفات ۱۳۷۔۔۔
مزید