فرزند اکبرمیاں سلطان فضل بن سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ خرقہ خلافت و ارشاداپنے حقیقی چچامیاں سلطان مست سے حاصل کیا۔ تعلیم آپ نے ظاہری علم وزیرآباداورکشمیر سے حاصل کیا۔فن کتابت بھی سیکھا۔ اپنےدادا کے نہایت منظورِ نظر تھے۔خوش آوازی اس قدر تھی کہ سنگدل کوبھی اثر ہوجاتا۔ قرآن مجید باقرأت پڑھتے۔نماز می جماعت بھی کرایاکرتے۔ اشغال وعبادات آ پ نے نفس کشی کے لیے بہت ریاضتیں اورمجاہدے کئےچند چلے بھی کیے۔ ایک چلہ مکیانہ متصل گجرات میں کاٹا۔ایک چلہ جید پور۔ایک بالوضع جالندھرمیں۔آپ صائم الدہرقائم اللیل تھے۔تہجّد کاکبھی ناغہ نہ کرتے۔مرتبہ فنافی الرسول آپ کو حاصل تھا۔ کرامات حج میں شامل ہونا منقول ہے کہ ایک بارآپ لدھیانہ میں تشریف فرماتھے حج کا دن آگیا۔آپ نے فرمایامجھےایک حجرہ کے اند ر بند کردو۔ذرادیر کے مَولے شاہ درویش نے اندرجھانکاتوحجر ہ بالکل خالی پایا۔حاضرین نہای۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان مست بن سلطان ملک نوشہروی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔۱۲۷۴ھ میں پیدا ہوئے۔ بیعت و خلافت سائیں الٰہی بخش درویش شاہ پوری سے رکھتے تھے۔وہ مرید میاں سلطان مست کے تھے۔ علم وفضل آپ نے تعلیم مولوی محمد ابراہیم قادری فاضلی امام مسجد نوشہرہ سے پائی۔ صرف نحو بھی پڑھی۔آپ کی وعظیں موثرہوتی تھی۔آپ کی تقریرسے متاثر ہوکرحکیم نورالدین بھیروی خلیفہ اوّل مرزاغلام احمد قادیانی نے آپ کو اپنی بیٹی کارشتہ دیناچاہا۔لیکن آپ نے اُس کی بدمذہبی کے باعث قبول نہ کیا۔ سیروسیاحت آپ اکثر سیروسیاحت کیاکرتے۔بُھورے کا کرتہ پہنتے۔اسم اعظم غوثیہ کا اکثر وِرد رکھتے۔جہاں جاتے لوگوں کا ہجوم آپ کے پاس جمع ہوجاتا۔ اولاد آپ کی نرینہ۱؎اولادنہیں ہوئی۔صرف دوبیٹیاں تھیں۔بڑی صاحبزادی کانام غلام فاطمہ تھا۔جومیاں محمد فاضل بن غلام مصطفےٰ کی منکوحہ تھیں۔انہوں نے ۱۳رمضان ۱۳۳۴ھ کوانتقال کیا۔ ۱؎میاں پریم شاہ ک۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان مست بن سلطان مُلک نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے پانچویں بیٹے تھے۔۱۲۷۱ھ میں پیداہوئے۔گیارہ سال کے تھے۔کہ والدبزرگوار کاانتقال ہوگیا۔اس لیے اپنے بڑے بھائی میاں غلام حسن رحمتہ اللہ علیہ کی گود میں پرورش پائی۔ بیعت وخلافت آپ جب نوجوان ہوئے توراہِ حق کاشوق ہوا۔تو موضع رَن مل میں حاضر ہوکر سید کرم الٰہی بن سید حیدر شاہ نوشاہی ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے مُرید ہوئےاور کچھ ذکروشغل کے طریقے حاصل کئے۔ شجرۂ بیعت آپ مریدسید کرم الٰہی ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ کے وہ مریدشیخ غلام حسن رحمتہ اللہ علیہ سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے۔ اس سے اُوپر شجرہ آپ کے بڑے بھائی میاں غلام حسن نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے ذکرمیں لکھاگیاہے۔ پرہیزگاری آپ علم دوست تھے۔شریعت کے پابند ۔نماز پنجگانہ ،نوافل تہجدپر مواظبت رکھنے والے۔درود شریف کبریت احمر کاوظیفہ پڑھاکرتے ۔آپ جب مرض الموت میں بیمار ہوئ۔۔۔
مزید
آپ کانام غلام حسین المعروف میاں وسّن تھا۔آپ میاں سلطان مست بن میاں سلطان مُلک نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے چوتھے بیٹے اور مریدو خلیفہ تھے۔ چلّہ نشینی ابتدائے احوال میں آپ نے کئی چلے کاٹے۔ایک چلّہ میرپور ریاست جمّوں میں کاٹا۔شریعت کے پابند تھے۔ قید ہونا آپ نے ایک کھتری ساہوکارکا قرضہ دیناتھا۔اس نے آپ کو تنگ کیا۔آپ نے اُس کے بہی کھاتہ کا ساراسامان رجسٹر وغیرہ جلادیا۔اُس نے آپ پر مقدمہ کردیا۔چنانچہ سات سال قید ہوگئے۔ جِسم کا سالم رہنا منقول ہے کہ آپ کی وفات سے گیارہ برس بعد نوشہرہ دریابردہوااور بزرگانِ سچیاریہ کے مزارات منتقل کئے گئے۔آپ کی زیارت ہوئی۔جسم بلکل صحیح وسالم تھا۔ اولاد آپ کا بیٹا میاں شہسوار نام تھا۔جوبچپن میں آپ کے سامنے فوت ہوگیا۔ یارِ طریقت آپ کا ایک مُریدسائیں مُسَلَّم اعوان ساکن کَمّے ،تحصیل کھاریاں ضلع گجرات تھا۔ تاریخ وفات میاں وسّن کی وفا۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان مست بن سلطان ملک کے تیسرے بیٹے تھے۔بیعت وخلافت سید سلطان بالابن سیدسلطان محمود ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سےرکھتے تھے۔جن کاذکرتیسرے طبقہ کے آٹھویں باب میں گذرچکاہے۔ شجرہ بیعت آپ مرید سید سلطان بالا نوشاہی ہاشمی کے ۔وہ مرید شیخ غلام حسن سلیمانی بھلوالی کے۔وہ مریداپنےبھائی شیخ احمد الدین سلیمانی کے ۔وہ مرید اپنے چچاشیخ نظام الدین سلیمانی گھنگوالی کے۔وہ مرید اپنےبرادرعم زادشیخ بڈھابن شیخ فیض شیخ سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے۔ اس کے آگے شجرہ ذکر حضرت سلطان مست میں گذرچکاہے۔ ۱؎میاں سلطان بالانوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کاکچھ ذکر شریف التواریخ کی تیسری جلدموسوم بہ تذکرۃ النوشاہیہ کے ساتویں حِصّہ مناہض الآثارنام میں لکھاجائےگا۔شرافت چلہّ نشینی آپ کامزاج امیرانہ تھا۔صاحب شریعت تھے۔اپنے والد کے منظور نظر ۔ گویا کہ وہ آپ پر عاشق تھے۔اوائل میں آپ نے د۔۔۔
مزید
آپ میاں الٰہی بخش بن میاں پیربخش نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند یگانہ اورمریدوخلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ اخلاق وعادات آپ صاحب حسن خلق ۔دنیاوی امورمیں لائق ۔فن شہسواری کے ماہر تھے۔آپ کودس روپیہ روزینہ ملتاتھا۔کشف قبورکامقام بھی آپ کو حاصل تھا۔ حصولِ اولاد منقول ہے کہ آپ کے ہاں اولادنہیں ہوتی تھی ۔ایک روزحضرت شاہ دَولہ گجراتی رحمتہ اللہ علیہ کے مزارپرمراقبہ کیااوراُن کی روحانیت سے اولادکے واسطے درخواست کی۔ انہوں نےایک لڑکاسرسے پکڑکرآپ کو عنایت کیا۔اُسی وقت حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی رُوح مبارک سامنے آگئی کہ یہ ہمارامرید ہے ۔اس کولڑکاہماری وساطت سے عنایت ہوگا۔چنانچہ اس کے بعد آپ کے ہاں میاں میراں بخش پیداہوئے ان کے جسم میں دونوں بزرگوں کی نشانیاں موجود تھی۔شاہ کادَولہ رحمتہ اللہ علیہ کانشان یہ کہ ان کاسَر چھوٹا تھااورحضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ صاحب کا نشان یہ۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان حاجی بن میاں سلطان شاہ سچیاری رحمتہ اللہ علیہ ساکن دَڑوہ کے اکلوتےبیٹے تھے۔ آپ کی بیعتِ طریقت سیّد نظام الدین بن سیّد سبحان علی ہاشمی رنملوی سے تھی۔جن کا ذکر تیسرے طبقہ کے ساتویں باب میں گذرچکاہے۔ شجرۂ بیعت آپ مرید سیّد نظام الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید سید قدم الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے ۔وہ مرید اپنے والد سیّد عزیزاللہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید اپنے والد سید براہم شاہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید اپنے ہم جدی چچاسید عصمت اللہ حمزہ پہلوان برخورداری رحمتہ اللہ علیہ کے ۔وہ مرید شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید قطب الاولیأ حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے۔ فیضان کثیر آپ سادہ مزاج مجذوب اطوار تھے۔صائم الدہررہتے۔علاق کوہستان میں آپ کافیض عام تھا۔جمّوں سے لے کر پونچھ تک مخلوقِ خدا آپ سے فیض یاب ہوئی۔صاحب خو۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان امیر بن محبوب شاہ بن محمد اکرم نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے تھے۔ بیعت وخلافت میاں سلطان مُلک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل تھی۔ نوشاہی دیدار آپ ظاہری علم میں بھی اچھی دسترس رکھتے تھے۔فقرمیں آپ کی منزلت خاص تھی۔تصوّف اور شرع کے پابند تھے۔ایک مرتبہ آپ کو حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت ظاہری آنکھوں سے ہوئی۔ ایک مخالف کو سزا آپ کے بیٹے میاں محمد الدین مرحوم سے منقول ہے کہ ایک بار آپ ڈھوسریالی میں گئے۔سوہنداخاں ارائیں کی زوجہ نے عرض کیاکہ اگرہم کو دودھ مل جائے توآپ کو کھیر کِھلائیں ۔آپ نے دُعاکی۔حق تعالےٰ نے اِ ن کو دوبھینسیں عطافرمائیں ۔دوسرے سال آپ بمعہ قوالاں وہاں گئے تواس نےکھیرپکائی۔پھراس کو خیال آیا کہ یہ تو سب مراسی لوگ ہی کھاجائیں گے۔میرے بچّوں کے لیے تونہیں بچے گی۔اُس نے کھیرچھپاکررکھ دی۔اور آپ کے واسطے مسور کی دال پ۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ کے پانچویں فرزند اور مریدو خلیفہ تھے۔ قرآن مجید کے حافظ تھے۔علم و فضل بھی اچھاتھا۔شریعت و طریقت کے پابند تھے۔عملیات میں خاصی دسترس رکھتے تھے۔خصوصاً عمل حُب آپ کے پاس مجرب تھا۔ اولاد آپ کے تین بیٹے تھے۔ ۱۔میاں چراغ علی۔ ۲۔میاں فضل علی المعروف پیر فضل۔ ۳۔میاں باغ علی۔ ؎ میاں چراغ علی امیرانہ مزاج درویش خیال تھے۔ان کا ایک درویش سائیں حَسّے شاہ نام تھا۔ دنیا سے لاولد فوت ہوئے۔ ؎ میاں فضل علی المعروف پیر فضل بن حافظ حسن محمد۔باشریعت ۔صوفی مشرب تھے۔ درود شریف ہزارہ کاوِرد رکھتے ۔۱۳۵۳ھ میں انتقال کیا۔مادۂ تاریخ "مرغوب ال۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان ملک بن میاں سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔ بیعت و خلافت حضرت شیخ بڈھابن شیخ فیض بخش سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن کا ذکرچوتھے طبقہ کے ساتویں باب میں گذرچکاہے۔ مشایخ صحبت آپ کے ہمشیرہ زادہ سید اکبرشاہ خوارزمی سوہدروی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے تھےکہ ماموں میاں سلطان مست رحمتہ اللہ علیہ کو متعدد بزرگوں سے فیض حاصل ہواتھا۔ ازاں جُملہ ۱۔میاں سلطان علی بن میاں عبدالغفور جھنگی والہ رحمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔سیدبُھلے شاہ خوارزمی رحمتہ اللہ علیہ ساکن ریاست جموں۔ ۳۔سائیں مستان شاہ ہندوستانی رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۴۔سید حافظ قل احمد پاکذات نوشاہ ِثانی برخورداری ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ۔ آپ ان سب بزرگوں کے فیض صحبت سے مشرف ہوئے اور کمال کو پہنچے۔ ۱؎یہ اصل قلمی مکتوب صاحبزادہ غلام سرورکیانی ایم اے کے کتب خانہ میں بمقام دڑوہ موجود ہے۱۲۔ ۲؎میاں الٰہی بخش نو۔۔۔
مزید